تشنہ تکمیل پل زندگی کی رفتار میں رکاوٹ

اظہار احمد فہمی

(مہنڈ ر، پونچھ)

”سال 2015 اور2016 کے بیج 37 سالہ سو مو ڈرائیور مشتاق میر (نام بدلہ گیا) کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ مشتاق کا کہنا ہے بارش بہت تیز ہونے کی وجہ سے دریا بہت تیز رفتار سے بہ رہا تھا اور ساری گاڑیاں آر پار رکی ہوئی تھی۔ میں نے جیسے ہی گاڑی پل کے اندر لی گاڑی فورا بند ہو گئی اور اس کے ٹائر گھوم گے۔باہر کھڑے لوگوں نے بہت شور مچایا مگر مجھے باہر نکلنے کا راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔چاروں طرف مجھے موت نظر آ رہی تھی اور جیسے تیسے میں گاڑی سے باہر اترا اور پانی سے باہر آنے لگا تو پانی کی تیز رفتار نے مجھے اپنے ساتھ لپیٹ لیا اور میں تقریبا پانچ سو میٹر تک بہتا چلا گیا مجھے۔ یقین ہوگیا تھا کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گا۔ لیکن خوش قسمتی سے ایک پانی کی لہر نے مجھے جیسے ہی اوپر اچھالا اور میں کنارے پر جا کے لگا اور ہاتھ میں ایک پتھر آ گیا۔ جس کے سہارے سے میں رک گیا اور لوگوں نے آکر مجھے وہاں سے نکالا”۔

یہ واقع ہے جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے تحصیل مہنڈر میں واقع گاؤں چترال کا، جہاں پر ایک دریا نے چترال کو دو حصوں میں با نٹا ہوا ہے اور خاص طور پر ساون کے مہینے میں اس طرح کے حادثے دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت عوام  کے رہن سہن کو بہتر بنانے کے لیے تمام بنیادی سہولیات دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے قوم کی ترقی کے لیے پہل کی ہے، اور پہلا قدم دیہات کی ترقی ہے۔کیوں کہ تقریبا 67% آبادی گاؤں پر مشتمل ہے۔ لہذا  یہ کہہ کر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پلوں سے بہت فرق پڑتا ہے اور وہ گاؤں کے لوگوں کے معیار زندگی گزارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ پل ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔تجارت بھی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔طلبا کوبارش کے موسم میں اسکول آنے جانے والی مشکلات کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا ہے اور دونوں گاؤں کے مابین فاصلہ بھی کم ہوجاتا ہے۔مگر آج بھی بہت سے سرحدی علاقوں یا دیہاتی علاقوں کی بات کی جائے تو بہت سی سہولیات سے محروم ہیں۔ جن میں سے ایک گاؤں چھترآل بھی ہے۔ یہاں کے مقامی لوگ پل کے نہ ہونے سے کافی پریشان ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ہم نے متعلقہ انتظامیہ سے اپنے گاؤں میں ایک پُل کی تعمیر کی کافی باردرخواست کی۔لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا۔

اس گاؤں کی آبادی تقریبا۱۵ ہزار کے قریب ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ”اگر کوئی شخص بیمار پڑتا ہے تو گاؤں والوں کو اسے اپنے کندھے پر اٹھا کر چتھرال کے قریب ترین پی ایچ سی لے جانا پڑتا ہے جو قریب تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بعض اوقات ندی کو عبور کرنا خاص طور پر بارش کے موسم میں مشکل ہوجاتا ہے جب پانی کی سطح زیادہ ہو۔ بار کونسل مہنڈ ر کے صدر ایڈوکیٹ جاوید خان نے کہا کہ پل کی عدم موجودگی نے ہماری زندگی کو غمزدہ کردیا ہے۔ گاؤں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر مینڈھر سے جوڑنے کے لیے براہ راست کوئی سڑک نہیں ہے اس پل سے نہ صرف گاؤں چھترال بلکہ اس سے ملحقہ دیہاتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔اس پل کی خستہ حالت کی وجہ سے کئی بار بارش کے موسم میں گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ ہوئے لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں آیا۔ لیکن آگے اس خوش قسمتی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے جگا ل گاؤں جو کہ چھترال سے دو کلو میٹر کی دوری پر ہے اور ان دونوں گاؤں کو آپس میں ملانے کا کام چترال کا یہی پل کرتا ہے، اس گاؤں سے تعلق رکھنے والی دسویں جماعت کی زاہدہ (نام بدل گیا) فرماتی ہیں کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے میری جیسی کئی لڑکیاں پورا ساون اسکول نہیں جاپاتی ہیں کیونکہ تیز بارش میں اس پل سے گزرنا موت کو دعوت دینے جیسا ہے۔ زاہدہ کی اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جگال سے تعلق رکھنے والے باقی طلباء پر ساون کے مہینے میں ان کی پڑھائی پر کتنا اثر پڑتا ہوگا۔

 مزید جانکاری کے لیے ٹھیکیدار محمد ر فیک چشتی سے بہت بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا کوئی بھی جواب نہیں آیا۔واٹس اپ پر انہیں میسج بھی کیا لیکن انہوں نے نہ دیکھا اور نہ اب تک کوئی رپلائی کیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پی ڈبلیو ڈی کے ملازمرمن کار بھگت سے بھی کافی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی ایک فون تک نہیں اٹھایا۔ واٹس ایپ پر میسج بھیجنے کے بعد ان کا رپلائی آیا کہ آپ شام کو کال کر لینا لیکن جب دوبارہ کال کی گئی تو انہوں نے نمبر بلاک کردیا۔کیا یہ ہوتا ہے ہماری انتظامیہ اور ذمہ داران کا طرز عمل؟ جن پر عوام کے سوالوں کا جواب دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر وہی اپنی ذمہ داری سے بھاگیں گے تو ترقی کا تصور ہی بے معنی ہو جائے گا۔مقامی عوام کی پی ڈبلیو ڈی سے گزارش ہے کہ چترال کے اس پل پر دھیان دیا جائے جو کہ دو گاؤں کو آپس میں ملانے کا کام کرتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں پل کی دوسری جانب ہائر سکینڈری اسکول کے ساتھ سرکاری ڈسپنسری بھی ہے، اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پل کے اس پار رہنے والے لوگوں کو بارش کے موسم میں کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔