خواجہ سگ پرست

عبداللہ زکریا
سنا ہے سانپ ،عورت ،کتے اور گلاب کی ہزار قسمیں
ہیں ۔ہم اس معاملہ میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر کوئی رائے نہیں دے سکتے ہیں البتہ اس بات پر خدا کا شکر لازم ہے کہ ہم نہ تو مارگزیدہ ہیں ،نہ زن گزیدہ اور نہ ہی سگ گزیدہ ۔سو اس باب میں ہماری ساری معلومات کتابوں سے کشید کی ہوئی ہے ۔رہ گئے گلاب تو دونوں طرح کے پسند ہیں ۔کانٹوں سے لپٹے ہوئے بھی اور جوڑے میں اپنی چھب دکھاتے ہوئے بھی ۔اور گلابی رخسار اور ہونٹ کا کیا کہنا کہ اردو شاعری میں اس کو اتنے مختلف طریقوں سے باندھا گیا ہے کہ ہمارے پاس کہنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ۔شیکسپر نام کے ایک ڈرامہ نگار کا یہ جملہ “A rose by any other name would smell as sweet” گلاب کے موضوع پر سب سے زیادہ دہرایا جانے والا مقولہ ہے ۔ظالم نے بعدوالوں کے لیے بڑی مشکل کھڑی کردی ہے ۔
تا دمِ تحریر مارگزیدگی سے بچے ہونے کے باوجود ہمارے دل ودماغ پر سانپ سے ڈسے جانے کا خوف سوار رہتا ہے جسکا کوئی منطقی جواز (logical explanation)ہمارے پاس نہیں ۔بچپن میں گاؤں میں سانپ دیکھے ہیں لیکن کبھی اسکی دہشت ذہن پر سوار نہیں ہوئی۔اب جب بھی کوئی ایسا گھر دیکھتے ہیں جہاں پیڑ پودے ہوں یا لان ہو تو اسکی خوبصورتی کے بجائے ذہن فورا سانپ کی موجودگی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ابھی دو ماہ قبل گاؤں گئے تو دیکھا کہ لوگوں نے اپنے گھر کھیتوں میں بنا رکھے ہیں تو پھر سے سانپ سوار ہوگیا ۔خیر جس نے بنایا ہے وہ جانے ۔
رہ گئے کتے تو انکے تعلق سے ہماری ساری معلومات ابنِ صفی کی دین ہے ،جرمن شیفرڈ،بلڈ ہاؤنڈ،گرے ہاؤنڈ ،یلو ڈنگو ،کاکر اسپینیل ،روٹ ویلر اور بل ڈاگ۔اور بھی نسلیں ہونگی لیکن ہماری معلومات بس اتنی ہے ۔(فریدی صاحب کو سانپوں کے ساتھ کتے پالنے کا بھی شوق تھا )۔پھر انھوں خواجہ سگ پرست کے طرز پر بابا سگ پرست کے عنوان سے چار ناولوں کی ایک بہت شاندار سیریز بھی لکھی ہے ۔ایک زمانہ میں ھچ (hutch)کا کتا بھی بہت مشہور ہوا تھا (بعد میں اس ٹیلی کام سروس کانام orange ہوااور فی الحال vodafon کے نام سے جانی جاتی ہے )
ممبئی جیسے شہر میں دو عشرے اور بھانت بھانت کی نسل (breed)کے دیکھنے کے باوجود کتوں اور انکی عادات واطوار کے متعلق کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے،مثلاً یہ کہ بھونکنے والے سبھی کتے کاٹتےہیں کہ نہیں یا یہ کہ کتا آگر آپ کے پیچھے چل رہا ہو تو کس طرح ری ایکٹ کر نا چاہیے یا اگر اس نے پنڈلی اپنے جبڑوں میں جکڑ رکھی ہے تو کیا ہڈی دکھا دینے سے وہ چھوڑ دے گا ؟۔نیرنگئِ زمانہ دیکھئے کہ اب شہروں میں لوگ باگ کتوں کی بریڈ (breed)ڈسکس کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں ۔رہ گئے گاؤں ،جہاں ابھی بھی دیسی نسل کے کتے پائے جاتے ہیں ،تو وہ بچوں کے لیے تفریح اور نشانہ سادھنے کا ذریعہ ہیں ۔غالب کا یہ شعر بڑے ہوکر سنا کہ
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینہ سے کہ مردم گزیدہ ہوں
سو سگ گزیدگی کا ایک واقعہ ذہن پر ابھی رقم ہے اور اس شعر کو ہم نے اسی کے توسط سے سمجھا ہے ۔ہمارے پڑوسی باقر دادا کو ایک باولے کتے نے کاٹ لیا اور اس زمانہ کے مروجہ طریقہ علاج کی طرح انھوں نے انجیکشن تو نہیں لگوایا ،ہاں ایک جڑی بوٹی سے علاج کرنے والے کے پاس بغرض شفا ضرور گئے (اس زمانہ میں ہر علاقہ میں کوئی نہ کوئی آدمی ایسا ضرور ہوتا تھا جو سگ گزیدگی کا علاج جڑی بوٹیوں سے ضرور کرتا تھا اور لوگ باگ عموماً ٹھیک بھی ہو جاتے تھے ۔یہ علم وہ کسی کے ساتھ بانٹتا نہیں تھا اور صرف مرتے وقت کسی جانشین کو اس جادوئی جڑی بوٹی سے آگاہ کرتا تھا ۔بابا رامدیو کو شاید یہیں سے انسپیریشن ملا ہے )تقدیر دیکھئے کہ باقر دادا پر اس جڑی بوٹی نے کوئی اثر نہیں کیا اور انکو ریبیز (rabies)ہوگئی ۔سنا ہے کہ پانی پیتے وقت انکو کتا دکھائی دیتا تھا ۔اللہ بخشے بہت “گئو”آدمی تھے ۔
یہ خوفِ سگ گزیدگی جو آج ہمارے دل ودماغ میں سرایت کئے ہوئے ،شاید اسکی جڑیں اسی واقعہ میں پیوست ہیں اور یہ حادثہ بھی بلوغ کے بعدہوا ہے۔بچپن میں تو ہمیں کبوتروں اور پلوں سے بہت انسیت تھی ۔کبوتروں کو گھنٹے گھنٹے بھر گھورتے رہتے اور دل نہیں بھرتا تھا ۔محمود (ہمارے بچپن کے ساتھی اور خاندانی عزیز) اور میں نے مل کر کئی بار کبوتر پالنے کی کوشش کی ۔جنید بھیا (جو ہمارے بچپن میں کبوتر پالتے تھے اور اس بار جب گاؤں گئے تو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ اب بھی پالتے ہیں )کے یہاں سے دس روپیہ جوڑا میں کبوتر خرید کر لاتے لیکن کبوتر بازی ایک ایسا شوق ہے کہ جسے کوئی بھی اپروؤ (approve) نہیں کرتا ہے ۔زمینداروں کی ایک پوری نسل اس میں برباد ہوئی ہے سو ہم دونوں کو بھی اس شوق سے دستبردار ہونا پڑا ۔ہاں پلوں سے بہت کھیلا ہے ۔کتے بڑے ہوکر جتنے خونخوار اور کبھی کبھی قابلِ رحم دکھائی دییتے ہیں ،انکے بچے اتنے ہی پیارے لگتے ہیں ۔
کتوں کے تعلق سے جتنے خدشات اور جتنی غلط فہمیاں ہیں ،ہمیں تو لگتا ہے کسی حاسد انسان کی اڑائی ہوئی ہیں نہیں تو کتے سے زیادہ وفادار جانور اس روئے زمین پر نہیں ملے گا.اور شکر گزاری اور احسان مندی کا تو کیا پوچھنا ۔ہمیں تسلیم ہے کہ کتے بھونکتے بھی ہیں اور کبھی کاٹ بھی لیتے ہیں لیکن بھونکنے اور کاٹنے کا کام تو انسان بھی کرتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ خود ساختہ دانشوران کا بھونکنا فلسفہِ حیات کہلاتا ہے اور کاٹنا عمرانیت اور سیاست کی ضرورت ۔کسی دانا کا یہ بھی قول ہے کہ جو آدمی کتے سے بھی نہ ڈرے اسکی ولدیت میں شبہ ہے لیکن ہمارا مشاہدہ ہے کہ کتا دیکھ بھال کر ہی کاٹتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ یہ فلسفہ ہم خود پر اپلائی نہیں کرتے ہیں اور ہنوز کتوں سے ڈرتے ہیں ۔نفسیاتی مسئلہ ہے صاحبو۔
کچھ دنوں پہلے ایک شاعر کا شعر سنا جس میں وہ شکوہ کناں تھے کہ جن گھروں پہلے خوش آمدید کی تختیاں لگی ہوتی تھیں اب وہاں لکھا ہوتاہے “کتوں سے ساودھان”۔صاحبو ہمیں تو لگتا ہے کہ شریف النفس مالک مکان آگاہ کر رہا ہے کہ اس گھر میں کتے رہتے ہیں ۔اب یہ آپکی بصارت اور بصیرت پر منحصر ہے کہ آپ کس کو کتا سمجھے ہیں ۔ویسے یہ کتوں کے ساتھ صریح زیادتی ہے ۔خونخوار سے خونخوار کتا بھی بہیمت میں انسان کو نہیں پہونچ سکتاہے ۔”اولئک کا الانعام بل ہم اضل”
اہلِ مغرب پہلے ہی کتوں کی اصلیت سے واقف ہو گئے تھے اس لیے وہ ان سے اپنے بچوں سے زیادہ محبت کر تے ہیں ۔اسکی ہمیں دو وجہیں سمجھ میں آتی ہیں ۔ایک تو یہ وہاں اولاد بڑے ہوکر طوطا چشم نکل جاتی ہے اور والدین کو اس وقت چھوڑ کر چلی جاتی ہے جب انکی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور کوئی کتا کبھی بھی یہ حرکت نہیں کرتا ہے ۔دوسرا کتا ہمیشہ شکر مندی کے جذبہ کے تحت اپنی دم ہلاتا رہتاہے جبکہ اولاد بڑھا پے میں آنکھیں دکھانے لگتی ہے ۔(بعض انسان یہ دم ہلانے والا کام اپنی زبان سے لیتے ہیں ۔یہی دنیا کے کامیاب ترین لوگ ہیں )دم ہلانے کے علاوہ کتا اپنی دم سے ایک اور کام لیتا ہے اور اگر یہ دم نہ ہوتی تو اردو زبان ایک خوبصورت محاورہ”دم دبا کر بھاگنا”سے محروم ہو جاتی ۔گویا یہ دم کتا کا سفید جھنڈا بھی ہے ۔بس فرق اتنا ہے کہ جھنڈا لہرانا پڑتا ہے اور دم دبانی پڑتی ہے ۔کسی زمانہ میں جب لوگ باگ مونچھیں رکھتے تھے یہ کام مونچھ نیچے کر کے بھی لیا جاتا تھا ۔فارسی میں بھی ایک کہاوت “سگ باش برادر خورد مباش”بہت مشہور ہے لیکن اب وہ ریلیونٹ (relevant)نہیں رہ گئی ہے ۔اس کا تعلق بادشاہت اور راج رجواڑے کے زمانہ سے تھا ۔ویسے طالع آزما شہزادوں نے اس کہاوت کو کبھی درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اور بڑے بھائیوں کو “انجامِ خیر “تک پہونچا کر ہی دم لیا ۔
مسلمان کتوں کے معاملہ میں حد درجہ متعصب ہیں ،یہ الزام بارہا لگتا رہا ہے ۔اس کا ایک دنداں شکن جواب تو یوسفی سے دے چکے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں اور وہ کسی ایسے جانور کو محبت پال ہی نہیں سکتے جس کو ذبح کر کے کھا نہ سکیں ۔ہم ایک دوسرے نکتہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔قرآن میں کتوں کا ذکر دو بار آیاہے اور دو نوں بار ذکرِ خیر ہی ہے ۔ایک تو اصحابّ کہف کے قصہ میں اور دوسری جگہ شکاری کتوں کے ذریعہ پکڑے گئے جانوروں کی حرمت اور حلت کے تعلق سے ۔عقلمند کو اشارہ کافی ہے۔ ہماری اس سے زیادہ “سگ گوئی”ہمارا ایمان خطرے میں ڈال دے گی اور تکفیر کا فتوی آ جائے گا جو ویسے بھی یہ ہماری قوم کا فیوریٹ اسپورٹ اور ٹائم پاس ہے ۔
اتنا سب لکھنے کے بعد خیال آیا کہ کاہے کو ٹائپنگ کر کر کے انگلیوں کو تکلیف دے رہے ہیں ۔کتوں پر جتنا اور جیسا لکھا جانا چاہیے تھا وہ تو پہلے ہی پطرس بخاری اور مشتاق احمد یوسفی لکھ چکے ہیں ۔پطرس نے تو اتنا اچھا لکھاہے کہ یوسفی تک یہ لکھنا پڑا کہ کتے کی تخلیق کا واحد مقصد یہ تھاکہ وہ اس پر ایک مضمون لکھ دیں جو اب پورا چکا ہےاور اب نسل کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔یوسفی اپنے روایتی انکسار سے کام لے رہے ہیں ورنہ انھوں نے “سیزر،ماتا ہری اور مرزا”کے نام سے جو مضمون لکھا ہے وہ ایک شاہکار ہے اور طنز ومزاح سے زیادہ ایک “المیہ”ہے ۔ہماری لالچ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آج سے کئی برسوں کے بعد اگر کوئی کتوں پر لکھے گئے مضامین کو “گوگل” کرے تو ان مشاہیر کے ساتھ اپنا نام بھی اسکرین پر چمک اٹھے ۔سو یہ لالچ اتنی بری نہیں ہے ۔ویسے بھی ہر ارتقا کی اساس “ہوس”پر ہی رکھی جاتی ہے ۔

تبصرے بند ہیں۔