امروہہ فاؤڈیشن کے زیرِ اہتمام آن لائن عالمی مشاعرے کا انعقاد

 امروہہ فائوڈیشن کے دس سال مکمل ہونے پر آن لائن عالمی مشاعروں کی پنج روزہ سیریز کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں روزانہ دو مشاعروں کا منعقد ہونا طے پایا۔ خاص بات یہ رہی کہ ہر مشاعرے کو امروہہ سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے ادیب،شاعر یا نامور شخصیت سے معنون کیا گیا۔ اس سلسلے کے دوسرے آن لائن عالمی مشاعرے کو نواب وقار الملک کے نام سے معنون کیا گیا۔

اس موقع پر امروہہ فائوڈیشن کے پریسیڈینٹ اور مشاعروں کے منتظم فرمان حیدر نقوی امروہوی نے کہا کہ امروہہ فائوڈیشن ایک ایسی تنظیم ہے جو دس سال سے مسلسل خدمتِ خلق انجام دیتے ہوئے فلاحی کام کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی کام بھی کر رہی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد اردو ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ عوام کو بیدار کرتے ہوئے خدمتِ خلق پر آمادہ کرنا ہے اور ساتھ ہی اتحاد کے پیغام کو عام بھی کرنا ہے۔ آج اس کے دس سال مکمل ہونے پر جشن کے بطور ہم پانچ روز تک روزانہ دو عالمی مشاعرے آن لائن زوم پر منعقد کر رہے ہیں جو دن میں ڈھائی بجے اور شب میں ساڑھے آٹھ بجے ہمارے یوٹیوب چینل ’’چینل ٹرو‘‘ پر براہِ راست نشر کیے جارہے ہیں۔ ہم اس چینل کے تحت نہ صرف مشاعرے منعقد کرتے ہیں بلکہ عصر حاضر کا سماجی و سیاسی منظر نامہ بھی عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم شرعی مسائل پر بھی علماء سے مشورہ لیتے ہیں اور بڑے ادیبوں اور فنکاروں کا بھی انٹر ویو کرتے ہیں آج ہمیں مسرت ہے کہ ہم ایک عالمی مشاعرہ منعقد کر رہے ہیں۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر ذوالفقار نقویؔ نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رضیؔ امروہوی رہے جب کہ مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے عابدہ سبحانی کہکشاں ؔ،مہتاب احمد،عباس دھالیوال اور راکیش دلبرؔ نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے انجام دئیے۔ قارئین کے لیے منتخب اشعار پیش ِ خدمت ہیں۔

نہ جانے کیسا لگایا ہے پیڑ آنگن میں

وفا کا پیار کا جس پر ثمر نہیں آیا

ذوالفقارنقویؔ جموں

بچپنے میں کھل گیا سب پر کہ ہوں عاشق مزاج

چوڑیاں میں نے خریدیں جب ممانی کے لیے

ڈاکٹر رضیؔ امروہوی

زمیں کو خوب ستانے کے بعد آئے ہیں

سحاب اب کے زمانے کے بعد آئے ہیں

عابدہ سبحانی کہکشاں ؔ لکھنو

منہ تکا کرتے ہیں بازار میں بکنے کے لیے

زندگی اپنی ہے اردو کے رسالوں کی طرح

ثروتؔ زیدی بھوپال

سب اپنی تشنہ دہانی کا ذکر کرتے ہوئے

ندی میں ڈوب گئے جام اپنے بھرتے ہوئے

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

سورج کو احساس دلایا جا سکتا ہے

جگنو سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے

راکیش دلبرؔ سلطانپور

گذر گئی ہے وہ بڑھیا جو دیپ رکھتی تھی

چراغ کون جلائے گا رہ گذر کے لیے

محمد عادلؔفرازعلی گڑھ

زخمِ دل اپنا زمانے سے چھپائے رکھا

ہم نے کانٹوں کو بھی سینے سے لگائے رکھا

ذوالفقار زلفیؔعلی گڑھ

نفرت کرنا میرے بس کی بات نہیں

اور محبت جیسے بھی حالات نہیں

مہتاب ؔاحمد

نیا موسم ہے سارا گلستاں مہکا ہے خوشبو سے

نہ جانے کیوں مگر اپنی پریشانی نہیں جاتی

عباسؔ دھالیوال پنجاب

سب کو خبر ہے پھر بھی بتاتا نہیں کوئی

کس کس نے میری راہ میں کانٹے بچھائے تھے

عبدالمنانؔ صمدی علی گڑھ

میں بنتی سنورتی ہوں تیرے لیے

بن کے خوشبو بکھرتی ہوں تیر لیے

گلشن انصاری گلؔ ممبئی

دل سے ترا خیال مٹائوں میں کس طرح

تیرا دیار چھوڑ کے جائوں میں کس طرح

بلالؔ علیگ حیدر آباد

تبصرے بند ہیں۔