موم کی لڑکی

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

    اس کی عمر ستر سے کچھ زیادہ اور پچھتر سے کچھ کم معلوم دیتی تھی جسم ایک دم لاغر اور سر تا پا سفید،بجھی بجھی آنکھیں، تھکی تھکی پلکیں، چہرے پر بے انتہاء جھریاں، ہاتھوں اور پیروں کی لٹکی ہوئی کھال،منہ کے اندر ہی دبے ہوئے گال، لیکن پھر بھی خاموش، یہ تھی اس کی تصویر۔آج اس کے کچے مکان کی کچی دیواریں اس پر گرنے کو تیار تھیں لیکن وہ گم سم اپنے گھر کی چھوٹی سی کوٹھری میں بڑی سی پرانی مسہری پر بیٹھی ہوئی یاد داشت کی انگلی تھامے اپنے ماضی کے سفر پر گامزن تھی۔اس نے مونڈھے پر رکھی ہوئی البم اٹھائی اور اس کو دیکھنے لگی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ البم کے پہلے فوٹو سے شروعات کرتی لیکن اس نے آخری والا ہی فوٹو چنا۔اس نے دیکھا کہ اس کی بوڑھی آنکھیں اب تصویر میں اسے بھی نہیں پہچان رہی ہیں۔ اچانک اس نے خود سے سوال کیا ’’یہ لڑکی کون ہے؟؟؟اس کی گود میں یہ کس کا بچہ ہے؟؟؟اس کے برابر میں یہ بڑی بڑی موچھوں والا کالا بھجنگ آدمی کون بیٹھا ہے ؟؟؟جس کی عمر تقریباً پینتالیس سال کے قریب ہوگی۔کیا یہ دونوں میاں بیوی ہیں ؟؟؟مگر اس لڑکی کی عمر تو بہت کم لگ رہی ہے مشکل سے سولھا سترہ سال۔‘‘

    اس نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے چشمہ اتار کر ایک طرف رکھا اورتصویر کو غور سے دیکھنے لگی۔اچانک اس کے منہ سے نکلا’’ارے۔۔۔۔یہ تو!!! موم کی لڑکی ہے۔۔۔ہاں وہی ہے یہ۔۔۔یہ موم کی لڑکی ہی ہے۔‘‘

      اس نے ماضی کے کواڑ کھولے تو دیکھا کہ ایک سفید و شفاف جسم والی دوشیزہ کچے مکان کے کچے آنگن کے فرش پر گوبر کا لیپ کر رہی ہے۔برابر ہی چھوٹے سے جھولے میں کوئی معصوم سا بچہ زور زور سے رو رہا ہے۔ایک پرانے بوسیدہ کمرے سے اچانک بوڑھی مگر کرخت آواز پرواز کرتی ہوئی اس کے کانوں میں سیسے کی طرح پیوست ہوگئی۔

’’اری کمبخت۔۔۔۔دیکھتی بھی نہیں۔ ۔منگل کب سے رو رہا ہے۔۔۔کتنی دیر سے لیپ رہی ہے۔ ۔۔کامچور۔۔۔کلوا آئے گا تو تیری خبر لے گا۔۔۔کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی۔۔۔پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جب تجھے ہم اپنے گھر لائے تھے۔ ۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ تو سست اور کام چور نکلے گی۔۔۔کب سے کپڑے سڑ رہے ہیں بالٹی میں۔ ۔۔چولھے میں بھی آگ نہیں۔ ۔۔جی تو کرتا ہے کہ تجھ سے ہی آگ جلوائوں اور چھپٹی لیکر تیرے ہی منہ پر لگا دوں۔ ۔۔چہرے کی تو سفید ہے مگر ہے دل کی کالی ‘‘۔

    ان باتوں کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا وہ اٹھی اور جھولے سے بچے کو لیکر گود میں بیٹھ گئی۔بچہ کچھ سکون میں آیا لیکن فضا میں پھر ایک آواز گونجی یہ کواڑوں پر کنڈی کی آواز تھی۔ ساتھ ہی وہی بوڑھی اور کرخت سیسہ نما آواز فضا میں پھر پھیلی۔

’’اری کیا مر گئی؟ دیکھتی کیوں نہیں۔ ۔۔دروازے پر کون کڑی کھایا آیا ہے؟

   اچانک بوڑھی عورت نے البم کا صفحہ پلٹ دیا اسے اپنی پیٹھ پر کسی تکلیف کا احساس ہوا۔اگلی تصویر میں اس نے دیکھا ایک دلہن گھونگھٹ میں سر جھکائے شرم و حیا کی دیوی بنی بیٹھی ہے اور برابر میں وہی کالے چہرے والا اور بڑی بڑی موچھوں والاآدمی بیٹھا ہوا ہے۔اس نے اس تصویر میں یہ بھی دیکھا کہ ایک بڑھیا اس کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے مسکرا رہی ہے جیسے اسے دعا دے رہی ہو۔بوڑھی عورت نے پھر ضعیف آنکھوں کو تصویر کے قریب لے جا کر دیکھا۔ اچانک اس کے کانوں میں دعا نہیں بلکہ زہر آلودہ جملے حملہ کرنے لگے۔

   ’’بھئی سیدھی سی بات ہے کلوا۔۔۔اگر یہ چھوری۔ ۔۔لڑکا دینے میں کامیاب رہی تو اسے رکھیو۔۔۔ورنہ۔ ۔۔سرسوتی کی طرح میں خود اسے جوتے مار کر نکالوں گی۔۔چاہے یہ کسی کنوئیں میں ڈوب مرے‘‘۔

   ’’کیوں نہیں اماں ‘‘۔ادھیڑ عمر کے کالے آدمی نے موچھوں پر تائو دیتے ہوئے کہا’’اور اگر یہ گھر کا کام کاج نہ کرے؟؟؟پچھلی کی طرح بہانے کرے کہ اسے ٹی بی کی بیماری ہوگئی۔۔۔تب کیا کیا جائے؟؟؟۔

   ’’کچھ نہیں۔ ۔۔بیٹا۔۔۔چوہے مارنے والی دوا زندہ باد‘‘۔

   بوڑھی عورت نے البم کاصفحہ پھر پلٹ دیا۔ اگلی تصویر میں ایک ساٹھ سال کا آدمی ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔اس کے سر پرکیسری رنگ کی خوبصورت پگڑی تھی۔ بوڑھی عورت نے اس بار اپنا چشمہ اٹھایا اور روپٹے سے صاف کرکے دیکھا تو اسے کچھ کچھ یاد آیا۔ یہ ماسٹر رام پرساد تھے جنھوں نے کیسری رنگ کی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔ اسے یاد آیا اس بچے کی ماں نے یہ پگڑی شادی سے پہلے انگنت مرتبہ دھوئی تھی جب وہ اس کیسری پگڑی کو دھو کر چھت پر جاکر سکھاتی تو سامنے والی چھت پر کئی کبوتر اپنے اپنے پر پھڑ پھڑارہے ہوتے۔اسے لگتا کہ ایک کبوتر اڑ کر اس کے سر پر بیٹھ جاتا۔ یہ اس کا مانوس کبوتر تھا کبھی کبھی وہ اس کے گھر کی منڈیری پر بھی اسے دیکھنے کے لیے آتا تھا اور جب گٹر گوں گٹرگوں کا راگ الاپتا وہ سارے کام کاج چھوڑ کر اسے دانا ڈالنے ضرور آتی۔اچانک بوڑھی عورت کو یاد آیا کے ہاتھ جوڑنے والے نے اسے کئی بار کبوتر کو دانا ڈالتے ہوئے پکڑا تھااور اسے پیار سے ٹوکا بھی تھا۔

    ’’بیٹا۔۔۔اب تیری عمر کبوتر کو دانا ڈالنے کی نہیں رہی۔۔۔تجھے چاہیے کہ اس باولے کبوتر کو اس کے ہال پر چھوڑ دے۔۔۔اس کبوتر کے مالک نے دیکھ لیا تو۔ ۔۔پتا نہیں کیا ہوگا؟‘‘۔

   بوڑھی عورت نے دیکھا کہ ہاتھ جوڑنے والا شخص کچھ لوگوں کا جھک جھک کر استقبال کر رہا ہے۔

   ’’آئیے کھانا کھا لیجئے۔۔۔ادھر ہے کھانا۔۔۔کچھ کمی تو نہیں رہ گئی مہاشے؟؟؟

   اچانک اسے یاد آیا وہی بوڑھی اور کرخت سیسہ نما آواز نے یکایک تلوار کی صورت اختیار کر لی۔

   ’’کمی!!! کمی تو بہت رہ گئی بابو جی!!!۔۔۔کیا کیا گنوائیں۔ ۔۔‘‘۔

     بوڑھی عورت نے پھر البم کا صفحہ پلٹ دیا اب اسے ایک ایسی تصویر نظر آئی جس میں ایک کمسن بچی کچے صحن میں جھاڑو لگا رہی ہے برابرہی ایک نیم کا پیڑ ہے۔تصویر میں خاموش بچی کہہ رہی تھی۔

   ’’اماں !!!کتنا صاف کروں ؟؟؟یہ نیم کا پیڑ نہیں مانتا۔۔۔ہوا چلتی ہے تو انگنت پتیاں اور نبولیاں بکھیر دیتا ہے کب تک صاف کروں ؟۔۔۔جی کرتا ہے اس کو کھا جائوں یا آگ لگا دوں ‘‘۔

    اچانک اس نے ایک نبولی اٹھا کر منہ میں رکھ لی۔بوڑھی عورت نے محسوس کیا کہ اس کی زبان پر کسی نے کڑواہٹ رکھ دی ہے۔اس نے اپنے پوپلے گالوں کو کھولا اور زمین پر کچھ تھوک دیا لیکن وہاں نبولی تو نہ تھی البتہ ایک چھالیا کا چوسا ہوا ٹکڑا ضرور تھا۔

    بوڑھی عورت نے ایک صفحہ اور پلٹ دیا اب اس کے سامنے ایک اور ایسی ہی تصویر تھی جو اس نے سب سے پہلے دیکھی تھی بس فرق اتنا تھا کہ اب یہاں بڑی موچھوں والا کالا بھجنگ آدمی نہیں تھا اور عورت کمسن نہیں تھی اور اس کی گود میں ایک ننھی سے مسکراتی ہوئی کلی موجود تھی جس سے چاند نی پھوٹ رہی تھی۔بوڑھی عورت کو لگا کہ اس کے کانوں میں ماضی کی یادیں چیخ رہی ہیں اور اسے ایک جملہ کھائے جاتا ہے۔

   ’’بھگوان نے لڑکی دی ہے تو دعا کر کہ نصیب بھی اچھا ہو‘‘۔

   لیکن بوڑھی عورت کے یہ سمجھ میں نہیں آیاکہ یہ کس کی آوازہے ؟؟؟لگتا تھا آوازوں کا ایک جال ہے جس میں مردوں اور عورتوں کی آوازیں اس طرح پیوست ہوگئی ہیں کہ ان میں فرق کرنا مشکل ہے۔ہاں اس کے جواب میں ایک آواز اسے آشنا لگی۔

   ’’کیا ہوا اگر لڑکی ہوئی ہے تو؟؟؟میں گائوں میں مٹھائی بٹوائوں گا وہ بھی سفید والی مٹھائی۔۔۔ کیونکہ یہ موم کی طرح سفید ہے‘‘۔

    بوڑھی عورت کو محسوس ہوا کہ وہ لڑکی دھیرے دھیرے اس کے سامنے جوان ہو رہی ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک پودہ درخت بنتا ہے اور پھر اس کی شاخوں پر پرندے آنے لگتے ہیں۔ وہ کبوتر بھی ہو سکتے ہیں اورچیل، کوے بھی۔اس پر گدھ بھی سوار ہو سکتے ہیں اور حشر الارض وغیرہ جیسے سانپ بھی اس پر اپنے پھن کا استعمال کر سکتا ہے۔

   بوڑھی عورت نے دیکھا سامنے ہاتھ باندھے ہوئے اس کے پتا کھڑے ہیں۔ بڑی موچھوں والا کالا آدمی اس کا شوہر ہے۔بوڑھی کرخت سیسہ نما آواز اس کے سسرال کی اس فرد کی ہے جو بیٹی تو بڑے پیار سے لاتی ہے لیکن اس کو نوکرانی یا منحوس کے سوا کچھ نہیں سمجھتی۔اسے لگا کہ چھوٹے سے جھولے میں جھولتا ہوا بچہ اچانک لئیم شحیم مرد بن گیاجو اس کبوتر کی طرح گائوں کے گھروں کی منڈیروں پر بیٹھتا تھا جسے وہ لڑکی دانا ڈالتی تھی۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ یہ لڑکاکبوتر نہیں بلکہ گدھ ہے جو ماس دیکھتے ہی آسمان سے اتر آتا ہے اورفضا میں چاروں طرف حیوانیت کا رقص ہونے لگتا ہے لیکن وہ جلد ہی شکاری کی گولی کا شکار ہو جاتا ہے۔

     بوڑھی عورت نے اپنی آنکھیں بند کر لیں چند پانی کے قطرے اس کی پلکوں سے نکل کر اس کے جھری والے گالوں کے گڈھوں میں محفوظ ہوگئے۔اسے احساس ہواکہ اب نہ وہ بڑی موچھوں والا کالا بھجنگ آدمی موجود ہے اور نہ وہ بوڑھی کرخت سیسے نما آواز اور نہ وہ چھوٹا سا جھولا لیکن وہ موم کی لڑکی آج بھی موجود ہے جو اب بھی محسوس کر رہی ہے کہ کوئی اس سے کہہ رہا ہے۔’’ اگر لڑکا نہ ہوا تو اسے کنوئیں میں گر وا دیں گے‘‘۔

1 تبصرہ
  1. محمد اصغر کہتے ہیں

    ایک بہترین المیاتی افسانہ ۔ آج بھی ہمارا سماج اور اس کے نظریات وہی ہیں جو کل تھے مگر انداز تبدیل شدہ ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔