خواص سڑک آج بھی پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ پائی

جاوید چوہدری

(راجوری، جموں)

تمام تر گلیاں کوچوں کی سڑکوں کی حالت بہتر ہو چکی ہے،لیکن پچہتر سالوں کی تعمیر وترقی میں خواص سڑک پایہ تکمیل تک پہنچ نہ پائی۔ضلع راجوری کے صدر مقام سے دور دراز علاقہ جات تحصیل خواص کی تعمیر وترقی میں خواص سڑک مکمل طور پر رخنہ ڈال رہی ہے۔ اس کا کام 1972 میں شروع ہوا تھا اس کے بعد 1996 میں کھنڈی گلی تک سابقہ وزیر مرحوم چوہدری محمد حسین صاحب نے گاڑیوں کی آمد رفت کیلیے بہتر کروایا تھا۔ پھر گزشتہ سرکار نے 2016 سی آر ای ایف اسکیم کے تحت بہتر کروڑ کی لاگت سے ہای وے کا کام واپس سے شروع کروایا تھا۔اس زمن میں جب راقم نے سڑک کے ٹھیکدار سی ڈی گپتا سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جنوری 2016 میں اس کا ٹینڈر نکلا تھا اور میں نے 54 کروڑ پر ٹینڈر اٹھایا تھا۔ پھر فروری 2017 میں ہمیں الاٹمنٹ ملی۔ جون جولائی میں ہم نے اس کا کام شروع کروا دیا تھا۔اس وقت ہمیں سرکار نے پانچ فیصد رقم اداکیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سالوں میں ہمیں صرف 19 کروڑ روپے ملے ہیں جتنا کام ہم سے ہو سکتا تھا وہ کیا ہے اور ابھی بھی میرا غالباََ تین کروڑ روپے و گزار نہیں ہوے ہیں۔ انہوں نے کہا جیسے ہی ہمیں پیسے ملتے ہیں یا کوئی یقین دہانی کروائی جاتی ہے تو ہم کام شروع کر دیں گے۔گپتا نے کہا ہم نے درہال 28 کلومیٹر سڑک ایک سال میں مکمل کر دی تھی۔

ایسے اور بہت ساری سڑکیں مقررہ وقت پر مکمل کر لی تھی کیونکہ ان سڑکوں میں پیسے کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ گپتا نے کہاکہ پیسے ملتے ہی سات دن میں میں کام شروع کر دوں گا۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ خواص تا کوٹرنکہ کی سڑک سے منسلک لاکھوں کی تعداد میں عوام آج در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔سرپنچ خواص گیان چند شرما اور ان کے ساتھیوں نے گزشتہ دنوں میں راجوری چلو کی کال دی تھی جس میں انہوں نے ہرتال کرنے کا دعوای کیا تھا۔ پھر ان کی نگرانی میں کچھ لوگ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری وکاس کندل سے ملاقی ہوے۔انہوں نے انہیں یقین دلوایا کہ پندرہ دن میں کام شروع ہو جائے گا۔سرپنچ بی نبمل محمد اقبال نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آخر کب یہ سڑک مکمل ہو گی؟کب ہم اس سڑک پر آرام سے چل سکیں گے؟ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آج وہ ترقی کا دور ہے کہ تمام گلی کوچوں میں سڑکوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

دیگر خواص سڑک سے جتنی بھی لنک سڑکیں نکلی ہیں وہ تعمیر ہوگئی ہیں۔ لیکن اس سڑک پر بڑے بڑے کھڈے،بلکہ یوں کہا جائے کہ سڑک کھڈے اور نالوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔30 کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے والے صارفین پریشان حال ہیں۔ سرکاری کوئی بھی گاڑی خواص میں جانے کو تیار نہیں ہے۔کچھ مہینے پہلے اس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کمار شون نے خواص کا دورہ کیا تھا تو اس وقت محکمہ نے کھڈے بھرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ڈی سی کے واپس جانے کے بعد سڑک کی حالت جوں کی توں ہے غور طلب بات یہ ہیکہ جن لوگوں نے بینک لون سے گاڑیاں نکالی تھی آج تین سال میں ہی ان کی گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں۔پی ڈبلیو ڈی کے آفسران ضلع صدر مقام پر اے سی کمروں میں بیٹھ کر عوام کی پریشانیوں کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔پچاس سال پہلے اس سڑک کی تعمیر کی بھاگ دوڑ محکمہ پی ڈبلیو ڈی نے ہاتھ میں لی تھی۔ افسران ریٹائرمنٹ لے کر چلے گئے۔سڑک پر کام کرنے والے مزدور ٹھیکدار بن گئے۔ تاہم خواص سڑک پر کس کا جادو چل گیا ہے کہ مکمل نہیں ہو پارہی ہے۔ سرکاری خزانہ عامرہ سے کروڑوں روپیوں کو چونا لگ چکا ہے۔تب ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کمار شون نے خواص میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سڑک کا کام جلد ہی مکمل ہوگا۔

 لیکن ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں ہو پایا۔ بٍڈھال کے رہاشی دنیش ٹھاکر نامی شخص نے بتایا کہ میرے رشتیداروں نے یہاں دو روپے دہاڑی پر کام کیا تھا۔آج مزدور پانچ سو روپے دہاڑی لیتا ہے۔ لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی سڑک مکمل نہیں ہو پا رہی ہے۔ اس زمن میں بینمبل کے رہاشی شکیل کوہلی نامی شخص نے راقم کو بتایا کہ سڑک پر گاڑیوں اور انسانوں کا چلنا تو دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتا نہیں چلتاکہ سڑک کھڈے میں ہے یا کھڈا سڑک میں ہے۔ انہوں نے کہا سڑک کی خستہ حالت کی وجہ سے بیمار لوگ اپنا علاج کروانے نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار محکمہ پی ڈبلیو ڈی سے التجا کی ہے لیکن محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔

سرپنچ بڈھال محمد فاروق نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر صاحب نے اس سڑک کی بہتری کا یقین دیلایا ہے۔ اب ہمیں امید ہے کہ کام جلد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی سابقہ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے بھی ہمیں یقین دہانی کرائی تھی لیکن کام نہیں ہو۔ا اب ہم امید رکھتے ہیں کہ وقتی ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سڑک کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ عوام کو راحت کی سانس مل سکے۔ اس زمن میں جب راقم نے اے ای ای پی ڈبلیو ڈی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ چار پانچ فون کرنے کے بعد بھی اے ای ای نے فون اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔اب عوام کو لیفٹیننٹ گورنر سے امید ہے کہ وہ لوگوں کے درد کو کم کرینگے اور یہ سڑک جلد تعمیر ہوگی۔لیکن تب تک عوام کو اسی موت کی سڑک سے ہوکر گزرنی ہوگی۔ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔