چراغ راہ گزر

سمن فاطمہ

(الخبر سعودی عرب)

عبدالرحمان بڑبڑاتا ہوا گھر میں داخل ہوا: ایسے استادوں سے بہتر یہ ہے کہ بندہ یوٹیوبرس فیصلہ وہ لوگ کم از کم دل آزاری تو نہیں کرتے’‘۔یہ کہہ کر اس نے اپنا بستہ دھڑام سے ٹیبل پر رکھا اور اپنا یونیفارم بدلنے چلا گیا۔فریش ہو کر جب وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوا تو اس کی والدہ نے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا’‘ ماجرا کیا ہے؟’‘

عبدالرحمان: میں’‘ بریک کے بعد پندرہ منٹ تاخیر سے داخل ہوا تو انگریزی کے استاد مسٹر طارق  نے مجھے سزا کے طور پر کلاس کے باہر کھڑا کردیا اور مزید پندرہ منٹ ڈسپلن کا بھاشن بھی دیا۔اب آپ ہی بتائیں کلاس میں 15 منٹ تاخیر سے آنا اتنا بڑا گناہ ہے کیا؟’‘۔

امی : ‘‘یہی بات تو میں اور ابو بھی تمھیں سمجھ آتے ہیں کہ وقت کی قدر کیا کرو تو کیا ہم دونوں کی نصیحت بھی ایک بے کار سا بھاشن محسوس ہوتی ہیں؟’‘۔

عبدالرحمن: نہیں امی! آپ دونوں میرے والدین ہیں میرے بھلے کے لیے ہی کہیں گے جو کچھ کہیں گے لیکن وہ انگریزی  استاد ہیں ان کا کام صرف پڑھانا ہے۔

امی حیرانی سے عبدالرحمن کو دیکھتی رہیں اور پھر کمرے میں جاکر الماری سے کچھ نکال لایں اور عبدالرحمن کے ہاتھ میں دے دیا۔یہ ایک چھوٹا سا پرانا البم تھا جس پر اس پر ایک اوٹو گراف بھی چسپاں تھی۔

عبدالرحمان پر جوش آواز میں کہنے لگا’‘ یہ تو کوئی پرانا البم لگتا ہے میں نے تو کبھی یہ نہیں دیکھا یہ کہہ کر   وہ بے چینی سے تصاویر دیکھنے لگا لیکن ان تصاویر میں وہ اپنے والد کے علاوہ اور کسی کو نہ پہچان سکا جو کہ دوسرے البمز میں وہ اپنے والد کی اسکول اور یونیورسٹی کی تصاویر دیکھ چکا تھا۔

عبدالرحمن: ‘‘ان تصاویر میں تو ابو زیادہ تر فٹ بال کھیلتے ہیں نظر آرہے ہیں’‘۔

آمی: ‘‘ بیٹا تم اپنے والد کی اسکول کی زندگی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟’‘

عبدالرحمن: ‘‘کیوں نہیں ؟ میرے والد اس شہر کے نامی گرامی سرجن ہیں اور سرجن بننا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ضرور انہوں نے اپنی

اسکول لائف میں بہت زیادہ محنت کی ہوگی’‘۔

امی: ‘‘ نہیں بیٹا۔ نویں جماعت تک وہ بہت لاپرواہ تھے اور اپنا زیادہ تر وقت بال کھیلتے میں سرف کیا کرتے تھے’‘۔

عبدالرحمن: ُُ’‘کیا بات کر رہی ہیں امی! ابو نے تو دسویں اور بار هویں میں ٹاپ کیا اور اسی لیے انہیں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کے لیے اتنے بڑے کالجوں میں داخلہ ملا۔

نہیں بیٹے ایسا نہیں ہے۔تمہارے ابو اکثر مجھے اپنی اسکول اور کالجوں کے قصے سنایا کرتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ نویں تک بہت لاپرواہ تھے’‘۔ اتنے میں ابو گھر میں داخل ہوئے اور ساتھ میں مٹھائی کا بڑا ڈبہ ساتھ لائے۔

امی :’‘ارے بھائی کس خوشی میں مٹھائی کا ڈبہ لائے ہیں آپ؟’‘

ابو:’‘آج دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے اور میں بہت خوش ہوں۔ دراصل ایک پیشنٹ کی انجیو پلاسٹی کامیاب ہوئی ہے۔

ابو : ‘‘یہی تو خاص بات ہے انجیو پلاسٹی جس شخص کی  کامیاب ہوئی ہے اس شخص کا کا مجھے سرجن بنانے میں بڑا ہاتھ ہے’‘

عبدالرحمن: ‘‘ ابو آپ تو سرجن اپنی محنت سے بنے ہیں اس میں کس کا کیا هاتھ ہے؟’‘

ابو نے جو س کا ایک سپ  لیا اور ان کی نظر اس البم پر پڑی  جو امی  عبدالرحمن کو دکھا رہی تھیں پھر اچانک ابو کی کام سے تھکی ہوئی بوجھل آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔

ابو: ‘‘ ارے آج یہ کیسا دن نکلا ہے ایک ایک کرکے ساری پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں یہ البم کیسے نکل گیا آج باہر؟’‘

امی: عبدالرحمن کو آپ کا قصہ سنانے چلی تھی کہ آپ آ گئے ۔اب آپ ھی سنائے  اپنے پرانے قصے اپنے بیٹے کو۔ شاید آپ کے پرانے قصے سنانے کا یہ صحیح وقت ہے۔امی یہ کہہ کر سوچ میں گم ہوگئیں۔

ابو نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور ‘‘کہا شاید یہ صحیح وقت ہے اسلیے بھی کہ میں ابھی ان پرانی یادوں کے حصوں سے مل کر آیا ہوں۔

عبدالرحمان بے چینی سے ‘‘ابو جلدی سے مجھے یہ جوس كا خالی گلاس دے دیں اور سنانا شروع کریں۔

ابو : ‘‘ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ہائی سکول میں تھا اور میری زندگی کا مقصد سوائے فٹبال کے کچھ اور نہ تھا بریک میں فٹبال اسکول کے بعد فٹبال ہر وقت فٹ بال ہی فٹ بال۔

ایک مرتبہ میں دوسری کلاس کے لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کھیل کر کلاس میں 20 منٹ لیٹ آیا تو مسٹر پرویز جو کہ ہمارے سائنس ٹیچر تھے، انہوں نے مجھے بہت سمجھایا لیکن میں پھر بھی نہ مانا اور اپنا وہی رویہ جاری رکھا اس کے بعد مسٹر پرویز نے مجھے ایک بار سٹاف روم میں بٹھایا اور پوچھا کیا تم جانتے ہو تمہارے والد نے تمہارے لیے کیا خواب دیکھے ہیں؟ تو میں نے جواب دیا ‘‘مجھے نہیں پتا’‘۔

مسٹر پرویز نے کہا ‘‘تمہارے والد اپنے معاشی اور گھریلو حالات کی وجہ سے اپنی پڑھائی مکمل نہیں کر پائے تھے لیکن وہ دن بھر محنت کرکے تمہارے لیے ایک ایک پیسہ جوڑ رہے ہیں تاکہ تم کچھ بن جاؤ انہوں نے تمہارے لیے اپنی سبھی خواہشات کو دبا دیا ہے۔اب تمہارا بھی فرض ہے کہ تم ان کے خوابوں کو پورا کرو اور کچھ بن کر دکھاؤ۔اور ویسے بھی وہ اپنے لیے کچھ تو مانگ نہیں رہے اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ مسٹر پرویز کی ان باتوں سے میرا دل کچھ نرم ہوا۔

اور اب میں پڑھائی کی طرف بھی دھیان دینے لگا میرے والد کے معاشی حالات سے مسٹر پرویز واقف تھے اس لیے مجھے انہوں نے نویں سے بارہهویں تک فری ٹیوشن پڑھائی اور ساتھ ہی ہمیشہ میری حوصلہ افزائی بھی كی۔  مجھے اپنی صلاحیتوں کے متعلق کوئی واقفیت نہ تھی انہیں کے مشورے پر میں نے میڈیکل میں داخلہ لیا اور آج یہاں تک پہنچ گیا۔ابو نے لمبی سانس لے کر اس قصے کا اختتام کیا۔

عبدالرحمن : ‘‘لیکن ابومیں تو اب تک یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

ابو : نہیں بیٹا ، کئی بار انسان ایک ہیرا ہوتا ہے لیکن جب تک اسے تراشا نہیں جاتا وہ بے مول ہوتا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی تربیت نہ کرتے تو جو دین اتنے وسیع پیمانے پر  پھیلا ہے، اس طرح نہ پھیلتا ، سکندر کو ارسطو نہ ملا ہوتا تو وہ کنویں کا مینڈک بن کر رہ جاتا اور یونان کو ہی اپنی ساری دنیا تصور کر لیتا۔

شہنشاہ اشوک کو بدھ کی شکل میں ایک استاد نہ ملے ہوتے تو وہ کلنگ میں خوں ریزی ہی کرتا رہتا۔اگر مغل بادشاہ اکبر کو بیرم خان کی رہنمائی نہ ملتی تو مغلیہ دور کا تذکرہ ہندوستان کی تاریخ میں سمٹ کر رہ جاتا۔

میرے ہاسپیٹل میں مسٹر پرویز کو لایا گیا اور مجھے ان کی انجیو پلاسٹی کرنی پڑی جو کہ الحمدللہ کامیاب ہوئی۔اور میرے دل کو سکون ملا کے مکمل تو نہیں پر میں ان کے احسانوں کا کچھ تو بدلہ چکا سکا۔ یہ کہہ کر مسٹر پرویز مطمئن ہوگئے۔

آ:عبدالرحمان: ‘‘ابو، آپ کی یہ باتیں سن کر مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے اب میں اپنے کسی بھی ٹیچر کے سمجھانے کا کبھی بھی برا نہیں مانو گا۔

امی :  ‘‘اور ہاں بیٹا جن یوٹیوبرس کو تم کچھ دیر پہلے اپنا آئیڈیل بتا رہے تھے وہ تمہیں بالکل بھی نہیں جانتے اور نہ ہی وہ تمہارے حالات سے واقف ہیں۔ اگر ایک استاد پڑھانے کے ساتھ ساتھ تمہاری کردار سازی بھی کر رہا ہو تو یہ اللہ سبحان تعالی کا بہت بڑا احسان ہے تمہیں اپنے استاد کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اب چلو، سب مل کر مٹھائی کھا لو ۔اور عبدالرحمن تم اتوار کو ہمارے ساتھ ہاسپیٹل چلو مسٹر پرویز سے ملنے کے لیے’‘

یہ که کر امی نے مٹھائی کا ایک ٹکڑا عبدالرحمن کے منہ میں ڈالا اور دل ہی دل میں اللہ سبحان تعالی کا شکر ادا کیا کہ جو بات وہ سمجھانے والی تھیں اللہ سبحان تعالی نے اسے ابو اور مسٹر پرویز کے ذریعہ اور بھی مناسب انداز میں سمجھانے کا موقع دے دیا۔
اور عبدالرحمن کی آنکھیں البم پر لگے اس آٹو گراف بک پر لکھے ایک شعر پر جمی رھیں جس کے نیچے مسٹر پرویز کے دستخط کیئے ہوئے تھے

  نونہالوں کو قندیل حرم دیتا ہے
دست نازک کو لوحِ قلم دیتا ہے
روشنی باٹتا ہے سورج کی طرح
ڈوبتا ہے تو ستاروں کو جنم دیتا ہے

تبصرے بند ہیں۔