روشنی کی تلاش میں سماج

 شہراز میر

(فتح پور منڈی، پونچھ)

کسی بھی ملک کی جمہوریت کا اندازہ وہاں کے مقیم لوگوں کی ترقی سے ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جمہوری ملک میں پانی بجلی سڑک اور تعلیم و دیگر بنیادی ضروریات لوگوں کو فراہم کرنا حکومت کی عین ذمہ داری ہوتی ہے اور عوام سیگزارنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہندوستان کے اعوانوں میں بھی ہر سال عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کروڑوں روپے کے بجٹ کو منظوری دی جاتی ہے۔ جس سے عوام میں یہ یقین  پختہ ہوجاتا ہے کہ عوام کا مستقبل روشن ہونے جارہا ہے۔ لیکن نہ جانے اسکے باوجود بھی عوام تک یہ تمام سہولیات کیوں نہیں پہنچ پاتی ہیں.جہاں ایک طرف دوسرے ممالک چاند و سورج پر اپنی پکڑ بنا رہے ہیں وہیں ہمارے ملک میں لوگ بجلی, پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔

اگرچہ صرف جموں کشمیر کی ہی بات کی جائے تو آبی وسائل کی فراوانی ہونے کی وجہ سے یہاں کثیر مقدار میں بجلی پیدا کی جاتی ہے،لیکن اس کے باوجود بھی یہاں کے اکثر علاقوں میں بجلی موجود نہیں رہتی ہے۔ عوام کو تاریکی میں ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ بالخصوص ضلع پونچھ بجلی کی عدم دستیابی اور ناقص سپلائی کی وجہ سے عوام کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے بلاک ساتھرہ میں بھی منڈی کی طرف سے آنے والے ایک دریا کو روک کر اب بجلی پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے۔ لیکن جہاں پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے وہاں کی عوام بجلی سے محروم ہے۔ حالانکہ ہر مہینے بجلی کے ِبل لوگوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں لیکن بجلی نہیں پہنچ پاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان علاقاجات تک بجلی پہنچانے کے لیے تاریں سبز درختوں پر لٹکائی گئی ہیں۔ بارش تو دور کی بات ہے آسمان پر بادل چھانے پر بجلی کئی کئی روز تک لاپتہ ہو جاتی ہے۔ اگر تھوڑی سی بھی ہوا چلے تو سبز درختوں اور بوسیدہ لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ ترسیلی  تاریں بوسیدہ کھمبوں کے سمیت زمین پر گر پڑتی ہیں اور عوام کیلیے وبال جان بن جاتی ہیں۔

ضلع پونچھ کے تحصیل منڈی کی پنچایت فتح پور کی بات کی جائے، تو اس کے محلہ میراں وارڈ نمبر 7 میں بجلی کی ترسیلی لائنیں سرسبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکائی گئی ہیں جو سرعام موت کا پیغام دیتی نظر آ رہی ہیں یعنی کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے۔ اس سے قبل بھی مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمے کو کئی بار باور کروایا کہ علاقے میں بجلی کے کھمبے نصب کیے جائیں تاکہ بجلی کی سپلائی ہر موسم میں متواتر بحال رہ سکے اور کوئی حادثہ بھی پیش نہ آئے۔ لیکن متعلقہ محکمہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے یہ تاریں اکثر سڑک پر پڑی رہتی ہیں جو خطرے کا واضح پیغام ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی اس گاؤں کا یہ حال ہے کہ انسانوں کی جانوں کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں وارڈ نمبر 7 کے مقامی شخص بشیر میر نے بتایا ہے کہ محکمہ بجلی نے آج تک اس علاقے میں بجلی کے کھمبے نصب کرنے کی زحمت نہیں کی۔ بجلی کی تار بھی ہم نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لکڑی کے کھمبے کافی پرانے بوسیدہ ہو چکے ہیں لیکن محکمہ نے مستقل کھمبے نہیں لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی تاریں ٹوٹتی ہیں تو مقامی لوگوں کو خود ٹھیک کرنی پڑتی ہیں۔ ان تاروں کی حالت بھی کافی نازک ہو چکی ہے جو کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

 اس بارے میں ایک اور مقامی شخص سرفراز میر نے بتایا کہ لکڑی کے کھمبوں سے بندھی بجلی کی تاریں لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان بجلی کی ننگی تاروں سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ کئی دہائیوں سے بجلی کی لائنیں بوسیدہ لکڑی کے کھمبوں سے بندھی ہیں جو کسی بھی وقت ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اور نہ جانے متعلقہ محکمہ خواب غفلت سے کب بیدار ہوگا؟ انہوں نے مزید کہا کہ چند انچ برف باری ہونے کی وجہ سے یہ کھمبے گر جاتے ہیں،پھر بجلی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سرفراز احمد نے مزید کہا کہ یہاں کی ضلع انتظامیہ سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا ہم یہاں کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ہم ووٹ نہیں دیتے ہیں؟الیکشن کے دور میں توامیدوار اسمان سے ستارے توڑ کر عوام کے لیے لانے کے وعدے کرتے ہیں۔ کامیاب ہونے کے بعد وہ خود ہی ستارے بن بیٹھتے ہیں۔

پنچایت کے انتخا بات میں تو سب سے پہلے ہمیں تار، بجلی کے کھمبے دینے کے وعدوں پر ووٹ مانگے گئے۔ ہم نے ترقی کے نام پر ووٹ دئیے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس پورے وارڈ میں تاریں اور بجلی کے کھبے بانٹے گئے۔ لیکن مجھے اس سہولت سے آج تک محروم رکھا گیا ہے۔ آج میں ان ہی بوسیدہ لکڑی کے کھمنبوں سے لٹکا کر تاریں اور سر سبز درختوں پر جھولتی تاروں سے بجلی استمعال کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں بجلی کا بل بھر رہا ہوں اگر ان تاروں سے کوئی حادسہ پیش آیا تواس کا ذمیدار کون ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں جب مقامی سرپنچ چودھری تاج حسین سے ان لٹکتی ترسیلی تاروں اور بوسیدہ کھمبوں کے بارے میں بات کی تو انہوں نے بتایا ہم نے آپ کے تار اورکھمبے پنچائت کے پنچوں کے حوالے کر دئیے تھے۔ جب پنچوں سے بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ اگلے الکشن میں مجھے ووٹ دینا میں آپ کے اس مسلہ کا حل نکالوں گا۔ جو سرپنچ صاحب نے بجلی کے کھمبے دئیے تھے۔ ان میں میرے لیے بھی تھا لیکن وارڈ نمبر سات کے پنچ نے مجھے نہیں دیا۔ سرفراز احمدکے الزامات کی ہم تصدیق نہیں کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح سے وہ الزام لگا رہے ہیں ا س سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ عوام کے نمائندہ کس طرح سے پیش آتے ہیں؟یہ بہت ہی ناگوار رویہ ہے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن پھر بھی فتح پور گاؤں کے محلہ میراں کے لوگ بجلی اور اس کے مستقل کھمبوں کیلیے پریشان ہیں۔ جو اس ترقی یافتہ دور میں  سرسبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے تاریں باندھ کر گزارہ کر رہے ہیں۔ وہیں موسم سرما میں برفباری کے ہوتے ہی لکڑی کے کھمبے اور درخت گر جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بجلی سپلائی منقطع ہوجاتی ہے اور یہاں سرسبز درختوں سے جھو لتی ترسیلی لائنیں سرعام موت کا پیغام دے رہی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا رونما کر سکتی ہیں۔ ہر بار لوگوں کو انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی لیکن مقامی عوام کو ان کے مطالبات کا ازالہ ہونے کا بے صبری سے انتظار ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی کی قیمتی جان ان ترسیلی لائنوں سے چلی جائے متعلقہ محکمہ کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

اس تعلق سے محکمہ کے جے ای سیجب سے بات کی گئی تو انہوں نے اس تعلق سے بتایا کہ محکمہ پوری کوشش کررہا ہے کہ عوام تک بجلی پہنچائی جائے۔ وقت ضرور لگ رہا ہے لیکن ہم بجلی کو تمام علاقوں تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ بہرحال مقامی لوگوں کو امیدہے کہ ایک دن ضلع انتظامیہ اور محکمہ بجلی کے افسران کوان کی حالت پر رحم آئے گاا ور ان کے علاقے میں بھی بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ کبھی تو روشنی کی ان کی تلاش ختم ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا