انقلاب ….!

تبسم فاطمہ

وہ پیچھے آتے آتے رک گیا ہے۔۔

لوگ کہتے ہیں ۔۔۔ وہ راستے میں ہے ۔۔۔۔

اور کبھی بھی آ سکتا ہے۔۔۔

لوگ چاہتے ہیں کہ وہ آئے ۔۔۔

لیکن کسی نے اسے دیکھا نہیں ہے۔۔۔

کچھ اس کے بارے میں ماضی کے  کچھ واقعات یاد کر لیتے ہیں ۔۔

کچھ اس کا ذکر اپنے باپ  داداؤں  سے سنتے آئے تھے۔

کچھ زرد موسم کا رنگ دیکھ کرپیشن گوئیاں کیا  کرتے تھے۔۔

کہ وہ آ چکا ہے۔

بس آنے والا ہے۔۔

طوفانی ہوا میں

گرم موسم کی تپش میں

سلگتے بارود پر چلتے ہوئے

جب نادیدہ  آتش فشاں کے لاوے

تیزی سے آپ کے نام موت کا فرمان جاری کرتے ہیں

جب وہی نا دیدہ  طاقتیں تیزابی  بارش

اقتدار کی بجلی سے پیدا کرتی ہیں

جب امید کے ساتوں سر الاپ میں تبدیل ہو جاتے ہیں

اس کے آنے کا خواب دیکھنے  والے

چپکے سے ایک انجانے  دروازے کو  کھول دیتے ہیں

یہ انجانا دروازہ  ان کے لیے کھلا ہے

جو اب بھی اس کے انتظار میں ہیں

کوئی نہیں جانتا وہ آئے گا یا نہیں

سزا یافتہ گرمٹیوں  کی طرح

 سیاہ پانی  سے بچ نکلنے کے لیے

اس کا انتظار کوئی برا بھی نہیں ہے ۔۔۔

تبصرے بند ہیں۔