جھوٹ

ڈاکٹر بازغہ تبسم

جھوٹ ایک انتہائی کریہہ عادت ہے بلکہ یوں کہنا خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ جھوٹ ایک بد ترین لت ہے اگر انسان جھوٹ کا سہارا لیتا ہے بعض اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور سزا سے بچنے کے لیے تب جھوٹ اسکی عادت ثانیہ بن جاتا ہے اور ہر بات میں جھوٹ کی آمیزش اس کی عادت بن جاتی ہے ایسے میں وہ بغیر سوچے سمجھے جھوٹ بولتا ہے۔ دراصل یہ محاورہ بالکل صحیح ہے ک جھوٹ اسکی گھٹی میں پڑا ہے۔

جھوٹ بولنا لوگ اپنی خوبی اور کمال سمجھتے ہیں کہ کس طرح ہم نے جھوٹ کا رنگ چڑھا کر کالے کو سفید کر لیا اور لوگوں کو بے وقوف بنا لیا حالانکہ وہ خود بے وقوف بنتے ہیں۔ جھوٹ چھپتا نہیں ہے اور ایک دن اس کا بھانڈا سر عام پھوٹ جاتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے افراد ذلیل وخوار ہوتے ہیں اور اپنی وقعت اور اعتبار دوسروں کی نظر میں کھو بیٹھتے ہیں۔ جھوٹ کا سکہ کھوٹا ہوتا ہے جو بہت دنوں تک ہر جگہ نہیں ساتھ دیتا۔ جھوٹ بولنے والوں کو ایسی رسوائی ملتی ہے کہ کسی اعتبار اور بھروسے کے قابل نہیں رہتے۔ ہر جگہ رسوائی ملتی ہے۔

اس لیے دین اسلام میں جھوٹ سے منع کیا گیا ہے بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ غرضکہ ایمان کا جھوٹ سے کوئی میل نہیں ہے۔

جھوٹا جنت میں نہیں جائے گا۔ اور دنیا میں جھوٹ اگر پہچان لیا جائے تب شرمندگی پر مشتمل ہوتا ہے یعنی جھوٹ کا سہارا لینے والا ہر محفل میں شرمندہ ہوتا ہے۔

جھوٹ کی عادت کے زہریلے بیج بچپن میں ہی بچے کے اندر پنپنا شروع ہوتے ہیں۔ اور اکثر بچے اپنے بڑوں سے ہی جھوٹ بولنا سیکھتے ہیں جن کے گھر میں بڑے بزرگ یا ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں جھوٹ کی عادت میں ملوث ہوتے ہیں ان کے بچے اس مکروہ عادت کے شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے اچھی تربیت کا تقاضہ یہ ہے کہ جب اللہ اولاد دے تو بچے کی تربیت سے پہلے والدین اور گھر کے بزرگوں کو اپنی تربیت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بری عادت یا خصلت بد اور بد اخلاقی کسی کے اندر موجود ہے تو اس کو دور کرے۔ بچے کی پیدائش شوہر بیوی اور گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے ایک انقلاب کا ذریعہ ہوتی ہے والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا احتساب کریں اور اپنا تزکیہ کریں تاکہ انکی اولاد انکے سائے میں با اخلاق اور اعلیٰ صفات کی حامل بن سکے۔ معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لمبی منصوبہ بندی اور لمحے کا عزم مستحکم چاہیے۔ آخرت میں جواب دہی کا احساس انسان کو اعلی اخلاق اپنانے کا محرک ہے ۔ اللہ سے دعا ہے اللہ رب العزت اس کریہہ عادت سے چھٹکارہ نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

تبصرے بند ہیں۔