ذہنی پریشانی: ایک حساس مسئلہ اور اس کا حل

رقیه شیخ

 (دکن مسلم انسٹی ٹیوٹ، پونه)

ذہنی پریشانی ایک ایسا حساس مسئلہ ہے، جس میں سماج کے اکثر و بیشتر افراد بتلا نظر آتے ہیں، یہ ایک ایسی ذہنی الجھن ہے، جو انسان کو جیتے جی مردہ بنادیتی ہے۔ بہ ظاہر انسان کھا تا پیتا اور اٹھتا بیٹھتا ہے لیکن نفسیاتی اور ذہنی طور پر وہ دباو اور تناومحسوس کرتا ہے، جس سے اس کی ایک خوش حال اور خوش گوارزندگی تنگ ہو جاتی ہے۔

 ذہنی پریشانی کے بہت سے وجوہ و اسباب ہیں۔ یہاں ہم چند کوتحریر کرنے پر اکتفا کر ر ہے ہیں۔

 انسان اپنے ماضی کے حادثات کو یاد کرتا ہے، جس سے اس کی پریشانیوں اور مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ایسے افکار و خیالات میں گم ہوکر رہ جا تا ہے، جن کوعملی جامہ نہ پہنانے کی وجہ سے پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح مستقبل کی فکر بھی اس کے ذہنی تناو کی وجہ بنتی ہے۔ دوسروں سے ملنے ملانے سے کتراتا ہے کسی سے بات کرنے اور کچھ کام کرنے سے بھی گھبرانے لگتا ہے۔ اپنے آس پاس کے ماحول سے اور روز مرہ کی زندگی کی سرگرمیوں اور مالی حالات کی تھی کی وجہ سے بھی اس کے ذہن و دماغ پر خاصا اثر پڑ تا ہے۔ اور اس کے اردگرد کا ماحول ناسازگار ہونے کی وجہ سے انسان تناو اور دباو کا شکار بنتا ہے، اس وجہ سے انسان ذہنی پر ایشانی کا مریض بن جا تا ہے۔ ذہنی تناو کی وجہ سے انسان کی یادداشت کم ہو جاتی ہے، روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا، مالی اور اداسی ہاتھ لگتی ہے، بیزاری، چڑ چڑا پن اور ضدی پن پیدا ہو جا تا ہے۔ یہ وہ جو بات ہیں، جن کی بنا پر انسان اپنے آپ کو الزام بھی دیتا ہے اور خود کواحساس کم تری کا شکار بھی بنالیتا ہے۔ یہ تمام اسباب جہاں اس کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کی بیماریوں میں اضافہ کا کام کرتے ہیں، وہیں طرح طرح کے مصائب و آلام لا کھڑا کرتے ہیں۔

  اگر حقیقت کی روسے دیکھا جاۓ تو ان تمام وجوہ و اسباب کی بنا پر انسان انتہائی ڈپریشن میں چلا جا تا ہے اور نوبت یہاں تک آپہنچتی ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لہذا ایسے برے اور مصیبت خیز وقت میں انسان کو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ وہ اس ڈپریشن اور ٹینشن سے کیسے باہر آۓ اور ا پنی اس زندگی کو خوش گوار اور خوش حال کیسے بناۓ۔

   ذہنی پریشانی سے بچنے کے لیے انسان مثبت سوچ رکھے۔ خوشگوار ماحول میں رہے، پرکیف مناظر کا لطف لے، کتابوں کا مطالعہ کرے، صوم وصلات کی پابندی کرے تا کہ اس کا ذہن اپنے کاموں میں مشغول ہے اور خوشگوار زندگی گزار سکے جس سے اس کے قلب کو سکون میسر ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا