لاکھوں کابجٹ، پھر بھی بوسیدہ ہے سڑک

زاہدہ بیگم

(سرنکو ٹ، پونچھ)

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے 2022-23کا بجٹ پیش کرتے ہوئے جموں کشمیر کے لیے 35581کڑور روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ اس بنیادی ڈھانچے میں سڑک بھی ایک اہم حصہ ہے۔ دراصل کسی بھی علاقہ خاص طور پر دیہی علاقہ کی ترقی کا پہلا قدم وہاں بہتر سڑکوں کاہونا مانا جاتاہے۔گذشتہ کچھ سالوں میں خاص طور پر پردھان منتری گرام سڑک یوجنالانچ ہونے کے بعد سے ملک کے بیشتردیہی علاقوں کی سڑکوں کی حالت کافی بہتر ہوئی ہیں۔لیکن اب بھی کچھ ایسے علاقہ ہیں جہاں سڑکوں کی حالت میں مزید کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔دیگر بنیادی ڈھانچے کی طرح سڑک کی حالت بھی خستہ بنی ہوئی ہے۔حلانکہ اس کی تعمیر کے لیے بجٹ بھی مختص کئے جاتے ہیں۔

اگر جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی بات کی جائے تو یہاں کی عوام کو سرکاری سہولیات کا نہ ملنا کوئی حاص بات نہیں ہے اور جب بات سڑک کی کی جائے،جو ایک چھوٹے سے گاؤں کو شہر میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،تو یہاں آج بھی اس کا فقدان ہے۔سڑک کے نام پر یہاں کی عوام کو صرف ٹوٹے فوٹے راستے ہی دستیاب ہیں۔جس پر آئے دن کوئی نہ کوئی حادثات ہوتے رہتے ہیں۔اس کی ایک مثال ضلع پو نچھ کی تحصیل سرنکوٹ سے گاؤں ہاڑی کی طرف جانے والی سڑک ہے۔جِس کی حالت انتہائی خراب ہے۔اس کی وجہ سے سب سے زیادہ اسکول اور کالج جانے والے طلباء اور طالبات پریشان ہیں کیونکہ ان کو وقت پر گاڑی میصر نہیں ہوتی ہے۔ اگر گاڑی مل بھی جائے تو کرایہ زیادہ لیا جاتا ہے لیکن سڑک کی حالت اتنی خراب ہے کہ پھر بھی وہ وقت پر اسکول یا کالج نہیں پہنچ پاتے ہیں۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ہری پور سے تعلق رکھنے والی اورنسیم ڈیگری کالج، سر نکوٹ میں پڑھنے والی بیشتر طالبا کا کہنا ہے کہ ہمیں پڑھنے کا بہت شوق ہے،مگر کئی مرتبہ ہم کالج روزانہ نہیں جا پاتی ہیں کیو نکہ ہمیں وقت پر گاڑی نہیں ملتی ہے۔اگر کہیں گاڑی مل بھی جائے تو بہت دیر سے پہنچا تی ہے۔تب تک ہماری دو کلاسیزختم ہوچکی ہوتی ہیں۔ اسی گاؤں سے تعلق رکھنے والے اور پونچھ ڈگری کالج کے طالب علم شکیل احمد کے مطابق ”مجھے اس وقت بہت دکھ ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے ساتھ پڑھنے والے لڑکے اپنا پورا وقت کلاسز کو دیتے ہیں اور وقت پر کالج پہنچتے ہیں۔جو میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ آج بھی حکومت کی جانب سے اتنی سہولیات ہونے کے باوجود میرا گاؤں صرف اس لیے پچھڑا ہوا کہلاتا ہے کیونکہ یہاں کی سڑکوں کی حالت بوسیدہ ہے۔“وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل ہمارے حال پر منحصر کرتا ہے اور مجھے اپنا حال دیکھ کر اپنے مستقبل کا ڈر لگتا ہے۔“سڑک کی خستہ حالت کی وجہ سے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گاڑیوں کے حادثے کا خطرہ بھی بنا رہتا ہے۔کئی مرتبہ اس سڑک پر حادثے ہو چکے ہیں جس میں لوگوں کو اپنی جانیں گوانی پڑی ہیں۔

سال 2019 میں اس سڑک پر ایک گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں الیاس احمد نام کے ایک نوجوان کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی تھی اوردیگر افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔لوگوں کی اسی مجبوری کا فائدہ ڈرایوراٹھاتے ہیں اور وہ نہ صرف من مانا پیسہ وصولتے ہیں بلکہ کئی باربزرگوں اور خواتین سے بدتمیزی سے پیش آ تے ہیں۔ آپ اندازہ کیجئے اگر شام کے پانچ بجے کسی بزرگ یا پھر کسی خاتون کو گاڑی سے اتار دیا جائے تو وہ کہاں جائنگے؟ اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے ایک غریب بزرگ خاتون شریفہ کے مطابق’ایک مرتبہ میں شہر سے اپنے گھر آ رہی تھی۔ایک سو مو ڈرائیور جس کا نام اعجاز ہے اس نے مجھے شام کے وقت بحث کرتے ہوئے آدھے راستے میں گاڑی سے اتار دیا۔میرے گھر تک پہنچنے کے لیے سو روپیہ زیادہ مانگے جو کہ میرے پاس نہیں تھے۔ وہ مجھ سے بحث کرنے لگا اور کہنے لگا ایک تو کرونا کی وجہ سے پورا شہر بند رہتا ہے اس وجہ سے زیادہ سواریاں نہیں ملتی ہیں اور میں صرف ایک دو بندے بٹھا کے اتنی دور تک گاڑی لاتا ہوں۔ میری گاڑی کے ٹائر بھی خراب ہو جاتے ہیں اور لوگ بھی زیادہ کرایا نہیں دیتے۔“

اس سلسلہ میں سرپنچ تاج محمد کا الزام ہے کہ”میں خود پریشان ہوں کیونکہ سڑک کی مرمت کے لیے جتنے بھی پیسہ سرکار کی طرف سے آیا ہے وہ ٹھیکیدار کے اکاؤنٹ میں گیا ہے، لیکن ٹھیکیدار اس سڑک کو ٹھیک نہیں کر رہاہے۔ کویڈ۔19کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وقت پر گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔پڑایؤٹ گاڑی کے لیے بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنی ہوتی ہے۔ جو یہاں کی غریب عوام کے لیے بہت مشکل ہے۔جبکہ کرونا کے بعد لوگوں کی آمدنی لگ بھگ ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں زیادہ پیسہ ان کی غربت میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ مریض کو لانے اور لے جانے کے لیے تین سو روپے کرایہ لگتا ہے۔جناب تاج محمد حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سڑک کو جلد سے جلد ٹھیک کیا جائے۔ اس پر تارکول بچھائی جائے تاکہ آئے دن ہونے والے ایکسیڈنٹ کے خطرہ کو ٹالا جا سکے اور طالب علم وقت پراسکول کالج پہنچ کر اپنی پڑھائی مکمل کر سکیں۔ خاص طور پراس کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کو جو نقصان ہو رہا ہے، وہ پوری ہو سکے۔انہوں نے سرکار سے گزا رش کی کہ اس علاقے کی ترقی پر گہری نظر رکھی جائے اور باضابطہ کرایہ نامہ طے کیا جائے جس سے ڈرائیور اور سواری کے درمیان کوئی جھگڑا نہ ہونے پائے۔

بہر حال سوال یہ ہے کہ ہر سال بجٹ میں حکومت سڑکوں کی بہتری کے لیے کڑوڑوں روپہ مختص کرتی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہو سکے۔ پھر ملک کے اس سرحدی علاقع کی سڑکیں بوسیدہ کیوں ہیں؟ آخر اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ کیایوٹی جموں کشمیر انتظامہ نیند سے بیدار ہوگی؟ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔