موسمی اساتذہ آج بھی مستقل جاب پالیسی کے منتظرہیں

جاوید چوہدری

(راجوری، جموں)

 تقریباً دو ہزار سیزنل اساتذہ چھ ماہ اپنے گھرسے دور پہاڑوں پر جا کر قبائلی بچوں کی تعلیم کو متاثر ہونے سے بچاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے چھ ماہ کے بعد وہی اساتذہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے سیزنل اساتذہ کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں ہوئی ہیں۔ہر بار ایک نیا نوٹیفکیشن نکالا جاتا تھا۔ جس سے پرانے لوگوں کو تبدیل کر کے نئے لوگوں کو لگوا دیا جاتا تھا۔ اس بات کو چھوڑو موسمی اساتذہ کے ساتھ اتنی نا انصافی تھی کہ اس مہنگائی کے دور میں بھی صرف چار ہزار مہینے پر کام کرنے کیلیے مجبور تھے۔بدقسمتی سے وہ چار ہزار کے حساب سے بھی پورے نہیں دیے جاتے تھے۔ اس چار ہزار کیلیے چیف ایجوکیشن آفیسر اور زونل ایجوکیشن آفیسر کے دفتروں کے درجنوں بار چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اس کے بعد کہیں جا کر انہیں وہ پیسے ملتے تھے۔

ستمبر اکتوبر میں سیشن بند ہو جاتا ہے یعنی اسکول بند ہو جاتا ہے اوراس کی تنخواہ مارچ اپریل میں ملے اس سے زیادہ اور ظلم کیا ہو سکتا ہے؟ سیزنل اسکول مرکزی سرکار نے گجر بکروال قبائلی آبادی کے طرز زندگی کو دیکھتے ہوئے کھولے تھے کہ جہاں قبائلیوں کی ڈھوک بیک ہے وہاں ان اسکولوں کا قیام کیا گیا تھا کیونکہ قبائلی لوگ یعنی گجر بکروال برادری مال مویشیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی لے کر ڈھوکوں میں چلے جاتے تھے اور آج بھی جاتے ہیں۔ جس وجہ سے ان بچوں کی تعلیم بہت متاثر ہوتی تھی۔ صرف متاثر نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ تعلیم کے زیور سے محروم ہو جاتے تھے۔ یہ حالات دیکھ کر سرکار نے ایک فیصلہ لیا کہ انہیں گھرانوں سے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں کو استاد بنا دیا جاے تاکہ وہ اسی گھرانے کے ساتھ بھی رہے اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔

اس وقت جہاں رہبر تعلیم اساتذہ کو پندرہ سو روپے ماہانہ پر لگایا جاتا تھا وہیں سیزنل استاد کو چار ہزار روپے مہینے پر لگایا گیاتھا۔ جو بڑی خوش آئند بات ہے۔ تمام قبائلی آبادی اس بات کی شکرگزار ہیں کہ سرکار نے قبائلی لوگوں کے لیے یہ اسکول کھولے تاکہ گجربکروال طبقہ کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ لیکن پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی موسمی اساتذہ کی تنخواہ چار ہزار سے ایک روپہ نہیں بڑھی۔جو بہت افسوس کا مقام ہے۔ پھر جموں وکشمیر کے تمام سیزنل اساتذہ نے ایک فورم بنائی جس کا نام سیزنل ٹیچرس فورم رکھا گیا۔اس فورم نے متعدد وفود مرکز اور ریاستی سرکار کے پاس پیش کیے۔ لیکن سوائے یقین دہانی کے کچھ نہیں ہوا۔حالانکہ موجودہ لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا صاحب سے جب سیزنل اساتذہ کا وفود ملا تو انہوں نے حیرانگی ظاہر کی کہ اس مہنگائی کے دور میں یہ لوگ چار ہزار ماہانہ پر کیسے کام کر رہے ہیں؟ یہ تو غلط ہے۔ انہوں نے پرنسپل سیکرٹری ایجوکیشن کے دفتر کو یہ ہدایات جاری کی کہ ان اساتذہ کی تنخواہ چار ہزار سے بڑھا کر دس ہزار کی جائے۔اس کے علاوہ گورنر صاحب نے متعدد پروگرام میں یہ بھی کہا کہ سیزنل اساتذہ کیلیے جلد جاب پالیسی بنائی جائے گی۔

یہاں میں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں ایک سیزنل اساتذہ کے ساتھ جو لوگ تعینات ہوئے تھے بطور ایجوکیشنل والنٹیر، وہ مستقل ہو گے اور آج وہ اچھی موٹی تنخواہ لے رہے ہیں کیونکہ انہیں رہبر تعلیم میں تبدیل کر کے مستقل کر دیا گیا۔ جس سے انکا مستقبل محفوظ ہو گیا۔ اس سلسلہ میں 36 سالہ ایک سیزنل استاد منظور چوہدری کے مطابق میں اپنے گھر سے بیس کلومیٹر دور جا پریالی ڈھوک میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے جاتا ہوں۔مجھے یہ نوکری کرتے ہوئے پندرہ سال ہو گئے ہیں۔ لیکن کچھ بہتر نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ پچاس کے قریب پہنچ چکے ہیں اب ان کے مستقبل کا کیا ہو گا؟ وہیں جب سیزنل سینٹر کلال گاؤں جو کہ دراج سے 28 کلومیٹر دوری پر واقع ہے جہاں 42 سالہ مشتاق نامی ایک سیزنل استاد مقیم ہیں،نے بتایا کہ ہم لوگ اتنے مجبور ہیں کہ ہمارے پاس اپنے والدین کی دوا ئیو ں کیلیے پیسے نہیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ایک سیزنل اساتذہ ایسے ہیں کہ جن کے بچے جوان ہو گئے ہیں اور ان کی شادیوں کیلیے پیسے نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ ہم اساتد کے طور پر خوب عزت کماتے ہیں اور اس کے بعد چھ ماہ در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ ہماری تو زندگی دربدر ہو گی ہے۔ ہمارا مستقبل تو اندھیرے کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہماری نظر اس وقت صرف اور صرف ایل جی صاحب اور انکی انتظامیہ پر ٹکی ہوئی ہے کہ وہ ہی اگر کچھ کر سکتے ہیں۔

راقم نے یہ اندازہ لگایا کہ رہبر تعلیم اساتذہ نے زبردست احتجاجی مظاہرے کر کے اپنا لوہا منوایا۔ محکمہ بجلی کے ملازمین نے بجلی بند کر دی اور سرکار کو ان کی بات سننی پڑ گی۔ محکمہ جل شکتی کے ڈیلیویجروں نے احتجاج کر بارہ وچر میں نرمی کیلیے اپنا آرڈر کروایا۔کیا موسمی اساتذہ کے ساتھ نا انصافیاں اس لیے ہیں کہ یہ لوگ پر امن اپنی مانگ رکھ رہے؟ کیا اس لیے ناانصافی کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ پندرہ سال سے چھ ماہ پڑھا نے کے بعد چھ ماہ مزدوری کر کے پھر دوردراز پہاڑوں پر جا کر آندھی برسات میں بنا تنبو کے مفت میں بچوں کو تعلیم کے خوبصورت زیور سے آراستہ کرتے ہیں؟

حال ہی میں ایل جی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن،زیر نمبرEdu 1684-2021تاریخ 07/12/2021کوجاری ہوا جو کہ پرینسیپل سیکریٹری،محکمہ اسکول ایجوکیشن محترم بی کے سنگھ صاحب کے دفتر سے نکلا۔ جس میں یہ کہا گیا کہ جو استاد امسال مقررہوئے ہیں وہ آیندہ پانچ سال تک تبدیل نہیں کیے جائیں گے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ اس کیلیے موسمی اساتذہ ایل جی صاحب اور انکی انتظامیہ کے بے حد مشکور ہیں۔لیکن پانچ سال کے بعد ان اساتذہ کا کیا ہوگا؟ کیا ان کا مستقبل تاریک اندھیروں کی طرف تو نہیں جا رہا؟ اگر ہاں تو پھر ان لاچار بے بس اساتذہ کے ساتھ انصاف کیا جائے؟

یہ اساتذہ پندرہ سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔یہ سوچتے ہیں کہ ان کا مستقبل بھی سنور جائے ان کے پاس اپنے بیوی بچے کے اخراجات پورے کرنے کیلیے ایک مناسب رقم ہو۔بوڑھے والدین کی دوائیوں کیلیے پیسے دستیاب ہوں۔ تمام سیزنل اساتذہ چاہتے ہیں کہ انہیں رہبر تعلیم، رہبر کھیل اور رہبر جنگلات جیسی اسکیم کی طرظ پر مستقل کیا جائے تاکہ یہ بھی راحت کی سانس لے سکیں۔ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔