عقیدت میں غلو

ممتاز میر

  جناب اسرار عالم نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر کوئی صحابی ہمارے درمیان آجائیں تو وہ کہیں گے کہ بھئی!آپ لوگ یہ کون سے اسلام پر عمل کر رہے ہو۔حضور ﷺ تو جو اسلام لائے تھے اور جس پر ہم عمل پیرا تھے وہ تو ایسا نہیں تھا۔اور اگر ہم میں سے کوئی متشرع مسلمان صحابہ کے دور میں پہونچ جائے تو وہ بھی صحابہ سے یہی کہے گا کہ یہ کونسا اسلام ہے۔ہم تو جس اسلام پر عمل کرتے ہیں وہ تو کچھ الگ ہی ہے۔ ایسی ہی کچھ باتیں جناب راشد شاذ بھی اپنی تحاریر میں کرتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے دین کے ٹھیکیدار دونوں کو پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ دونوں کے دونوں جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ کچھ ایسی نئی یا اجنبی باتیں نہیں ہیں کہ ہمارے مومنو ں کو معلوم نہ ہو یا کبھی سنا نہ ہو۔خود حضور ﷺکہہ گئے ہیں کہ دین آیا تو اجنبی تھاپھر ایک بار اجنبی ہو جائے گا۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ باتیں اگر عام کر دی گئیں تو دین کے ٹھیکیداروں کی حیثیت مجروح ہو جائیگی اسلیے اسے بالاتفاق چھپانابہتر سمجھا جاتا ہے۔معلوم نہیں اس طرح آخرت بھی بہتر ہو جائے گی کیا؟

  سورہء توبہ کی ۱۳ ویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودو نصاریٰ نے اپنے علما کو خدا بنا لیا ہے۔یہ آیت جب عام ہوئی تو یہود دوڑے دوڑے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو اپنے علما کو خدا نہیں سمجھتے۔حضور نے پوچھا کہ کیا تم اپنی مذہبی کتابوں میں کہی گئی باتوں کے برعکس اپنے علما کی باتوں پر نہیں چلتے۔انھوں نے کہا ہاں یہ تو کرتے ہیں۔حضور نے کہا یہی توعلما کو خدا بنا لینا ہے۔پھر حضور نے خود مسلمانوں کو بھی تنبیہ کی کہ تم بھی وہی کروگے جو تم سے پہلے کی امتیں کرچکی ہیں۔اگر وہ سانپ کے بل میں گھسی ہونگی تو تم بھی سانپ کے بل میں گھس کر رہوگے۔اور اس معاملے میں تو ہم مسلمان ساری دنیا کی قوموں سے زیادہ فرمانبردارثابت ہوئے۔ہم نے بھی اپنے علما کو خدا بنا لیا ہے۔علما کی خامیاں،کوتاہیاں تحریر کرنا یا کسی طرح ظاہر کرناعوام کیا خواص کے بھی تن بدن میں آگ لگا دیتاہے۔ہم نے بھی اپنے علما کو سامری کا بچھڑا بنا لیا ہے۔ان کے خلاف لکھی گئی باتوں کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے لوگ اندھے بہروں کی طرح ان کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔کسی کو خیال نہیں آتا کہ اس چکر میں دین کا کیا حشر ہو رہا ہے۔

مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے مسئلہء قومیت کا آج بھی دفاع کیا جاتا ہے اور ان کی زندگی میں بھی علامہ اقبالؒ کو ٹوپی پہنانے والے ان کے قریبی علماء کرام ہی تھے۔مگر علامہ اقبال ان کے جھانسے میں نہ آئے ورنہ ہمیں پتہ نہ چلتا کہ علامہ مولانا مدنیؒکو اس طرح تنبیہ کر گئے ہیں۔عجم ہنوز نداند رموز دین ورنہ/زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است۔گزشتہ پون صدی میں ہونے والی ہماری درگت ہمارے علما کی غلطیاں تھیں مگر مجال ہے کوئی احتساب کرلے۔یہ بات سب جانتے ہیں بلکہ لکھتے بھی ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی میں ہی صحابہ کرام کے درمیان منافق موجود تھے۔یہ بھی کہا اور لکھا جا تا ہے کہ حضور ﷺ اپنے وصال سے پہلے حضرت حذیفہؓ کو منافقین کی پوری فہرست تھما کر گئے تھے۔مگر ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی تھی کہ نام کسی کو بھی نا بتائے جائیں۔ حضور کے وصال کے بعد جب یہ بات حضرت عمرؓ کو معلوم ہوئی تو انھوں نے بہتیرا چاہا کہ حضرت حذیفہؓ انہیں نام بتادیں مگر حضرت حذیفہؓ اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔آخر میں حضرت عمر نے کہا کم سے کم اتنا تو بتادو کہ اس فہرست میرا نام ہے یا نہیں۔ حضرت حذیفہ نے صرف اتنا بتایا کہ آپ کا نام نہیں ہے۔اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان اور منافقت کا فرق کتنا نازک کتنا باریک ہو سکتا ہے۔

مگر ہم ترکی سے اسلام کو دیس نکالا دینے والے کمال اتاترک کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔پاکستان کے شیطان پرویز مشرف کو اور مصر کے عبدالفتاح کو بھی مومن سمجھتے ہیں۔ ہم ان علما کو بھی مسلمان ہی سمجھتے ہیں جو علانیہ شرک کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ مشرک ہی کو کافر کہا گیا ہے۔یعنی مشرک کسی حال صاحب ایمان نہیں کہا جا سکتا۔مگر یہ دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ ہے کہ صاحب ایمان مشرک بھی ہے۔اور ہم یہ سب صدیوں سے گوارہ بھی کر رہے ہیں۔دھڑلے سے روٹی بیٹیوں کا تبادلہ بھی ہورہا ہے۔کیا یہ سب ہمارے علماکی مساعی خبیثہ کے طفیل نہیں ہے؟اگر ہم ذلیل خوار ہیں تو اس کے لیے کیا ہم میں موجودصرف یہ ایک برائی کافی نہیں؟۰۰۴۱ سال پہلے حضور ﷺنے انسانیت کو جس گندگی سے نکالا تھااور دنیا کو جس سے بچانے کی ذمے داری اپنی امت کو سونپی تھی ہم خود پلٹ کر اپنے آپ وہیں کیسے آگئے؟کیا ہم غیروں کے بہکاوے میں آکر اس میں ملوث ہوئے یا اندر ہی سے ہمارے عقائد کو سبوتاژ کیا گیا؟کیا باہر سے بھی ہمیں برباد کیا جا سکتا ہے؟ہماری پوری تاریخ گواہ ہے کہ ہمارا باہر سے کبھی کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا الا یہ کہ باہر والوں کو اندر سے کچھ ساتھی میسر آگئے یا باہر والوں نے اپنے کچھ ساتھی اندر پلانٹ کئے۔

   قرآن نے ہمیں منافقوں کے تعلق سے بہت ساری ہدایات دی ہیں۔سورہء توبہ اور سورہء منافقون منافقوں کے تعلق ہی سے تو ہیں۔ سورہء منافقون آیت ۴ کہتی ہے ”انھیں دیکھو تو ان کے جثے تمھیں بڑے شاندار نظر آئیں گے۔بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ“یہ الفاظ پڑھ کر یقین ہے کہ بہت سارے چہروں پر مسکراہٹ آگئی ہوگی۔مگر یہ بھی ہے کہ بہت سارے چہرے تاریک ہو جائیں گے۔پہلا گروہ وہ ہے جس کے نزدیک دین کی اہمیت ہے۔دوسرا گروہ وہ ہے جس کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ہے۔وہ بھی صرف اپنی شخصیات کی۔ہمارے رسول ﷺ اور ان کے اصحاب نے تو ہمیں یہ سکھایا ہے کہ رسول کے قول و فعل میں بھی اشتباہ ہوتا تو فوراًپوچھ بیٹھتے کہ آپ کا یہ قول یا فعل بر بنائے وحی ہے یا ذاتی۔جس رسول کا یہ طریقہ ہو اس کی امت میں شخصیت پرستی ہو وہ بھی اس وقت جب وہ اپنے زوال کے آخری درجے پر ہو تو دل سے خون ٹپکتا ہے۔

کئی مضامین ہم پڑھ چکے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ یہودونصاریٰ نے کئی مدرسے قائم کر رکھے ہیں جس میں قرآن حدیث کی وہ تعلیم دی جاتی ہے،وہ عالم تیار کئے جاتے ہیں جو خود عالم اسلام پیدا نہیں کر سکتا۔سر سید کے قائم کردہ کالج کے اسلامی شعبے کے سربراہ کے لیے جو انٹرویو لیا گیا تھا اس میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والا امیدوار مسلمان نہیں تھا۔اسی طرح ہمارے احباب یہ بھی خبر رکھتے ہوں گے کہ ہمفرے نام کا ایک برطانوی جاسوس تھا جس نے ۲۲ سال کسی مسلم ملک کی مسجد میں امامت کی تھی۔رٹائرمنٹ کے بعد اسنے ایک کتاب لکھی تھی۔پوری کتاب میں اس نے اسلام اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے طریقے بتائے تھے۔اتنا سب کچھ جاننے کے بعد صحابہ نہیں تابعین نہیں تبع تابعین نہیں،موجودہ دور کی ہماری دینی قیادت کے درمیان منافقت کا انکار بڑا عجیب لگتا ہے۔

   مسئلہ کیا ہے؟دراصل ہم دین کے نام پر نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ،سود،شراب، سور،جہاد وغیرہ کی باتیں تو خوب کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے،یہ تمام اجزا دین سے باہر تھوڑی ہیں،مگر ہم دین کی ابتدا کو بھول جاتے ہیں۔دین کی ابتدا تو اسی دن ہو گئی تھی جس دن اللہ نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا اور ابلیس نے انکار کردیا تھا۔یاد کریں اس دن کیا ہوا تھا؟کیا ابلیس نے اللہ کو چیلنج نہیں کیاتھا؟کیا اس نے ہر ممکن سمت سے انسانوں کو بہکانے کی پیش گوئی نہیں کی تھی؟اس نے اپنا پہلا وار زمین پر نہیں آسمان پر اللہ کی قربت میں ہی کر دیا تھا۔اس نے اپنا پہلا وار غیر بن کر نہیں اپنا بن کر کیا تھا۔

  آخر میں پھر ایک حدیث۔معلوم نہیں کیوں اس حدیث کو بھی بہت کم ملت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔میرے دو خلفاء تک فتنوں کا دروازہ بند رہے گا پھر وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔معلوم نہیں کبھی کسی نے اس پر غور و فکر کیا یا نہیں؟کیا تو کیا سمجھا؟ہم جو سمجھے وہ یہ کہ دونوں خلفاء شدت پسند تھے۔دین سے انحراف کرنے والوں کو سمجھانے بجھانے کے قائل نہ تھے۔خلیفہء اول تو بس ”ذرا سی زکوٰۃ“ دینے سے انکار کرنے والوں کے خلاف قتال پرآمادہ ہی نہیں ہوگئے تھے بلکہ پوری امت کو اس پر آمادہ کر رہے تھے، اور نتائج سے خوف زدہ ہونے والوں میں عام صحابہ ہی نہیں حضرت فاروقؓ اعظم بھی تھے۔جب بات نہیں بنی تو تنہا ہی جہاد کا اعلان کردیا۔کیا یہ شدت کی انتہا نہیں تھی؟خلیفہء دوم حضرت فاروق اعظم کا حال بھی یہ تھا کہ جب اپنے ہیڈکوارٹر سے باہر نکلتے تو ہاتھ میں درہ ہوتا۔کس کے لیے؟ ان کے لیے جو خود نبی ء آخرالزماں ﷺکے ہاتھوں کے تربیت یافتہ تھے۔یہ ایسے ہی نفوس قدسی کی شدت پسندی کے طفیل ہے کہ اسلام 1000 سال تک دنیا کی غالب قوت بن کر رہا۔اس کے باوجود کہ ابلیس کے چیلے اپنا کام بڑی تندہی سے انجام دے رہے تھے۔اس کے بعد بھی زوال آتے آتے ایک دو صدی اور گزر گئی۔اب جو حالات ہیں یہ ہم جیسوں کی مساعی خبیثہ کے باعث ہے۔دل کڑھتا ہے کہ شخصیت پرستی نے دین کو نقصان پہونچایا ہے اور جو مزید نقصان پہونچائے گا وہ احساس زیاں ہمارے بڑے بڑے مہارتھیوں کو نہیں۔

تبصرے بند ہیں۔