الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

پروین شاکر اگر آج زندہ ہوتیں تو عمر کی ارسٹھ ویں  بہار دیکھ رہی ہوتیں لیکن وہ ہم سے بہت جلدی صرف چوالیس سال کی عمر میں جدا ہو گئیں۔ شاید وہ لوگ جن سے ہم بہت پیار کرتے ہیں، خدا کو ہم سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں
           پروین کی شاعری کا سفر صرف بیس سال کا  ہے لیکن اس قلیل مدت میں انھوں نے اردو ادب میں وہ گل بکھیرے ہیں کہ جن کی خوشبو آج بھی ہمارے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں شاعرات کی کمی نہیں رہی ہے لیکن ان کا کمال یہ رہا کہ انھوں نے ایک عورت کے جذبات کو ایک عورت کی نظر سے پیش کیا ۔ان سے پہلے کی شاعرات کی شاعری بلکل مردانہ تھی
میں اسکی دسترس میں ہوں مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
یا پھر یہ شعر دیکھئے
کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اسکی دلہن سجاؤں گی
لیکن یہ پروین کے ساتھ بہت زیادتی ہے کہ اس کو صرف حسن وعشق اور ہجر وصال کی شاعرہ مانا جائے۔ یقیناْ ان کے عشق کے رنگ میں ڈوبے اشعار زیادہ مشہور ہیں لیکن ایک فنکار اپنے معاشرے اور وہاں پائے جانے والی ناانصافیوں سے آنکھ نہیں چرا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے اندر کی کچی عمر کی لڑکی کو تو مرنے نہیں، کہ آخر تک انکے یہاں یہ رنگ موجود رہا ،لیکن زمانے کے نشیب و فراز پر بھی ان کی نگاہ رہی اور انھوں نے اس کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ یہ الگ بات ہیکہ اس طرح کے اشعار کی تعداد کم ہے اور بہت سارے لوگ اس سے واقف بھی نہیں ہیں۔ غزل کی روایتی خوبصورتی کے ساتھ یہ شعر دیکھئے
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
یا
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِ الہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنے گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاْ پھر انھیں مقتول سپاہی دیں گے
 ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا
خامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح
ہاں غزلوں میں اس طرح کے اشعار ڈھونڈنے مشکل ہیں لیکن ان کی نظموں میں یہ موضوعات کثرت سے ملتے ہیں ۔
سندھ کی بیٹی دیکھئے
بستی یہ ہماری جس میں اب بھی
خوشبو ترے نام کی بسی ہے
بارود میں کیوں نہا رہی ہے
شعلے اسے کیوں نگل رہے ہیں
جو شہر کی اپنی شخصیت میں
شبنم تھا ،گلاب تھا،صبا تھا
اب آگ ہے ،خون ہے ،دھواں ہے
یہ شہر ہے ،سانحہ ہے کیا ہے
کوفہ ہے کہ کربلا ہے کیا ہے
کراچی کا نوحہ دیکھئے
عکسِ تر جلا ہوا تھا
خوابوں کا نگر جلا ہوا تھا
یا دستِ دعا نہ اٹھ سکا
یا اسکا اثر جلا ہوا تھا
ملبہ تھا تمام شہرِ خوبی
اور ہوکے کھنڈر جلا تھا
یا اخلاقیات کی نوحہ گری ملاحظہ فرمائیں
سو اب شرطِ حیات ٹھہری
کہ شہر کے سب نجیب افراد
اپنے اپنے لہو کی حرمت سے
منحرف ہو کر
جینا سیکھیں
عورت کا تقدس اور اس کی حرمت ان کی شاعری کی ایسی تھیم ہے جوباربار ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ردا کا استعارہ استعمال کیا ہے
میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں
بے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون
یوں سرِ عام ،کھلے سر،
میں کہاں تک بیٹھوں
کسی جانب سے تو اب
میری ردا آئی ہو
یا پھر بے حسی کی یہ تصویر
ردا چھنی مرے سر سے
مگر میں کیا کہتی
کٹا ہوا تو نہ تھا ہاتھ
میرے بھائی کا
       دراصل پروین کے ساتھ ظلم یہ ہوا کہ ان کی صرف وہ نظمیں یا غزلیں عوام تک پہونچیں جسمیں حسن وعشق کی واردات ہے یا خود سپردگی اور محبوب کی ذات میں اپنے آپ کو ضم کر دینے کے جذبات ہیں ۔یقیناً یہ نظمیں اور غزلیں بہت خوبصورت اور اثر آفرین ہیں لیکن ان کی مزاحمتی شاعری سے صرفِ نظر کرنا بہت بڑی بد دیانتی ہے۔خواب ،خوشبو اور دھنک کی یہ شاعرہ سنگلاخ راہوں کی بھی مسافر تھی ۔
 تجھےمناؤں کہ اپنی  انا کی بات سنوں
الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر
جیسا شعر کہنے والی نے یہ بھی کہا اور کیا خوب کہا ہے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِّ الہی دیں گے
ہم وہ شب زاد کی سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
افسوس کہ انکی شاعری بھی اس کورنگاہی کا شکار بن گئی۔

تبصرے بند ہیں۔