ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے

حفیظ نعمانی

ہندوستان کے صوبوں میں بی جے پی کیلیے اور مودی سرکار کے لیے سب سے مضبوط قلعہ سمجھا جانے والا مہاراشٹر کے ضلع گڑھ چرولی میں نکسلیوں یا مائو وادیوں نے اندر اور اندر گھس کر پہلے سڑک کی تعمیر کرنے والی کمپنی کی 25  قیمتی گاڑیاں پھونک دیں۔ یہ ان کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ حکومت انتقام لینے کیلیے ضرور حملہ کرے گی اس کی پیش بندی کے لیے انہوں نے حادثہ کی جگہ سے 6  کلومیٹر پہلے بارودی سرنگ بچھائی اور مدد کیلیے آنے والی فوجی گاڑی کے پرزے اُڑا دیئے اور 16  فوجی جوان گاڑی کے ساتھ اُڑادیئے۔

کشمیر سے کنیا کماری تک وزیراعظم ہر آبادی میں رک کر اپنی پیٹھ تھپتھپاتے رہے اور ایک ہی رٹ لگاتے رہے کہ ہم دہشت گردوں کو اندر گھس گھس کر مارنے والے ہیں اور ان کو دوڑا دوڑاکر مارنے والے ہیں۔ ہم ایسی حکومت نہیں کرتے جیسی ملک میں پچاس ساٹھ برس سے ہورہی تھی کہ دہشت گرد حملہ کرتے تھے اور جوانوں کا سر کاٹ کر لے جاتے تھے ہم تو ایک کے بدلہ میں دس مارنے والے ہیں۔ اور یہ آوازیں گونجتی رہیں اور پہلے پلوامہ میں ایک بس اُڑادی جس میں 44  جوان شہید ہوگئے۔ اور جب پلوامہ کو بھیک کی کٹوری بنا لیا اور ہر طرف سے ووٹ وصول کرلیے تو مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں 16  جوان پھر موت کی نیند سلا دیئے۔

اب یہ دیکھ کر ملک حیران ہے کہ ان 16  شہیدوں کیلیے نہ تابوت ہیں نہ ان کی نمائش اندرا گاندھی ایئرپورٹ پر ہورہی ہے اور نہ وزیراعظم ایک درجن کالی چادریں کاندھے پر باری باری ڈال کر تابوتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ کیا اس لیے کہ فلمی دنیا والے حلقہ کا الیکشن بھی ختم ہوگیا اور مہاراشٹر میں جو ووٹ ملنا تھے وہ مل گئے؟ اگر نیم فوجی دستوں کے 40  جوان ملک کی قیمت ہوتے ہیں تو 16  ماہر جوان کیوں اتنے حقیر ہوگئے کہ نہ ہوائی جہازوں میں ان کے تابوت جارہے ہیں اور نہ کسی گائوں میں کپڑا منتری اسمرتی ایرانی آخری رسوم میں شرکت کرتی نظر آرہی ہیں اور حد تو یہ ہے کہ کہیں سے آواز نہیں آرہی کہ صوبائی حکومت نے 25-25  لاکھ روپئے ہر شہید کے پسماندگان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور 20-20  لاکھ روپئے مرکزی حکومت دے گی۔ اس کے بجائے وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ 25  گاڑیوں کو جلانے والوں اور 16  جوانوں کی جان لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور گن گن کر بدلہ لیا جائے گا۔

ہم صرف حکومت سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا قصور یا تو یہ ہے کہ ان کو پاکستان کے دہشت گردوں نے نہیں مارا بلکہ انہوں نے مارا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ گڑھ چرولی ہمارا ہے اور مودی سرکار وہاں سڑک نہیں بنا سکتی۔ یا ان کا قصور یہ ہے کہ وہ اتنی دیر میں کیوں مرے جب ملک میں آدھے سے زیادہ اور مہاراشٹر میں پورا الیکشن ختم ہوگیا اور ان کے تابوت ووٹ نہیں دلوا سکتے۔ بہرحال قصور ان کا ہی ہے کہ وہ مائو وادیوں یا نکسلیوں کی سرنگ کے پھٹنے سے مرے اور اس طرح تو چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں فوج کے افسر اور جوان مرا ہی کرتے ہیں اور حکومت کوئی سخت بات اس لیے نہیں کہتی کہ وہ بھی ہندو ہیں اور ملک میں ان کا بھی حصہ ہے۔

وزیراعظم پانچ سال حکومت کرکے پہلی بار اجودھیا گئے وہاں انہوں نے کہا کہ کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی یہ تینوں ہی پارٹیاں دہشت گردوں کے لیے نرم رُخ رکھتی ہیں اور انہیں چھوڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے پہلے کی حکومتوں میں دہشت گردانہ حملے عام تھے مگر گذشتہ پانچ برس میں اس طرح کے واقعات بند ہوچکے ہیں۔ (اس مضمون کے پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ اگر اسے پڑھ کر ہنسی آئے تو منھ پر رومال رکھ لیں اس لیے کہ یہ اس وقت کہا جارہا ہے جب پلوامہ میں 44  جوان قربان ہوچکے اور صرف ایک دن پہلے 16  جوان اور 26  قیمتی گاڑیاں اولوں کی طرح بکھر گئیں۔)

زمین اور آسمان بنانے والے پروردگار نے انسان کو بناکر اس سے کہا ہے کہ زمین پر اکڑکر مت چلو تم نہ دھرتی کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی چوٹی کو چھو سکتے ہو۔ یہ جو کچھ مہاراشٹر میں ہوا یہ سب اس کا جواب ہے جو وزیراعظم کی زبان پر ہر وقت ہے کہ ہم کسی کو چھیڑیں گے نہیں اور کوئی چھیڑے گا تو اسے چھوڑیں گے نہیں۔ ہم وہ ہیں کہ گھر میں گھس گھس کر مارتے ہیں اور دوڑا دوڑاکر مارتے ہیں۔ اور ہوا یہ ہے کہ دہشت گردوں نے گڑھ چرولی میں گھس کر مارا اور پھر 6  کلومیٹر اور اندر گھس کر مارا اور حکومت کے پاس ایک لاش بھی نہیں ہے جس کے بارے میں بتاسکے اسے ہم نے مارا ہے۔ رہا یہ سبق کہ ہم چھوڑیں گے نہیں اور ہم سزا ضرور دیں گے۔ برس ہوگئے یہ جملے سنتے سنتے اور انگلی تھک گئیں فوجیوں کی لاشیں گنتے گنتے لیکن پانچ سال کی حکومت میں ایک بار بھی نہ گڑھ چرولی میں نہ چھتیس گڑھ میں اور نہ جھارکھنڈ میں کہیں بھی پوری طاقت سے حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

تبصرے بند ہیں۔