احساس برتری

سہیل بشیر کار

دنیا میں انسانوں کو متنوع صلاحیتیں ملی ہے۔ کسی کو ایک خاص شعبہ میں برتری حاصل ہے تو کسی کو دوسرے شعبہ میں۔ اللہ رب العزت نے کسی کو دنیا کی کوئی نعمت زیادہ عطا کی ہے یہ سب آزمائش ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ شکر کریں لیکن کچھ کم ظرف لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قابلیت یا اپنی خاص صلاحیت پر شکر کے بجائے فخر کرتے ہیں۔ ایسے افراد میں ایک Complex پیدا ہوتا ہے جس کو superiority complex (احساس برتری) کہتے ہیں۔

احساس برتری دراصل افتخار اور تفوق کا جذبہ ہے؛ جو دوسرے سے بالا تر ہونے کے صحیح یا غلط تصور کی بنا پر پیدا ہوتا ہے اور اپنے قول و فعل کے بالمقابل دوسرے کے قول و فعل پر غور کرنے سے مانع ہوتا ہے۔ احساس برتری (انگریزی: Superiority complex) کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایک دفاعی تکنیک ہے جس سے کہ احساس کم تری سے اوپر اٹھا جاسکے یا مسلسل ایسے تغلب آمیز جذبات کا اظہار کیا جائے جس میں ایک شخص دوسرے لوگوں سے برتر لگے۔ اس اصطلاح کو ایلفریڈ ایڈلر نے انفرادی نفسیات کے جزء کے طور 1900ء کے اوائل میں وضع کیا تھا۔ مگر تب سے اب تک اس کی تعبیرات میں فرق دیکھا گیا ہے۔ ہم اکثر احساس کمتری  کا خوب تذکرہ کرتے ہیں  مگر ہم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ہی اس کو بیماری گردانتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ہے۔ الفریڈ ایڈلر ایک مشہور نفسیات دان ہے، اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ احساسِ کمتری اور احساسِ برتری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

انسان کے اندر احساس برتری کی ایک وجہ حسب و نسب پر غرور و فخر ہے، انسان کا خاص خاندان میں پیدا ہونا اس کا کمال نہیں۔ یہ بھی اللہ ہی کی مشیت ہے، انسان کس خاندان میں پیدا ہو یہ اللہ کی طرف سے طے ہے۔ دین اسلام میں کسی خاص خاندان میں ہونے سے اس کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی، انسان اکثر اپنے حسب ونسب پر فخر کرتا ہے حالانکہ اللہ کے نزدیک اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ صرف اور صرف تقویٰ ہے، اسی طرح اللہ نے انسانوں کو الگ الگ ذہانت عطا کی ہے۔ ذہانت ایک طرح کی آزمائش ہے لیکن کبھی کبھی ذہین انسان دنیا کے لوگوں کو کم تر سمجھتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں:

’’ذہانت ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر اس کے ساتھ ذہانت ایک عظیم فتنہ بھی ہے۔ جو آدمی زیادہ ذہین ہو، اُس کے اندر بہت جلد اپنے بارے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر، برتری کا احساس ‏(superiority) پیدا ہو جاتا ہے۔ اس احساس برتری کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ اس بے اعترافی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس بے اعترافی کی بنا پر بعض افراد کا یہ حال ہوتا ہے کہ اُن سے کوئی بات کہی جائے تو فوراً وہ اس کے لیے اپنا کوئی ذاتی حوالہ ڈھنڈ لیں گے۔ وہ کہیں گے کہ میں نے بھی فلاں موقع پر یہ بات کہی تھی۔ کچھ افراد اپنے اس مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ جب اُن سے کوئی بات کہی جائے تو وہ فوراً اُس کو کاٹ دیں گے اور پھر اسی بات کو خود اپنے لفظوں میں بیان کریں گے۔ اسی طرح بعض افراد پوری بات کو نظر انداز کر کے ایک شوشہ نکال لیں گے، اور پھر وہ اس شوشے پر اس طرح تقریر کریں گے، جیسے کہ یہی شوشہ اصل ہے اور بقیہ باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک اور قسم اُن افراد کی ہے جن کے سامنے کچھ باتیں کہی جائیں تو وہ اس کو مثبت ذہن کے ساتھ نہیں سنیں گے۔ اُن کا ذہن اس تلاش میں رہے گا کہ مختلف باتوں میں سے وہ کوئی ایک بات ڈھونڈ لیں جس میں بظاہر کوئی کم زور پہلو موجود ہو، اور پھر اس ایک بات کو لے کر وہ بقیہ کی ہوئی تمام باتوں کو رد کر دیں گے۔ اس مزاج کا یہ نقصان ذہین آدمی کے حصے میں آتا ہے کہ اس کا ذہنی ارتقا صرف محدود طور پر ہوتا ہے، وسیع تر انداز میں اس کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ جو چیزیں اُس کے لیے ذاتی انٹرسٹ کی حیثیت رکھتی ہیں، مشام اپنا جاب (job) یا اپنے بچوں کا کا مستقبل، اس طرح کے معاملے میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے معاملے میں اس کا ذہن اچھی طرح کام کرتا ہے۔ بقیہ معاملات میں وہ سنجیدہ نہیں ہوتا، اس لیے بقیہ اعتبار سے اس کا ذہنی ارتقا بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح عملاً وہ ایک ذہین بے وقوف، یا بے وقوف ذہین بن کر رہ جاتا ہے۔ ‘‘

اسی طرح دولت بھی آتی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی انسان اس گھمنڈ میں رہتا ہے کہ یہ مال و دولت اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے وہ دوسرے افراد کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح اس کے اندر احساس برتری پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی عبادت کے زعم میں ساری دنیا کو گناہ گار سمجھتے ہیں اور ڈنڈا لے کر سب کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں کافر، مشرک، بدعتی، بے عمل، گستاخ نجانے کیا کیا قرار دیتے رہتے ہیں۔ دین اسلام ایسے تمام رویوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے، دین داری کی وجہ سے احساس برتری اگر پیدا ہوتی ہے تو یہ زیادہ مضر ہے۔

احساس برتری جس فرد میں پیدا ہوتی ہے اس کے اندر تکبر، غرور کا مرض پیدا ہوتا ہے، تکبر کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے، اسی طرح ایسا شخص لوگوں کی برائیاں ڈھونڈتا ہے، وہ معاشرہ کے لوگوں کے متعلق یہ رائے بناتا ہے کہ یہ سب کے سب ناقابل ہیں، ایسا بندہ ہمشہ دوسروں کے متعلق شکایات ہی رکھتا ہے۔ فلاں شخص میں فلاں کمی ہے فلاں شخص میں فلاں کمی؛ اس طرح اس کے اندر شکایتی مزاج پیدا ہوتا ہے، اس کو اپنے سوا سب نا اہل لگتے ہیں، وہ اپنے معاشرے کو کوسنے لگتا ہے؛ ارشاد نبویؐ ہے:’’لوگوں کی برائیاں ڈھونڈنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘ (مسلم) دوسروں کی دِل آزاری کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’مومن طعنے دینے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا۔ نہ فحش بکنے والا اور نہ دوسروں کے ساتھ حقارت آمیز رویہ رکھنے والا۔ ‘‘اِسی لئے ایک اور جگہ ارشاد ہے :’’آدمی کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر قرار دے۔ ‘‘(مسلم)

رابطہ : 9906653927

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا