ہندوستانی مٹی میں زعفرانی کھیتی

کہنے کوتویہ ملک 1947میں آزاد ہوا؛ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کی حالت آج بھی غلاموں جیسی ہے، فرق بس اتناہے کہ پہلے انگریز کے غلام تھے اورآج اپنے ہی لوگوں کے غلام ہیں؛ حالاں کہ آزادی کے بعد جب26ٌٌ/نومبر 1949میں ہمارے ملک کاقانون اوردستورپاس کیاگیا، اس وقت ہم تمام نے یہ عہد کیا تھا کہ ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں اوراس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں: انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی آزادیٔ خیال، اظہار، عقیدہ، دین اورعبادت؛ مساوات بہ اعتبار حیثیت اورموقع اوران سب میں اخوت کوترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اورقوم کے اتحاد اورسالمیت کاتقین ہو، اپنی آئین سازاسمبلی میں آج 26/نومبر1949کویہ آئین ذریعہ ہذااختیارکرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پرنافذکرتے ہیں‘‘(بھارت کاآئین، ص: ۳۵)۔

لیکن آج اس ملک میں ایسے لوگوں کازورپکڑرہاہے؛ بل کہ پکڑچکاہے، جوقومیت کے اعتبارسے تو ’’ہندوستانی‘‘ ہیں؛ مگرسوچ اورذہنیت کے لحاظ سے وہ ’’زعفرانی‘‘ ہیں اوران کی خواہش یہ ہے کہ اس پورے ملک کوبھی ’’زعفران زار‘‘ بناکررکھ دیں، یہ لوگ آج کی پیداوار نہیں ہیں، ہاں آج کل اس کی کھیتی خوب خوب کی گئی، جس کی کونپلوں نے اب سرنکالنا شروع کردیاہے؛ بل کہ بعض کھیتیاں توپک کرتیاربھی ہوچکی ہیں اور کہیں کہیں کٹائی کاکام جاری ہے، تعدادکے لحاظ سے یہ توبہت کم لوگ ہیں؛ لیکن پکڑکے اعتبارسے کافی مضبوط ہیں اوراسی پکڑکانتیجہ ہے کہ آج ان کی آواز پرہزاروں کی بھیڑ اکٹھی ہوجاتی ہے، پھر وہ اس سے جس طرح کا کام لیناچاہتے ہیں، لے لیتے ہیں، تاہم یہ سوچنے والی بات ہے کہ ’’گاندھی کے ملک میں گوڈسے کیسے پیدا ہورہے ہیں؟‘‘۔

جس وقت ہندوستان میں انگریزوں کااقتدارمستحکم اورہندوستانی اقتدارکاخاتمہ ہوااورپوری قوم غیرمسلح کردی گئی، اسی وقت سے دوقسم کے رجحان والے لوگ وجود میں آئے، ایک گاندھیائی سوچ والے اوردوسرے زعفرانی سوچ والے؛ لیکن زعفرانی سوچ والوں نے اتنی محنت اورکوشش کی کہ آج تقریباً ایک صدی کے بعدوہ غالب آگئے اورنہ صرف غالب آگئے؛ بل کہ ملک کے تمام سیکٹراورشعبہ جات میں کامیابی کے ساتھ ان کی نمائندگی ہورہی ہے اوراس ڈھٹائی ؛ بل کہ غنڈہ گردی کے ساتھ ہورہی ہے کہ اس کے خلاف ایک لفظ نکالنابھی مشکل ہے، ان کویہ کامیابی’’ اپنے نظریات،نظم وضبط، نظام تعلیم وتربیت اورلگن وجدوجہد‘‘کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔

اپنے نظریات اورآئیڈیالوجی کوپھیلانے کے لیے ان کے داعی اورپرچارک گھرگھرگئے ، نظم وضبط اور تربیت کے لیے شاکھاؤں کاقیام عمل میں لایا گیا، تعلیم کے لیے اسکولس اورکالجز بنائے گئے؛ حتی کہ اس وقت پورے ملک میں تقریباً ان کے 25/ہزارسے زائداسکولس ہیں،ظاہرہے کہ ان اداروں سے بڑھ کرنکلنے والوں کا ذہن بھی تووہی ہوگا، جوان ادروں میں ذہن سازی کی جائے گی، ان لوگوں نے تعلیم پرخصوصی توجہ دی، تربیت پرتوجہ مرکوزکی، بچوں کی ذہن سازی کی اوربڑوں، بوڑھوں اورعورتوں تک اپنے نظریات اوراپنی آئڈیالوجی کواس انداز میں پہنچایا، جس نے لوگوں کواپنی طرف متوجہ کرلیا اوررفتہ رفتہ گاندھیائی سوچ دم توڑنے لگی۔

آج اقتدارانہی زعفرانی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اقتدارکے نشہ میں وہ چورہیں، جوچاہ رہے ہیں، وہ کررہے ہیں، نہ اس عہد کا پاس ہے، جو26/نومبر1949کو کیا گیا تھا، نہ یہ خیال کہ وہ جس ڈھرے پرملک کولے جارہے ہیں، اس سے ملک کوترقی نہیں؛ بل کہ زوال آئے گا، انگریزوں کے قبضہ سے قبل اس ملک کو’’سونے کی چڑیا‘‘ کہاجاتا تھا؛ لیکن سونے کی چڑیایہ ملک بنا کیسے؟ نفرت کی کھیتی اوربغض کی بیج بوکرنہیں؛ بل کہ مساوات اوربھائی چارہ کے ذریعہ سے، مسلمانوں نے یہاں صدیوں حکومت کی، ان کے درباراوران کی فوج کے سپہ سالارصرف مسلم ہی نہیں ہواکرتے تھے، غیرمسلم بھی ہوتے تھے، اکبرتواس تعلق سے کچھ زیادہ ہی وسیع القلب واقع ہواتھا۔

آج یہ زعفرانی سوچ رکھنے والے لوگ ملک اورملک کے باشندوں پراپنی سوچ اورآئیڈیالوجی کوتھوپ کر انھیں غلام بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے وہ ہراس شخص کی آواز کودبا دینا چاہتے ہیں، جواس غلامی کے خلاف آواز بلند کررہاہے، اس کی وجہ سے وہ پولیس ، سی بی آئی، اے ٹی ایس اوردیگرشعبوں کوبھی استعمال کرنے سے نہیں چوک رہے ہیں، عدلیہ کوتوپہلے ہی وہ غلام بناچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنے ’’من کی بات‘‘کے مطابق وہاں سے فیصلے صادرکرواتے انھیں دیرنہیں لگتی، اب یہی دیکھئے کہ ارنب کوراحت مل گئی اور آزادی رائے اورخیال پرحکومت کے شب خون مارنے پرآواز اٹھانے والوں کی شنوائی تودور، ان کی درخواست کوقبول تک نہیں کیاجارہاہے، یہ آزاد ملک میں غلامی کی زندگی نہیں تو اورکیاہے؟

مگراتنی بات یادرکھنے کی ہے کہ دنیا کا اصول کچھ اورہے، یہاں ہرچیزکوزوال ہے، نمرودکی دہکائی ہوئی آگے جلی نہیں رہی؛ بل کہ جلتے ہونے کے باوجودحضرت ابراہیمؑ کے ایک بال تک کوجلا نہیں سکی، فرعون نے توبڑے رب ہونے کادعوی کیاتھا؛ لیکن دریابردکردیاگیا، شداد نے جنت بنوائی تھی؛ لیکن خودہی نہ دیکھ سکا اور دنیا سے چل بسا،چنگیز وہلاکواور ہٹلرو مسولینی دنیاکے اسٹیج پر نمودارہوئے؛ لیکن زمیں بوس ہوگئے، سرمایہ دارانہ نظام نے بھی دم توڑااوراشتراکیت نے بھی، ہرایک کو زوال ہوا؛ کیوں کہ یہ دنیاہے ہی فانی تو یہاں کی ہرشئی بھی ہوگی آنی جانی، باقی توصرف وہ ہستی رہے گی، جس نے اس دنیاکووجود بخشاہے؛ اس لیے خوف کھانے اورگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے بجائے زمینی سطح پرگاندھیائی کام کرنے کی ضرورت ہے، باقی زعفرانی لوگ ہیں توان کوایک دن زوال ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا