دیہی علاقوں تک ترقی کیوں نہیں پہنچ رہی ہے؟

سیّد انیس الحق

 (پونچھ)

ڈیجیٹل انڈیا اسکیم کے چھ سال پورے ہونے پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعہ ملک کے معروف ترقی پروگراموں کے حوالے سے نہایت ہی دلچسپ طریقے سے اس اسکیم کی حصولیابیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں کہا کہ یہ ڈیجٹیل انڈیا کی ہی طاقت ہے کہ ون نیشن،ون راشن کارڈ کا عزم مکمل ہو رہا ہے، جس نے غریبوں کو ملنے والے راشن کی ڈیلیوری کو بھی آسان کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب دوسری ریاستوں میں جانے سے نیا راشن کارڈ نہیں بنانا ہو گا۔ایک ہی راشن کارڈ کو پورے ملک میں تسلیم کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان مزدور خاندانوں کو ہو رہا ہے جو کام کیلیے دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے اس اسکیم کی تفصیلاً جانکاری دیتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی شکریہ ادا کیا جس پر سپریم کورٹ نے اُن ریاستوں کو ون نیشن اور ون راشن والی اسکیم کو نافذ کرنے کا حکم دیا جو اس اسکیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی تھیں۔، تاہم اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بذات خود ملک میں راشن کی ڈیلیوری کو آسان بنانے کیلیے فکر مند ہیں۔

 لیکن با وجود اس کے زمینی سطح پر عملی جامعہ پہنانے کیلیے ذیلی آفیسران یا عوامی تقسیم کاری کے ادرے ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔جس کی محض ایک جھلک کیلیے قارئین کو ریاست جموں و کشمیر کے تحت سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گاؤں چکھڑی بن کی سیر کرواتا ہوں، جس کی کل آبادی سات ہزار پر مشتمل ہے، تاہم سات ہزار کی آبادی والے اس گاؤں کے لوگ کن مشکلات میں اپنی زندگی کے ایام گزار رہے اور ڈیجٹیل انڈیا کے دور میں ان کی زندگی کتنی کٹھن، اس کی کہانی یہاں کے باشندوں کی زبانی ہی قارئین کے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہوں   ”اسی گاؤں کے ایک طالب علم جن کا نام جمیل احمد ہے جو کہ گاؤں کہ محض ایک درجن گریجویٹ طلباء میں سے ہیں،کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں اگر کوئی پہلی بار آتا ہے تو اس کو پہنچنے کیلیے تین چار گھنٹے لگ جاتے ہیں، وہ گاؤں کے اندر انٹری کرنے والے پہاڑی نما راستے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ راستہ اتنا کٹھن ہے جس پر دو آدمی اکھٹے نہیں چل سکتے ہیں، سردیوں کے موسم میں برف اورکورا،ا س قدر جم جاتا ہے کہ لوگوں کو جوتے اتار کر چلنا پڑتا ہے، جمیل نے بتایا کہ اس راستے میں چلتے ہوئے کئی لوگوں کی گر کر بھی موت واقع ہوئی ہے، علاوہ ازیں انہوں راقم الحروف کویہ بھی بتایا کہ جنگلی جانوروں نے ان پوکھنڈی راستوں پر دوران سفر، راہگیروں پر حملہ آور ہوتے ہوئے کئی ظلم ڈھائے ہیں جو سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔“

 اسی سلسلہ میں گاؤں کے ایک اور باشندے مقامی محمد اسلم نے مشترکہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت منڈی تحصیل کے تمام دیہی علاقوں میں غریبی کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والی عوام کو کسی بھی طرح کی سہولیات میسر نہیں ہے۔گھوڑوں پر راشن لاد کر لانا پڑتا ہے۔جب برف پڑتی ہے تو گھوڑا بھی نہیں چل پاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا راشن اسٹور لوئیل بیلہ (براچھڑ) میں ہے وہاں سے چکھڑی بن، درمیانہ اور لور بن میں پہنچنے میں چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے لیے نہ پانی ہے، نہ سڑک ہے اور نہ ہی راشن۔“اس سلسلہ میں مقامی نائب سرپنچ درمیانہ بن فاطمہ زھرا کا کہنا ہے "کہ سرکاری راشن اسٹوروں کی قلت کی وجہ سے لوگوں تک وقت پر راشن نہیں پہنچ پاتا ہے۔سب سے بڑی پریشانی یہاں پر سڑک کی ہے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے عوام کافی مشکلات سے دو چار ہو رہی ہے۔ انتظامیہ اور گورنر انتظامیہ سے بہت بار اپیل کی گئی لیکن ابھی تک کچھ بھی بہتر نتائج حاصل نہیں ہواہے۔ہر طرح کی حکومت بدلی پر ہمارا گاؤں آج بھی قدیم زمانے کے اندھیرے میں ہی جی رہا ہے۔ غربت کی چھاؤں میں سپنے سجا کر بیٹھے اسکولوں میں بچوں کو میڈ ڈے میل نہیں ملتا ہے۔سرکار کی طرف سے جو راشن آتا ہے وہ اسٹوروں پر رکھ کے ڈیلرز بلیک میں بیچ دیتے ہیں۔ غریب بچوں کا حق کھا رہے ہیں یہاں کے اسکولوں میں راشن کبھی پہنچتا ہی نہیں ہے۔میں انتظامیہ سے یہی عرض کرتی ہوں کہ ہمیں یہاں پر راشن اسٹور دیا جائے“۔

وہیں اس حوالے سے محمد شبیر جو ایک گورنمنٹ ٹیچر ہیں اور اس وقت درمیانہ بن مڈل اسکول کلسا ں میں تعینات ہیں،انہوں نے ہمیں تفصیلاً بتایا کہ یہاں کہ حالات بہتر نہیں ہیں۔بہتر ہونے کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ہے۔ انہوں مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ کویڈ۔19سے پہلے بچوں کو اسکول میں میڈے میل ملتاتھا۔ لیکن اب نہیں ملتا،کیوں کہ راشن لانے میں بہت دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بوری چاول لانے میں چار سو کا کیریج پڑتا ہے۔ یہ ہمیں خود کی تنخواؤں سے بھرنا پڑتا ہے۔ اب میڈے میل کا جو پیسہ آتا ہے ہم بچوں کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتے ہیں۔ لہذا میں گورنمنٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ یہاں زمینی سطح پر آج تک کوئی کام نہیں ہوا ہے اور یہاں جلد از جلد سڑک کا کام جاری کیاجائے۔سڑک ہوگی تبھی راشن لوگوں تک پہنچ پائے گا ورنہ بھوک اور غربت کے مّارے مر جائیں گے۔اسی حوالے سے کالج طالبہ عائشہ کوثر جو درمیانہ بن میں رہتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ راشن حاصل کرنے کے بعد راشن کو اسٹور سے گھر تک پہنچانے کے لیے گھوڑوں پر لاد کر پانچ کلو میٹر کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ عورتیں خود سروں پر راشن اٹھا کر لاتی ہیں۔وہیں مقامی لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ راشن ڈپو گاؤں سے دور ہونے کے باعث انہیں راشن آنے کی اطلاع بہت دیر کے بعد پہنچتی ہے ان کے مطابق جب ہم راشن گھاٹ پہنچتے ہیں تب تک راشن ختم ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی مرتبہ لوگوں کو مجبوراً بازار سے مہنگے داموں پر راشن خریدنا پڑتا ہے جو غریب عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہے تاہم،ہم یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں یہی پر راشن ڈپو کی سہولت دستیاب کروائے۔

یہ کوئی واحد گاؤں نہیں ہے جہاں کے باشندوں کو زندگی کی اتنی پریشایناں ہیں بلکہ اس طرح کے دیگر گاؤں بھی ہیں جہاں لوگ ایسی ہی پریشانیوں کے ساتھ روزانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنی پریشانیاں آخر کس سے کہیں؟ کون ان کی تکلیف کو دور کرے گا؟ وہ غریب تو اپنی تکلیف اپنا درد دیکھا رہے ہیں لیکن کیا کوئی آگے بڑھ کران کے مسائل کو حل کرے گا؟(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔