سی اے اے معاملہ : اٹھارہ ماہ سے جیل میں بند اسامہ خان سمیت 39 ملزمین کی مدد کون کرے گا؟

ذاکر حسین

سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے کے جرم میں بلریا گنج کے اسامہ خان اٹھارہ  ماہ سے جیل میں بند ہیں۔ ایک مڈل کلاس فیملی کے اسامہ خان گزشتہ برس ہوئے سی اے اے احتجاج کے ملزم ہیں اور وہ تقریباً اٹھارہ ماہ سے جیل کی دیواروں کے درمیان اپنی جوانی کے بیش قیمتی وقت گزارنے کیلیے مجبور ہیں۔ 36 سال کے اسامہ خان جیل جانے سے قبل سماجی اور سیاسی طور سے متحرک رہتے تھے۔ اسامہ خان کی فیملی کے افراد کہتے ہیں”ہمارے بھائ کی مدد کیلیے نہ تو کسی ملی نہ کسی سیاسی جماعت نے ہمیں کبھی رابطہ کیا اور نہ ان کی جانب سے کوئ مدد ملی،ہمیں لوگ اسامہ خان کے مقدمات کی پیروی کیلیے کورٹ کے چکر لگا رہے ہیں اور خود کو بالکل اکیلا محسوس کر رہے ہیں”بتا دیں کہ گزشتہ برس آعظم گڑھ کے بلریاگنج گنج میں سی اے اے کے خلاف خواتین و مرد کا زبردست احتجاج ہوا تھاجس میں بلریا گنج کے ایک خاتون سمیت39 افراد پر مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس معاملے میں علاقے کی معروف شخصیت مولانا طاہر مدنی سمیت 19 افراد کو جیل بھی جانا پڑا تھا۔ جیل جانے والوں میں کچھ لڑکے (اجمعین اور سلمان)نابالغ بھی تھے۔ جیل جانے والوں میں پیشے سے آٹو ڈرائیوراجمعین اس وقت لگ بھگ سترہ  برس جبکہ سلمان سولہ برس کے تھے۔ کچھ لڑکے بارہویں تو کچھ گریجویشن کے طالب علم تھے۔ ان میں سے کتنوں کے امتحانات چھوٹ گئے اور ان کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہوئی۔

اس معاملے میں بلریاگنج کے لوگ کسی بھی طرح کا تبصرہ کرتے ہوئے بچتے نظر آئے۔ ہم نے معاملے کی جانکاری کیلیے کئ متاثرین کے یہاں کالس کیا تو کسی کی بھی طرف سے کوئ جواب ملنے کے بجائے لوگوں نے فون کٹ کر دیا۔ مقامی ایم ایل اے اور سماجوادی پارٹی سے موجودہ ایم ایل اے نفیس احمد کو لیکر اسی معاملے میں کچھ لوگوں میں ناراضگی بھی پائ جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس کے ہاتھ جو لگا،اس کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہیکہ کچھ لوگ جن کو رات میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہوئے معاملے کا ٹھیک سے علم نہیں تھا،صبح فجر کی نماز کے بعد گھومنے کیلیے باہر نکلے تو انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ جیل جانے والے بلال کو صبح میں جب پولیس والوں نے پکڑا تو انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی توقصبے کے ہی یادو نے انہیں پکڑکر پولیس کے حوالے کر دیا اور وہ کئ ماہ جیل میں قید رہے۔ اس حادثے کے بعد بلریا گنج میں مسلمانوں کے درمیان زبردست اختلاف چھڑ گیا اور لوگ مقامی ایم ایل اے سمیت متعدد افراد پر پولیس سے مل کر مسلمانوں کو پھنسانے کا الزام لگانے لگے۔

بہرحال وقت ہر زخم ہر درد کا بہترین علاج ہے۔ لوگ اس تلخ یاد کو کچھ حد تک فراموش تو کر چکے ہیں لیکن ابھی بھی جب ان سے اس مسئلے پر بات کی جاتی ہے تو ان کے چہرے پر کرب اور خوف کے سائے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ اس حادثے کے بعد بلریا گنج میں ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوگیا اور ایک شخص دوسرے شخص کو پولیس کے مخبر کے طور پر دیکھنے لگا۔ یہ فکر مندی والے حالات ہنوز جاری ہیں اور مقامی مسلمان ایک دوسرے سے بدظن نظر آتے پیں۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد سماجوادی پارٹی نیتا اور آعظم گڑھ سے ایم پی اکھیلش یادو نے نہ علاقے کا دورہ کیا نہ ان کا اس معاملےمیں کوئ بیان آیا۔ اس بات کو لیکر سماجوادی پارٹی بالخصوص اپنے ایم پی اکھیلش یادو سے مسلمان ناراض نظر آتے ہیں۔ لوکل مسلمانوں کا کہنا ہیکہ اس معاملے میں شروع میں راشٹریہ علماء کونسل کےقومی ترجمان طلحہ رشادی نے ایک وفد کے ساتھ یہاں کا دورہ کیا تھا۔ کانگریس نیتا پرینکا گاندھی نے بھی بلریا گنج کا دورہ کر سی اے اے متاثرین بالخصوص خواتین سے ملاقات کی تھی۔ پرینکا کے دورے کے بعد مقامی مسلمانوں کو کچھ ڈھارس بندھی تھی لیکن پرینکااور کانگریس کی جانب سے متاثرین کو مایوس ہونا پڑا۔ ہم سی اے اے متاثرین کے خوف کا اندازہ ایسے لگا سکتے ہیں کہ راقم سطور نے کچھ لوگوں کے بیان قلم  بند کرنے کیل انہیں فون کیا تو انہوں نے کسی بھی طرح کا تبصرہ کرنے کے بجائے فون ہی کٹ کر دیا۔ خوف زدہ مسلمانوں کے خوف کی سب سے بڑی وجہ کسی کاسپورٹ نہ ملنا ہے۔

سی اے اے متاثرین نےخود اپنے مقدمات کی پیروی کی اور ابھی بھی اکیلے  مقدمات کی پیروی کرنے کیلیے مجبور ہیں۔ مقدمات کی مار جھیل رہے مسلمانوں کو شکایت ہیکہ ایسے وقت میں ہماری مدد کیلیے کوئ بھی ملی و سیاسی تنظیم نے ہماری مدد نہیں کی۔ اب سوال یہ ہیکہ مسلمانوں سے ہمدردی کا دم بھرنے والی ملی و سیاسی جماعتیں اٹھارہ ماہ سے جیل میں بند اسامہ خان سمیت مقدمات 39 افراد کی مدد کون کرے گا؟مقامی ایم پی اور سماجوادی پارٹی نیتا اکھیلش یادو سمیت دیگر رہنما اس سنجیدہ اور حساس معاملے میں کچھ مثبت قدم اٹھانے سے کیوں بچ رہے ہیں؟سوال یہ بھی ہیکہ انہیں خوف اور مقدمات سے نجات کون دلانے گا؟ان کے عزم،ان کی ہمت اور ان کے حوصلے کو کون دوبارہ پٹری پر لاکر ایک پر سکون زندگی کا تحفہ دے گا؟یہ سوچنے والی بات ہیکہ احتجاج کرنا ملک کے تمام مکتب فکر کے لوگوں کا آئینی حق ہے,پھر اس احتجاج کے بدلے ڈھیر سارے مقدمات اور جیل کا تحفہ کیوں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔