نوجوانوں کو موبائل کے غلط استعمال سے کیسے بچائیں؟

اپنی نسلوں میں اجتماعی، دینی اور تخلیقی سوچ پیدا کرنے کے 11 طریقے

مفتی قیام الدین قاسمی سیتامڑھی

انسان ہر چیز جسے وہ دیکھتا یا سنتا ہے اس سے متاثر ہوتا ہے، خصوصاً خالی دماغ زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مظہر کے اثر کا بغور مطالعہ کیا جائے اور اسلامی و غیر اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کے درمیان تمیز پیدا کرکے اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کی بقا و ترقی کا اہتمام کیا جائے۔

جس کے لیے گزشتہ آٹھویں قسط میں مال کے تعلق سے اسلامی ذہنیت اور اجتماعیت پیدا کرنے کے 7 طریقوں پر بحث کی گئی تھی اس مضمون میں ہم اجتماعی اور دینی و تخلیقی ذہنیت پیدا کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔

1 ۔ ہر اسکول، مدرسے اور کالج میں صبح صبح دعا کے وقت یہ عہد دہرایا جائے۔

میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتا/تی ہوں کہ اپنی پوری زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ مانتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کا خادم بن کر گزارونگا/گی اور اس علم کے ورثے کی پوری پوری حفاظت کرونگا/گی۔

کیوں کہ اذا تکرر الکلام تقرر فی القلب زبان پہ بار بار دہرائے جانے والی چیز دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدیدِ ایمان کا حکم دیتے ہوئے اس کا طریقۂ کار اکثروا من قول لا الہ الا اللہ کے ذریعے بتلایا لہٰذا یہی طریقہ ہم بھی اپنی نسلوں میں اجتماعیت اور اسلامی اخوت پیدا کرنے کے لیے اپنائیں گے، آپ اپنی صواب دید پر اس میں رد و بدل بھی کرسکتے ہیں

2 ۔ ساری دکانوں وغیرہ کے نام اسلامی رکھے جائیں اور ہر قسم کے پوسٹرز بینرز پہلے اردو میں لکھے جائیں پھر اس کے نیچے مقامی زبان اور انگریزی میں لکھے جائیں۔

چوں کہ ہندوستان میں اسلامی علوم کا وافر حصہ اردو میں ہی ہے نیز اردو اب مسلمانوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے اور ہماری تہذیب و تمدن سے اردو کا بہت گہرا ربط ہے، جب ہمارا بچہ بینروں، پوسٹروں اور ہورڈنگز اردو میں لکھا دیکھے گا تو خود بخود اس کے اندر اردو کے تئیں محبت پیدا ہوگی اور وہ انہیں سیکھنے اور استعمال کرنے میں فخر محسوس کرے گا، مجھے پتہ ہے سارے پوسٹروں کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن جتنا اختیار میں ہے اتنا تو بدلیں۔

3 ۔ اجتماعی مطالعہ: ایک وقت ایسا ہو جب گھر کے سبھی افراد بوڑھے، جوان، بچے اور عورتیں موجود ہوں ، انہیں ان کی عمر اور ذوق کے حساب سے کتابیں لاکر دیں اور صرف اس پر اکتفا نہ کریں بلکہ کم از کم ایک گھنٹہ سب کو ساتھ میں لے کر بیٹھیں اور مطالعہ کریں، اس سے ایک تو ہمیں ساتھ میں وقت بتانے کا موقع مل جائے گا دوسرا مطالعے کی عادت پیدا ہوجائے گی اور ایک ریڈر ہی ہمیشہ لیڈر ہوا کرتا ہے۔

4 ۔ نوجوانوں کو ٹور پر لے جایا جائے: دیکھئے نوجوانوں کی نفسیات، ان کے شوق اور خواہشات کو مدنظر رکھ کر اسی حساب سے دینی جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں میں بوریت اور بیزاری بھی نہ ہو اور وہ دین کے راستے پر بھی آجائیں، اور نوعمری میں ہر شخص کو گھومنے کا شوق ہوتا ہے تو کیوں نہ اس شوق کو علماء اسلامی اقدار پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں، اور ان کو دین کی بنیادی تعلیمات اور اسکولوں کالجوں میں اپنی بہنوں کی حفاظت کے طریقے سکھائیں۔

5 ۔ کام خود کریں اور نام گاؤں کا ہو: مثلاً خدمتِ خلق کا جو بھی کام کریں تو ظاہر سی بات ہے فنڈنگ تو چند ہی لوگ کریں گے مگر نام گاؤں کا دیا جائے لہٰذا اس مشن کے تحت جتنے بھی کام ہوں گے ان پر کسی کا نام نہیں ہوگا بلکہ صرف مشن تقویتِ امت اور گاؤں کا نام لکھا ہوگا اس سے گاؤں والوں کے ایک دوسرے پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا، اور اجتماعیت کو تقویت ملے گی اور اس خدمتِ خلق کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ایکسائٹمنٹ والی مشغولیت بھی مل جائے گی۔

6 ۔ اسکول و کالج و یونیورسٹیز کی چھٹی کے موقعوں پر ان کو مدارس کے ماحول میں طلبا کے ساتھ کچھ دن قیام کروایا جائے تاکہ انہیں ایک دوسرے سے بات کرنے اور ایک دوسرے کی خوبیوں اور کمیوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور دوریاں کم ہوں، کیوں کہ ہوتا یہ ہے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اکثر اسٹوڈنٹس دینی بیک گراؤنڈ سے نہیں آتے ہیں اور وہاں کے ماحول عموماً اسلام مخالف ہوتے ہیں یعنی ان کے ذہنوں میں اسلام کے تعلق سے صحیح معلومات پہنچنے سے پہلے غلط معلومات پہنچ رہی ہوتی ہیں اور وہاں ان شبہات کو دور کرنے کا کوئی پروپر سورس بھی موجود نہیں ہوتا اس سے نمٹنے کا قلیل المدتی طریقہ یہی ہے کہ انہیں کچھ عرصہ صحیح معلومات والے دینی ماحول میں رکھیں اس سے وہ اپنے شبہات کو دور بھی کرسکیں گے اور مدرسے کے طلبا کو بھی پتہ لگ سکے گا کہ آج کل کے جدید ذہنوں میں کس قسم کے شبہات پیدا ہورہے ہیں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کا جواب کیسے دیا جاسکتا ہے۔

7 ۔ اب پورے گاؤں کو مفت درس گاہ اور یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جائے: جو لوگ بڑی عمر کے ہوچکے ہیں یا چھوٹی عمر کے باوجود کسی وجہ سے آپ ان کو اداروں میں لاکر کورس کرا نہیں سکتے تو کیوں نہ ان کے اوقات و ضرورت کے مطابق اپنے کورسز بنائے جائیں یعنی ہر ضرورت کے لیے شارٹ ٹرم یا اتواری پریکٹیکل کورسس تیار کئے جائیں مثلاً اخلاقی تربیت کا کورس، بچوں کی تربیت کا کورس، خدمت خلق کورس ایسے سینکڑوں کورسز تیار کئے جائیں، یعنی یوں سمجھئے کہ پورا گاؤں ایک یونیورسٹی ہے جہاں ہر شخص کو وہ جتنی حیثیتوں سے زندگی گزار رہا ہے ان حیثیتوں کو سامنے رکھ کر اس کے لیے دینی اور دنیوی منافع دونوں پہلوؤں سے عملی کورس بنایا جائے بس عام یونیورسٹی اور اس یونیورسٹی میں فرق یہ ہوگا کہ لوگ پڑھنے یونیورسٹیز میں جاتے ہیں، مگر یہاں یونیورسٹی یعنی آپ سے متعلق فیلڈ کے استاذ خود اٹھ کر آپ کے پاس آئیں گے اور اس یونیورسٹی کا انفراسٹرکچر خود گاؤں ہوگا۔

ان شاءاللہ ہم آنے والے دنوں میں ایسے کورسز تیار کریں گےاور یہ سارے کورسز مفت میں ہوں کیوں کہ ہم نبی کے وارث ہیں نبی نے اپنی زندگی فاقوں پر یا ہدیوں کے سہارے گزاری ہے تو ہمیں بھی اسی کی پیروی کرنے کو عزیمت سمجھنا ہوگا، ہر نبی نے اپنی دعوت پہنچانے کے بعد کہا ہے و ما أسئلکم علیہ من اجر نیز مفت اس لیے بھی کہ گاؤں کے اجتماعی بزنس اور اپنے سائڈ بزنس سے ہماری ضروریاتِ زندگی کا سامان میسر آرہا ہوگا اور ہم ضرورت سے زیادہ پیسے کمانے کی لالچ ختم کرچکے ہوں گے۔

8 ۔ پارک بنایا جائے: اگر اتنی استطاعت ہو گاؤں والوں کے پاس تو ایک کمیونٹی پارک بنایا جائے جس میں ہر طرف احادیث لکھی ہوئی ہوں، سائنس و ریاضی کے فارمولے لکھے ہوئے ہوں، اور جہاں ریاضت بدنی کے آلات بھی موجود ہوں، اس کے چار فائدے ہیں:

1 ۔ ہمارے جوانوں کی ایکٹیویٹیز پر نظر رکھی جاسکے گی۔

2 ۔ ان میں دینی و تخلیقی سوچ پیدا کی جاسکے گی۔

3 ۔ ان کو قوی و متین بھی بنایا جاسکے گا و المؤمن القوی خیر من المومن الضعیف۔

4 ۔ ان کو ڈیجیٹل ورلڈ کے بجائے حقیقی دنیا کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

اور ہر نماز کے وقت وہیں جماعت کھڑی کردی جائے جو نماز سے گریز کرے اسے پارک میں نہ آنے دیا جائے۔

9 ۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے انہیں مفید استعمال کے طریقے سکھائیں:

دیکھئے چوں کہ بچہ ہمیشہ اپنے ماں باپ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو دیکھ کر سیکھتا ہے جب وہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں موجود سارے افراد کو موبائل چلاتا ہوا ہی دیکھتا ہے تو خود کیوں نہ موبائل چلائے، اس لیے سب سے پہلا کام تو ہمارا ہے کہ ہم حتی الامکان بچوں کے سامنے موبائل چلانے سے گریز کریں۔

دوسری بات بڑے عرصے سے اس مسئلے پر سوچ رہا ہوں کہ اس موبائل کے مسئلے پر کیسے قابو پایا جائے تو غور و فکر کے بعد میرے سامنے تین آپشنز تھے:

1 ۔ یا تو ان کے موبائل کی مکمل سرویلینس اور نگرانی رکھی جائے کہ وہ غلط کام میں ملوث نہ ہو پائیں اور یہ غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ بہرحال قیامت میں صرف ہماری نہیں ہمارے بچوں کی بھی جواب دہی کا سامنا ہمیں کرنا ہوگا تو اتنی نگرانی کرنا کہ وہ برائی سے بچ سکے، تجسس کے دائرے میں نہیں آتا، یہ جدیدیت کے لبرلزم کی پیدا کی ہوئی سوچ ہے کہ بچہ اپنی مرضی کا مالک ہے وہ جو چاہے کرے ہمارے پاس بس سمجھانے کا اختیار ہے۔

2 ۔ یا پھر اس کو حقیقی زندگی میں مثبت کاموں میں اتنا مشغول کردیا جائے کہ اس کے پاس غیر ضروری اور ڈیجیٹل غلط کاموں میں مشغول ہونے کے لیے وقت ہی نہ بچے۔

3 ۔ یا پھر اس کے انٹرٹینمنٹ کے ذرائع میں ہی دین و اسلام کو داخل کردیا جائے۔

دوسرا کام تو ہمارے اختیار میں ہے لیکن پہلا اور تیسرا ہمارے اختیار میں نہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ علماء کے بعد امت کو اس وقت اگر سب سے زیادہ کسی کی ضرورت ہے تو وہ آئی ٹی ایکسپرٹ ہے، مثلاً سافٹ ویئر ڈیولپر، کوڈنگ ایکسپرٹ، وغیرہ کی تاکہ ہم ان کو تفریح سے روکیں بھی نہیں اور اسی تفریح میں دین بھی داخل کردیا جائے۔

اس موضوع پر ہم پانچویں قسط میں بھی تھوڑے الگ انداز سے روشنی ڈال چکے ہیں۔یاد رکھیں کہ جب بھی ہم بنیادی تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں تو صرف ایک طرف سے یا محض ایک آپشن پر کام کرنا کافی نہیں ہوتا ہمیں بہترین طریقہ، بہتر طریقہ اور کمتر طریقہ تینوں پر بیک وقت کام کرنا ہوتا ہے تو کچھ لوگ اول سے راہِ راست پر آجاتے ہیں تو کچھ دوسرے اور تیسرے طریقے سے10 مقابلہ جاتی پروگرام رکھے جائیں: ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ اللہ نے انسان میں ودیعت کررکھا ہے اسی لیے اللہ جل جلالہ جنت کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد کہتا ہے "و فی ذلک فلیتنافس المتنافسون” لہذا نوجوانوں کی جمالیاتی، ادبی، علمی عقلی و سائنسی اور دینی جذبے کو فروغ دینے والے مقابلہ جاتی پروگرام کروائے جائیں مثلاً جمالیات و ادب میں قرآت، نعت، شعر و شاعری، خطاطی، رائٹنگ ڈرائنگ وغیرہ کے مقابلے، علم دین و عقلیات میں حفظ قرآن، حفظ حدیث، حفظ مسائل، نئے آئیڈیاز کی تخلیق، ریاضی اور سائنسی ایجادات وغیرہ کے مقابلے۔

یہ مقابلے اس کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو نام کمانے اور دنیا کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے آپشنز تو دیں پھر دیکھیں بچے کیسے اپنی ہنر مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہم اس عمر میں اس سے عدم نمائش اور اخلاص و للہیت کا مطالبہ کرتے ہیں جس عمر میں اس کی نمائش محض خوشی کے حصول کے لیے ہوتی ہے ابو امی کے چہرے پر مسکان لانے کے لیے ہوتی ہے تکبر اور ریاکاری کے لیے نہیں، ہمیں اسلام کے احکامات بھی بچوں کی سائیکالوجی کو سامنے رکھ درجہ بدرجہ جاگزیں کرنے چاہئیں۔

11 ۔ اوارڈ فنکشن: جب بھی کوئی صحابی قابل فخر کارنامہ انجام دیتا تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بشارت سناتے تھے جس کا ماحصل ہے انعام سے سرفراز کرنا، یہ انعام دینا اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ جس چیز کا جتنا بڑا انعام ہوگا اسی لحاظ سے مظاہر کی اہمیتیں لوگوں کے دلوں میں بیٹھتی ہیں

یعنی عمل پر ابھارنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ کو بھی بدلا جاسکتا ہے اس کے ذریعے

جس کا طریقۂ کار یہ ہو کہ عید کے موقع پر گاؤں کے سبھی لوگ بشمول مرد و عورت جمع ہوں اور ان مقابلوں کے انعامات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل ایوارڈز دئیے جائیں

1 ۔سب بڑا مال دار شخص: جس نے سب سے زیادہ غریبوں پر اور ملت کے کاموں میں خرچ کیا ہو

2 ۔ سب سے بڑا عالم اور تخلیق کار: جس نے سب سے زیادہ نئے آئیڈیاز دئیے ہوں ترقی کے، یا کوئی نئی تحقیق و ریسرچ پیش کی ہو، یا کوئی نئی ٹکنالوجی ایجاد کی ہو

3 ۔ بہترین آدمی: جس نے سب سے زیادہ لوگوں کی مدد کی ہو اپنے عمل اور محنت کے ذریعے

4 ۔ بہترین استاذ: جس نے مختلف موضوعات پر سب سے زیادہ کورسس کروائے ہوں اور طلبا جس سے سب سے زیادہ خوش ہوں۔

یقین جانیں یہ اوارڈ سسٹم موجودہ مظاہر کو تبدیل کرکے رکھ دے گا جب بچے یہ دیکھیں گے تو ان کے اندر مال، علم اور بہترین آدمی کے تئیں ایک مختلف ذہنیت پیدا ہوگی اور لاشعوری طور پر خدمتِ خلق، تخلیقیت، اسلام سے محبت اور ایک اسلامی معاشرے کے لیے ضروری چیزوں کی اہمیت بڑھے گی۔

تبصرے بند ہیں۔