رضا لائبریری رامپور

ثناءاللہ رامپوری

  ہندوستان میں موجود کتب خانوں میں رضا لائبریری سب سے قدیم اور اپنی منفرد تاریخ رکھتا ہے یہاں ہند کی اسلامی ثقافت اور تہذیب سے متعلق کتب ہاۓ نوادر مختلف زبانوں میں موجود ہے ساتھ ہی عربی،فارسی،اردو،ترکی،پشتو،سنسکرتاور ہندی ک قدیم مخطوطات کا عظیم ذخیرہ اور مصنفین کے ہاتھوں لکھے ہوئے قدیم قلمی نسخے بھی اس کتب خانے کی زینت بنے ہوئے ہیں اسکے علاوہ یہاں سے اقبالیات،غالبیات اور آزادیات پر اشاریات بھی مرتب کیےگئے ہیں۔ رضا لائبریری میں موجود علمی ذخیرہ کو دیکھتے ہوئے علامہ شبلی نعمانی نے کہا”میں اس کتب خانے سے بارہا متمتع ہوا ہوں ہندوستان کے کتب خانوں میں اس سے بہتر کیا اسکے برابر بھی کوئی کتب خانہ نہیں، میں نے روم و مصر کے بھی کتب خانے دیکھے،لیکن کسی کتب خانے کو مجموعی حیثیت سے میں نے اس سے افضل نہیں پایا اور اہل کارانِ کتب خانے کی محنت اور وسعت اطلاع کی  داد دینی چاہیے ۔

  رضا لائبریری کا قیام:

 اس لائبریری کا قیام اسکی ترقی اور مخطوطات کے ذخیرہ سے مالا مال رکھنے میں کئی نوابوں کی ذاتی دلچسپی اور انتھک کوششیں رہی ہیں۔ رضا لائبریری کی تاریخ کا آغاز نواب فیض اللہ خان سے ہوتا ہے،نواب فیض اللہ خان کو علم وادب اور آرٹ سے  دلچسپی تھی اپنے دربار سے  علماء ومشائخ علوم و فنون کے ماہرین کو جوڑ رکھا تھا انکے علمی کارناموں کو محفوظ رکھنے کے لیے 1774ء میں کتب خانہ قائم کیا۔

 اس کتب خانے کو کتابوں اور مخطوطات س مالا مال نواب کلب علی خان نے کیا ، نواب کلب علی خان خود صاحب تصنیف ہیں انکی کئ کتابیں رضا لائبریری میں محفوظ ہیں جیسے ترانۂ غم،قندیلِ حرم،شگوفۂ خسروی، توقیعِ سخن، وغیرہ۔ آپ کو کتابوں کے جمع کرنے کے شوق کا یہ عالم تھا کے اپنے خصوصی اہلکاروں کو ملک وبیرون ملک روانہ کرتے اور کتابیں منگواتے، اور جمعِ کتبکے شوق کا آغاز آپ کو سولہ برس کی عمر سے ہوا تھا۔ کتابوں کی جب خوب کثرت ہوئی تو اسکے لیۓ مستقل دو منزلہ عمارت تیار کی اور ساری کتابوں کو اس میں منتقل کیا اور اسکا نام "کتب خانۂ علوم دینیہ” رکھا۔ اُس وقت 160 مخطوطات، 5 هزار پینٹنگز،اور 3 ہزار اسلامی خطاطی کے نمونے تھے۔

     فی الوقت رضا لائبریری رامپور 2 لاکھ 8 هزار مربع اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے اس عمارت کے تعمیری کام کا آغاز نواب مشتاق علی خان کے دور سے ہوا، لیکن اس کی تکمیل سجاوٹ نواب حامد علی خان کے دور میں ہوئی۔ یہ عمارت دو منزلہ ہے۔ اس میں کل 102 الماریاں ہیں 31 مارچ 1892 میں اراکین ریاست، عمائدین شہر کی موجودگی میں اس کتب خانے کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ 1896-1903 تک حکیم اجمل خان نے بھی لائبریری کے نگران کی حیثیت سے اس میں خدمات انجام دیں آپ کی کوششوں سے طب کی کتابوں کا بڑا ذخیرہ جمع ہوا، اور آپ ہی کے دور میں رضا لائبریری رامپور کے مخطوطات کی فہرست بھی شائع ہوئی تھی۔

       نواب رضا علی خان کو موسیقی اور آرٹ سے دلچسپی تھی انہی کی کوششوں سے رضا لائبریری کے ماتحت مشاعرے اور ادباء کی علمی محفلیں منعقد ہونے لگیں۔ اور ان محفلوں کی تفصیلات رپورٹ کی شکل میں اس لائبریری میں محفوظ رکھا جانے لگا۔

 نواب رضا علی خان کے بعد یہ کتب خانہ پروفیسر نورالحسن صاحب سابق وزیر تعلیم حکومت ہند کی کوششوں سے یکم جولائی 1975 کو یہ لائبریری ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت آگئ جس کی رو۔ اسکے اخراجات اور دیکھ بھال کی ذمہ داری حکومت ہند کی ہوگی۔

فی الوقت اسکے چئیرمین شری آنندی بین پاٹل(Smt۔ Anandiben Patel Governor of Uttar Pradesh) اور ڈائریکٹر(Ravindra Kumar Mandar I۔ A۔ S) ہیں اور 31 افراد پر مشتمل رضا لائبریری کا عملہ ہے

مخطوطات اور کتابیں :

    رضا‌‌ لائبریری میں بیش قیمتی نادر و نایاب مخطوطات کا ذخیرہ ہے ساتھ ہی یہاں مصنفین و مولفین کے ہاتھوں لکھے نسخے اور بذاتِ خود مولفین کے تصحیح کردہ نسخوں کی بھی کافی تعداد ہے۔ اس لائبریری میں 20 ہزار مخطوطات 3 ہزار اسلامی خطاطی کے نمونے 205 کھجور کے پتوں پر لکھی گئی تحریروں کی نقل بھی موجود ہے۔

   اس کے علاوہ یہاں فلکیاتی آلات کے نمونے ،قدیم سکے، قدیم دور کے خطاطی نمونے،قدیم ہند کی ثقافتی ورثہ اس کتب خانے میں محفوظ ہے

  یہاں عربی مسودات کی تعداد 5488 ، فارسی مسودات 5403، سنسکرت 626،ہندی 57، ترکی 37،اور ساتھ ہی پشتو زبان کے مسودات 45 ہے

   1995 کے بعد اس کلکشن میں 400مسودات،320 آرٹ کےنمونے اور 1500 سکوں کا اضافہ ہوا۔

ان مخطوطات کی حفاظت کے لیے اسکے صفحات کو digitalisation کے ذریعے محفوظ بھی رکھا جا رہا ہے ،اب تک 325000 اوراق کی مجازی شبیہ تیار کرکے DVD کی شکل میں محفوظ رکھی گئی ہے

 موجودہ وقت میں رضا لائبریری کی اپنا مطبع بھی ہے جہاں سے تقریبا 600000 نسخے اور 140 نئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

رضا لائبریری میوزیم: 

 رضا لائبریری نے جولائی کو حامد منزل محل کے دربار ہال میں ایک میوزیم قائم کیا۔

 آنے والے زائرین اور ریسرچ اسکالرز  اور آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لۓ لائبریری کی جانب سے تحقیق کرنے کی بھی اجازت دی۔

رضا لائبریری کا عجائب گھر جہاں نایاب مخطوطات کے اصلی نمونے ہیں وہیں  چھوٹے بڑے پینٹنگز، اسلامی خطاطی کے نمونے، سکے، پرانے ہتھیار اور دیگر آرٹ کی اشیاء بھی

زائرین کے دیدار کے لے رکھی گئی ہیں  ہے۔ اسکول کے طلباء میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً طلباء و طالبات کے وفد کو بھی دعوت دی جاتی ہے

ہفتہ وار اور قومی تعطیلات کے علاوہ  یہ ہفتے کے تمام دنوں، صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک،ہر عام وخاص کے لیے یہ میوزیم   کھلا رہتا ہے۔

علمی اور ثقافتی سرگرمیاں:

 رام پور رضا لائبریری ہر سال علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے جیسے سیمینار، لیکچرز کا انعقاد کرانا اور طلباء وطالبات کے مابین بھی مختلف ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرانا وغیرہ جس کا مقصد عوام میں مختلف علمی اور ثقافتی مضامین کو لے کر بیداری پیدا ہو  اور تحقیق کو فروغ حاصل ہو۔

   حالیہ سالوں میں  رضا لائبریری کی جانب سے منعقد سر گرمیوں کو روداد پیش خدمت ہے

:رنگ محل میں 8 اپریل 2018 کو داغ دہلوی اور حیدرآباد کا ایک توسیعی لیکچر۔

8 مئی 2018 کو آگ بجھانے کے بارے میں ورکشاپ۔ 3

 سے 21 جون 2018 تک دربار ہال میں "قرآن پاک اور خطاطی کے نمونے” کی نمائش۔

 21 جون 2018۔ مولانا عبد السلام کی زندگی پر ایک توسیعی لیکچر۔

 جولائی 2018 کو موجودہ دور میں پریم چند کے متعلق ایک توسیعی لیکچر۔

 منشی پریم چند پر ایک نمائش: مشہور مصنف، صحافی بن کی 138 ویں یوم پیدائش کی یاد میں 20 جولائی 2018 کو 12 جولائی 2018 تک۔

 گیارہواں وشو ہندی سمیلن 18 سے 20 اگست 2018 تک ماریشس کے گوسوامی تلسی داس نگر میں منعقد ہوا اور اس میں اپنی بہترین اشاعتوں کی نمائش کی۔

2 ستمبر 2018 کو ایک توسیعی لیکچر "بھارت میں حافظ شیرازی کی اہمیت”

  نئی دہل نیشنل میوزیم،اور  یو انڈیا کے مشترکہ تعاون سےہندوستان-ازبکستان: ثقافت کا مکالمہکے عنوان سے توسیعی خطابات رکھی گۓ۔

ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک ماس میڈیا آف ازبکستان، رام پور رضا لائبریری اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے باہنی تعاون سے نئی دہلی میں 25 ستمبر سے 24 اکتوبر 2018 تک

ایک توسیعی لکچر”  فارسی مخطوطات:ہندوستان اور ایران کا مشترکہ ورثہ” کا انعقاد کیا گیا۔ گاندھی جینتی 2 اکتوبر کی مناسبت سے  مہاتما گاندھی اور اردو ادب   کو ایک توسیعی لیکچرہوا۔

17 سے 25 اکتوبر 2018 تک سرسید احمد خان کے یوم پیدائش کی یاد میں کتابوں کی نمائشکی گئ۔

فرقہ ورایت کے بڑھتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر 25 نومبر 2018  فرقہ وارانہ ہم آہنگی مہم چلائی گئی جس میں ضلع کلکٹر نے بھی شرکت کی۔

 مہا شری شی والمیکی  کی سالگرہ کے موقع پر رامائن کے نایاب مخطوطات اور کتابوں کی نمائش کرائی گئی۔

"ہندوستان کا انمول علمی مجموعہ: رام پور رضا لائبریری” کے موضوع پر30 دسمبر 2018 ایک داخلی سیمینار رکھا گیا۔

31 جنوری کو فن، ثقافت اور ادب کی ترقی میں ریاست رام پور کی شراکت پر قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

 ایک توسیعی لکچر مغل پینٹنگز پر بھی انعقاد کرایا گیا۔

  24 مارچ 2019 کو مخطوطات کے تحفظ سے متعلق آگاہی پروگرام کرایا گیا جس میں اسکالرشپ اور اس میدان سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور استفادہ کیا

۔ 31 مارچ 2019 کو اردو، عربی اور فارسی ادب میں مولانا عرشی کا ایک روزہ قومی سیمینار۔

 رام پور رضا لائبریری نے مختلف مقامات پر مختلف اداروں اور تنظیموں کے زیر اہتمام سات کتاب میلوں میں شرکت بھی کی۔

یہ رضا لائبریری کی علمی ثقافتی خدمات کی مختصر روداد ہے اس کے ساتھ رضا لائبریری کے خزینوں سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق کرنا چاہتا ہے تو   لائبریری کی جانب سے اسکے قیام کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔