ڈوڈہ بھدرواہ سڑک کی خستہ حالت کا ذمہ دار کون ہے؟

عامراقبا خان

 (بھدرواہ، جموں و کشمیر)

کسی بھی علاقے کی ترقی اور خوشحالی اس جدید دور میں وہاں کے لیے رابطہ اور امور و مرور کی سہولیات پر منحصر ہوتی ہے۔ اس علاقے یا خطے میں انسان جانا پسند نہیں کرتا جہاں کے لیے راستہ اور رابطہ میسر نہیں ہوتاہے۔ بھدرواہ ڈوڈہ تیس کلومیٹر سڑک جسے جموں سرینگر قومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ ہی تعمیر کیا گیا تھا صوبہ جموں کی چند پرانی تعمیر شدہ سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں انقلابی نوعیت کی ترقیاتی تبدیلی خاص طور پر امور و مرور یا آمدورفت کے ذرائع رونما ہوئے ہیں تاہم بھدرواہ ڈوڈہ سڑک کی حالت زار جوں کی توں ہے۔ حالانکہ ایک دہائی پہلے اس سڑک کو ڈبل لائن سنگل سپین کی شکل بذریعہ (GREF-114RCC) دی گئی،اس کے بعد اس سڑک کی روز افزوں بگڑتی حالت پر غور نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹوٹے پھوٹے گھڈوں کی مرمت کی گئی۔ آج اس سڑک کی خستہ اور شکستہ حالی ہر ایک شخص کو یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ کسی خاص سوچی سمجھی سازش اور لاپرواہی سے ہو رہا ہے۔

بھدرواہ بہالاکے علاوہ دیگر ملحقہ علاقہ جات کی عوام بالخصوص اور باہر سے آنے والے لوگ آئے دن اس سڑک کی بدحالی سے سخت پریشان ہیں۔ اب جب کہ بھدرواہ ہر دن سیاحتی اعتبار سے اپنی غیر معمولی حیثیت کو پورے ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں شہرت اختیار کر رہا ہے۔ وہیں یہاں آنے والے سیاحوں کو اس طرح کی زبوں حالی کی وجہ سے یہاں آنے کے بعد پچھتانا پڑتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو گھنٹوں کی دلخراش مسافت قدرتی مناظرسے لطف اندوز ہونے کیلیے طے کرنا پڑتی ہے اور یہاں کا ترقیاتی منظر نامہ دیکھنے کے بعد پچھتاوہ ہوتا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مقامی انتظامیہ یہاں کی زمینی صورتحال سے بخوبی واقف ہے۔ لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بناء پراس طرف عدم توجہی اور لیت و لعل سے کام لیاجا رہا ہے۔قارئین اس سڑک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور یہ سڑک عوام کے لیے ایک مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہاں کے لوگوں کی زندگی کا سلسلہ تھم سا جاتا ہے ہے کیونکہ ہر موسمی صورتحال میں آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں مقامی اور سماجی کارکن محمد سلیم بٹ کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار اور یوٹی انتظامیہلوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں نے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سڑک کی کشادگی اور مرمت کی جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ بھدرواہ ڈوڈہ روڈ تاریخی اہمیت رکھتی ہے جو کہ سابقہ ضلع ڈوڈا کے لیے دوسرا سب سے بڑا رابطہ ہوا کرتی تھی جو اب جموں سرینگر نیشنل قومی شاہراہ کے علاوہ ڈوڈہ کشتواڑ اور رام بن پر مشتمل ہے۔ایک طرف یہ سڑک سابقہ پرتاپ وادی کے لیے ایک آف شوٹ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی اور دوسری طرف ہمالیائی پہاڑی علاقے میں صرف سطحی رابطہ سمجھا جاتا تھا۔

اس ضمن میں بھدرواہ کے ایک معزز شہری مست ناتھ یوگی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کی تمام حکومتوں نے بھدرواہ علاقے کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا اور یہی وجہ ہے کہ زمین کا یہ حصہ عام طور پر منقطع رہتا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ناسازگار موسم میں ملک اور ریاست کے دارالحکومت اس خطہ ارض سے منقطع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس خطے کی ترقی شدید متاثرہوتی ہے۔یوگی نے مزید کہا کہ سابقہ حکومتوں کے سربراہوں اور موجودہ وقت میں بھی بھدرواہ کے لیے لائف لائن روڈ لنک کی بندش کے حوالے سے بار بار نمائندگی کرنے کے باوجود، اس معاملے میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا جو واضح اشارہ کرتا ہے کہ حکمران اس طرف عدم توجہ ہیں۔

یہ یکساں طور پر قابل ذکر ہے کہ تکنیکی انقلاب، معاشی اور سماجی ثقافتی ترقی کے لحاظ سے ترقی پسند تبدیلی کے اس دور میں جب ملک کے تمام علاقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برابری پر لانا ہوتا ہے، ان سب سے بڑھ کر، سڑک رابطہ اس کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور فوری صورت میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بھدرواہ ڈوڈہ روڈ لنک کی بظاہر قابل رحم حالت مسلسل دردسر ہے۔

اس سلسلے میں پھلوں کی کاشت کرنے والے محمد شفیع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ خراب موسمی حالات کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ بھدرواہ کی 30 کلومیٹر لمبی سڑک کی خراب حالت کے پیش نظر پھل اور سبزیوں کے کاشتکار جو اچھے مالی نتائج کی طرف دیکھ رہے ہیں، زمینی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری ایک رشتہ دار کچھ دن پہلے برین ایمرج کا شکار ہوئیں،کوما میں چلی گئیں اور انہیں فوری آپریشن کے لیے جی ایم سی جموں منتقل کیاگیالیکن مریض کو لے جانے والی ایمبولینس سڑک کی کلیئرنس کے انتظار میں لینڈ سلائیڈ سائٹ کے قریب گھنٹوں اٹکی رہ گئی جس کی وجہ سے خصوصی علاج میں بروقت مداخلت میں تاخیر ہوئی اور مریض کی حالت مزید بگڑ گئی۔ انہوں نے مزید کہاہم ڈوڈہ اور بھدرواہ کے درمیان ایک ہی سڑک کا رابطہ رکھتے ہیں اور بدقسمتی سے کچھ کلومیٹر کا یہ لنک بھی قابل نقل نہیں ہے۔

جب اس سلسلے میں ڈی ڈی سی چیئرمین دھننتر سنگھ کوتوال سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ سڑک کی حالت کو بہتر بنانے کیلیے متعلقہ اجنسی سے بات کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں گریف انچارج نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ سڑک کی حالت بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ تارکول بھی بچھایا جائے گا۔حالانکہ یہ کب تک ممکن ہوگا اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

قارئین مقامی عوام اس ترقی یافتہ دور میں سڑک جیسی بنیادی سہولت کیلیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک جانب ملک ڈیجیٹل انڈیا بن رہا ہے اور دوسری جانب مریض کو نازک صورتحال میں لے جانے والی ایمبولنس گھنٹوں اٹکی رہ جاتی ہے۔انتظامیہ کو چاہیے کہ ڈوڈہ بھدرواہ سڑک کی صورتحال بہتر بنانے کیلیے بروقت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔