پنچائیت ملکاں کے لوگوں کی امیدوں کا پُل کب تعمیر ہوگا؟

یار محمد تانترے

 (منڈی، پونچھ)

 جہاں مرکزی سرکار ملک کی تمام ریاستوں کی یکساں تعمیر و ترقی کے لیے منصوبے مرتب کرتی ہے وہیں ان منصوبوں کو زمینی سطح پر باعمل بنانے کے لیے ریاستی سرکار کے بعد ضلع انتظامیہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگرچہ ضلع انتظامیہ افسران ہی اپنے فرائض سنجیدگی سے انجام دینے کی بجائے غفلت کی نیند سو جائیں تو مرکزی و ریاستی سرکار کے ترقیاتی منصوبے زمینی سطح پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں نہ ہی تعمیر و ترقی ممکن ہے اور نہ ہی عوام بنیادی سہولت سے مستفید ہو سکتی ہے۔اگر ہم ایک نظر جموں و کشمیر پر ڈالیں گے تو معلوم یہ ہوگا کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں شہروں کے مقابلے گاؤں دیہات اور بالائی علاقہ جات میں دور دور تک تعمیر و ترقی کا نام و نشان منفی دکھائی دے رہا  ہے۔اگرچہ کئی مقامات پر کوئی تعمیری کام شروع کیا بھی گیا ہے لیکن وہ گذشتہ کئی سال سے ضلع انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار اور سست رفتار ہے۔

 ضلع پونچھ کے متعدد گاؤں دیہات سرحدی و بالائی علاقہ جات کی عوام اس ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولت سے محروم زمانہ قدیم کی طرز زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جہاں موجودہ سرکار تعمیروترقی کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے وہیں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گاؤں و دیہات اور بالائی علاقہ جات حکومت کی نظروں سے اوجھل ہیں؟ کیا جموں و کشمیریوٹی سرکار جان بوجھ کر گاؤں دیہات اور بالائی علاقہ جات کو نظر انداز کر رہی ہے؟یا یہ ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔اس بات کو لے کر اگر ہم جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے تحصیل منڈی کی بات کریں تو تحصیل کمپلیکس منڈی سے چند ہی کلومیٹر دور گاؤں اڑائی واقع ہے جو تین پنچایتوں پر مشتمل ہے۔ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ضلع پونچھ کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔ اڑائی گاؤں میں 2011 میں سڑک کا کوئی نام و نشان نہ تھا لیکن آج گاؤں میں چاروں طرف سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ سڑک تو ہے لیکن رابطہ پل نہیں۔پل نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں اڑائی کی تیسری پنچایت یعنی پنچایت ملکاں کی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام پنچایت ملکاں عرصہ دراز سے ضلع انتظامیہ سے پل بنائے جانے کی مانگ کر رہی ہے۔لیکن تا حال ضلع انتظامیہ خاموش ہے۔ جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

اس حوالے سے جب ہماری بات ایک مقامی باشندہ حافظ عبدالرحیم ملک عمر 32 سال سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ پنچایت اڑائی ملکاں گاؤں اڑائی کی تیسری پنچایت ہے۔گاؤں میں دونوں اطراف سڑک ہے لیکن اس کو جوڑنے والا نالہ پرہی پل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں یہاں کے لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ضروریات زندگی کا سامان اپنے کندھوں پر اٹھا کر میلو پیدل سفر طے کرتے ہیں۔گاؤں میں کوئی بھی نجی گاڑی یا ایمبولینس تک نہیں آسکتی۔ تعلیمی و طبی نظام بھی بری طرح متاثر ہے۔ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو مریض کو چارپائی پر اٹھانے اور گاڑیوں کی آمدورفت والی سڑک تک   پہنچانے کے لیے آٹھ سے دس آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات مریض کو بروقت طبی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے راستے میں ہی موت ہو جاتی ہے۔گاؤں میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آڑائی موریاں تک سات کلومیٹر سڑک مکمل ہو چکی ہے جبکہ ایک کلو میٹر تک بلیک ٹاپنگ کے علاوہ تارہ گڑھ تک تین کلو میٹرمزید کھدائی بھی ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بھی یہاں کی عوام کو اس سڑک سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔جب تک کہ نالہ پر پل تعمیر نہ کیا جائے۔نالہ پر پل تعمیرہونے کے بعد ہی گاؤں میں گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہونے سے طبی وتعلیمی نظام بھی بہتر ہو گا۔اور عوام کی تمام تر مشکلات کا ازالہ ممکن ہوگا۔

پنچایت اڑائی ملکاں سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ خاتون رابیعہ کوثر نے کہا کہ ایک طرف ہماری سرکاربیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کے نعرے لگاتی ہے تو دوسری طرف اس نعرے کا تا حال زمینی سطح پر کوئی بھی اثر یا عمل دیکھنے کو نہیں ملتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں سڑک ہے لیکن پل کے بغیر انسانی زندگی کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ پل کے بغیر گاؤں میں گاڑیوں کی کوئی آمدورفت نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے والدین حضرات کو بیٹی پڑھاؤ کے بجائے بیٹی کا اسکول جانا بند کراو کا نعرہ لگانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤں اڑھائی ملکاں میں رہنے والے متعدد طلباء و طالبات کو پڑھائی سے منہ موڑنا پڑتا ہے۔رابیہ کوثر نے مزید بتایا کہ جب کوئی حاملہ عورت بیمار ہو جاتی ہے تو اسے چارپائی پر اٹھاکر لانا اور لے جانا کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایسے معاملات میں بروقت علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے اموات بھی ہو جاتی ہیں۔

گاؤں میں سڑک کے باوجود پل کی کمی کی وجہ سے کوئی ایمبولینس نہیں آ سکتی۔ ان تمام معاملات اور مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کے لیے گاؤں کے متعدد ذر معاش والے افراد گاؤں چھوڑ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہو چکے ہیں۔ لیکن جو ہم جیسے غریب لوگ ہیں مزدور پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے گاؤں میں ہی زندگی بسر کرنی ہے۔ لہذا ضلع انتظامیہ و موجودہ حکومت ہمارے گاؤں کا موقع ملازء کروا کر جلد از جلد پل کا کام شروع کروائے۔ تاکہ ہمارے گاؤں کی عوام بھی راحت کا سانس لے سکے۔اس حوالے سے جب ہم نے گاؤں اڑائی حویلی سے تعلق رکھنے والے بزرگ حاجی محمد اکرم عمر 65 سال سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ موسم گرما میں گاؤں کے متعدد لوگ چند ماہ کے لیے نقل مکانی کر کے اپنے مال مویشی کو لے کر دوسرے مقامات یعنی ڈھوکوں میں گھاس چرائی کی غرض سے  جاتے ہیں۔ان کے جانے کا راستہ اڑائی ملکاں سے ہے۔ لیکن نالہ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔کئی بار مال مویشی دریا میں بہہ جانے کی وجہ سے غریب عوام کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں طرف سڑک ہے۔جس کو دیکھتے ہوئے اکثر موٹر سائیکل سوار جھولا پل پار کرنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے چند ماہ قبل پیش آئے ایک حادثے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے پل پار کرنے کی کوشش کی۔لیکن پیچھے بیٹھی ہوئی خاتون اور کمسن بچی جھولا پل سے نیچے جا گری جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہو گئیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور گورنر انتظامیہ سے جلد از جلد پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ  ایسے حادثات کو روکا جا سکے۔

ہم نے اڑائی ملکاں سے تعلق رکھنے والے ایک اسکول ٹیچر سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپ اپنے بچوں کو گاؤں کے نزدیک کی اسکولوں کے بجائے شہر میں پڑھانے کو ترجیح کیوں دے رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ کووڈ19 کی وجہ سے عرصہ تین سال تک پڑھائی متاثر ہو چکی ہے۔اب اگر ہمارے بچے گاؤں کے نزدیکی اسکولوں میں پڑھائی کریں گے تو رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے بچے وقت پرا سکول نہیں پہنچ سکتے۔اور اب ہم بچوں کا مزید نقصان نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ہم نے اپنے بچوں کو شہر میں پڑھانے کا فیصلہ لیا۔جو ہمارے لیے کافی مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگریہاں پل جلد ہی تعمیر ہوگا تو ہم اپنے بچوں کو گاؤں واپس لانا پسند کریں گے۔کیونکہ گاؤں کی صاف اور شفاف ہوا میں رہنا ہمارے بچوں کے لیے مفید ہوگا۔

اس حوالے سے ہماری بات مقامی سرپنچ حلقہ اڑائی ملکاں محمد اسلم ملک سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں نالہ کے دونوں طرف سڑک ہے۔ لیکن ابھی تک نالہ پر پل تعمیر نہ کیا گیا۔ اس مسئلہ کو لے کر ہمارے کئی وفود ڈپٹی کمشنر پونچھ و محکمہ تعمیرات عامہ کے اعلی افیسران سے اپنی گذارشات لے کر ملا اور کئی مرتبہ عوامی دربار میں بھی پل کا مسئلہ زیر بحث لایا۔لیکن ابھی تک ہمیں صرف یقین دہانی کروائی گئی۔مگر ابھی تک زمینی سطح پر کوئی بھی موثر اقدام نہ اٹھائے گئے۔یہی وجہ ہے کہ عوام کو فلحال پل کے بغیر تعمیر شدہ سڑک کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔کوئی بھی گاڑی ایمبولینس،فائر سروس جیسی بنیادی سہولیات سے بھی عوام محروم ہے۔یہاں کے لوگ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی خورد و نوش کا سامان،بلڈنگ میٹریل ودیگر ضروریات زندگی کا سامان اپنے کاندھوں پر اٹھائے نظر آتے ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام کو سڑک کا کس قدر فائدہ ملا ہے۔ ملک صاحب نے گورنر انتظامیہ سے ذاتی مداخلت کر کے جلد از جلد پل کا کام شروع کروانے اور عوام کو رابطہ پل کی سہولت فراہم کرنے کی مانگ کی تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

اس حوالے سے جب ہماری بات محکمہ تعمیرات عامہ کے اہلکارہروندر سے ہوئی توان کا کہناتھا کہ اس پل کا پلان مرتب کرے بھیج دیاگیاہے۔ 31مارچ 2022تک نہیں بلکہ اگلے 2023 کے آغاز میں جوں ہی پروجیکٹ منظور ہوکر آتاہے،اس رابطہ پل کا کام شروع ہو جائے گا۔ لیکن وقت کی ضرورت ہے کہ یہاں کی خواتین بزرگوں نوجوانوں طلباء وطالبات کے درپیش مشکلات کودیکھتے ہوے تمام تر دیگر کاموں سے قبل یہاں رابطہ پل تعمیر کیاجائے۔ جس کے لیے محکمہ تعمیرات عامہ، محکمہ دیہی ترقی کے ساتھ ملکر پنچائیت نمائیند گان اور سماجی لوگوں کو مزید کوشش کرنی ہوگی۔ اب محکمہ تعمیرات عامہ یہاں کی عوام کا مسیحاء کب بنے گا؟ اڑائی ملکاں کی عوام پل کی تعمیر کا مزید انتظار اور کتنے برس کریں گی؟ ان کی امیدوں کا پُل کب تعمیر ہوگا؟کون اس کا جواب دئے گا؟ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔