دیہی علاقوں میں سڑکوں کی حالت کیوں نہیں بدلتی ہے؟

 بابر نفیس

(ڈوڈہ، جموں)

اس وقت مرکزی حکومت میں جس وزارت کے کام کاج کی سب سے زیادہ تعریف کی جا رہی ہے وہ سڑک، ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ کی وزارت ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف ملک میں سڑکوں کی حالت بہتر ہوئی ہے بلکہ دیہی علاقوں تک سڑکوں کا جال بچھ گیا ہے۔ اس سے جہاں ریلوے پر بوجھ کم ہوا ہے وہیں معیشت کو بھی فائدہ ہوا ہے۔آج کے دور میں سڑک کا ہونا از حد ضروری ہے۔اس کا ہونا کسی بھی ملک کی ترقی کی پہلی سیڑھی مانی جاتی ہے۔جن علاقوں میں سڑک جیسی بنیادی سہولیات نہیں ہے وہ علاقے آج بھی بجلی،پانی،اور طبی سہولیات جیسے بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔لیکن موجودہ وقت میں بھی ملک میں ایسے کئی دیہی علاقع ہیں جہاں سڑک کا نام نشان نہیں ہے یا کہنے کے لیے سڑک ہے مگر اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔

ہمیشہ اخبارات کی سرخیوں میں رہنے والے یوٹی جموں کشمیر کے کئی ایسے علاقے، خاص طور پر دیہی علاقے ہیں جہاں صرف اس لیے ترقی پہنچ نہیں پا رہی ہے کیونکہ اس علاقع میں سڑکوں کی حالت خراب ہے۔ ضلع ڈوڈہ کا ٹانٹہ علاقہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اسے ضلع کا سب سے پسماندہ علاقہ مانا جاتا تھا۔ جس کی اہم وجہ یہی تھی کہ علاقے کے لیے سڑک کا کوئی بہتر بندوبست نہیں تھا۔ عرصہ تین سال قبل علاقے کے لیے سڑک تعمیر کی گئی۔جس کے بعد ہی علاقے میں بجلی اور تعلمی نظام کے بہتر ہونے کا بندوبست ممکن ہوا۔وہیں دوسری جانب پنچایت کے لوگوں نے کئی مرتبہ انتظامیہ سے یہ فریاد لگائی کہ سڑک کی حالت کو بہتر بنایا جائے۔ لیکن ابھی تک پنچایت ٹانٹہ کے لوگوں کے مطابق سڑک کی حالت کو بہتر کرنے کا کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھایا گیا۔جس سے پنچایت کے ہرفرد کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔اس پنچایت سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن شاہنواز میر کے مطابق عرصہ دس سال قبل کاہرہ  سے ٹانٹہ سڑک کا تعمیری کام کو شروع کیا گیا تھا۔لیکن کام کو اس طرح سست رفتاری سے انجام دیا گیا کہ دس سال مکمل ہونے کے بعد بھی لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ دس سال بعد بھی اس سڑک کی حالت یہ ہے کہ بارش کے دوران کوئی اس سے گزر نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایم جی وائی ایس کی لاپرواہی کی وجہ سے علاقہ کے لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

علاوہ ازیں پنچایت کے ایک اور سماجی کارکن محمد اصغر ماگرے نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑے دکھ کی بات ہے کاہرہ سے ٹانٹہ 13 کلومیٹر کی سڑک کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ نے کبھی غور نہیں کیا۔جبکہ پنچایت ٹانٹہ ایک پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے جس کی آبادی کم ازکم دس ہزار کے قریب ہوگی۔محمد اصغر نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹانٹہ کو تحصیل ہیڈ کوارٹر کاہرہ سے جوڑنے والی سڑک تین پنچایت سے ہوکر گزرتی ہے۔جس میں پنچایت بٹوگڑا اور پنچایت گویلہ ترینکل کا پورا حصہ اتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تین پنچایتوں کی آبادی کم سے کم پچاس ہزار کے قریب ہوگی۔اتنی بڑی آبادی کے لیے جس سڑک کو محکمہ دس سال سے تعمیر کرنے میں ناکام رہی ہے۔وہاں کے مقامی باشندوں کو کس مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے، اس کا اندازہ ایسی کے کمروں میں بیٹھے افسران کو نہیں ہو سکتا ہے۔اسی سلسلہ میں پنچایت کے نائب سرپنچ عبدالقیوم وانی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاہرہ سے ٹانٹہ سڑک کی حالت اس قدر خستہ حال ہے کہ کئی مرتبہ امبولینس یہاں گھنٹوں پھنسی رہتی ہے۔ جس سے مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی مرتبہ محکمہ پی این جی وائس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک اس سڑک کو لے کر کسی بھی طرح کا کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا جس سے اس کے بننے کا کوئی بندوبست نظر آتا ہو۔انہوں نے کہا کہ تارکول بچانے سے پہلے اس سڑک کو ایک بار مرمت کی ازحد ضرورت ہے۔

ان کے علاوہ پنچایت کے ایک اور معزز محمد عباس پڑے نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنچایت ٹانٹہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں سال کے چھہ مہینے برف باری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس کے پیش نظر علاقہ کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھ مہینے کاہرہ سے ٹانٹہ جانے والی اس سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو گاڑیوں کا آنا جانا نا ممکن رہتا ہے۔اگر تھوڑی سی بارش میں ہی سڑک بندہو جائے تو ایسی سڑک کا فائدہ ہی کیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک آسانی فراہم کرنے سے زیادہ لوگوں کے لیے مشکلیں پیدا کرنے والی رہی ہے۔آصف اقبال سماجی کارکن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کویڈ۔19اور لاک ڈاؤن کے دوران اس سڑک سے ہوکر گزرنے میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کاہرہ سے ٹانٹہ کا کل سفر 13 کلومیٹر کا ہے۔ لیکن اس دوران یہ مریضوں کے لیے مشکل کا باعث بنتا ہے۔

اس سلسلے میں جب ہم نے بلاک ڈویلپمنٹ کونسلر چودھری فاطمہ سے بات کی تو انہوں نے کہا یہ بڑی دکھ کی بات ہے کہ عرصہ دراز سے ایک ہی علاقے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کئی مرتبہ ہم نے ضلع ترقیاتی کمشنر، ڈوڈہ سے بات کی لیکن اس طرح کا کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آیا جس سے علاقے کی سڑک بہتر بنائی جا سکتی۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے نہ صرف اس سے گزرنے والی گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازموں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہیں جب اس سلسلے میں محکمہ پی ایم جی وآئی ایس کے ذمہ داران سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کیا۔حلانکہ محکمہ کے آے ای ای پرویز احمد سے بات کی تو انہوں نے یقین دلایاکہ آنے والے وقت میں بہت جلد اس سڑک کا کام شروع کیا جائے گا۔

بہرحال محکمہ کی جانب سے ہر بارسڑک کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور عوام کے پاس اس یقین پر یقین کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے۔ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ آخر کب تک صرف یقین دہانی کرانے کا سلسلہ چلتا رہے گا؟آخر کب یہ سڑک بہتر حالت میں ہوگی تاکہ لوگ کسی بھی موسم میں اس سے گزر سکیں؟ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا