عربی زبان کی اہمیت

میر جامد افضل

(ساکنہ املر ترال کشمیر)

عربی زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی زبان کے بعد عربی دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اس زبان کے بولنے اور جاننے والے دنیا کے بہت بڑے حصہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ستائیس ممالک کی سرکاری زبان ہے اور  دنیا بھر میں اس کے بولنے والے تقریباً 35  کروڑ افراد ہیں اور وہ افراد اس سے مستزاد ہیں جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے لیکن وہ عربی ایسے جانتے ہیں جیسے کہ اپنی مادری زبان۔ اور ان سب سے اوپر یہ کہ،  یہ زبان دنیا بھر کے تقریباً ایک ارب ستر کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور وہ عربی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں انہیں یہ زبان کس طرح عزیز ہے اس کا اندازہ غیر مسلم لوگ نہیں لگا سکتے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ آسمانوں کی، اللہ کی، اللہ کے فرشتوں کی اور جنت کی زبان ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پھر اس کو یاد کرنا اور اپنی نمازوں میں اس کو ہر روز پڑھنا ایک عام معمول ہے۔

عربی زبان اپنی ہئیت اور طریقہ بناوٹ سے آرامی اور عبرانی زبانوں سے بنی ہوئی لگتی ہے یا یہ کہا جائے کہ یہ  تینوں زبانیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ قرآن مجید کی عربی اس زبان کا اصل اصول ہے۔ اور قرآن کی زبان اور اس کے قوائد ہی اس زبان کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن کی عربی  ہی دراصل ادبی عربی ہے۔ اس کو  Classical Arabic کہتے ہیں۔ عام بول چال کی عربی زبان قدرے مختلف ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں اس کا انداز الگ الگ ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک علاقہ کی بول چال کی عربی ایک دوسرے علاقے کے رہنے والے کی سمجھ میں آتی ہی۔

موجودہ دور کی عربی جس میں عام تقریر و تحریر کو جدید عربی کہا جاتا ہے اپنی ترکیب اور ہئیت میں تھوڑا سا مختلف ہے۔ موجودہ دور کی ایجادات، نئی نئی چیزوں کی آمد اور ان کا استعمال اور ان کے نام جو عربی زبان سے ماخوذ نہیں عربی میں استعمال ہوکر کچھ مختلف ہو گئے۔ اسی طرح دیگر ثقافتوں اور زبانوں کی عربوں کے علاقوں میں آ جانے کی وجہ سے بھی ان الفاظ اور زبانوں کا عربی میں استعمال شروع ہو گیا اور بہت سے الفاظ جو باہر سے آئے ان کو عربی گرائمر کے اصولوں کے تحت عربی سے نزدیک کر لیا گیا مگر ایک بہت بڑی تعداد ان الفاظ کی بغیر کسی رد و بدل کے عربی زبان میں بھی مستعمل ہو گئے اور شائد یہ کسی حد تک جائز بھی ہے۔ ہوائی جہاز جب آیا تو اس کو عربی کے قریب لانے کے لیے پرندہ یا اڑنے والی چیز سے موسوم کر دیا گیا اور طیارہ بنا دیا۔ مگر بعض الفاظ جیسے ٹیکنیک کا کوئی بدل نہ ملا تو تکنیک  بنا کر استعمال کرلیا گیا۔ ٹیلیفون کو ہاتف بنا دیا گیا اس لیے کہ ہاتف کا عربی میں مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی آواز جو بہت دور سے آ رہی ہو مگر اس کا بولنے والا دکھائی نہ دے اور فون میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ الغرض ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان پر غور کر کے ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ ایسی زبان آج کل جدید عربی یا پھر بین الاقوامی  طور  پر Modern Arabic  کہلاتی ہے۔ اور آج یہی زبان ٹیلی ویزن، خبروں اور عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے اور تقریباً ہر علاقہ کے لوگ اسے بآسانی سمجھتے بھی ہیں۔نہیں۔ لیکن جب بات آ جائے ادبی تحاریر کی یا لکھی ہوئی عربی کی اور انشائیہ پردازی کی تو ہر علاقہ کے لوگ ایک ہی طرز کی عربی پر اتر آتے ہیں جو ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے اور کوئی اجنبیت باقی نہیں رہتی۔ یہ اعجاز ہے قرآن کا جو دنیا کے ہر مسلمان کے دل و دماغ میں اس طرح گھر کیے ہوئے ہے کہ جب اس کے اصول و ضوابط کی بات ہوتی ہے تو کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ قرآن مجید عربی زبان کی بہتریں تصنیف ہے جس کے ادبی محاسن پر پچھلے پندرہ سو برسوں سے غور و خوض ہو رہا ہے اور نئی نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ اللہ تعالی کی کتاب ہے۔ جب ہی تو اللہ نے چیلنج کیا کہ ایسی کوئی ایک سورة  ہی بنا لاؤ اور پھر یہ کہہ کر اس بات کوانتہائی شدید طریقہ سے واضح کر دیا کہ تم ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتے اور یہ دعویٰ آج بھی بلکہ قیامت تک کے لیے سچ ہی ہے اور ناقابل شکست۔

غیر مسلم اغیار نے جہاں مسلمانوں کو ہر محاذ پر نیچا دکھانے کی ہمیشہ کوشش کی تو وہاں ہی انہوں نے عربی زبان کی مقبولیت اور اس کی ترویج کی رکاوٹوں کے لیے اپنی طرف سے اپنی دشمنی سے گریز نہیں کیا۔ اسلام کی آمد کے بعد اور پھر اسلامی فتوحات کے ساتھ ساتھ جہاں مفتوح علاقہ کے لوگوں کی مذہبی اور ثقافتی روایات میں تبدیلیاں واقع ہوئیں وہیں ان لوگوں  نے عربی زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ نتیجہ کے طور پر چند ہی برسوں میں وہ عربوں کی بود و باش روایات و ثقافت کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کے بھی حامل ہو گئے۔ نتیجہ کے طور پر مصر، سوڈان، بلکہ تقریباً پورا شمالی و وسطی افریقہ، مشرق وسطہ کے اکثر ممالک کے ساتھ دیگر علاقہ کے اندر بھی یہ تبدیلی آئی اور آج یہ سارا علاقہ عرب علاقہ کہلاتا ہے، عرب یونین کا حصہ ہے اور ہر لحاظ سے عربی ہے۔ اغیار کو مسلمانوں کی یہ ترقی اور ان کا یہ اثر بالکل بھی نہیں برداشت ہوتا تھا تو انہوں نے جہاں مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں وہاں عربی زبان اور اس کی ترویج میں بھی رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں۔ اس کی ایک بہت ہی واضح مثال الجیریا کے واقع سے ملتی ہے جہاں یورپی ممالک کے قبضہ کے بعدعربی کے خلاف نفرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ قرآن مجید کو جلایا گیا، عربی مخطوطات اور ہر قسم کی  عربی کتابوں کو نذر آتش کیا گیا۔ عربی بولنا اور عربی سیکھنا سکھانا سب غیر قانونی قابل سزا عمل قرار پایا۔ عربی جس کی سرکاری زبان کی حیثیت تھی اور اسی حوالے سے الجیریا کی آبادی پچاس فی صد سے بھی زیادہ پڑھی لکھی شمار ہوتی تھی، اس کی سرکاری حیثیت ختم ہوئی تو وہی آبادی ایک دن کے وقفہ سے جاہل قرار پائی اور ان پڑھ لوگوں کی تعداد  تقریباً سو فیصد ہو گئی۔

دنیا بھر کے تمام مسلمان عربی زبان کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کو ایک مقدس زبان سمجھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جیسا کہ پہلے کہا گیا قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ وہ جو عربی ہیں اور جن کی مادری زبان عربی ہے وہ  تو خیر ہیں ہی اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے۔ مگر دیگر علاقوں کے مسلمان جو عربی نہیں جانتے وہ بھی عربی کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر بہت کچھ نہ بھی کریں تو یہ ضرور کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے قران کی آیات کا ٹوٹا پھوٹا مطلب جان لیں۔ سر ڈھانپ کر، با ادب ہاتھ باندھ کر خاموشی سے قران کی تلاوت سننا خواہ سمجھ میں ایک لفظ بھی نہ آ رہا ہو، ان غیر عرب علاقے میں ایک بہت ہی عام نظر آنے والا منظر ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منظر اس لحاظ سے درست ہے ؟ کیونکہ قران ایک درس ہے اور احکامات کا مجموعہ ہے۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو کیا صرف اس کا اس قدر ادب کے ساتھ سننا واقعی قران کا حق ادا کرنا ہے۔ میرے خیال سے نہیں۔ قران کا ادب کرنا، اسے پاکیزگی میں پڑھنا اور اس کی تلاوت کو غور سے سننا سب بہت ضروری ہے مگر یہ قران کا حق نہیں ہے۔ قران کا حق تو جب ادا ہوگا جب اسے پڑھا،  یا سنا جائے تو اس کو سمجھا بھی جائے۔ قرآن کے احکامات ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں انہیں سمجھنا اور پھر ان ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے اور یہی قران کے پڑھنے اور سننے کا حق ہے۔مگر یہ سب کچھ ہو کیسے۔ ہمیں عربی آتی نہیں اور ہم اس کو سیکھنے کے لیے تیار بھی نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا