اب پانی کے لیے غریب کا راشن بھی بند ہوگا؟

محمد ریاض ملک

(منڈی،پونچھ)

جموں وکشمیر میں لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے ہر محکمہ پر اپنا رعب ودبدبہ قائیم کرتے ہوے عوام کی فلاح وبہبود ترقی اور خوش حالی کے لیے متحرک کیاہواہے۔ لیکن پانی کا محکمہ جو پہلے محکمہ صحت عامہ اور اب جل شکتی کا نام دیکر عوام میں متعارف کروایاگیاہے،اس محکمہ میں اگر کچھ بدلاہے توو ہ صرف اس کا نام ہے۔ کام کے میدان میں ابھی بھی اس کا صفر تک نہیں ٹوٹا ہے۔ ایک اور مصیبت کو لیکر یہ جل شکتی محکمہ اپنا موڈ بناچکاہے۔ لوگوں کو جل ہو یانہ ہو، انہیں پانی میسرہو یا نہ ہو، ان کے بل ضرور ہونگے۔ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں ماہ فروری میں محکمہ خوارک کو محکمہ جل شکتی نے یرغمال بنایا اور تمام راشن کارہولڈروں سے پانی کنکشن کا ثبوت لیکر محکمہ جل شکتی کو دینے پر راضی کرلیا۔ اس کے لیے ایسیسٹنٹ ڈائریکٹر خوراک سے حکم نامہ نکلواکر تمام تحصیل سپلائی افیسران کو بھیج دیاگیا۔جنہوں نے تمام ڈیلروں اور سیل مینوں کو یہ ہدائیت جاری کردی کہ جو پانی کی این او سی جمع کرواے گا راشن بھی اسی کو ملے گا۔ غریب اور دیہی عوام پر یہ کام ایک اور مصیبت تھا۔ تحصیل منڈی کے بلاک لورن میں کھڑپہ سیل ڈیپو پر سیل مین نے لوگوں سے این او سی طلب کی۔اور یہ کہاکہ پانی کی این او سی جمع کرنے کے بعد ہی راشن ملے گا۔لوگ پریشان حال خالی گھروں کو واپس چلے گئے۔ یہ بات نکل کر ضلع اور ضلع سے ڈائریکٹر خوارک کے پاس پہونچی۔ انہوں نے اپنے فیصلے کو مسترد کرنے کا من بنالیا۔کیوں کہ راشن تو ان لوگوں کا ہر ماہ اتا ہے۔ ہم اس کو نہیں روک پاتے ہیں۔ محکمہ خوارک کے اس فیصلہ سے غریب عوام کو راحت ملی۔اس کے بعد ایک بار پھرسے راشن ملنا شروع ہوگیا۔ لیکن پھر بھی محکمہ جل شکتی ابھی عوام کو نہیں چھوڑ رہاہے۔

 منڈی تحصیل کے بلاک لورن میں بھی محکمہ جل شکتی کے ملازم متحرک ہیں اور لوگوں سے جی آرکٹوا کر پانی کے بل کٹوانے پر زوردے رہاہے۔اس سلسلہ میں حلقہ لورن کے سرپنچ کامران بشیر نے کہاکہ یہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ اب پانی کے بلوں کو کٹوانے کے لیے راشن بھی بند کیاجاتاہے۔محکمہ پی ایچ ای نے ابھی ایک پائیپ تک نہیں دی۔لوگ دور دور سے پانی لاکر استعمال کرتے ہیں۔بعض لوگوں نے اپنی ربڑ کی پائیپیں خرید کر اپنے گھروں تک پانی لایاہے۔سرکاری پائیپیں اگر کہیں ہیں بھی وہ بھی 1980سے پہلے لگی ہوئی ہیں۔جو اب بلکل بیکار ہوچکی ہیں۔پانی آنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔جس کو لیکر کئی بار محکمہ جل شکتی کے افیسران، ملازمین،جونیر انجینیر،جونیر ایکزیکٹیو انجینیر، سپروائیزر وغیرہ کو مرمت کے لیے پائیپیں طلب کی جاگئیں مگر محکمہ کو ٹس سے مس نہیں ہوا۔اور اب غریبوں پر طرح طرح کے حربے استعمال کرکے پانی کے بل کاٹنے پر مجبور کیاجارہاہے۔جوکہ قابل مذمت اور عوام کو نامنظور ہے۔انتظامیہ یہ حکم نامہ جلد واپس لے۔

حاجی خادم حسین سابقہ سرپنچ جن کی عمر 65سال سے ذائید ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت محکمہ جل شکتی اس غریب عوام پر ظلم کررہی ہے۔ جبکہ یہاں گزشتہ کئی برسوں سے لوگ محکمہ سے تنگ آکر اپنی ذاتی پائیپیں خرید کر پانی گھروں میں لانے پر مجبور ہوے ہیں اور ابھی بھی اکثریت ایسے گھروں کی ہے جہاں دودو تین تین میل سے پانی چشمہ سے لایاجاتاہے۔ ان کے گھروں میں نہانے دھونے کپڑے دھونے یہاں تک کہ پینے تک پانی مہیاں نہیں ہوتاہے۔لورن کے سراں علاقہ کا زکرکرتے ہوے کہاکہ یہاں ابھی تک کبھی پانی کی لائین تک نہ لگ پائی ہے۔اگر انصاف کیا جاے تو لیفٹننٹ گورنر اس حکم نامے کو واپس لے۔لال دین جن کی عمر 63سال ہے، ان کا کہناتھاکہ لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔اور محکمہ جل شکتی بلوں کے پیچھے پڑاہواہے۔ جب کہ باقی ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر پانی کی قلت کو دیکھتے ہوے پنچائیت فنڈ کو پائیپوں کے لیے مختص کیاگیا۔ لیکن اب تک وہ پائیپیں بھی محکمہ نہیں دے سکاہے۔ اب جو بلوں کی بات ہورہی ہے یہ قابل مذمت ہے۔لورن ہی نہیں بلکہ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے ہر گاوں ہر محلہ سے یہ آواز آرہی ہے کہ محکمہ کی طرف سے صدیوں پرانی جو پائیپیں لگی تھی۔وہ بھی بوسیدہ ہوچکی ہیں۔لائینوں کی اس قدر خستہ حالت ہے کہ محکمہ ملازم خود بھی پریشان ہیں۔

تنویر احمد تانترے جن کی عمر 35سال ہے،نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہاکہ اس وقت محکمہ جل شکتی کی لائینوں کی یہ حالت ہے۔ تمام تر لوگوں کے بوسیدہ کپڑے یہاں تک کہ پا جامے تمام گندے لفافے ایک ایک اینچ پر باندھ دئے گئے ہیں۔ محکمہ جل شکتی کے ملازمین کو ایک رسی بھی نہیں دی جارہی ہے۔ ندی نالوں کی مٹی کیچڑ اور گند ان پائیپوں میں بھرا ہواہے۔ لوگ پریشان ہیں لیکن محکمہ کے اعلی آفیسران اپنے ماتحتوں پر اور پھر چھوٹے ملازمین عوام پر اپنا تسلط قائیم کرتے ہیں۔جو قابل تنقید ہے۔ سرپنچ اسلم ملک کے مطابق تین سال ہوچکے ہیں۔ہمیں سر پنچ بنے ہوے لیکن آج تک محکمہ جل شکتی نے ایک ساکٹ تک نہیں دی ہے۔اور آج یہ کس منہ سے پانی کے بل کاٹنے کی مہیم چلارہے ہیں۔جب تک پائیپوں کی حالت بہتر نہیں ہوگی۔تب تک کسی بھی فرد کا پنچائیت میں بل کاٹنے نہیں دیاجایگا۔ سابقہ ایم ایل اے حویلی شاہ محمد تانترے کے مطابق دہلی میں پانی تو مفت مل سکتا ہے۔مگر جموں وکشمیر میں بغیر پانی دئے ہی بل کاٹے جارہے ہیں۔وہ بھی دیہی علاقوں میں جہاں 80فیصدی لوگ مزدوری پیشہ سے منسلک ہیں اور اس موسم میں محکمہ جل شکتی کا یہ قدم اور بھی قابل مذمت ہے کیوں کہ اب ضلع پونچھ کے تمام دیہی علاقوں کے مزدور پیشہ افراد بیرون ریاست ہوتے ہیں۔ ایسے میں خواتین گھروں میں ہوتی ہیں۔

انہوں نے لیفٹنٹ گورنر کے متعدد اچھے کام گنوانے کے بعد محکمہ جل شکتی کے ملازم کی جانب سے بل کاٹنے کی مہیم پر نظر ثانی کی مانگ کی ہے۔سینکڑوں دیہاتوں کی عوام کی یہی مانگ ہے کے پانی کے بل کاٹنے کا حکم نامہ منسوخ ہو۔جب پائیپوں کی حالت بہتر ہوگی تو بل کاٹنے کا جواز بھی بن سکتاہے۔ان سارے حالات کے پیش نظر جب پائیپیں بہتر حالت میں نہیں تو اس قدر محکمہ کے چھوٹے ملازمین کا عوام پر بل کٹوانے کا دباؤ کیوں؟ اس حوالے سے علاقوں میں تعینات محکمہ جل شکتی کے سپروائیزروں سے بات کی گئی تو ان کا کہناہے کہ ہمیں سخت ترین حکم ہے کہ آپ لوگ اگر بل نہیں کٹواتے ہیں تو پانی کے کنیکشن کاٹ دئے جایں۔ ورنہ تنخواہیں بندکرنے کا دھمکی امیز حکم نامہ صادر کیاگیاہے۔

یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان کی راجدھانی دلی جو کہ ہر نقطہ نظر سے ترقی یافتہ ہے، جہاں لوگوں کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے،وہاں لوگوں کو مفت میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور جموں و کشمیر کے منڈی علاقے میں جہاں لوگ غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، انہیں پانی کی فراہمی کے بغیر بل جمع کروائے جا رہے ہیں۔آخر جموں وکشمیر میں اس قدر سختی کیوں؟کیاغریبوں کے اچھے دن یہی ہیں کہ اب پانی کے لیے ان کا راشن بھی بند ہوگا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔