نا مکمل عمارت میں مکمل علاج کیسے ممکن ہوگا؟

سرفرازاحمدخان قادری

(پونچھ)

صحت کی بہتر سہولیات کا حصول ملک کے تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، مرکز سے لے کر ریاستی حکومتوں نے دیہی علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے پرائمری ہیلتھ سینٹر قائم کیے ہیں، تاکہ دیہی علاقع کے لوگوں کو ان کے گھر پر صحت کی سہولیات مل سکے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ سہولت یو ٹی جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں کے لوگوں کی قسمت میں نہیں ہے۔یہاں کے سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر کے بلاک بالاکوٹ کی بڑی آبادی آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی طبی سہولیات سے محروم ہے۔جہاں پرائمری ہلتھ سینٹر و سب سنٹر کی عمارتیں تا ہنوز نامکمل ہونے کے باعث مقامی آبادی کو دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو معمولی مرض کی تشخیص کیلیے بھی ضلع ہسپتال پونچھ یا پھر راجوری ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بلاک بالاکوٹ کی پنچائت چنڈیال اور سنگیوٹ میں متعلقہ حکام کی جانب سے پرائمری ہیلتھ سنٹر منظور کیا گیا تھا جس کی عمارت ابھی تک نامکمل ہے۔ عوام کے مطابق ضلع افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے اس مسئلے کو کئی بار اْٹھایا تاہم ان کی جانب سے خالی یقین دہانیاں دی گئیں اور زمینی سطح پر کچھ نہ دیکھنے کو ملا۔

 ضلع پونچھ کے بلاک بالاکوٹ میں طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بہت بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوں تو وقتاً فوقتاً سرکاروں نے بہت بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے تھے کہ پنچائتوں کے ذریعہ دور دراز اور سرحدی علاقوں میں تمام تر بنیادی سہولیات دستیاب کروائی جائیں گی۔مگر بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ آج 2022 میں بھی ہمارے دور دوراز اور پسماندہ اور سرحدی علاقہ میں بنیادی طبی نظام کا فقدان ہے۔ دیہی علاقوں سے آج بھی کئی کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد عوام کو حصول طب کیلیے بڑے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔ آج بھی پسماندہ اور سرحدی علاقہ میں درجنوں ایسے دیہات ہیں جہاں پر بنیادی طبی مرکز تک نہیں ہیں اور جہاں پر اس قسم کے مراکز موجود بھی ہیں تو وہ بھی نہ ہونے کہ برابر ہیں کیونکہ کہیں پر یا تو ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور کہیں پر ادویات کی کمی ہوتی ہے۔ جس کے باعث عوام کو چھوٹے موٹے مرض یعنی سر درد و بخار جیسی بیماری کی ادویات کی حصولیابی کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر بلاک بالاکوٹ کے اندر بیشتر پنچائتوں کے اندر سب سنٹر اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں کی عمارتوں کا کام کئی برسوں سے چل رہا ہے جو ابھی تک مکمل ہی نہ ہوا ہے اور نہ ہی دور دراز اور سرحدی علاقہ کے اندر ماہر ڈاکٹر اور ادویات عوام کو بر وقت دستیاب ہیں۔ جس کی زندہ مثال پرائمری ہیلتھ سینٹر سنگیوٹ ہے جس کا کام سال 2007-08میں لینٹر لیول کر کے جوں کا توں چھوڑ دیا تھا جو آج بھی نامکمل ہے۔

اس ضمن میں بی ڈی سی چیئرپرسن بلاک بالاکوٹ شمیم اختر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ سب ڈویژن مینڈھر کا سب سے دور دراز اور پسماندہ سرحدی علاقہ سنگیوٹ اور چنڈیال ہے جس کی آبادی کم ازکم دس ہزار سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگیوٹ و چنڈیال کی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل عوام تمام تر بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقہ کے اندر اگر کوئی بزرگ،عورت یا بچہ بیمار ہو جائے تو پختہ سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مین شاہراہ تک اس کو لے جانے میں کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے مین شاہراہ تک پہنچانا پڑتا ہے، اس کے بعد وہاں سے راجوری یا پھر پونچھ علاج و معالجہ کیلیے پہنچایا جاتا ہے جہاں راستے میں زیادہ مرض والے شخص کی جان بھی جا سکتی ہے۔ انہو ں نے مزید کہاکہ عوام کو سر درد اور پیٹ درد کی بھی ٹیبلٹ بر وقت دستیاب نہ ہیں جس کیلیے عوام کو مینڈھر یا راجوری کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ سنگیوٹ اور چنڈیال ایک ایسا علاقہ ہے جس کا ایک کنارہ ضلع راجوری کی سرحد تھنہ منڈی کے ساتھ لگتا ہے اور دوسرا کنارہ منجا کوٹ کے ساتھ لگتا ہے۔سب ڈویژن مینڈھر کا سب سے دور دراز اور پسماندہ علاقہ جوکہ انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہے جہاں سرکار نے یہاں کی عوام کو بر وقت بنیادی سہولیات میسر کروانے کی کوشش نہ کی ہے جس کی وجہ سے آج اس ترقی یافتہ دور میں بھی پنچائت سنگیوٹ اور چنڈیال کی کم از کم دس ہزار آبادی طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ باقی تمام سہولیات سے بھی محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاک بالاکوٹ میں کسی پنچائت کے اندر بھی بر وقت طبی سہولیات وہاں پر بسنے والی عوام کو دستیاب نہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پنچائت سنگیوٹ کے اندر ایک غیر جانبدارنہ ٹیم بھیجے اور انکوائری کی جائے کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ کی عمارت کیلیے کتنا پیسہ منظور ہوا تھا اور آج تک کتنا پیسہ اس کو تعمیر کرنے میں لگایا گیا ہے اور کن وجوہات کی وجہ سے آج تک یہ عمارت تشنہ تکمیل ہے؟

اس ضمن میں پنچایت چنڈیال کی سرپنچ روبینہ کوثر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ بڑے افسوس کا مقام یہ ہے کہ علاقہ کے عوام کیلیے سرکار کی جانب سے ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر منظور ہوا تھا جس کا کام2007-08میں شروع ہوا تھا جو آج2022 تک بھی صرف اس کی دیواریں ہی تعمیر ہوئی ہیں، اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک اس پہ لینٹر نہیں پڑا ہے۔اب کب اور کون سے دور میں اس کا لینٹر ڈالا جائے گا اور کب اس سرحدی اور پسماندہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوگا۔اس کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ یہاں سر درد اور بخار جیسے چھوٹے مرض کے لیے ادویات دستیاب نہیں ہیں جس کے باعث یہاں کی ایک بہت بڑی آبادی مشکلات کے کٹھن مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اس ضمن میں سنگیوٹ پنچایت کے سرپنچ مخیاز احمد خان سے بات ہوئی تو انہوں نے بات کرتے ہوئے بتایاکہ مذکورہ پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ جس کے  لیے 98لاکھ روپے واگزار ہوئے تھے، باوجو اس کے بھی مذکورہ پرائمری ہیلتھ سینٹر جوں کا توں پڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کے لیے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرکے اس مدعے کو زیر غور لایا اور ایل جی کے نوٹس میں بھی لایا لیکن اس پہ کوئی بھی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھائے گئے جس کے باعث عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس ضمن میں بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمد خان سے بات کی کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ میں اس کے بارے میں دو تین بار لکھ چکا ہوں کہ اس پہ جلد لینٹر ڈالا جائے لیکن ابھی پیسہ نہیں نکلا۔انہوں نے مزید کہاکہ میں نے لکھا ہے کے مزکورہ پراپرائمری ہیلتھ سینٹر کو جلد مکمل جائے۔

قارئین اتنی بڑی آبادی کو آج کے ا س ترقی یافتہ دور میں بنیادی طبی سہولیات دستیاب نہ ہونا اپنے آپ میں سوچنے والی بات ہے کیونکہ سرکار طبی میدان میں کامیابیوں کے کافی بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے اور یہاں کی عوام سر درد اور بخار جیسی ادویات کیلیے بھی پریشان ہے۔کویڈ۔19وبا کے اس حالات میں جبکہ پی ایچ سی کی اہمیت بھی کا فی بڑھ جاتی ہے، ایسے میں اس علاقع میں پرائمری ہلتھ سینٹر و سب سنٹر کی عمارت کانامکمل ہونا تشویش کی بات ہے۔(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔