ممبئی لوکل

عبداللہ زکریا ندیم

بات سنہ ۱۹۹۳ کی ہے، بابری مسجد کی شہادت اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے فسادات کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے، دلوں میں ابھی بھی غبار باقی تھا، ایسے وقت جب ہم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری سے لیس ہو کر باہر نکلے تو کیریر کے انتخاب کے لیے صرف دو شہر تھے، دل والوں کی دلی اور سپنوں کا شہر ممبئی۰م، لبرلائیزیشن کا عمل گوکہ شروع ہوچکا تھا ، لیکن اس کے ہمہ گیر اثرات جو آنے والے سالوں میں دکھے ،انکا عشرِ عشیر بھی ابھی افق پر دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا،ہاں بعض تاڑنے والے کی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ،آنے والے دنوں کی تصویر صاف دیکھ رہے تھے اور اسکی تیاریوں میں مصروف تھے۔ سڑکوں پر ابھی فیاٹ اور ماروتی کار کا ہی راج تھا ،ہواسے باتیں کرتی، سڑکوں کا سینہ چیرتی اور دیسی گاڑیوں کا مذاق اڑاتی ،چمچماتی ،امپورٹڈ گاڑیاں خال خال ہی دکھائی دیتی تھیں۔ سالِ گزشتہ جب ہم نے بلریا گنج کی اوبڑ کھابڑ سڑکوں پر ایک BMW دیکھی تو نیرنگئِ زمانہ پر مسکرا کر رہ گئے۔ ان دنوں معدود ے چند لوگ ہی کار رکھنے کی استطاعت رکھتے تھے، انمیں سے ایک اللہ بخشے ہمارے پھوپھا بھی تھے جنکی فیاٹ میں بیٹھ کر ہماری گردن میں ایک عجیب اکڑ پیدا ہو جاتی تھی۔ کمیونیکیشن کی فیلڈ ابھی پاؤں پاؤں چلنا سیکھ رہی تھی اور اگر دوردرشن کو چھوڑ دیں تو پرائیویٹ میڈیا کمپنیاں صرف دو یا تین تھیں۔ سنہ ۲۰۰۰ آتے آتے نیوز چینل مشروم کی طرح اگنے اور بکنے لگے۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ جوتے چٹخائےبغیر(جوتے تو ہم نے محاورتاً لکھ دئے ہیں ،اس زمانے میں ہم صرف سینڈل پہنا کرتے تھے)business India گروپ کے ایک نیوز چینل میں عکاس (کیمرا مین ) کی نوکری مل گئی۔ ہماری دقّت یہ تھی کہ انگریزی میں شد بد رکھنے کے باوجود رپورٹنگ کے لیے جس انگریزی کی ضرورت تھی، وہ ہماری پہونچ سے بہت دور تھی۔ اس وقت ہندی چینلوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ کمونیکشن کی زبان انگریزی تھی اور ہندی والوں کے ساتھ سرِ عام سوتیلا سلوک ہوتا تھا۔ سہل پسند طبیعت نے جس پروفیشن کو چنا ،والد مرحوم زندگی بھر اس سے نالاں رہے۔ وہ خفت اور شرم کے باعث کسی کو بتاتے نہیں تھے کہ انکا کم ہمت بیٹا کیمرا مین بن گیا ہے۔ انھوں نے شادی بیاہ کی تقریبات میں کیمرا کاندھے سے لٹکائے اور لوگوں کی گھڑکیاں کھاتے ہوئے کیمرا مین دیکھے تھے اور انکا زمیندارانہ مزاج یہ گوارا نہیں کر رہا تھا کہ انکا بیٹا اس کام کو اپنا پروفیشن بنائے۔ سچ کہیں تو زندگی میں جو بھی عزت کمائی اور جن مشاہیر سے ملاقات کا موقع ملا اسی پروفیشن کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔
دلی میں جب تک رہے بڑی شان سے آٹو رکشہ میں بیٹھ کر آفس جاتے رہے کہ طبعِ نازک پر بس کی سواری گراں گزرتی تھی اور چکر آنے لگتا تھا۔ بمبئی آئےتو پتہ چلے کہ آفس نریمن پوائنٹ میں ہے اور ٹرین کی سواری کے علاوہ کوئی چارانہیں۔ یہ تھا لوکل سے ہمارا پہلا تعارف۔ تمہید طولانی ہو گئی لیکن اگر حکایت لذیذ ہو تو دراز کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر جیسے سب ممبیکر ٹرین کے دو پاٹوں میں پستے ہیں ،ہم بھی پسے اور خوب پسے۔

میدانِ حشر کی نفسانفسی کے بارے میں سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے،روزِ حساب سے پہلے اسکا مشاہدہ تو ناممکن ہے ،ہاں اگر ٹریلر دیکھنا مقصود ہو تو صبح اور شام کے اوقات میں لوکل ٹرینوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ تا حدِّ نگاہ صرف سر ہی سر،کھوے سے کھوے چھلتا ہوا،بلکہ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہیکہ اپنے اعضاء و جوارح اپنے نہیں رہے ،کسی اور کے ہو گئے ہیں۔ صبح کے اوقات میں وسئی، ویرار، بوریولی، کلیان ، کرلا، ممبرا، میراروڈ اور واشی اور شام کے اوقات میں وی ٹی(سی ایس ٹی)، چرچ گیٹ اور دادر (جن اسٹیشنوں کے نام ہم نے نہیں لیے ہیں وہ آزردہ خاطر نہ ہوں، وہ بھی مردم آزاری میں برابر کے شریک ہیں)۔ آفس کے اوقات میں جو صبح 4 بجے سے 9 تک کچھ بھی ہو سکتے ہیں، اپنے وجود کو ثابت وسالم آفس پہونچانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے (یہ ظالم شہر نہ خود سوتا ہے اور نہ سونے دیتا ہے) رش کا یہ عالم ہوتا ہیکہ عین دورانِ سفر اگر خارش حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جو پیٹھ آپ نے کھجائی ہوتی ہے وہ کسی اور کی نکلتی ہے۔ اور اگر آپ خدانخواستہ ہماری طرح کوتاہ قد ہیں تو اللہ ہی آپ کا حافظ ہو۔ بارہا ایسا ہواکہ اپنی پسلیوں کو بچانے کے لیے ہم اس “پوز” میں کھڑے ہو گئے جو جنتی بیبیاں نماز میں اختیار کرتی ہیں یعنی سینے پر ہاتھ باندھ کر۔ سنا ہے دل پسلیوں کے عین نیچے رہتاہے اور اردو شاعری سے شغف کے باوجود ہم دل کے معاملے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ اردو کے شاعروں کا کیاہے ،وہ ہر آیے گئے کو اپنا دل دیتے رہتے ہیں ، ہمارے پاس لے دے ایک ہی دل ہے سو ہم اسکی حفاظت جان سے بڑھ کر کرتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہواکہ کچھ دراز قامت لوگ ہمارے اوپر سایہ فگن ہو گئے تو سانس کی آمدورفت کے لیے انھیں میں سے کسی کی ناک ادھار لے لی۔ ٹرین میں چڑھنے اور اترنے کے کوئی ادب آداب نہیں ہیں، لوگ باگ چڑھا اور اتار دیتے ہیں۔ ہاں دروازے پر لٹکنے کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑ سکتا ہیکہ آپ کو دھکے مار مار کر منزلِ مقصود سے پہلے ہی اتار دیاجائے، پھر ہمارے محبوب شاعر کی طرح آپ کے سامنے یہ مشکل نہیں آن کھڑی ہوگی کہ دل کو پیٹوں کہ جگر کو،بس ہوگا یہ کہ ٹرین توسرپٹ بھاگ جائے گی اور آپ پلیٹ فارم پیٹتے رہ جائیں گے ۔ نوحہ گری بھی آپ کوئی کرنی پڑے گی۔

بمبئی غالباً دنیا کا واحد شہر ہے جسکی حد بندی ریلوے لائن سے کی گئی ہے، ویسڑن اور سنٹرل، رہی ہاربر تو وہ ابھی بعد کی پیداوار ہے۔ پھر ویسٹ(مغرب)اور ایسٹ (مشرق)کا قضیہ الگ ہے۔ اگر ممبئی میں کسی کا سوشل اسٹیٹس جاننا ہو تو اسکا ایک بڑا انڈیکیٹر یہ لائنیں ہیں۔ اگر آپ کا فلیٹ ویسڑن لائن پر ہے تو You have made it اس جملے کی بلاغت کا اردو کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا ہے۔ سینٹرل پر رکھنے کا مطلب ہے آپ ابھی بھی struggle کر رہے ہیں(یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے،لیکن کافی حد تک سٹیک ہے)پھر ویسڑن لائن میں ویسٹ والے حصے زیادہ “پوش”ہیں،سینٹرل میں یہ ترتیب الٹی ہے(بمبئی کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے، ہمیں بھی دو عشروں سے زیادہ وقت لگ گیا اور آج بھی ہم یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں)۔ معاشی اور معاشرتی اونچ نیچ کو سمجھنے کے لیے ایک اور انڈیکیٹر بھی ہے۔ شہر” ٹاؤن” اور “سبرب” میں تقسیم ہے۔ ماہم سے لیکر کولا بہ اور اسکے آگے تک رہنے والے “ٹاؤنی” کہلاتے ہیں اور اپنے سرِ پرغرورکو نخوت سے اور اونچا کئے رہتے ہیں کہ ان کا سوشل اسٹیٹس “سبرب” میں رہنے والوں سے بہت بلند اور معتبر ہے۔ ان کے لیے انگریزی میں ایک لفظ استعمال ہوتاہے “SOBO”جو ان کے بلند مرتبہ کو بلکل واضح کر دیتا ہے۔ ہم آپ کو “ٹاؤن “اور”سبرب”کافرق سمجھا دیتے ہیں۔ جہاں سے رکشہ چلنے کی حد ختم اور ٹیکسی چلنے کی حد شروع ہو جاتی ہے، ٹاؤن وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔ “بینہما برزخ لا یبغیان”(دونوں کے درمیان ایک حد ہے جسے وہ “کراس” نہیں کر سکتے ہیں )۔

یہ معاشرتی اونچ نیچ ممبئی لوکل میں بھی دکھائی دیتی ہے،کچھ ڈبے مخصوص ہوتے ہیں جو فرسٹ کلاس کہلاتے ہیں اور جہاں صرف چمڑے کے سوٹ کیس اور اس سے موٹی چمڑوں والوں کو گھسنے کی اجازت ہوتی ہے۔ غریب غربا کا یہاں گزارا نہیں اور اگر کوئی غلطی سے چڑھ جائے تواسکو ایسا دھتکارتے ہیں گویا اس سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ غریبوں کے لیے سکینڈ کلاس کی سہولت موجود ہے۔ ہم نے بھی زندگی بھر فرسٹ کلاس میں سفر کیا ہے گو کہ نہ ہمارے پاس چمڑے کا سوٹ کیس رہا اور نہ ہی اتنے سالوں میں ہماری چمڑی موٹی ہوئی۔ فرسٹ کلاس اور سکینڈ کلاس میں ہمیں تو بس اتنا فرق محسوس ہوا کہ سیکنڈ کلاس میں اور دیگر لوازمات کے ساتھ پسینے کی مہکار چہکار اور چیخ پکار کے ساتھ وہ مزہ بھی دو بالا ہوجاتا ہے جو “بمبیاً لنگو “میں “فری مساج” کہا جاتاہے۰فرسٹ کلاس میں لوگ ڈیوڈ رینٹ (deodorants)لگا کر آتے ہیں۔

لوکل ٹرینوں کی ایک خاص کشش لیڈیز کمپارٹمنٹ ہیں،یہ الگ بات ہیکہ یہ ڈبے الگ ہوتے ہیں اور صبح چھ بجے سے رات دس بجے تک مرد حضرات کا داخلہ انمیں ممنوع ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں کچھ لیڈیز اسپیشل بھی چلتی ہیں جو بہتوں کو جنت کا نمونہ لگتی ہیں اسی لیے خلد سے نکالے آدم کو اسمیں داخلہ نہیں ملتا ہے۔ سنٹرل لائن کی بعض ٹرینوں میں لیڈیز ڈبہ ،جنٹس کے فرسٹ کلاس ڈبہ سے متصل ہوتاہے۔ بیچ میں محض ایک آہنی کھڑکی لگی رہتی ہے۔ یہ درشنی جھروکہ کہلاتا ہے اور اس سے وہی کام لیا جاتا ہے جو پرانے زمانے میں چلمن سے لیا جاتا تھا۰قسمت یاوری کرے تو بات تاک جھانک سے آگے بڑھ کر شادی خانہ بربادی تک بھی پہونچ جاتی ہے۔

راقمِ آثم کو بھی ایک بار لیڈیز ڈبہ میں سفر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ ہم لوگ ممبئی لوکل پر ایک ڈاکومینٹری بنا رہے تھے۔ اس دن پتہ چلا کہ عورتیں کس قدر کم سخن اور کم گو ہوتی ہیں۔ وہ صرف دوسری عورتوں کے شوہروں اور ساس کی برائیاں سنتی ہیں۔ یہ ڈبہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ بھانت بھانت کی ان آوازوں میں یہ پتہ لگانا نا ممکن تھا کہ کس آواز کا مبدء کہاں ہے اور مخرج کہاں؟ ہم عورتوں کے اس کمال کے دل سے معترف ہیںکہ ایک ہی وقت میں کئی ساری عورتیں بولتی بھی ہیں، سنتی بھی ہیں اور ایک دوسرے کو ٹرانسمٹ بھی کرتی رہتی ہیں سائنس کو یہ ٹکنالوجی دریافت کرنے اور قابلِ عمل بنانے میں ابھی اور بہت سال لگیں گے۔ جھگڑا کرنے میں عورتوں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہم نے گاؤں میں جاہل عورتوں کو جھگڑا کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ ان گناہ گار کانوں نے جیسی طبع زاد اور گندی گندی گالیاں سنی ہیں،کوئی اوباش سے اوباش مرد بھی ایسی گالیاں نہیں دے سکتا ہے۔ شہر کی یہ پڑھی لکھی بیبیاں ان سے دو قدم آگے ہیں۔
ٹرین کے سفر میں آپ کو بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں، پیر فقیر، سنیاسی، جوگی، بھک منگے، پھیری کرنے والے اور بد دعاؤں کی دھمکی دیکر لوگوں کی جیبیں خالی کرانے والے زنخے، مگر ہمارے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا سامان کراماتی بنگالی باباؤں کے اشتہار ہیں جن میں ۲۴ گھنٹے میں ہر کام میں سپھلتا(کامیابی)کی خوشخبری ہوتی ہے۔ ایسے ہی اشتہار ہمیں اسوقت بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جب ٹرین سے دلی کا سفر کیا جائے۔ فرق صرف اتنا ہیکہ وہ مردانہ کمزوری دور کرنے کے ہوتے ہیں اور “گرافیٹی” کی شکل میں دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں جب یہ اشتہار دکھنے شروع ہوجاتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ دلی قریب ہے۔ سنا ہے ادھیڑ عمر کے مرد یہ اشتہار بڑی للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں۔

ٹرینوں میں وقت کے ساتھ بڑی تبدیلی آئی ہے۰فریکوینسی بڑھ گئی ہے۰سیٹیں کشادہ ہوگئی ہیں، بس ایک چیز ہمیں اچھی نہیں لگتی ہے۔ پہلے لوگ باگ ٹرین میں اخبار پڑھتے تھے ،نئی نئی دوستیاں بناتے تھے ،عشق معاشقہ بھی ہو جاتا تھا، اب ہر آدمی اپنی کھال میں مست،کانوں میں ایرفون اور ہیڈ فون لگائے نجانے کیا دیکھتا ،سنتا رہتا ہے۰ٹیکنالوجی نے دنیا کو “گلوبل ولیج” تو بنا دیا ہے لیکن دوریاں بھی بہت بڑھا دی ہیں۰رشتوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے۰انسان پھر سے اکیلا ہو گیا ہے۔ اسے ایک ساتھ اور دسراتھ چاہیے۔ ایسی ہی صورتِ حال سے جل کر کسی دانا نے کہا کہ “مارکونی” کی قبر پر پبلک ٹوائلٹ بنا دینا چاہیے۔ ہم کہتے ہیں اس سے عبرتناک سزا یہ ہوگی کہ اسے پھر سے زندہ کیا جائے اور اسمارٹ فون کے حوالے کر دیا جائے۔
خیر ہم کچھ بھی لکھیں اور کہیں،حقیقت تو یہ ہیکہ اس سے بہتر ، مربوط اور پنکچول نظام ہندوستان کے کسی اور شہر میں نہیں ہے ۔پچاس،ساٹھ کلومیٹر کی کیا بات کریں ،ہم ایسے لوگوں کو جانتے جو روزانہ پونہ اور ناسک سے سفر کرتے ہیں۔ یہ دونوں شہر ممبئ سے تقریباً دوسو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں۔ ہاں موسمِ باراں میں ضرور دقّت ہوتی ہے۔ ہر سال ممبئی میں ایک دن ضرور ایسی بارش ہوتی ہیکہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے،ہمیشہ چلنے والا شہر تھم جاتا ہے،لوگ باگ دفتروں میں اور ریلوے اسٹیشنوں پر رات گزارنے کو مجبور ہو جاتے ہیں،کچھ باہمت پیدل ہی اپنے کھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ میڈیا والے چیخ پکار مچاتے ہیں ،انتظامیہ کو گالی دیتے ہیں ،لیکن ایک سچا ممبئیکر کبھی اس سے ہراساں نہیں ہوتاہے۔ وہ سب کچھ بھول بھال کر دوسرے دن اپنے کام دھندے میں لگ جاتا ہے۔ اگراسکوکسی بات سے تکلیف پہونچتی ہے تو وہ ہے میڈیا رپورٹنگ سے۰میڈیا نے کئی برسوں سے ایسی صورتحال کے لیے دو لفظcoin کئے ہیں۔ ممبئی اسپرٹ اور resilience۔ ہم نے اس سے زیادہ بھدے،بھونڈے اور مذاق اڑانے والے الفاظ نہیں سنے ہیں۰ہم نے سنہ دو ہزار پانچ میں ۲۶ جولائی کی طوفانی بارش بھی دیکھی ہےاور ٹرین بلاسٹ کے جانکاہ حادثے بھی ،لیکن ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ڈر کر ٹرین میں سفر کرنا بند کر دیا ہو لیکن اسکا سبب resilience نہیں ہے۔ بچارے ممبئکر کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہےاور نہ کوئی متبادل نظام ہے۔ اوسطاً ہر روز ٹرینوں سے گر کر یا کٹ کر اسی (۸۰)لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں،لیکن ٹرینیں اپنی اسی رفتار سے پٹریوں پر دوڑتی بھی ہیں اور اسمیں سفر کرنے والوں میں روزافزوں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۰میڈیا والو خدا کے لیے ان الفاظ کا استعمال بند کردو۔

ممبئ لوکل کی یہ نہ ختم ہونیوالی داستان اب ختم کرتے ہیں کہ بعض قصے دل ودماغ کے بجائے شریانوں میں اتر جاتے ہیں۰قلم اٹھایا تو نہ جانے کیسی کیسی باتیں یاد آ گئیں،کتنے قصہ دامن گیر ہوگئے اور پھر جب وقت کے دھند لاتے آئینہ میں اپنا عکس دیکھا تو بے ساختہ ایک مسکراہٹ بھی لبوں پر آگئی کہ یہی اپنا سرمایہِ حیات بھی ہے اور اپنی ساری عمر کی کمائی بھی۔

تبصرے بند ہیں۔