چیونٹی کی زندگی سے اہم اسباق

سالک ادیب بونتی عمری

چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے، جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔ یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان کی تقریباً بارہ ہزار قسمیں دنیا میں موجود ہیں۔ اس ننھی سی جان میں انسان کے سیکھنےکی کافی کچھ چیزیں موجودہیں آئیےچندایک خصوصیات سےواقف ہوتےہیں۔

1۔ نظم ونسق:

آپ نے چیونٹیوں کی لمبی قطاریں دیکھی ہوں گی جوخدا کی اس مخلوق میں پائےجانےوالےمنظم معاشرت کو ثابت کرتی ہے اور کہیں نہ کہیں انسان نےیاقطاربندی کاسلیقہ اسی مخلوق سے حاصل کیاہےمگر ایک اہم سبق یہ لینابھول گیاکہ یہ نظم بندی صرف قطارکی حدتک نہیں بلکہ تمام عمرمطلوب ہے ۔

2۔ خیرخواہی:

قرآنِ مجیدمیں اللہ کےبرگزیدہ پیغمبرحضرتِ سلیمان علیہ السلام کےواقعےمیں یہ حصہ بھی بیان کیاگیاہے کہ جب حضرت سلیمان کی فوج آتی ہے توچیونٹیوں کی رانی اپنی برادری میں یہ اعلان کرتی ہے کہ چلو اپنی بلوں میں پناہ گزیں ہوجاؤ کہیں ایسانہ ہو کہ تم سلیمان علیہ السلام کی فوج کےقدموں تلےکچلےجاؤ اور انھیں پتہ بھی نہ چلے۔

آج بھی آپ چیونٹیوں پر غورکریں گےتودیکھیں گےکہ تیز ہواکاجھونکاآئے یاکوئی نقصان دہ چیزسامنےآجائےتوچیونٹی تیزی سےواپس مڑتی ہے اور جاتےہوئے راستےمیں جتنےچیونٹیاں ملیں گےوہ سب سےہوتےہوئے حالات کی اطلاع دیتی ہوئی آگے بڑھے گی ۔

ایک طرف خدا کی اس ننھی سی مخلوق میں یہ جذبہ اور ایک طرف ہم انسان ہیں جو زندگی کی دوڑمیں اسقدر منہمک ہوگئےہیں کہ خیر خواہی کاجذبہ ہی ہم سے بسرگیا۔

3۔ امیرکی اطاعت:

حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں چیونٹی کااپنےماتحتوں کوبلوں میں چلےجانےکاحکم دینااور دوسری چیونٹیوں کافواراًحکم مان جانا بتاتاہےکہ دوسری ساری چیونٹیاں اپنی رانی کےمطیع اور فرمانبردار تھیں اسی لیےقیل وقال کےبجائےسب نے حکم سراورآنکھوں پہ رکھا ۔

پتہ یہ چلاکہ سماج کوخطرےسےمحفوظ رکھنےمیں امیر کی اطاعت کابڑا کردار ہے اگرکوئی قوم اپنے(نیک)امیر کی اطاعت نہیں کرےگی تو وہ بھی کسی نہ کسی دن کسی فوج کے قدموں تلےرونددی جائےگی۔

4- منظم طرزِمعاشرت:

قرآن کےواضح بیان کےساتھ جدیدسائنس بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ چیونٹیاں نہ یہ کہ صرف آپس میں بولتی ہیں بلکہ بودوباش کےلیےسماجی ساخت بھی اپناتی ہیں، ان کی مستقل کالونیاں اور بستیاں بھی ہوتی ہیں۔

چیونٹیوں کی زندگی نر اور مادہ نیز رانی کےفرق کے ساتھ چندہفتوں سے لےکرکئی برسوں تک بھی طویل ہوتی ہے اس دوران وہ نظمِ معاشرت کی مکمل پاسداری کرتی ہیں۔

ان میں ترسیلِ اطلاعات کابھی رواج ہوتاہے جو کسی اہم موقع پر مختلف طریقےسےایک دوسرےتک پہونچاتی ہیں۔

وہ آپس میں کاموں کی تقسیم کرلیتی ہیں اور جس کےذمہ جوکام ہوتاہے وہ اسے پورا کرنے کا مکلف بھی ہوتاہےجس سے یہ اندازہ لگاناآسان ہوجاتاہےکہ اس مخلوق میں امن وامان کی کافی اہمیت ہے جوکہ ہم انسانوں کی بستیوں سےتقریباً ختم ہوچکاہے جس کاایک اہم سبب اپنےکام چھوڑکردوسرےکی ٹوہ میں لگےرہناہے۔

5۔ ایک دوسرےکا خیال:

چیونٹیوں میں نرکی عمربہت کم ہوتی ہےجبکہ مادہ زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہے اور سب سےطویل عمر رانی کی ہوتی ہے،ایک تحقیق کےمطابق رانی کی عمر بیس سےتیس سال طویل بھی ہوتی ہے اور نسل کی بقاکےلیےانڈوں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نر پر ہوتی ہے جواس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گھر اور خاندان کی بقاوحفاظت دراصل مردکےہاتھ میں ہوتی ہے اگر گھرکامردغافل ہوتوپھرگھرانہ مشکلوں میں پڑجاتاہے۔

6۔ اپنےکام سےکام:

چیونٹیاں ہمہ وقت متحرک نظرآتی ہیں،آپ نےچیونٹیوں کو ایک جگہ خموشی کےساتھ ٹھہری ہوئی نہیں دیکھاہوگا کیونکہ یہ اپنےکام میں مصروف ہوتی ہیں جودراصل ایک سماج کی بہتری کااہم اصول ہے۔

7۔ اتحاد:

چیونٹیوں میں منظم زندگی اس لیےبھی ہوتی ہے کہ ان میں اتحادکاعنصرپایاجاتاہے،کسی بڑی چیزکواٹھاناہو،کسی مشکل سےلڑناہو یاکوئی اہم کام انجام دیناہو تو چیونٹیاں آپس میں متحدہوکراپنامطلوب حاصل کرتی ہیں جس میں ہم انسانوں کے لیےاتحادکی اہمیت اور افادیت کاپیغام بھی ہے۔

8۔ محنت اورخوداعتمادی:

دیگرکیڑےمکوڑوں کی بہ نسبت چیونٹیوں میں محنت کاعنصرغالب ہوتاہے،یہ محنت سے کام لیتی ہیں اور جلدہارنہیں مانتیں،ایک جگہ سےدوسری جگہ کسی چیزکےنقل وحمل میں کبھی کبھی تنہاایک چیونٹی گھنٹوں مصروف رہتی ہے یہ اس مخلوق میں محنت کشی اور فعالیت کےساتھ خوداعتمادی کےموجودگی کی دلیل ہے۔

علاوہ ازیں ایسی بہت سی خصوصیات اللہ نے اس ننھی سی مخلوق میں ودیعت کردی ہے جنھیں بیان کرنےکےلیےایک طویل مضمون کی ضرورت ہے تاہم یہ چندعمومی نکات تھے جو میں نے سپردِقرطاس کرنےکی کوشش کی ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں اس کی قدرت سے سیکھنے اوراپنی طرف رجوع ہونے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

تبصرے بند ہیں۔