زبان اور قلم ایک قیمتی جوہر ہے

مفتی محمد قاسم اوجھاری

      آج کے اس ترقی یافتہ دور میں دین اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں، کہیں اسلام کے نام پر بے حیائی کو رواج اور فروغ دیا جارہا ہے، کہیں انٹرنیٹ اور میڈیا کے ذریعے اسلام پر حملے کیے جارہے ہیں، آج مادیت کے نشے میں طرح طرح کی سازشیں کر کے ذہنوں کو جھنجوڑا جارہا ہے، اسلام کی شبیہ خراب کرنے اور لوگوں کو دین اسلام سے دور رکھنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں، جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام کا چراغ نہ کبھی گل ہوا ہے، نہ ہوگا، پھونکوں سے یہ چراغ کبھی نہیں بجھے گا، ہر زمانے میں اسلام کے چراغ کو گل کرنے کی کوشش کی گئی اور ہر دور میں تحریک اسلام کو دبانے اور کچلنے کے لیے دوڑ دھوپ محنتیں کی گئیں، لیکن تاریخ جانتی ہے کہ اسلام کے وفاداروں نے ہر موڑ پر اسلام کا تحفظ کیا، دین و دیانت شریعت و سنت اور اخلاق و معاشرت کے تحفظ میں اپنا نہ مٹنے والا نقش چھوڑا، اسلام کے سپوتوں نے فلاح و صلاح کی ایک عظیم تاریخ رقم کی، اور دنیا والوں کے سامنے نے یہ واضح کیا کہ آندھیوں ہمیں نہ چھیڑو ہمیں ہوا کے رخ پر چراغ جلانے ہیں، ہمیں ستاروں کے پار جانا ہے

      تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت پڑی ہے وہ زبان و قلم ہے، زبان و قلم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے ماضی میں انقلاب آیا اور آج کے بگڑے ہوئے حالات میں بھی زبان و قلم کے ذریعے نکھار لایا جا سکتا ہے، زبان و قلم ایک ایسی نعمت خداوندی ہے جس کے ذریعے ہر الجھے ہوئے مسئلہ کو سلجھایا جاسکتا ہے، یہ ایک ایسا قیمتی جوہر ہے جس کے ذریعے مردہ دلوں میں روح پھونکی جا سکتی ہے، اور معاشرے میں ایک صالح انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

      لہذا اس پرفتن دور میں جسے الیکٹرونک میڈیا پرنٹ میڈیا اور تحریری دور کہا جاتا ہے ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس میدان میں مہارت حاصل کریں۔ ادیب ماہر، خطیب کامل اور بہترین قلم کار بن کر افق عالم پر چمکیں، تاکہ تمام فتنوں کی سرکوبی کی جاسکے، ہر فتنے کا مقابلہ کیا جاسکے، ہر اسلام مخالف تحریک کو روکا جا سکے، نت نئے لٹریچر رسائل و بیانات جو ہمارے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں ان کا دندان شکن جواب دیا جاسکے، ہر الجھے ہوئے مسئلے کو سلجھایا جا سکے، اور الحاد و دہریت کے طوفان بلاخیز کو روکا جا سکے۔

      اللہ تعالی نے زبان و قلم کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی کیا ہے، سورہ رحمن میں زبان کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے علمه البيان، کہ اللہ تعالی نے انسان کو قوت گویائی عطا کی اور ما فی الضمیر کی ادائیگی کا سلیقہ سکھایا۔ اور سورہ علق میں قلم کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے الذي علم بالقلم علم الانسان ما لم يعلم، کہ اللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے سے بے شمار باتوں کی تعلیم دی اور وہ چیزیں سکھائیں جنہیں وہ نہیں جانتا تھا۔ نیز اللہ پاک نے قلم کی قسم بھی کھائی ہے فرمایا، ن والقلم وما يسطرون (سورہ ن) قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتا ہے۔ اس سے زبان اور قلم کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے، بہرحال زبان اور قلم ایک قیمتی جوہر ہے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زبان و قلم کے میدان میں خوب عبور حاصل کیا جائے۔

تبصرے بند ہیں۔