کافر کافر کا کھیل کب تک

ڈاکٹر علیم خان فلکی

ہر شخص کی زبان پر یہ ہے کہ ہماری قوم میں اتحاد نہیں، ہمارے پاس صحیح لیڈرشپ نہیں ہے۔ اتحاد نہیں ہونے کے اسباب یوں تو اور بھی ہیں لیکن سب سے اہم سبب یہی ہے کہ ہر شخص جیبوں میں اپنے استاذوں، علما، پیروں اور مرشدوں کے دیئے ہوئے ”کافر، کافر“ کے فتوے لے کر گھوم رہا ہے۔ جو خنجر سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یوں تو یہ روش تاریخ میں خلفائے راشدین کے دور میں ہی شروع ہوچکی تھی، لیکن ہندوستان میں 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد کرونا کی طرح پھیل گئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے فاشسٹوں نے صدیوں بھائیوں کی طرح رہنے والے معصوم ہندو ذہنوں میں جو فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا ہے، اس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو دیکھتے ہی آج کسی بھی ہندو کے ذہن میں جو چلنے لگتا ہے، وہ ہر مسلمان محسوس کرسکتا ہے، لیکن خود مسلمانوں کے اندر ایک دوسرے کو دیکھ کر جو ذہنوں میں چلنے لگتا ہے وہ یہ کہ سامنے والا کس مسلک، کس جماعت اور کس عقیدے کا مسلمان ہے؟دیوبندی ہے؟ بریلوی ہے؟ اہلِ حدیث ہے یا شیعہ؟

ان مسلکوں کے بانیان Founders کے عظیم کارناموں کو بیان کرنے کے لیے ضخیم کتابیں درکار ہیں۔ انہی کی وجہ آج جتنی قرآن کی تفسیریں، حدیثوں کی شرحیں، فقہ کی بحثیں، تصوف کی دلیلیں، کتاب اللہ کتاب السنہ کی تاویلیں ہیں وہ زندہ ہیں اور روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہیں۔ انہی علما کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج گلی گلی حافظ، عالم، مفتی، پیرومرشد، مدرسے، جلسے اور جلوس،درگاہیں، اور خانقاہیں مل جاتے ہیں۔انہی کی وجہ سے  گاؤں گاؤں اللہ اکبر کی صدائیں تو بہرحال گونجتی ہیں۔ ان تمام احسانات کے باوجود ایک نادانستہ غلطی نے”لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی“ کے مصداق آج امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔  انہی کی وجہ سے آج جتنے مسالک اور فرقے ہیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں بلکہ ایک متوازی اسلام بن چکے ہیں، ہر مسلک 73 واں فرقہ ہے، باقی سارے دوسرے مسلکوں، جماعتوں اور فرقوں کی رینکنگ 72 یا اس سے کم ہے۔

                مغلیہ حکومت کے خاتمے کے بعد قیادت کی مکمل باگ ڈور علما اور مشائخین کے ہاتھ میں آگئی۔ کوئی مسلمان ایسا نہ رہا جو کسی نہ کسی عالم یا پیر سے جڑا نہ رہا۔ عقیدت کا یہ عالم رہا کہ جب بات مذہب کی آئے تو کوئی نہ ابوالکلام آزاد جیسے لیڈر کی سنتا اور نہ علامہ اقبال جیسے مفکّر کی۔ علما یا مشائخین نے جس چیز کو اسلام قرار دے دیا، بھولے بھالے لوگوں نے اسی کو اسلام مان لیا ہے۔ علما یا مرشد کا تصوّر ذہنوں میں اس قدر مضبوط بٹھادیا گیا جس قدر شودروں کے دماغ میں برہمن کا۔ تاریخ نے ایک بہترین موقع دیا تھا کہ علما اور مشائخین اس قیادت کا فائدہ اٹھاتے اور انگریزوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کو متحد کرکے صف آرا کردیتے، کیونکہ اُس وقت جنگِ آزادی کی قیادت صرف مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ ہندو لیڈرشِپ ابھی پرورش پارہی تھی۔ جب 1857 کی جنگ کے بعد انگریز نے یہ دیکھ لیا کہ مسلمانوں کا متحد رہنا ایک خطرہ ہے، اس نے مسلمانوں کو پہلے ہندو سے لڑوادیا۔ 1870 میں دیانند سرسوتی کو استعمال کرکے آریہ سماج بنوائی اور گؤ رکھشا کی تحریک شروع کرواکر کئی ہندومسلم فسادات کروادیئے۔ 1872 میں بنکھم چند سے وندے ماترم لکھوا کر مسلمانوں کے خلاف تمام تعلیم یافتہ ہندوؤں کا کھڑا کردیا۔ یہ تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”وندے ماترم۔ قومی ترانہ یا دہشت گرد ترانہ؟“ میں موجود ہے، آپ چاہیں تو منگواسکتے ہیں۔ اس کے بعد 1877 میں کچھ بریلویوں کو مکہ بھیج کر دیوبندیوں  اور اہلِ حدیث کے خلاف مشرک ہونے کے فتوے منگوائے۔ جوں ہی فتوے ہندوستان پہنچے، محلہ محلہ مسجدوں پر قبضوں کے لیے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، کئی قتل ہوئے۔ جنگِ آزادی کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی، اور ایسے نکلی کہ  جنگِ آزادی کی تاریخ سے ہی ان کا نام نکل گیا۔ جو تاریخ آج ہندوستان میں پڑھائی جارہی ہے اس میں لگتا ہی نہیں کہ مسلمانوں نے جنگِ آزادی میں کبھی حصہ بھی لیا تھا، حالانکہ سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے صرف مسلمان تھے۔ دیوبندی، بریلوی دشمنی اس قدر بڑھی کہ بے شمار شرمناک واقعات جنم لینے لگے، اور آج تک ہندوستان، پاکستان میں وہی واقعات دوہرائے جارہے ہیں۔ تہمتوں، بدگمانیوں، مناظروں کے ذریعے تحقیر، تکفیر، پولیس اور عدالتوں میں مقدمات کا بازار گرم ہوگیا۔ ابوالکلام آزاد نے اس کا مفصّل بیان لکھا کہ کس طرح لوگ اگر کسی دوسرے مسلک کا آدمی گھر یا مسجد میں آجاتا تو گھر کو یا مسجد کو دھلوایا کرتے۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے کئی مشرک قبیلوں  کے ڈیلیگیشنس سے مسجد نبوی میں ملاقات کی، لیکن کبھی مسجد نبوی کو دھلوایا گیا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسجدوں  اور قبرستانوں پر لکھ دیا جاتا کہ یہاں صرف فلاں مسلک کے لوگوں کے لیے اجازت ہے۔ جب کہ قرآن کا حکم ہے۔ ”ممّن منع مسٰجداللہ ان یُذکر فیھا۔۔۔۔“ یعنی اس سے بڑا ظالم اور کون ہے جو لوگوں کو مسجدوں میں آنے سے روکے۔۔۔۔ یہ کینسر امت میں اس وقت پیدا ہوا جب عاشقانِ رسول نے کسی بھی شخص کو گستاخِ رسول کہنے کے اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ جب مدارس کا جال بچھادینے والوں نے ہر طرف مناظروں Debatesکے بازار گرم کردیئے۔ جب کتاب اللہ، کتاب السنہ اور منہجِ سلف کے دعویداروں نے ہر ہر شخص میں کفر، شرک اور بدعت ڈھونڈھنے لگے۔نتیجہ یہ نکلا کہ:

 ہر مسلک کا تعلیمی اور تربیتی نظام دوسرے مسلک کی کمزروریاں پکڑنا بن گیا۔ زمانہ اسلام کا متلاشی تھا۔ ہم دوسروں کو اسلام پہنچانے کے بجائے ایک دوسرے کے اندر سے کافروں کو چھانٹنے میں لگ گئے۔اسلام ایک راہِ ہدایت دینے والا مذہب جاکر کافر سازی کی ایک فیکٹری بن چکا تھا۔ ہم  طرح طرح کے کافر پیدا کرنے میں لگے تھے۔فاتحہ سلام چہلم اور عرس کرنے والے کافر، دارلحرب اور جہاد کا نعرہ دینے والے کافر، درگاہوں پر جانے والے کافر، امام حسینؓ، کربلا، یزید و معاویہ ؓ سے متعلق عقیدوں والے کافر، غرض ہم کئی فقہی اور تاریخی واقعات کو بنیاد بناکر ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں لگ گئے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہر مسلک کے ماننے والے نے اپنے علما کی تقلید میں ہر دوسرے شخص پر کافر، مشرک، بدعتی اور منافق کے فتوے لگانے شروع کردیئے۔ اہلِ حدیث کے بانی محمد بن عبدالوہاب ؓ نے کہہ دیا کہ تمام مقلّد کافر ہیں۔ امام احمد رضاخان ؓ نے فرمایا کہ دیوبندی مرجائے تو اس کو کپڑے میں لپٹ کر گاڑ دو، اس پر نمازِ جنازہ جائز نہیں کیونکہ وہ کافر ہے، دیوبندیوں نے بریلویوں کو درگاہوں پر جانے اور مانگنے پر مشرک ڈیکلیر کردیا، اُدھر شیعوں نے تمام سنّیوں کو اور اِدھر سنّیوں نے تمام شیعوں کو کافر قررار دے دیا۔ اس طرح اب دنیا میں کتنے مسلمان بچے؟

ایک دوسرے کو کافر بدعتی وغیرہ کے کہنے کے کھیل میں سب سے زیادہ قرآن اور حدیث کا مذاق اڑا۔ کیونکہ ہر کافر کہنے والے کے پاس دلیل قرآن و حدیث  سے تھی۔ اور جس پر فتویٰ لگایاگیا،  اس کے پاس جوابی دلیل بھی قرآن و حدیث ہی سے تھی۔ ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوسوں کے مقابلے آج بھی جاری ہیں، ایک نے کربلاکا نعرہ لگایا تو دوسرے نے مدینہ کا۔ ایک نے محرّم کو حرمت بخشی تو ایک نے ربیع الاول کو۔ ایک نے کہا یوم یومِ غوث، تو دوسرے نے کہا یوم صحابہ،مقرّرین، واعظین، اکابرین، ذاکرین کی ہمیش عید رہی، انہیں ہزاروں روپئے کہ لفافے ملتے رہے،  اتحاد امت نہ کبھی کسی کا مقصد تھا، نہ آج ہے اور نہ مسقتبل میں کوئی امکان ہے، کیونکہ صدیوں سے جو گند عقائد میں شامل ہوچکی ہے وہ اب اتحادِ امت کی تطہیرمیں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اور یہ رکاوٹ صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ حرم کعبہ میں چار سو سال تک ہر نماز کی چار الگ الگ جماعتیں کھڑی ہوتی تھیں۔ مصر میں عدالتیں چار الگ الگ مسلکوں کے قاضیوں کی ہوا کرتی تھیں۔

کافر سازی کی قرآن و حدیث میں ممانعت:

یہ دیکھنا ضروری ہے کہ علما ہی کی سرپرستی میں جو کچھ ہوا کیا وہ شریعت کی روشنی میں جائز تھا؟ کیا قرآن و حدیث میں ہمیں کسی کو کافر، بدعتی، مشرک، منافق، فاسق یا کچھ اور کہنے کی اجازت ہے؟حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک آٹو والا بھی اس بات سے واقف ہے کہ فرقہ بندی اور تکفیر کی اسلام میں اجازت نہیں پھر علما کیسے ان احکامات سے غافل ہوئے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اصحاب میں سے بارہ ایسے اصحاب ہیں جو اس وقت تک جنت میں نہیں جاسکیں گے جب تک سوئی کے ناکے سے اونٹ گزر نہیں جائے گا۔ لیکن آپ ﷺ نے ان اصحاب کے نام کسی کو نہیں بتائے سوائے ایک صحابی حذیفہ بن یمانؓ کے۔ آج جتنی جسارت سے ہم لوگ کسی پر بھی منافق کا فتویٰ جاری کردیتے ہیں، ہمیں کیا یہ واقعہ یہ نہیں سکھاتا کہ کسی کو منافق کہنے کا حق جب خود صحابہؓ  کو نہیں تھا  تو ہم کیسے یہ حق اپنے لیے جائز کرسکتے ہیں؟

سورہ بقرہ میں کہا گیا کہ ”ولکل وِجھۃ ھو مولّیھافاستبقواالخیرات، این ما تکونوا یاتی بکم اللہ جمیعا“ ہر ایک کے لیے ایک سمت مقرر ہے جس طرف وہ جھکتا ہے، پس تم نیکیوں میں مقابلہ کرو، تم جہاں بھی ہوگے تمہیں اللہ تعالیٰ ایک دن جمع کردے گا“، اور حق ناحق کا فیصلہ فرمادے گا۔ سورہ مائدہ آیت 45 میں بھی یہی بات کہی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے الگ الگ جماعتیں ضرور پیدا کی ہیں، لیکن مسلکوں کی جیت کا مقابلہ نہ کرو بلکہ اللہ نے جو احکامات دیئے ہیں ان کو پورا کرنے کا مقابلہ کرو۔ آج کے تناظر میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو قائم کرنے کے لیے سنّتوں کو قائم کرنے کے مقابلے کرو، عفوودرگزر کے مقابلے کرو، ایک دوسرے کی کمزوریوں کو پوشیدہ رکھنے کے مقابلے کرو، صبراور انکساری کے مقابلے کرو۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ یہ مقابلہ کیسے ہو کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کسی آدمی کے ایمان سے نکل جانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ کسی سے صرف سن کر بغیر تحقیق کیئے، بات آگے کہہ دے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ آدمی کے ایمان سے نکل جانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کی تحقیراور تضحیک کرے، یعنی دوسرے مسلکوں کا مذاق اڑائے۔ ہم اپنے استادوں، اکابرین یا مرشدین کے کہنے پر ڈرے بغیر یا تحقیق کئے بغیر کسی کو بھی کافر مشرک یا بدعتی کہتے رہتے ہیں، ہم بخدا اپنی آخرت تباہ کررہے ہیں۔ کسی کی تکفیر یا تحقیر کردینااپنے علم پر ایک تکبر یا غرور کی نشانی ہے۔ اور کِبر،  اللہ کی چادر ہے،فیصلہ کرنے والی وہی ذات باری تعالیٰ ہے۔ کسی کو کافر یا مشرک یا منافق کہہ دینا اللہ کے فیصلے کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔

بخاری کتاب الادب، حدیث 6105 ہے ”و من رمی مومناً بکفر فھو کقتلہ“یعنی”اور کسی کو کافر قرار دے دینا اس کو قتل کردینے کے برابر ہے“۔اس حدیث کی تشریح میں یہ لکھا گیا ہے کہ تکفیر کرنے کا اختیار صرف راسخ العلم علماکا ہے، عام مسلمان کسی کو بھی کافر کہنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ جب کہ قرآن و حدیث میں نہ راسخ العلم علما کو اجازت ہے نہ عام مسلمانوں کو۔ اس غلط تشریح کی وجہ سے خود راسخ العلم علما کا اعتبار ختم ہوگیا۔ ظاہر ہے جب ایک راسخ العلم عالم کسی دوسرے کو کافر کہنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے تو دوسرے چپ تو نہیں بیٹھیں گے، وہ بھی راسخ العلم عالم ہوں گے جو جوابی تکفیر کریں گے۔ ان دونوں کے ماننے والے اپنے علما کے حوالے سے ایک دوسرے کو کافر کافر کے فتوے دینے لگیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خود کہہ رہا ہے کہ ہر اختلاف کا فیصلہ وہ خود قیامت کے روز کردے گا، تو یہ علما اپنے معاملے کو اللہ اور آخرت پر چھوڑنے کے بجائے، ایک دوسرے سے راست کہنے کے بجائے، دوسرے علما کو جمع کرکے مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنے کے بجائے، جلسے کرکے جاہل عوام کو کیوں جج بناتے ہیں؟یوٹیوب پر ایسے بے شمار تقریریں  موجود ہیں جن میں قرآن کے دیئے ہوئے اخوّت، اتحاد اور اختلافات کو اللہ اور اس کے رسول پر چھوڑنے کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ہر مسلک کے علما اس لیے لوگوں کو ایسی حرکتوں سے منع نہیں کرتے کہ وہ خود کسی نہ کسی درجے میں ملوّث ہیں۔

بخاری کتاب الادب حدیث 6104ہے کہ ”ای مارجل قال لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما“ جو بھی شخص اپنے بھائی کو کافر کہے ان دونوں میں سے کوئی ایک پر یہ کلمہ لوٹ گیا“۔ اس کی تشریح میں امام نوویؓ نے بہت اہم بات کہی ہے کہ جب تک کوئی اپنی زبان سے اسلام کو یا اسلام کے کسی حکم کو باطل قرار نہیں دیتا اس کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔ ورنہ کہنے والا مکفور کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا البتہ کفر کی معصیت کا گناہ اس کے نامہ اعمال میں ضرور لکھا جائیگا۔ یہاں حال یہ ہے کہ ایک دوسرے کی کتابوں سے یا ویڈیو سے جملے نکال کرایک دوسرے کو کافر قرار دیا جارہا ہے۔جب کہ ظاہری الفاظ سے کہنے والے کے اصل منشا کو اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ خود صحابہؓ  بھی ظاہری الفاظ سے غلط فہمیوں کا شکار ہوئے۔ ایک صحابی نے جاکر لوگوں سے کہہ دیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے پیاز کو حرام قرار دے دیا، ایک صحابی ؓ نے جاکر لوگوں سے کہہ دیا کہ رسول اللہ نے اپنی ساری بیویوں کو طلاق دے دی۔ ایک حدیث اس پوری بحث کا خاتمہ کرنے کافی ہے کہ رواہ مسلم حدیث 219، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہا حالانکہ وہ ایسا نہیں تھا تو یہ کلمہ اسی پر لوٹے گا“۔ سرسید، اقبال، قاسم ناناوتیؓ، احمد رضا خانؓ، ابوالاعلیٰ مودودی،جاوید غامدی، طاہرالقادری جیسے کئی علما کرام سے ہزار علمی اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن کسی کو اللہ کا دشمن سمجھنا، انتہائی گمراہی اور اپنے علم کے غرور کی نشانی ہے۔ کیا ان لوگوں پر اللہ سے دشمنی کا شک کیا جاسکتا ہے جب کہ ان لوگوں نے اپنی زندگیاں اللہ کے دین کی سربلند ی کے لیے وقف کردیں۔ ان کے علاوہ قرآن کی کئی آیتیں جیسے ”لیس لک من الامر من شئی، او یتوب علیم او یعذبھم“ یا ”فانما علیک البلاغ“، یا ”لست علیھم بمصیطر“ وغیرہ اس بات کی نشادہی کرتی ہیں کہ خود انبیا کو سمجھانے کے مشن پر بھیجا گیا، کسی کو کافر، مشرک، یا منافق کہنے کے لیے نہیں۔

حل: حل یہی ہے کہ

۱۔ قد خلت لھا ماکسبت و لکم ما کسبتم ولا تُسئلون عما کانوا یعملون“ جو کچھ ہوچکا ہے وہ ماضی ہے، جن علما نے بھی ایک دوسرے کو کافر مشرک کہا ہے وہ اب ماضی ہوچکا ہے، وہ اب بھول جایئے،آپ کے ساتھ آپ کا حساب ہوگا، ان سے اُن کا حساب ہوگا، آپ سے اُن کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا۔ اب آپ اپنی آخرت کی فکر کیجئے اور اپنی زبان اور قلم کو قابو میں رکھئے۔

۲۔ اچھا گمان رکھئے۔ایک حدیث میں ہے کہ ایمان یہ ہے کہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو“۔ اگر آپ سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو آپ دوسروں سے کیا چاہیں گے۔ آپ یہی چاہیں گے کہ وہ اکیلے میں آپ کو توجہ دلائیں، دوسروں کے سامنے کہہ کر آپ کی تذلیل یا تکفیر نہ کریں، سوشیل میڈیا یا جاہل عوام کے سامنے جاکر نہ کہیں۔ آپ بھی یہی کیجئے کہ اگر کسی میں کوئی غلطی دیکھیں تو ان کو اسی طرح توجہ دلائیں جس طرح آپ اپنے لیے چاہتے ہیں۔ اگر وہ نہ مانیں تو ان کے لیے دعا کرنا یہی مومن کی نشانی ہے۔

۳۔ جو لوگ ایسے مسلکوں پر چلتے ہیں جن کے پاس کافر، مشرک، بدعتی، منافق، وہابی، درگاہ پرست، مقلّدغیرمقلّد، گستاخِ رسول، گستاخِ صحابہ جیسے ناموں کے رجسٹر ہیں، جو ہر وقت انہی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، جن کے دلوں میں یہی زہر بھرا ہوا ہے۔ جن کی عام گفتگو، تقریریں، تحریریں، جلسے، جلوس، جماعتیں اور انجمنیں صرف انہی موضوعات پر گھومتی ہیں،  ان کو سمجھایئے، اگر نہ سمجھیں تو ان سے دوری اختیار کیجئے۔ نہ ان کی جماعت میں شریک ہویئے اورنہ  ان کو مالی یا اخلاقی مدد دیجئئے۔اپنے اصلی دشمن کو پہچانئے۔ آج ہمارے اصلی دشمن وہ فاشسٹ ہیں جو ہر قیمت اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ہم ان فرقوں سے باہر نکل جائیں۔ جو لوگ اب تک ہم کو ان فرقوں میں بانٹتے رہے ہیں ان تمام کو شکریہ اور خداحافظ کہہ کر کسی ایسی جماعت اور کسی ایسے امیر کے ساتھ ہوجائیں جو قرآن کو لفظ بہ لفظ سمجھتے ہیں، اور اللہ کا دین نافذ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا