ہے یہ ہندوستاں میرا

ظفر شیر شاہ آبادی

مرے اجداد کا فدیہ ہے یہ ہندوستاں میرا
مجھی سے لے رہا جزیہ ہے یہ ہندوستاں میرا
ذرا تاریخ پڑھنے کی کبھی زحمت بھی کر لینا
مرے ہی خون کا ثمرہ ہے یہ ہندوستاں میرا
لہو دوں گا میں اپنا جب ضرورت آن پہنچے گی
لُٹا دوں جان بھی ، جذبہ ہے یہ ہندوستاں میرا
ذرا الزام لگ جائے گر فتا ر ی یقینی ہے
مگر مجرم ہوئے شستہ، ہے یہ ہندوستاں میرا
خلل کوئی بھی مت ڈالے مرے ملکی مسائل میں
کہ اٹھے پھر کوئی فتنہ ہے یہ ہندوستاں میرا
یہ اک سونے کی چڑیا تھی یہ محور تھا زمانے کا
ہوئے حالات اب خستہ، ہے یہ ہندوستاں میرا
مرے دامن پہ ہلکا داغ لگ جائے تو آفت ہے
ترے ظلموں سے شرمندہ ہے یہ ہندوستاں میرا
میسر ہوں گے اچھے دن بڑی امید تھی سب کو
مگر یہ تو ہوا جُملہ، ہے یہ ہند و ستا ں میرا
جو قاتل تھا ہزاروں کا ظفؔر اب وہ مسیحا ہے
تماشہ یہ ہوا طر فہ، ہے یہ ہند و ستا ں میرا

متعلقہ مضامین

تبصرے بند ہیں۔