جنت کا بیان

اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑاہونے سے ڈر گیا اُس کیلیے دو باغ ہیں(سورہ۔الرحمن۔46)

یعنی جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس بات سے بھی ڈرتا رہا کہ اس کا رب اس کی ہر چھوٹی بڑی حرکت کو دیکھ رہا ہے، تو اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ جنت کی وراثت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو موقع میسر ہونے پر انسان کو کوئی بھی چیز کسی بھی جرم کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی اور جب یہ موجود ہو تو آدمی کے قدم مشکل سے مشکل وقت پر نہیں ڈگمگاتے۔جس نے دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی ہو،  جسے ہمیشہ یہ احساس رہا ہو کہ میں دنیا میں شتر بے مہار بنا کر نہیں بھیجاگیا ہے، بلکہ ایک روز ہرایک بندے کو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ عقیدہ اوریقین جس شخص کا ہو وہ لامحالہ خواہشات نفس کی بندگی سے بچے گااور اندھا دھند تاریکی راستوں پر سفرنہیں کرے گا۔ حق و باطل، ظلم و انصاف، پاک و ناپاک اور حلال و حرام میں تمیز کرے گااور جان بوجھ کراللہ کے احکامات کی پیروی سے منہ نہ موڑے گا،اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔

ہر جان دار موت کو چکھنے والا ہے اور یقینا تم قیامت کے دن ہی اپنے پورے اجر دئیے جاؤ گے، چنانچہ جوآگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سو اکچھ نہیں(سورہ آل عمران۔آیت۔185)

جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں تو اس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیا ہے، گویا کہ وہ پورا کا پورا ایک باغ ہے اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہوں گے اور یہاں تعین کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ ہر نیک شخص کو اس بڑی جنت میں دو دو جنتیں دی جائیں گی جو اسی کے لیے مخصوص ہوں گی، جن میں اس کے اپنے قصر ہوں گے، جن میں وہ اپنے متعلقین اور خدام کے ساتھ شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہے گا، جن میں اس کے لیے وہ کچھ سرو سامان فراہم ہوگا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

چنانچہ ان کے رب نے ان کی دُعا قبول فرمائی کہ بے شک میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے ہی سے ہو تو جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں تکلیف دئیے گئے اور انہوں نے جنگ کی اور قتل کر دئیے گئے تو یقینا میں ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا اور یقیناً میں ضرور انہیں باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ ان کابدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین بدلہ ہے(سورہ آل عمران۔آیت۔195)

اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین جتنی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے(آل عمران۔آیت۔133)

جن لوگوں نے نیکی کی اُن کے لیے نہایت اچھا بدلہ ہے اور کچھ مزید ہے اور اُن کے چہروں کو نہ کوئی سیاہی ڈھانپے گی اور نہ کوئی ذلت، یہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں(سورہ یونس۔آیت۔26)

ہمیشہ رہنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے، اور ان کے باپ دادوں، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے، وہ بھی۔ اور (ان کے استقبال کے لیے) فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے (یہ کہتے ہوئے) داخل ہوں گے(سورہ رعد۔آیت۔23)

جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے، اُس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اُس کا پھل اوراُس کا سایہ دائمی ہیں۔ یہ اُن لوگوں کاانجام ہے جو متقی بنے اور کافروں کا انجام آگ ہے(سورہ رعد آیت۔35)

 جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (سورہ کہف۔آیت۔3)

یقینا تمہارے لیے یہ ہے کہ نہ تم بھوکے رہو گے اس میں اور نہ ننگے رہو گے(سورہ طہٰ۔آیت۔118)

جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا، جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی،نہ اُس میں دردِ سر ہوگا اور نہ وہ پی کر مدہوش کیے جائیں گے،اوراُن کے پاس نگاہیں بچانے والی موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی،گویا وہ چھپا کر رکھے گئے انڈے ہیں(سورہ الصافات۔آیت۔45تا49)

وہ مسندوں پرتکیہ لگائے ہوں گے جن کے اَستر موٹے ریشم کے ہوں گے اور دونوں باغوں کے تروتازہ پھل بالکل ہی قریب ہوں گے،اُن میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہوں گی، جنہیں اُن سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا تک نہیں،گویا کہ وہ عورتیں یا قوت اور مرجان ہیں،نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے،اور اُن دو کے علاوہ اور بھی دو باغ ہیں،دونوں سیاہی مائل گہرے سبز ہیں،ان دونوں میں جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہیں،ان دونوں میں پھل اورکھجوروں کے درخت اورانار ہیں،اُن میں کئی خوب سیرت، خوب صورت عورتیں ہیں،گوری سیاہ آنکھوں والی عورتیں،خیموں میں روکی ہوئی ہیں،ان سے پہلے کسی انسان اورکسی جن نے اُنہیں چھوا تک نہیں،نادرونفیس، خوب صورت سبز قالینوں پر تکیہ لگائے ہوں گے،تواے جن وانس! تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟(یہ آیت ہر آیت کے بعد میںآیا ہے،طوالت کی وجہ سے صرف ایک جگہ درج کیا گیا ہے (سورہ۔الرحمن۔آیت۔54تا77)

اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے جس کی ملونی ادرک ہو گی،وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں(کنزالایمان)(سورہ الدھر۔آیت۔18،17)

اُن پر سبز باریک اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اوراُن کا رب اُنہیں پاکیزہ شراب پلائے گا (سورہ الدھر آیت۔21)

وعدے کا یہ انتہائی لطیف پیرایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ’’کچھ اور‘‘ کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، بلکہ پردے میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمام بہترین نعمتوں کے علاوہ کچھ نعمتیں ایسی ہوں گی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو بیان بھی فرما دیں تو ان کی لذت اور حلاوت کو انسان اس وقت محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ بس انسان کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اضافی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہی کی شان کے مطابق ہوں گی۔ آنحضرت  ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یہ منقول ہے کہ جب تمام جنتی جنت کی نعمتوں سے سرشار اور ان میں مگن ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، اب ہم اسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جنت کے لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں دوزخ سے بچا کر اور جنت عطا فرما کر سارے وعدے پورے کردئیے ہیں۔ اب کونسا وعدہ رہ گیا؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹا کر اپنی زیارت کرائیں گے، اور اس وقت جنت والوں کو محسوس ہوگا کہ یہ نعمت ان تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہے جو انہیں اب تک عطا ہوئی ہیں (روح المعانی بحوالہ صحیح مسلم وغیرہ)

جنت میں بیماری،بڑھاپا اور موت نہیں ہوگی(مسلم)

اگر ایک جنتی اپنے کنگن سمیت (دنیا میں) جھانک لے تو سورج کی روشنی کو اس طرح ختم کر دے گا جس طرح سورج کی روشنی تاروں کو ختم کر دیتی ہے(ترمذی)

اگر جنتی خاتون دنیا میں ایک دفعہ جھانک لے تو مشرق و مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کر دے اور (ساری فضا کو) خوشبو سے معطر کر دے(بخاری)

جنت کے محلات سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنے ہیں اس کا گارا تیز خوشبو والا مِسک ہے اس کے سنگریزے موتی اور یاقوت کے ہیں اور ا س کی مٹی زعفران کی ہے(ترمذی)

جنت کے سو(100) درجات ہیں ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے(ترمذی)

جنت کے پھلوں کا ایک خوشہ زمین و آسمان کی ساری کی ساری مخلوق کے کھانے سے بھی ختم نہیں ہوگا(احمد)

جنت میں ایک درخت کا سایہ اس قدر طویل ہوگا کہ اس کے سائے میں ایک (گھوڑ) سوار سو (100)سال تک چلتا رہے تب بھی سایہ ختم نہیں ہو گا(بخاری)

جنت میں کمان برابر جگہ ساری دنیا اور دنیا بھر کی تمام نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے(بخاری)حوضِ کوثر پر سونے اور چاندی کے پیالے ہوں گے جن کی تعداد آسمان کے ستاروں کے برابر ہو گی(مسلم)

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا