جموں کے زنانہ کالج میں زیر تعلیم طلاب عدم تحفظ کا شکار

الطاف حسین جنجوعہ

جموں وکشمیر ریاست کے سرمائی راجدھانی جموں کے زنانہ کالجوں میں بھی زیر تعلیم طالبات محفوظ نہیں ہیں جہاں پر تدریسی وغیر تدریسی عملہ کی طرف سے ہراساں کیاجارہاہے۔ حاضری پوری کرنے اور امتحان میں نمبرات دینے کے عوض طالبات سے عظمت کا سودا کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ خواتین کالج پریڈ جموں جوکہ خود مختار کالج ہے، میں طالبات نے 22اگست کوکالج پرنسپل، لیکچرروں، اساتذہ اور درجہ چہارم ملازمین کی زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر کر زبردست احتجاج کیا۔ احتجاج کی وجہ سے کچی چھاؤنی، پنج تیرتھی، شالیمار، پریڈ میں سڑکوں پر زبردست ٹریفک جام رہا اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک آمدورفت مکمل طور مسدود رہی۔ طالبات کالج پرنسپل کوفوری ٹرانسفر کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کر رہی تھیں۔ اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاجی طالبات نے جو الزامات لگائے وہ انتہائی سنگین اور دل دہلادینے والے ہیں۔ طالبات نے بتایاکہ انہوں نے کالج کے اندر تنگ وطلب کرنے اور اپنے حق میں کرنے کے لئے درجہ چہارم ملازمین، ٹیچر، لیکچرر اور پرنسپل تک سبھی کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔

اگر کوئی طالبہ دو منٹ بھی تاخیر سے پہنچے تو اس سے کالج کے اندر داخل ہونے نہیں دیاجاتا۔ گیٹ پر کھڑا چپراسی ان سے بدتمیزی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر تبھی جانے دو ں گا اگر آپ میرے ساتھ پیار کرؤ گی۔ طالبات نے بتایا’’آج گیٹ پر چپراسی نے ایک طالبہ سے زبردستی کر کے اس کی قمیض پھاڑ دی، متاثرہ طالبہ چند دیگر سہلیوں کے ساتھ، شکایت کرنے پرنسپل کے پاس گئیں تو پرنسپل نے کہاکہ توں کس سے Rapeکروا کے آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہابجائے شکایت سننے اور چپراسی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اُلٹا ناشائستہ اور غلیظ قسم کے الفاظ استعمال کئے۔ طالبات نے بتایاکہ جوبھی خوبصورت لڑکی ہے، اس کو ٹیچر، لیکچرر اور درجہ چہارم ملازمین اپنے حق میں کرنے کے لئے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور جولڑکی ان کی بات نہیں مانتی تو اس کے رول نمبر ات نوٹ کر کے ان کی حاضری کم کر دی جاتی ہے یا پھر امتحان میں نمبرات نہیں دیئے جاتے۔نعرہ بازی کر رہیں چند طالبات نے انکشاف کیاکہ ایک لیکچرر نے چند طالبات کو چھت پر بلاکر کہاکہ آپ کی Shortageنکالی گئی ہے، آپ کو امتحان میں بیٹھنے نہیں دیاجائے، میں تمہاری حاضری پوری کرواسکتا ہوں لیکن اس کے لئے آپ کو رات میرے کمرہ میں آناہوگا۔طالبات نے کہاکہ پریڈ کالج Autonomusکالج ہے یہ جموں یونیورسٹی کے تحت نہیں۔

یہاں پر امتحانات، داخلہ، مارکنگ وغیرہ سب کچھ کالج میں ہی ہوتا ہے، جس کا فائیدہ اٹھاکر طالبات کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کبھی لڑکیوں کو حجاب پہن کر آنے پر تنگ کیاجاتاہے تو کبھی سر پر دوپٹہ نہ رکھنے پر سوال اٹھایاجاتاہے۔طالبات نے مزید کہاکہ پڑھائی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف یہاں پرزیر تعلیم طالبات کی عزت تارتار کرنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بنائے جاتے ہیں۔ پریڈ کالج میں پونچھ، راجوری، کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، ریاسی، اودھم پور اضلاع کے علاوہ وادی کشمیر اور لداخ خطہ سے بھی تعلیم حاصل کرنے طالبات اس امید کے ساتھ آئی تھیں کہ سرمائی راجدھانی جموں میں ان کی عزت ونفس محفوظ ہوگی لیکن یہاں پر بھی انہیں نوچنے کے لئے دریندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ احتجاجی طالبات نے کالج انتظامیہ پرالزام عائد کیاکہ انہیں نظم وضبط اورڈریس کوڈ کابہانہ بنا کر غیرضروری طورپرتنگ طلب کیاجارہاہے۔اس بارے میں ایک پولیس افسرنے بتایاکہ کالج کے کھلتے ہی بھاری تعداد میں طالبات گیٹ سے باہر نکل آئیں اورپرنسپل اوراستانوں کے خلاف زور دار نعرے بازی شروع کردی۔اطلاعات کے مطابق طالبات اس وقت احتجاج پراْترآئیں جب ایک چپراسی کچھ لڑکیوں سے بدسلوکی سے پیش آیا اورکیمپس کے گیٹ کے اندرآنے سے روکا اورکالج کے قواعدوضوابط کے مطابق وردی نہ پہننے کابہانہ بنایا۔خواتین کالج پریڈ کی طالبات نے کالج انتظامیہ پرالزام عائد کیاکہ انہیں نظم وضبط اورڈریس کوڈ کابہانہ بنا کر غیرضروری طورپرتنگ طلب کیاجارہاہے۔برسراحتجاج طالبات کاکہناتھاکہ کالج پرنسپل انہیں سفیدجوتے، بشمول RIBBONS پہننے کوکہہ رہی ہیں جوکہ قابل قبول نہیں کیونکہ وہ کسی سکول کی طالبات نہیں ہیں جبکہ شہرکے دیگرکالجوں کی طالبات ہرقسم کا لباس استعمال کرتی ہیں تو پھراس کالج کی پرنسپل غیرضروری تاناشاہی کیوں کررہی ہیں۔

طالبات نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ انہیں حجاب پہننے کے لئے کہاجارہاہے اورکالج کاچپراسی پرنسپل کی ایما پر طالبات کے ساتھ بدتمیزی کیساتھ پیش آتا ہے۔چپراسی طالبات پرفقرے بھی کستاہے۔جب وہ کالج میں داخل ہوتی ہیں تویہ چپراسی کلاس میں داخل ہونے سے پہلے دوپٹہ ہٹانے کوکہتاہے جوکہ ناقابل برداشت ہے۔حتیٰ کہ کئی مواقعوں پرکالج کے عملہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ برقعہ اورحجاب دہشت گردوں کاڈریس کوڈ ہے۔وہ اپنے ماحول میں بالکل محفوظ محسوس کررہی ہیں لیکن انہیں ہراساں کیاجارہاہے۔ ڈریس کوڈ کے علاوہ انہیں نت نئے بہانوں کے ذریعہ تنگ طلب کئے جانے کے ساتھ کلاس ٹیسٹوں میں جان بوجھ کر فیل کردیاجاتاہے، شارٹیج نکالی جاتی ہے، اپنے حق میں کرنے اور عزت پر ہاتھ ڈالنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں حتیٰ کہ نہایت ہی گری ہوئی زبان استعمال کی جاتی ہے۔تاہم کالج پرنسپل نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈریس کے نام پر انہوں نے کبھی بھی لڑکیوں کو ہراساں نہیں کیا۔ کالج پرنسپل انیتا سدن نے بتایا ’’میں نے یہ بات انتہائی خفیہ رکھی تھی لیکن اب جبکہ طالبات سڑکوں پر ہیں، میں بتانا چاہتی ہوں کہ اس سال ہمارے کالج سے چار لڑکیاں کہیں غائب ہوگئی تھیں، طالبات کے والدین کالج میں زیر تعلیم طالبات کی حفاظت بارے سوال کرتے ہیں تو انہیں ہم کیا جواب دیں ‘‘؟۔

انہوں نے مزیدبتایاکہ یہی وجہ تھی کہ کالج انتظامیہ کی حالیہ دنوں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سبھی لڑکیوں کے لئے ڈریس کوڈ کا علان کیاگیا تاکہ ہماری لڑکیوں کی شناخت ہوسکے، انہوں نے آج تک کسی بھی کالج لڑکی کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی۔کالج قواعدوضوابط کے مطابق طالبات سفیدشلوار، قمیض اور دوپٹہ پہن سکتی ہیں جبکہ شادی شدہ طالبات سادہ بھارتیہ سوٹ کم سے کم بنائوسنگارکے ساتھ پہن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کالج انتظامیہ کے فیصلہ کے مطابق لوکیٹ نیک، بیربیک ٹاس، پلازو پائجامہ، دوپٹہ بمعہ ایمبائیڈری وسنڈلز اورقیمتی زیورات کالج میں پہننے کی اجازت نہیں۔ اس معاملہ پر متعدد کالجوں کے طلاب کے سراپا احتجاج ہونے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے کالج پرنسپل کو اٹیچ کر دیاہے۔حکومت نے پریڈ کالج انتظامیہ پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے بھی احکامات صادر کئے ہیں۔ ریاستی محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے ایک حکام نامہ زیر نمبر489-HE/2017جاری کیاگیاہے جس میں کہاگیاہے کہ معاملہ کی انکوائری تک پرنسپل خواتین پریڈ کالج انیتا سدن کو ڈائریکٹر کالجز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ فوری طور سے اٹیچ کیاجاتاہے، ان کی جگہ گیتانجلی اندوترہ انچارج پرنسپل جن کی گورنمنٹ ڈگری کالج بانہال ٹرانسفر کی جانی تھی  کومزید احکامات تک انچارج پرنسپل خواتین کالج پریڈ تعینات کردیاگیا۔

بدھ کے روز جموں میں پریڈ کالج کے علاوہ متعدد کالجوں کے طلبہ وطالبات سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے کالج پرنسپل کے خلاف زوردارنعرے لگائے۔ انہوں نے کالج پرنسپل کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا۔ کالج انتظامیہ پرطالبات کی طرف سے لگائے گئے سنگین الزامات کی سوشل میڈیا اور اخبارات میں شائع خبروں سے پیدا شدہ غیر معمولی صورتحال کے بعد حکومت نے کالج پرنسپل کو اٹیچ کر دیا۔

تبصرے بند ہیں۔