جلوہ ہاے پابہ رکاب

سہیل بشیر کار

عجم کا اردو داں ف عبدالرحیم صاحب بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ۔ علمی شخصیت کے ساتھ ساتھ کئی ممالک میں زندگی گزارنے اور کئی اداروں کے ساتھ منسلک رہنے کی وجہ سے آپ کی زندگی کے لمحات صحبت با اہل دل کا کام دیتی ہے۔ 140 صفحات کی زیر تبصرہ کتاب ’جلوہ ہاے پابہ رکاب‘ ان کی عملی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات کا مجموعہ ہے۔

ف عبدالرحیم صاحب  1933ء میں تامل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبے ونیمبڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعدانہوں نے مدراس یونیورسٹی کے پریذڈنسی کالج میں داخلہ لیا اور وہاں 1957ء میں انگریزی زبان اورادب میں گریجویشن مکمل کی۔ 1964ء میں انہوں نے قاہرہ کا رُخ کیا اور وہاں جامع الازہر سے عربی فلولاجی میں ایم۔ فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ بات لائق توجہ بھی ہے او رلائق دید بھی کہ عبدالرحیم نے عربی زبان محض اپنی ذاتی کاوش کی مدد سے سیکھی۔

1969ء میں انہوں نے مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی میں تدریسی ذمّہ داریاں سنبھالیں، جہاں وہ عربی زبان کی علمیات پڑھاتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک اورپروگرام کے ساتھ بھی منسلک تھے جس کے تحت عربی کوبحیثیت ایک غیر ملکی زبان کے طور پڑھایاجاتاتھا۔ اس مقصدکے لئے جو کورس انہوں نے ترتیب دیا، اسے ‘دروسُ اللغۃِ العربیۃِ لغیر الناطقین’ بھی  کہا جاتا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب میں عام واقعات نہیں ان میں قاری کو سیکھنے کے لیے بہت  کچھ ہے، مصنف آپ کو کبھی مدینہ منورہ لے جاتے ہیں؛ جہاں آپ ایک عرصہ تک متعلم تھے۔ کبھی سوڈان لے جاتے ہیں؛ جہاں آپ مدرس تھے۔ کبھی قاری کو مصر کے بارے میں اہم ترین معلومات دیتے ہیں وہاں کی تہذیب، وہاں کی اہم شخصیات سے متعارف کراتے ہیں ۔ کبھی جامع ازہر کی سیر کراتے ہیں، مصنف چونکہ انگریزی اور عربی کے استاد ہیں لہذا ان واقعات میں جگہ جگہ زبان کے باریک اور علمی نکات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، جہاں متانت ہے وہی علمی ظرافت بھی ہے۔

مصری تہذیب کے بارے میں آپ لکھتے ہیں کہ مصری نہایت زندہ دل ہوتے ہیں ۔ ان میں ہنسنے ہنسانے اور پاکیزہ مذاق کرنے کا بڑا رواج ہے، مصری لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں انہوں نے ہر موقع کے لیے مناسب دعائیہ جملے وضع کیے ہیں ؛جن کو سن کر انسان خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے، مصنف نے 7 ایسے مواقع کو بیان کیا ہے۔ یہاں برسبیل تذکرہ تین مثالیں پیش خدمت ہے۔ مصنف لکھتے ہیں :

’’ا۔ کسی کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ’هنيئًا‘ یعنی یہ کھانا تمہارے لیے صحت مند ثابت ہو۔۲۔ کوئی کھانا کھا رہا ہو، اور پاس سے گزرنے والے کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے، تو وہ کہے گا «عشت» یعنی جیتے رہو٣- کسی کو وضو کرتے ہوئے دیکھنے پر کہتے ہیں ”زمزم “ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو آپ زمزم سے وضو کرنے کا موقع عطا کرے۔” (صفحہ 44)

مصر کی اہم علمی شخصیات کا بھی جگہ جگہ ذکر کیا ہے۔ شیخ محمود شاکر کے بارے میں لکھتے ہیں: "قاہرہ میں جن علمی شخصیات سے میری ملاقات ہوئی ان میں سب سے زیادہ قد آور شخصیت شیخ محمود شاکر تھے۔ وہ دو حیثیتوں سے جانے جاتے ہیں : وہ شیخ المحققین تھے، انہوں نے بے شمار ترائی کتابوں کی تحقیق کی ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو محقق کہلانا پسند نہیں کرتے تھے۔ اپنی تحقیق کردہ کتاب کے سرورق پر وہ یہ عبارت لکھتے تھے (قراہ وعلق علیه فلان) گویا کہ ان کی نظر میں محقق کا اصل کام تراثی کتاب کو پڑھنا اور سمجھنا ہے۔

ان کا دوسرا نمایاں کارنامہ اسلامی اور عربی ثقافت کا پر زور دفاع تھا۔ وہ اس میدان کے نمایاں علم بردار تھے۔ مشہور نصرانی صحافی لویس عوض نے اپنی کتاب «على هامش الغفران» میں یہ جھوٹا دعوی کیا تھا کہ عربی کا مشہور شاعر ابو العلا المعری یونانی فلسفے سے متاثر تھا۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اسے یونانی اثرات نظر آتے تھے۔ شیخ محمود شاکر احادیث اور اسلامی تراث کے دفاع میں کمر بستہ ہوئے اور انہوں نے لویس عوض کے رد میں سلسلہ وار مضامین لکھے اور اسلامی تراث کی فوقیت اور برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان خدمات کے پیش نظر ان کو شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔” (صفحہ 48) مصنف لکھتے ہیں کہ مجھے شوق تھا کہ جامع ازہر میں نماز تراویح پڑھوں لہذا رمضان میں پہلی فرصت میں جب وہاں پہنچے تو عشاء کی نماز میں شامل ہوتے ہیں؛ لکھتے ہیں : "عشاء کی نماز کے بعد تراویح کی نماز شروع ہوئی۔ امام صاحب نے سورہ طہ پڑھنا شروع کیا؛ (طه مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لِتَشْفَى ) [1:20-2] کے بعد تکبیر کی آواز آئی۔ میں سمجھ نہیں سکا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ امام اور جماعت کے لوگ رکوع کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں بھی رکوع میں چلا گیا۔ بعد کی رکعتوں میں امام ایک یا دو آیت پڑھ کر رکوع کر دیتے۔ اس طرح پندرہ منٹ میں تراویح کی نمازختم ہو گئی۔” (صفحہ 40)

آپ سوڈان میں بھی رہے ہیں کہ وہاں کے لوگ بہت ہی caring ہیں ؛لکھتے ہیں : ’’دوسرے دن میں کچھ مصری اساتذہ کے ساتھ سوڈان کے لیے روانہ ہو گیا۔ ہم رات کے وقت خرطوم پہنچے۔ یونیورسٹی کے مدیر نے ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں خرطوم کے مشہور ‏Grand Hotel میں ٹھہرایا گیا جو ایک نہایت پر فضا جگہ پر واقع ہے۔ اس کے قریب ہی دونوں نیلوں کا سنگم ہے؛ جو المقرن کہلاتا ہے۔

دوسرے دن بعد نماز فجر ایک صاحب ملنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی کے مالیاتی شعبہ سے ہیں۔ انہوں نے ایک لفافہ پیش کیا جس میں پچاس سوڈانی پونڈ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ یونیورسٹی کی نظم نو وارد مہمانوں کی ہنگامی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے ہے۔ ان کے جانے کے فوراً بعد ایک دوسرے صاحب آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق یونیورسٹی کے housing شعبہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ظاہر ہے کہ نووارد اساتذہ کو کرایے پر فلیٹ لینے کی ضرورت پڑے گی۔ اس بارے میں ہم آپ کی خدمت کے لیے مامور ہیں۔ آپ چاہیں تو ہم آپ کو آپ کی ضرورت کے مطابق فلیٹ دکھائیں گے، اور جو فلیٹ آپ پسند کریں، اس کے مالک کے ساتھ آپ کی گفتگو کر نئیں گے اور آپ کو کم سے کم کرایے پر فلیٹ دلانے میں آپ کی مدد کریں گے۔ ان کے جانے کے بعد ایک تیسرے صاحب آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فرنیچر وغیرہ کی خرید میں اساتذہ کی مدد کریں گے۔ اس نظم سے جہاں ہم لوگوں کو بے حد مسرت ہوئی وہیں ہمیں بڑا تعجب بھی ہوا کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں نووارد اساتذہ کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے، اور اس سلسلے کی کاروائی اس قدر منظم و مرتب طریقہ پر انجام دی جاتی ہے۔‘‘ (صفحہ 113)

سوڈان کے لوگ مہمان نواز ہے؛ ان کے دسترخوان میں وسعت ہوتی ہے۔ دستر خواں کا نقشہ یوں کھنچے ہیں :”جب میں پہلے دن یونیورسٹی سے واپس آیا تو دیکھا کہ میرا دستر خوان لگا ہے جس میں قسم کی ڈشیں سجی ہوئی ہیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ اتنی ڈشیں کیوں ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ مختلف قسم کے گوشت ہیں : یہ بکری کا ہے، یہ بھیٹر کا، یہ ہرن کا۔۔ یہ ایک آدمی کا کھانا نہیں تھا۔ بہر حال میں دو ایک بوٹی کھا کر اٹھ گیا۔ رات کے کھانے کا وقت ہوا تو میں نے ملازم سے پوچھا کہ دو پہر کا کھانا تو بچا ہو گا۔ اس نے بتایا کہ وہ تو باورچی نے پھینک دیا۔ دوسرے دن صبح میں نے احتیاط برتی۔ میں نے باورچی سے کہا: سنو، آج مجھے گوشت نہیں کھانا ہے۔ ڈاکٹر نے زیادہ گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ تم کچھ اور بنادو۔ جب دو پہر واپس ہو ا تو دیکھا کہ آج بھی وہی صورت حال ہے، میں نے باورچی کو بلایا اور کہا: کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آج گوشت نہیں کھاوں گا۔ اس نے اطمینان سے کہا: ہاں، مجھے یاد ہے۔ یہ گوشت نہیں ہے۔ یہ سب پرندے ہیں : یہ مرغی ہے، یہ بطخ ہے، یہ تیتر ہے۔ ‘‘(صفحہ 115)

یہ کتاب پڑھ کر مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ مصنف چونکہ فرنچ، جرمن، اسپانش، فارسی، تمل، ہندی، اردو، عربی، انگریزی زبانوں سے واقف تھے لہذا جگہ جگہ زبان کے نکات پر بات کی گئی ہے۔ اردو زبان کا ایک عجیب قاعدہ کے تحت لکھتے ہیں :”اردو میں فعل کے تعلق سے ایک عجیب و غریب قاعدہ ہے جو دنیا کی کسی زبان میں نہیں پایا جاتا۔ تمام زبانوں میں فعل فاعل کے تابع ہوتا ہے، اردو میں بھی عام طور پر اسی قاعدے پر عمل ہوتا ہے۔ جیسے لڑکا آیا، لڑکے آئے۔ لڑکی آئی، لڑکیاں آئیں۔ لڑکا ہنس رہا ہے، ہم ہنس رہے ہیں۔ بیٹے تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ بیٹی تم کیوں ہنس رہی ہو ؟ لیکن فعل اگر متعدی ہو اور ماضی میں ہو تو اس قاعدہ پر عمل نہیں ہو تا۔ ایسی صورت میں جملے میں ” نے “ نامی ایک اجنبی کود پڑتا ہے اور وہ فعل کو فاعل کی تابعداری سے روک دیتا ہے۔ فعل کو آخر کسی نہ کسی کی تابعداری کرنی ہے تو وہ مجبورا مفعول کی تابعداری کرنے لگتا ہے۔ جیسے:

لڑکے نے چٹھی لکھی۔ لڑکی نے خط لکھا۔

 لڑکے نے روٹیاں کھائیں۔ لڑکوں نے فلم دیکھی۔ اور اگر جملے میں ایک دوسرا اجنبی "کو” بھی گھس آئے تو بے چارا فعل نہ فاعل کی تابعداری کر پاتا ہے نہ مفعول کی۔ وہ نیوٹرل بن کر رہ جاتا ہے۔ جیسے: لڑکے نے لڑکی کو روکا۔ لڑکی نے لڑکے کو روکا۔ لڑکوں نے لڑکیوں کو روکا اور لڑکیوں نے لڑکوں کو روکا اور اگر جملے میں سرے سے کوئی مفعول ہی نہ ہو تو بھی فعل نیوٹرل ہی رہتا ہے جیسے: میں نے کہا، ہم نے کہا، انہوں نے کہا۔ ہمارے استاذ نے بتایا کہ وہ انگریزی میں اس طرح بتاتے تھے:

Ne cuts off the subject, and ko cuts off the object, and the verb is left alone, and it becomes neutral۔

"(صفحہ 42)

مصنف نے چونکہ انگریزی اور عربی کی اعلٰی تعلیم حاصل کی ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ بہت سے انگریزی الفاظ عربی سے نکلے ہیں مثلا میگزین جو کہ مخزن سے نکلا ہے, اسی طرح ان کا ماننا ہے کہ اردو کے میگزین کے لئے ڈائجسٹ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے؛ لکھتے ہیں : ” یاد رہے کہ انگریزی میں لفظ ”ڈائجسٹ” کے اصلی معنی تو ہیں ہاضمہ کے۔ ہاضمہ میں کیا ہوتا ہے؟ معدہ ہاضمہ کے عمل کے ذریعہ غذا کا خلاصہ تیار کرتا ہے جو جسم میں جذب کر لیا جاتا ہے اور فضلے کو خارج کر دیا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر لفظ digest سے خلاصے کا مجازی مطلب بھی جڑ گیا۔ چنانچہ انگریزی میں کہتے ہیں :  digest a weekly news یعنی خبروں کا ہفتہ وار خلاصہ۔ چونکہ Dewitt اپنے ماہنامے میں مضامین اور کتابوں کے خلاصے شائع کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اس کا نام Digest Reader’s رکھا یعنی قارئین کے لیے تیار کردہ خلاصے۔”(صفحہ 88)

کتاب میں جہاں علم کے موتی ہے وہی ظرافت بھی ہے۔ زبانوں کے درمیان اتفاق الفاظ اور اختلاف معانی کی بہت ساری مثالیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے جہاں کچھ دردناک المیے واقع ہوئے ہیں ؛ وہیں کچھ مضحکہ خیز لطفیوں میں ابن بطوطہ کا لطیفہ رقم کرتے ہیں : ’’ابن بطوطہ نے اپنی کتاب «تحفة النظار» میں اس قسم کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ ترکیا میں پیش آیا۔ ابن بطوطہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ترک میزبان سے گھی کی فرمائش کی۔ اس وقت وہ سب کھانے کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میزبان نے کہا کہ میں ابھی اس کا انتظام کرتا ہوں۔ اس نے اپنے ماتحتوں کو اس کا حکم دیا۔ کافی دیر کے بعد وہ لوگ واپس آئے۔ میزبان نے ابن بطوطہ کو خوشخبری دی کہ آپ کی فرمائش آگئی ہے۔ وہ ان کو لے کر گھر کے باہر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ گھاس سے لدی ہوئی ایک گاڑی کھڑی ہے۔ ابن بطوطہ نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میزبان نے کہا یہی سمن ہے جس کی فرمائیش آپ نے کی تھی۔ اس لطیفے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جانا چاہیے کہ ابن بطوطہ نے «سمن» کی فرمایش کی تھی جو عربی میں بمعنی گھی“ ہے۔ میزبان نے اسے ترکی کا لفظ saman سمجھا جو بمعنی گھاس ہے۔‘‘ (صفحہ 27)

منطق کے حوالے سے ایک لطیفہ سناتے ہیں : "منطق اور فلسفیانہ موشگافیوں کے بارے میں ایک لطیفہ سناتا چلوں۔ مصر کے ایک دیہاتی کا لڑکا ازہر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ چھٹی میں گاوں آیا اور اپنے والد کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا: میں نے ایک نیا علم سیکھا ہے جسے منطق کہتے ہیں۔ باپ نے پوچھا: اس کا فائدہ کیا ہے؟ لڑکے نے بتایا: دیکھو! یہاں میز پر دو انڈے ہیں، میں منطق کی رو سے انہیں تین ثابت کر سکتا ہوں۔ باپ نے فورا دونوں انڈے اٹھا کر کھا لیے اور اپنے از ہری لڑکے سے کہا: منطق کے ذریعہ جو تیسرا انڈا ثابت ہو گا، اسے تم کھا لینا۔” (صفحہ 73)

کتاب میں زیر درج ساٹھ خوبصورت واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے مصنف کی خودنوشت  شائع ہو؛ اس کے بہت فوائد ہونگے۔ اگر کوئی صاحب ف عبدالرحیم صاحب سے گفتگو کرکے معلومات حاصل کریں اور بعد میں اس کو کتابی صورت میں تدوین کریں تو یہ بڑی خدمت ہوگی۔

کتاب کو اسلامک فاونڈیشن ٹرسٹ چنئ نے چھاپا ہے۔ کتاب فون نمبر 8668057596سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

مبصّر سے رابطہ :9906653927

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


1 تبصرہ
  1. سلمان مکرم کہتے ہیں

    بہت عمدہ معلومات افزا تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا