نامردوں کی بستی 

محمد صالح انصاری

میرا نام گڑیا ہے میری عمر بارہ سال ہے۔میری عمر کے بچے آج بھی پیٹھ پر تھیلا ٹانگیں پڑھنے جاتے ہیں ہنستے کھیلتے مسکراتے ہوئے موج مستی کرتے ہیں۔راستے بھر ان کو دیکھتی ہوں بہت دیر تک دیکھتی رہتی ہوں۔آگے گلی میں جا کر جب وہ لوگ مڑ جاتے ہیں تب ہٹتی ہوں۔اور نہیں تو کبھی کبھی امی آ جاتی ہیں۔ میری عمر بھلے چھوٹی ہے لیکن میں گھر کا سب کام کرتی ہوں کھانا بناتی ہوں برتن دھلتی ہوں پھر سارے گھر میں جھاڑو لگاتی ہوں اور سارا دن اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کھیلتی رہتی ہوں ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تو بتایا ہی نہیں میرے دو چھوٹے بھائی ہیں ایک کی عمر سات سال اور دوسرا ابھی تو چل بھی نہیں سکتا۔

     جس عمر میں مجھے گڈے گڑیوں کے ساتھ کھیلنا تھا دیکھو میں کتنی سںیانی ہوگیء کی دو دو بھائیوں کی  ذمہ داری سنبھال رکھیں ہے اب سنبھالنا بھی کیوں نہ پڑے  اب تو ابّو نہیں ہیں۔ ان کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت ہو گئی۔ اب امی ہی ہیں جو میری دنیا ہیں میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ابو کے جانے کے بعد انہوں نے ہی سنبھالا ہے اور امی بھی دن بھر باہر مزدوری کرتی ہیں۔ لیکن قسمت کہاں تھی جو مزدوری سے پریوار چلتا۔ ماں کو بھی بیماری ہے۔ ہم کو تو نہیں بتایا کہ کون سی بیماری ہے لیکن جب کبھی پوچھتی ہوں تو ماں کہتی ہے یہ بہت بڑی بیماری ہے اور بہت پیسا لگے گا علاج کروانے میں۔

   لیکن ہمارے پاس تو پیسے ہی نہیں جو ہم علاج کروا سکیں اممی بہت پریشان رہتی ہے لیکن پھر بھی وہ ہم لوگوں کے لیے کام کرتی ہے دن بھر مزدوری کرتی ہے اور شام کو تھک کر آتی ہے اور کھانا بنانے لگتی ہے میں سارا سامان لا کر دے دیتی ہوں اور ماں کھانا بنا دیتی ہے۔

  آج صبح میں جلدی اٹھ گئی تھی میں نے برتن دھو لیے تھے ماں نےجھاڑو لگا دی تھی ویسے بھی جھاڑو لگانے میں کتنا وقت لگتا ہے ہم لوگوں کا گھر ہی کتنا ہوتا ہے ایک پلی پڑی رہتی ہے جو ہمیں ٹھنڈی گرمی برسات سے بچاتی ہے اسی میں چھوٹا سا بستر تھا جس میں امی اور بھائی سوتے تھے۔ خیرماں جھاڑو لگا چکی تھی سامان کھانا بنانے کا رکھ دیا تھا تو ماں نے کھانا بنا دیا لیکن ماں کو اٹھنے میں آج دیر ہو گئی تھی اس لیے ماں آج بنا کھائے ہی کام پر چلی گی ماں نے جاتے وقت بڑے غور سے دیکھا اور بھائی کو گلے بھی لگایا اور جاتے جاتے ہم سے کہتی گئی کہ بھائیوں کا خیال رکھنا اور  دیر تک باہر کھیلنے مت جانا۔

    اب ماں جا چکی تھی بڑا بھائی سامنے ہی مٹی سے کھیل رہا تھا اور چھوٹے بھائی کو میں اپنے پاس  کچھ نےء پرانی کتابوں کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کاش ہم کو بھی اسکول جانے کا موقع ملتا تو میں بھی جاتی اور خوب پڑھتی درجہ میں سب سے آگے ہی رہتی اور سب کچھ فراٹے سے یاد کر لیتی ویسے بھی میں نے آج تک اسکول کا منہ نہیں دیکھا لیکن پھر بھی ماں نے مجھے پہاڑا ١٠ تک یاد کرا دیا ہے اور ابو ہوتے تو اب تک میں لکھنا تو سیکھ جاتی لیکن کہاں سیکھ پایء تھی کہ ابو چلے گئے۔

   اتنی دیر میں بھائی بھی باہر سے چلایا آیا اسے پیاس لگی تھی اس نے ہم سے پانی مانگا اور میں نے اسے پینے کو پانی دیا۔ پانی پی کر وہ میرے ساتھ کتابیں پلٹنے لگا اچانک پتا نہیں کیا ہوا کہنے لگا کی بہن ہم لوگ یہاں کیوں رہتے ہیں؟ اور یہ یہ مٹی کے انبار میں کیوں کھیلتے ہیں؟ دور چاچا جو کھلونے بیچ رہے ہیں کیا ہم ان سے نہیں کھیل سکتے؟ میں نے کہا نہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ہے۔ اس نے پھر سوال کیا تو کیا؟ ہم تھوڑی دیر کھیلیں گے پھر واپس کر دیں گے آخر ہم اس کو ہمیشہ کے لیے نہیں لے رہے نا۔

  تبھی دور ایک لڑکا اس کو دکھا جو شاید کوچنگ کلاس لے کر واپس آ رہا تھا۔ اس نے پھر ایک سوال پھینک دیا میری طرف۔ بہن کیا ہم لوگ پڑھ بھی نہیں سکتے؟ کیا صرف پڑھنے کا حق امیر زادوںو کو ہے؟ بہن ہم کیوں نہیں اسکول جا سکتے؟ پتہ ہے اس دن میں گیا تھا وہ سامنے والی گلی میں جو اسکول ہے۔ وہاں ایک بڑا سا آدمی تھا پولیس کی وردی پہنا تھا اُسنے ہمکو دیکھتے ہی بھگا دیا۔

    میں نا بھاگتا کتا تو مجھے مار بھی دیتا۔ لیکن کیوں بہن؟ ایسا کیوں ہے؟ وہاں صرف صرف بڑے لوگوں کے لڑکے کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا پڑھائی بس بڑے لوگ ہی کرتے ہیں؟ ہم لوگ نہیں کر سکتے؟ اچّھا کوئی ایسا اسکول کیوں نہیں ہے جہاں ہم جیسے بچوں کو بھی بڑھایا جائے؟  بہن کوئی ضروری تو نہیں کہ میز پر ہی پڑھا جائے ہم تو زمین میں ہی پڑھ لیں۔ اگر کوئی پڑھانے والا استاد ملے مجھے۔ کیا ہوا ہمارے پاس قلم اور کاغذ نہیں اتنی بڑی زمین ہے جس پر ہم لکھ لینگے اور اپنی انگلیوں کو قلم بنا لیں گے جو کبھی ٹوٹے گی بھی نہیں اور ختم بھی نہیں ہوگی۔

   اب کافی شام ہو چکی تھی اور ابھی تک ماں واپس نہیں آئی سورج کی لال روشنی آسمان سے دھیرے دھیرے جا رہی تھی اور کالی رات اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ اب تو چھوٹا بھائی بھی جو ابھی تک سو رہا تھا اٹھ کر ماں ماں کی رٹ لگانے لگا۔ میں بھی بے چین ہو رہی تھی کہ کیا ہوا ہے؟  اندھیرا جیسے جیسے بڑھ رہا تھا میرا در بڑھتا جا رہا تھا، میں سہم رہی تھی کی آخر کیا ہوا؟ ماں کیوں نہیں آئی؟ کوئی بات تو نہیں ہوئی. ابھی کل ہی تو ماں نے دوائی لی تھی لیکن دوا خانے کی دکان پر پر ماں سے لڑائی بھی ہوئی تھی پیسے جو کم تھے۔

2

   میں نے چھوٹے بھائی کو گود میں لیا اور بڑے بھائی کی انگلی تھامی اور اس راستے پر چل پڑی جہاں آج سے پہلے کبھی نہیں چلی تھی اکیلی تھی دو بھائیوں کی ذمہ داری تھی چھو ٹا بھائی روئے جا رہا تھا اور اس کو ماں کی یاد آ رہی تھی بڑا بھائی جو سوالوں کی لڑی لگائے رہتا تھا کچھ نہیں بول رہا تھا اس کو کیا ہو گیا تھا۔ وہ بس چپ چاپ راستے پر چل رہا تھا ایسے جیسے و کبھی بولتا ہی نا تھا بلکل گونگا ہو گیا تھا۔

   راستہ بہت کٹھن تھا رات کا اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اب تو پیڑوں کی پتیاں  بھی نہیں دکھائی دیتی تھی کہیں کہیں سے روشن دان سے کچھ روشنی کچی مٹی کی سڑکوں پر پڑ رہی تھی جو مشکل اور کٹھن راستوں کو تھوڑا آسان کر دیتی تھی۔

     میں آگے بڑھ رہی تھی پتہ نہیں کیوں میرا من نہیں کر رہا تھا کہ میں آگے بڑھوں، بہت ڈر لگ رہا تھا، من میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ ماں کو کیا ہوگیا؟ یا ماں اب تک کہاں رہ گئی؟ آخر کیوں نہیں آئی؟ آر ہی ہوتی تو راستے میں ضرور مل جاتی؟ کیا ماں ہمیں چھوڑ کر چلی گئی؟۔

  نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا  ابھی تو ابو ہم سے جدا ہوئے ہیں۔

  ارے چھوڑو میں بھی کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہوں؟ ارے ہاں ماں تو اسی جگہ کے بارے میں بتاتی تھی یہ بڑا سا گیٹ اور گول گنبد اور سامنے خوب بڑا سا میدان شايد یہ وہی جگہ ہے جہاں ماں کام کرتی ہو گی۔

   میں آگے بڑھی۔ اندر جاتی چلی گئی اب چھوٹا بھائی چپ تھا   شاید وہ روتے روتے تھک چکا تھا اور نیند آ گئی تھی۔ لیکن وہ تب سے تو میری گود میں تھا میرے ہاتھ جو چھوٹے بھائی کو تھامے تھے وہ جواب دے رہے تھے۔ اور بڑا والا بھائی بھی اس وقت چپ تھا ابھی بھی اس نے کچھ بھی نہیں بولا پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اس کو؟ کہیں یہ طوفان کے پہلے کی خاموشی تو نہیں۔

چانک بھائی نے سامنے کی طرف کچھ دکھاتے ہوئے اشارہ کیا۔ اور میں تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑھی۔یہ کیا آخر اتنے لوگ کیوں ہیں؟ اتنے لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ماں تو کہتی تھی بس دس لوگ کام کرتے ہیں؟ لیکن یہ کیا یہاں تو سیکڑوں لوگ کھڑے ہوئے ہیں۔ اتنی آواز کیوں ہو رہی ہے؟ لوگ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ہو گیا ؟ کیسے ہوا؟ اب کیا ہوگا؟ ہائے میرا بیٹا……….. ہائے میری گڑیا………

            یہ سب اس طریقے کی آواز میں کیوں بول رہے ہیں؟ میں راستہ چیرتے ہوئے سیکڑوں لوگوں کے بیچ سے آگے نکل گئی۔ یہ کیا ؟ یہاں پولیس کا کیا کام ہے؟ یہاں تو بس مکان بن رہا تھا؟ یہ ایمبولینس یہاں کیا کر رہی ہے؟ اور یہ سنتری لباس پہنے ہوئے لوگ کیا کر رہے ہے؟ کیا یہ لوگ بھی یہی رہتے ہیں؟ یہی کام کرتے ہیں؟ ماں نے تو انکے بارے میں کبھی نہیں بتایا؟ ان پولیس والو کے بارے میں بھی تو نہیں بتایا؟ کیا ماں جھوٹ بولتی تھی؟ یہاں تو بہت سارے لوگ کام کرتے ہیں۔ یہاں صرف دس لوگ نہیں اور لوگ بھی ہیں۔

       ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک راستے بھر خاموش رہنے والا بھائی چیخ پڑا۔ ایسا لگا کہ پورے راستے بھر نہ بولنے کا بدلہ لے رہا ہو۔لیکن چلّایا کیوں اور کدھر؟ کہاں گیا؟ کدھر بھائی ، کہاں ہو، بھائی ۔ میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی مجھے ڈر لگا رہا تھا۔

       ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سے چلنے کی آواز آئی اس بار بڑی کوششوں کے بعد میں اسکے پاس پہنچ گئی تھی۔یہ کیا ماں یہاں اکیلی کیوں ہے؟ ماں تم زمین پر کیوں سوئی ہو؟ ماں گھر چلو؟ ابھی تو ہم لوگوں نے کھانا بھی نہیں کھایا ہے؟ ماں دیکھو بھائی سو رہا ہے اسکو دودھ پلانا ہے؟ ماں اٹھو جلدی بہت رات ہو گئی ہے۔ ماں یہاں اتنے لوگ کیوں ہیں؟ ماں یہ لوگ کس لیے آئے ہیں؟ ماں تم بولتی کیوں نہیں؟ چھوٹے دیکھ ماں بول نہیں رہی ہے ۔

    ارے کوئی تو دیکھو کیا ہو گیا میری ماں کو؟ ماں غصہ ہو ہم سے؟ ماں کوئی خطا ہو گئی ہے کیا؟ ماں کیا ہو گیا ہے؟ بہن ماں تھک گئی ہے، ماں سو رہی ہے۔ دیکھو ماں کا دل دھڑک رہا ہے،دیکھو نا ہم لوگ سنا کرتے تھے نا، ماں کی چھاتی سے لگ کر ماں کی دھڑکن، دیکھو نا دھڑکن چل رہی ہے۔

     اتنے میں اُدھر سے دو پولیس والے آتے ہیں اور کھینچ کر ہمکو ہماری ماں سے دور کر دیتے ہیں۔

3

       اچانک کسی نے مجھے تیز سے تماچہ مارا اور میں جاگ گئی ۔ارے یہ کیا ماں کہاں ہے۔(یہ تھپڑ نہیں تھا بلکہ چھوٹے بھائی نے میرے گال پر ہاتھ رکھ کر مجھے جگانے کی کوشش کر رہا تھا) سورج نکل آیا تھا اور چڑیا بولنے لگی تھی۔ اتنی دیر ہو چکی تھی کہ اب ان کی آواز کانوں کو راس نہیں  آ رہی تھی. اب یہاں پر کوئی نہیں تھا نہ وہ پولیس کی گاڑیاں اور نہ وہ پولیس والے اور نہ ہی وہ سنتری جیکٹ والے لوگ۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور چیخ ماری، شاید کوئی میری آواز کا جواب دیتا،  لیکن کوئی جواب نہیں۔ اب تو بھوک بھی بہت تیز لگ رہی تھی۔مل بھی کو کل شام چپ تھا اس نے بھی اب بھوک کی شکایت کر دی چھوٹے کا رونا چلو ہی تھا لیکن وہاں میری آواز سننے کو کوئی نہ تھا میں نے پھر سے بھائی کو گود میں اٹھایا اور دوسرے کی انگلی تھامی اور چل پڑی۔ گیٹ پر ایک آدمی وردی میں کھڑا تھا یہ دربان تھا میں نے اس سے پوچھا تو اُسنے کہا کہ اسکو تو رات میں ہی پولیس لیے گئی۔ میں نے کہا، کہاں لے گئی تو بولا  جا کر پتہ کرو۔

       شاید بھوک اتنی تیز لگی تھی،چھوٹے کو اب بھوک کے آگے ماں کی یاد بھی نہیں ستا رہی تی۔ دونو بھائی بھوک سے چلّا رہے تھے اُدھر میرا دم نکلے جا رہا تھا کی آخر پولیس والے ماں کو کہاں لے گئے۔ اور میری ماں کو کیا ہو گیا؟

     آگے بڑھی تو راستے میں ایک چھوٹا سا ہوٹل کا دکان دکھا۔ چھوٹا دوڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے اور باہر کھانا کھاتے ایک مسافر سے کھانا مانگنے لگتا ہے۔ اتنے میں دکاندار پیچھے سے تیز کا تماچہ رشید کرتا ہے کہ چھوٹے کی کان میں سنّاٹا پڑ جاتا ہے اور زمین لے لیتا ہے۔ اور رونے لگتا ہے۔لیکن کرتا بھی کیا کرتا یہ بھوک بہت نالائق چیز ہوتی ہے اس سے ذرا بھی صبر بھی ہوتا اور ہوتا بھی کتنا کل صبح کا کھایا ہوا،ویسے بھی ہم لوگ دو وقت ہی کھاتے ہیں۔

         خیر وہ آدمی بھلا تھا اس نے ہم تینوں کو بلایا اور بیٹھا لیا تھا شاید اسکو بھی ہماری بھوک کا احساس ہو گیا تھا۔اُسنے دکاندار سے دو پلیٹ سبزی روٹی چاول منگوائی اور ہم لوگوں کے سامنے رکھوادی۔ ہم تینوں نے بھر پیٹ کھایا اور شکریہ ادا کر چل پڑے۔

         اب ہم پولیس چوکی جا رہیت تھتی چوکی یہان سے کوئی دو کلومیٹر تھا۔ پیدل سفر بنا چپل کے اور ویسے بھی ہم لوگ ہمیشہ بنا چپل کے ہی چلتے تھتی لیکن پکی سڑکیں اور اوپر سے آگ برساتا دھوپ ہم لوگ سڑک کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے۔پولیس چوکی پہنچے تو معلوم ہوا کہ انکو تو اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ اب ہمکو واپس اسپتال جانا پڑا وہ سرکاری اسپتال شہر سے دور ہماری ہی بستی کے پاس تھا۔

          تھکے ہارے ہم ہسپتال پہنچ گئے اب ہم ماں کو ڈھونڈھے کہا؟ میں نے چھوٹے کو بھائی کے پاس رکھ کر ماں کو ڈھونڈنے کا ارادہ کیا۔اور بھائی کو ایک کنارے بٹھا دیا۔میں نے کئی جگہ کئی لوگوں سے پوچھا کسی نے کوئی جواب نہیں دیا کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، ڈونڈتے ڈھونڈتے میں اس کمرے میں پہنچ گئی جہاں مرے ہوئے لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔ میں نے بہت سے گندے نالوں سے کوڑے اکٹھا کیے تھے لیکن زندگی میں پہلی بار بدبو کا احساس ہوا۔ وہاں رکھی لاشے بدبو سے رہی تھی۔ بس لاکر پھیک دی جاتی تھیں اگر کوئی آتا تو لے جاتا نہیں تو یہی پڑی رہتی اور بدبو کرتی رہتی۔ میں نے ہمت کرکے ماں کو کھوج نکالا ۔اُدھر کنارے رکھی تھی۔ اور کچھ کتے دیکھ رہے تھے۔ میں ماں کو دیکھ کر رونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن میرے آنسو نہیں نکل رہے تھے اتنے میں اسپتال کا ایک آدمی ایک اور مردہ لے کر آے۔

         اس نے مجھے دیکھ کر بولا تم یہاں کیا کر رہی ہو چلو جاؤ یہاں سے مجھے کھینچ کر باہر لے جانےلگے ، میں اپنے ماں سے لپٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سب سمجھ چکا تھا۔ آخر تھا تو انسان ہی، تھوڑی دیر میں اس نے مجھے اور میرے بھائی کو ایک گاڑی میں بٹھا دیا جن میں پہلے سے ہی ماں کی مردہ لاش رکھی ہوئی تھی۔

    گاڑی میں اب کل چھ لوگ تھے چار ہم ماں، بھائی، اور دو ڈرائیور اس کا ساتھی۔ گاڑی چل پڑی اور میری جھونپڑی کے سامنے آکر رکی ہم لوگ نیچے اترے۔ کچھ لوگوں نے ماں کی  لاش اتار کر نیچے رکھا تو تھوڑا ادھر ادھر ہوا تو چھوٹا چیخ پڑا ممی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ابھی بھی چھوٹے کو نہیں پتا تھا کہ ماں اب نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ لوگ ماں کی لاش رکھ کر گاڑی لے کر چلے گئے۔

4

        اب تک شام ہو چکی تھی اور ابھی تک ماں کے کفن دفن کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ ہوتا بھی کیسے انجان شہر کوئی اپنا نہیں ہر کوئی آتا تھا اور پوچھ کر چلا جاتا کسی کو کیا مطلب، اور مطلب بھی کیوں ہوتا، میں کسی وزیر کی بیٹی نہیں تھی، نہ کسی رئیس زادے کی بیٹی تھی، میں ایک ایسی لڑکی تھی جو کوڑے دان سے اپنا کھانا ڈھونڈتی تھی اور کبھی کبھی تو اس جگہ سے مجھے اپنی بھوک مٹانی پڑتی تھی جہاں پر جانور استنجا کر کے چلے جاتے تھے کبھی کبھی بھوک کا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں دیکھتی رہتی تھی کی کب کتا واپس جائے اور میں جا کر اس روٹی کے ٹکڑے کو اٹھاتی جس پر جاتے وقت کتے نے استنجا کر دیا تھا۔

     میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی زندگی کی ڈور بڑی لمبی تھی اور اتنی کمزور کی ایک گانٹھ جوڑتی بھی نہیں تھی دوسری جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی اتنا بھی کیا کم تھا کہ ماں تم چلی گئی تھی اب تمہارا کفن بھی کروں۔ یہ سب دنیا کے رسم و رواج  کیوں ہیں۔وہ معاشرہ جو لوگوں کو ایک وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتا اسے یہ حق کس نے دیا کہ رسم و رواج بنائے۔ میرا بس چلتا تو میں ایسے ہی کسی گڑھے میں ڈھکیل دیتی۔

      میں گھر پر دونوں بھائیوں کو اکیلا چھوڑ کر نکل پڑیں کہ دیکھیں اتنی بڑی زمین پر کہیں ایسا کونا ہے جو اپنا کفن اُتار کر دیں تاکہ میں اپنی ماں کو پہنا سکوں۔ میں چلتے چلتے شہر سے دور نکل گئی میں نے ہر اس بڑے بڑے بورڈو والے دروازے پر آواز دی چیخ ماری لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ کسی کے گھر کے سامنے کتے سے ڈر کر بھاگ جاتی تھی تو کسی نے تماچہ مار کر بھگا دیا۔ شہر کے لوگ اتنے بے درد ہوتے ہیں؟ ان کے صرف آسمان چھوتی حویلیاں ہوتی ہے لیکن دل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی یہ صرف ناچ گانوں میں ہیں لاکھوں روپے دکھاوا کر سکتے ہیں لیکن ایک غریب کی مدد کرنے میں ان کی سات خاندانیں یاد آ جاتی ہیں۔

   میں تھک چکی تھی بھوک اور کمزوری سے نڈھال ہو چکی تھی اب آگے چلا نہیں جا رہا تھا اور من کر رہا تھا کہ یہیں کہیں بیٹھ جاؤ لیکن جھوپر پٹی کے سامنے پڑی اس گٹھڑی کا کیا کرتی جو کل تک مجھے سہارا دے رہی تھی آج وہ خود میرے سر کا بوجھ بن گئی۔ پھر سے آگے نکل گئی آگے جاکر دور ایک ٹوٹی پھوٹی حویلی دیکھی جہاں پر دو چار لوگ دکھائی دیے میں چلی گئی تو پتہ چلا یہ طوائفوں کی جگہ ہے جہاں جسم کا دھندھا ہوتا ہے۔

5

      اب میں کر بھی کیا سکتی تھی طرح طرح کے خیال آنے لگے اب کیا کروں؟ لوٹ جاؤ؟ یا یہی جا کر جسم بیچوں؟ تاکہ ماں کا کفن ہو سکے من اندر سے ڈر رہا تھا بہت ڈر لگ رہا تھا جسم جسم کہ سودا نہیں ہم سے نہیں ہوگا۔ اور ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میں تو ابھی چھوٹی سی بچی ہوں کوئی کیا کرے گا؟ اور پتہ نہیں اگر میں چلی جاؤں تو کتنے پیسے دیں گے؟ پتہ نہیں اس میں سے ماں کا کفن ہو پائے گا یا نہیں. ان سب سوالوں کے بیچ میں گھری تھی کہ اچانک پیچھے سے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میں ڈر گئی لیکن ہمت کرکے پیچھے مڑ کے دیکھا تو کوئی سانولی سی عورت میرے سامنے تھی اور پوچھ رہی تھی کیا کر رہی ہو تم؟یہاں تمہارا کیا کام؟

       میں اپنے آپ سے کچھ ظاہر بھی نہ کرنا چاہتی تب بھی میرے چہرے نے مانو سب کہہ دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن میں پھر بھی ڈرتے ہوئے بول پڑی جسم بیچنا ہے جسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال سن کر وہ دھک سی رہ گئی۔ کیا؟ یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟

            وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اندر لے گی اور کسی کو کچھ لانے کے لیے باہر بھیج دیا۔

       ہماری اور اس سے بہت دیر تک بات ہوئی میں نے پوری آپ بیتی سنائی شاید وہ اندر سے پگھل گئی تھی میں رونا چاہ رہی تھی مجھے کسی کندھے کی تلاش تھی اور اس عورت نے مجھے کندھے سے لگا لیا تھا میں چیخیں مار کر رونے لگی میری آنکھوں سے آنسو نہیں سیلاب نکل پڑے تھے جو کئی دنوں سے بیتاب ہو رہے تھے، دیر تک میں سر رکھ کے رویا کی۔

      ادھر سے وہ لڑکا کچھ کھانے کی چیز لیے سامنے کھڑا تھا اس عورت نے مجھے کھانے کو دیا کل دوپہر میں ہی کھانا کھایا تھا ہاسپٹل جاتے وقت تب سے ایک دانہ بھی کھانا نہیں لیا تھا میں نے ، جو کچھ میں نے کیا کھایا اور پھر تھوڑی دیر بعد حویلی کی ساری عورتیں میرے ساتھ چل پڑی اور میں آگے آگے ان کو لے کے آئیں لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے آ ج مجھے لگ رہا تھا کہ جو لوگ خود کو مرد کہتے ہیں خود کو عزت دار کہتے ہیں وہ سب نا مرد ہیج پورا کا پورا شہر نامردوں کی بستی ہے وہ شہر نہیں بلکہ اینٹوں کا جنگل ہے جہاں درندے رہتے ہیں۔ کسی سے کوئی مطلب نہیں ہاں جہاں سے میں آ رہی تھی وہاں کچھ انسان رہتے ہیں وہ بهلے ہی اپنے جسم کا سودا کرتے ہوں لیکن انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

     یہ سب سوچتے سوچتے میں گھر پہنچ گئی ان لوگوں نے میری ماں کو نہلایا کفن پہنایا اور جنازہ لے کر چلنے لگے تو ہمکو لگا کی یہ میری ماں کا جنازہ نہیں بلکہ اس شہر کے لوگوں کا جنازہ ہے جن کا ضمیر مر چکا ہے، جن کا احساس مر چکا ہے۔ اور کل جب میں فاتحہ پڑھنے بیٹھوں گی تو ماں کے نام سے نہیں بلکہ اس شہر کے لوگوں کے نام سے پڑھوں گی۔

کیونکہ میری ماں اب بھی زندہ ہے اور میرے ساتھ ایک ماں نہیں بلکہ ان طوائفوں کی شکل میں کئی مائیں ہیں۔ جنہوں نے ہمیں پیدا تو نہیں کیا لیکن ہمیں اپنے پاس رکھ لیا۔

       شام کو سوتے وقت میں اور میرے دونوں بھائی ایک کمرے میں حویلی کی مالکن کے پاس تخت پر سوئے تھے آج زندگی میں نی پہلی بار پیٹ بھر کھانا کھایا اور بستر پر پیر رکھا نہیں تو وہی پللی اور پیڑ کے پتے جن پر ہمیں نیند آ جاتی تھی مگر رات گزارنی بڑی مشکل ہوتی تھی۔

تبصرے بند ہیں۔