گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

ریاض فردوسی

زمانے کی قسم! بے شک ہرانسان یقیناخسارے میں ہے ،سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اورجنہوں نے نیکیاں کیں اورایک دوسرے کوحق کی وصیت کی اورایک دوسرے کوصبرکی وصیت کی۔(سورہ العصر۔آیت، 3 ۔ 2۔1پارہ ،30)

زمانے کا لفظ گزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور گزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی، جس میں حال درحقیقت کسی لمبی مدت کا نام نہیں ہے۔ ہر آن گزر کر ماضی بنتی چلی جارہی ہے، اور ہر آن آکر مستقبل کو حال اور جاکر حال کو ماضی بنا رہی ہے۔یہاں چونکہ مطلقََا زمانے کی قسم کھائی گئی ہے، اس لیے دونوں طرح کے زمانے اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ زمانے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور نیک عمل سے محروم ہوتے ہیں، وہ بڑے گھاٹے میں ہیں۔ اس لیے کہ ایسی بہت سی قوموں کو دُنیا ہی میں آسمانی عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر خبر دار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایمان اور نیک عمل کی رَوِش اِختیار نہ کی گئی تو آخرت میں بڑا سخت عذاب اِنسان کا منتظر ہے۔خود نیک بن جانا ہی نجات کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے اثرورسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے ہے، اور جیسا کہ پہلے بھی کئی جگہوں پر گزرا ہے‘‘ صبر‘‘ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی دلی خواہشات اسے کسی فریضے کی ادائیگی سے روک رہی ہوں یا کسی گناہ پر آمادہ کر رہی ہوں، اس وقت ان خواہشات کو کچلا جائے، اور جب کوئی ناگوار بات سامنے آئے تو اللہ تعالی کے فیصلے پر اعتراض سے اپنے آپ کو روکا جائے۔ ہاں تقدیر کا شکوہ کیے بغیر اس ناگوار چیز کے تدارک کی جائز تدبیر کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔وقت کا استعمال جائز کاموں کے لیے کرنا ضروری ہے۔یہ بات جاننا بے حد ضروری ہے کہ خسارے کا لفظ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کس معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لغت کے اعتبار سے خسارہ نفع کی ضد ہے، اور تجارت میں اس لفظ کا استعمال اس حالت میں بھی ہوتا ہے جب کسی ایک سودے میں گھاٹا آئے اور اس حالت میں بھی جب سارا کاروبار گھاٹے میں جارہا ہو، اور اس حالت میں بھی جب اپنا سارا سرمایہ بربادکرکر آدمی کنگال ہوجائے۔

قرآن مجید اسی لفظ کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے، اور جس طرح اس کا تصور فلاح محض دنیا کی خوشحالی کا نام نہیں ہے بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی کامیابی ہے، اسی طرح اس کا تصور خسارہ بھی محض دنیا کی ناکامی یا خستہ حالی کا نام نہیں ہے بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی ناکامی و نامرادی ہے۔ فلاح اور خسارہ دونوں کے قرآنی تصور کی تشریح،قرآن کریم میں متعدد مقامات پر موجودہے،بعض مقامات پر اشارہ وکنایہ ہے (ملاحظہ ہو،جلالین جلد دوم، تفسیر کبیر جلد نہم، تفسیر ابن کثیر،تفسیرفیوض الرحمان اردو ترجمہ روح البیان پارہ ،30، ابن عساکرجلد چہارم، تفسیرکشاف جلد سوم،تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف 9۔  الانفال 30۔ یونس 23۔  بنی اسرائیل 102۔ الحج 17۔ المومنون  1۔ 2۔ 11۔ 50۔ لقمان 4۔ الزمر 34)

گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے،اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے وہ دراصل وہ وقت ہے جو ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان گاہ میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ وقت جس تیز رفتاری کے ساتھ گزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہوجائے گا۔ حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہے۔ اسی ایک سیکنڈمیں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا راستہ طے کرلیتی ہے، اور خدا کی خدائی میں بہت سی چیزیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جو اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوں خواہ وہ ابھی تک ہمارے علم میں نہ آئی ہوں۔ تاہم اگر وقت کے گزرنے کی رفتار وہی سمجھ لی جائے جو گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کے چلنے سے ہم کو نظر آتی ہے، اور اس بات پر غور کیاجائے کہ ہم جو کچھ بھی اچھا یا برا فعل کرتے ہیں اور جن کاموں میں بھی ہم مشغول رہتے ہیں، سب کچھ اس محدود مدت عمر ہی میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں کام کرنے کے لیے دی گئی ہے، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی وقت ہے جو تیزی سے گزر رہا ہے۔ امام رازی نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہ ہے وَالْعَصْرِ۔  اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔کا مطلب۔عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے۔اس کو اگر ضائع کیا جائے،یا غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے۔

وقت” اللہ تبارک وتعالیٰ کاعظیم تحفہ ہے۔وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔دنیا کی ہر شے کبھی نہ کبھی لوٹ کر ضرور آتی ہے۔ صحت چلی جائے تو بروقت علاج سے واپس آجاتی ہے، دولت ضائع ہوجائے تومحنت اور منصوبہ بندی سے پھرسے حاصل ہوجاتی ہے۔ زلزلے، طوفان بڑی بڑی عمارتوں کو زمیں بوس کردیتے ہیں، مگر دنیاوی وسائل، فن تعمیر مہارت اور افرادی قوت سے بلندبالا عمارتیں پہلے سے بہتر حالت میں بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ لیکن وقت ایک ایسی چیز ہے کہ وہ ایک بار گزر جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دونعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے کا شکار ہیں: ایک صحت اور دوسری فراغت(بخاری، الصحیح، کتاب الرقاق، باب لا عیش إلا عیش الآخرۃ، 5: 2357، رقم: 6049۔ترمذی، السنن، کتاب الزہد، باب الصحۃ والفراغ. 4: 550، رقم: 2304)

ایک اور حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:پانچ کوپانچ سے پہلے غنیمت سمجھ لو:زندگی کو موت سے پہلے،تن درستی کو بیماری سے پہلے، فراغت کی گھڑی کو مشغولی سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مال داری کو فقر سے پہلے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ:جب تمہاری زندگی میں صبح آجائے تو شام کا انتظار مت کیا کرو ابھی اپنے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو، کیا معلوم کہ تمہاری زندگی میں شام ہوہی نا؟ اور جب تمہاری زندگی میں شام آجائے تو صبح کا انتظار مت کیا کرو، ابھی اپنے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو، کیا معلوم کہ تمہاری زندگی میں صبح ہوہی نا؟اس سے پتہ چلا کہ جس طرح وقت ایک نعمت ہے اسی طرح اس کا صحیح استعمال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی عطا ہے۔جنت میں جانے کے بعد آدمی کو کسی چیز کا کوئی افسوس، حسرت نہیں ہو گی صرف اس وقت پر ہو گی جو اللہ تعالی کے ذکر کے بغیر گزرا ہو۔

امام حسن بصری ؒ کا قول ہے: فجر کی پو پھٹتے ہی روزانہ ایک منادی اعلان کر تا ہے۔ اے آدم کے بیٹے! میں ایک نئی مخلوق ہوں اور تیرے اعمال پر گواہ ہوں۔ میرے واسطے سے نیک اعمال کا ذخیرہ کرلے، کیوں کہ میں قیامت تک دوبارہ نہیں لوٹ سکتا۔‘‘وقت بڑی قدر کی چیز ہے ہماری سب سے اہم پونجی جس کو بچا بچا کر استعمال کرنا چاہیے۔(تفہیم القرآن،ترمذی،مشکوٰۃ،تفسیرکبیر)اللہ کے کئی نعمتوں سے وقت ایک عظیم نعمت ہے۔ہر انسان کے لیے اللہ کی طرف ایک وقت مقرر ہے۔

اگر کھیت میں دانہ نہ ڈالا جائے تو قدرت اسے گھاس پھوس سے بھر دیتی ہے۔ اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھرا جائے تو کج فکری اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہی بانٹتا ہے – خوش دل انسان خوشی تقسیم ہے۔ غم واندوہ میں لپٹاانسان غم لوگوں کو دیتا ہے۔ دینی یا دنیاوی علم کا ماہر عالم علمی باتیں پھیلاتا ہے۔ مذہبی اور دیندار انسان دینی کاموں کو فروغ دیتا ہے۔ خوف اور دہشت میں لپٹا ہوا انسان خوف وخطر کا ماحول پیدا کردیتا ہے۔کھانا ہضم نہ ہونے پر بیماریاں پیدا ہوتی اور بڑھتی ہیں۔مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ریاکاری بڑھتی ہے۔ بات نہ ہضم ہونے پر چغلی بڑھتی ہے۔تعریف نہ ہضم ہونے کی صورت میں غرور میں اضافہ ہوتا ہے۔ مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی بڑھتی ہے۔غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں مایوسی بڑھتی ہے۔اقتدار اور طاقت نہ ہضم ہونے کی صورت میں خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔اپنے وقت کے قدروقیمت کو سمجھے۔گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔

حضرت ابو بَرزَہ اَسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’قیامت کے دن بندہ اس وقت تک (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا رہے گا جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے گا: 1۔ اس نے اپنی زندگی کیسے گزاری، 2۔ اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا، 3۔اس نے مال کہاں سے کمایا اور کیسے خرچ کیا۔ 4۔اس نے اپنا جسم کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘(ترمذی، السنن، کتاب صہۃ القیامۃ والرقائق، باب ما جاء ہی شأن الحہساب والقہصاص، 4: 612، رقم: 2417)

وقت کی قدر بہت ضروری ہے، وقت کا صحیح استعمال کرنا، بیکار اور فضول  باتوں میں ضائع ہونے سے بچانا بیحد ضروری ہے۔

 وقت کو فضول ضائع کردینے پر بعد میں حسرت و ندامت کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا ہے۔جو لمحہ اور گھڑی ہاتھ سے نکل گئی وہ دوبارہ ہاتھ میں نہیں آتی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے”بے شک مجھے اس فارغ شخص سے نفرت ہے جسے کسی دنیاوی اور اخروی عمل کی پرواہ نہیں۔‘‘(ابن ابی شیبۃ، المصنہ، 7: 108، رقم: 34562)

حضرت ابودَرداء رضی اللہ عنہ ہرماتے ہیں۔’’اے ابنِ آدم! تفو ایام کا مجموعہ ہے، پس جب (تیرا) کوئی دن گزرتا ہے تو تیرا (زمانۂ حیات کا) کچھ حصہ ڈھلتا ہے۔‘‘(بیہقی، شعب الإیمان، 7: 381، رقم: 10663)

امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد گرامی ابوالمظہریحییٰ بن محمد بن ھبیرہ نے فرمایا کہ’’وقت وہ قیمتی ترین شے ہے جس کی حفاظت کا تمہیں ذمہ دار بنایا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے پاس نہایت آسانی سے ضائع ہو رہی ہے۔‘‘(ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، 4: 195)

امام رازی فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! مجھ کو کھانے کے وقت علمی مشاغل کے چھوٹ جانے پر افسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ وقت متاع عزیز ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی وقت کے بڑے قدردان تھے۔ ان کے اوقات معمور رہتے تھے۔ کسی وقت خالی نہ بیٹھتے تھے۔تین مشغلوں میں سے کسی نہ کسی میں ضرور مصروف رہتے تھے،مطالعہ ٔ کتب یا تصنیف و تالیف، یا عبادت۔ (بستان المحدثین)حتّیٰ کہ جب تصنیف و تالیف کے کام میں مشغول ہوتے اور درمیان میں قلم کا نوک خراب ہوجاتا تو اس کو درست کرنے کیلیے ایک دو منٹ کا جو وقفہ رہتا، اس کو بھی ضائع نہ کرتے، ذکر الٰہی زبان پر جاری رہتا اور نوک درست فرماتے اور فرماتے وقت کا اتنا حصہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔وقت مال سے بھی زیادہ قیمتی ہے، کیونکہ مال اگر ضائع ہو جائے تو کافی محنت اور مشقت کر کے  جمع کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر یہ وقت ضائع ہو جائے تو قیامت کی صبح تک پوری دنیا کی مال و دولت کے بدلے بھی اسے خریدا نہیں جاسکتا۔وقت کی مثال ربڑ جیسی ہے، اس کو کھینچنے سے لمبائی بڑھتی چلی جاتی ہے،جب اس کو اپنی حالت پر چھوڑ دے تو سکڑ کر اسکی لمبائی گھٹ جاتی ہے۔ وقت کا صحیح استعمال برکت کا باعث بنتا ہے۔مختصر سے وقفے میں بڑے بڑے کارنامے وجود میں آجاتے ہیں۔بسا اوقات تو ایسے کارنامے رونما ہوجاتے

 ہیں کہ دنیا صدیوں تک یاد رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ انسان کو جسمانی صحت اور فراغت اوقات کی نعمتوں سے نوازتا ہے تو اکثرانسان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہنی والی ہیں اور ان کو کبھی زوال نہیں آناہے، حالانکہ یہ صرف شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔ جو اللہ ان عظیم نعمتوں سے نوازنے والا ہے وہ ان کوچھین بھی سکتا ہے۔دور حاضر میں internet  کے ذریعے لوگ اہم اہم چیزیں تلاش کرلیتے ہیں،لیکن وقت ہی وہ شئے ہے جسے دوبارہ کسی بھی قیمت پر لایا نہیں جاسکتا ،دنیا امیر کبیر لوگ اگر اربوں روپیہ بھی خرچ کر دیں پھر بھی گئے ہوئے وقت کولوٹانہیں سکتا،انسان مریخ (Mars Planet ) پر بسنے کوتیار ہے لیکن چاند پر بھی قبضہ کرنے والا انسان وقت کی رفتار کوآج تک پکڑ نہیں پایا،دنیا کے پیسے والے لوگوں کو چاہیے تھا کہ اربوں روپیہ بہانے سے بہتر ہے کہ گزرے ہوئے وقت میں سفر کرکے دنیا کو اچھے سے رہنے کے لائق بناتے۔کیوں کہ ان کے نزدیک ،دنیا چند سالوں میں رہنے کولائق نہیں رہے گی،دنیا کو ایک نا ایک دن تباہ ہونا ہے توکیوں نا وہ اربوں روپے خرچ کرکے ایسی Machine  بناتے کے جس سے Time travel ممکن ہو،اور گزرے ہوئے وقت میں جا کر سب ٹھیک کردیتے ،اگرچہ انسان سالوں سے Time machine بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ گزرے ہوئے وقت میں جایا جا سکے ،آگے کے وقت میں سفر کیاجاسکے لیکن آج تک کامیاب نہیں ہوپایا،دنیا پہلے بھی اللہ کی طاقت کے آگے بے بس اور مجبور تھی اورآج بھی دنیا اللہ کے سامنے مجبور ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ رہے گی۔کہا ںگیا ان دولت والوں کا رعونت آمیز انداز ،جس میں یہ اللہ کے بندوں کو ہمیشہ ذلت آمیز جملوں سے یاد کرتے ہیں؟ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اس Formulaپر عمل کرنے والے کہاں ہیں؟کیوں نا وہ گزرے ہوئے اور آنے والے وقت کو بھی خرید لیں؟لیکن تم جہاں جائو گے وہاں اللہ کی ہی حکمرانی ہے۔انسان اللہ کو کبھی عاجز نہیں کر سکتا۔دولت انسان کوآرام تو دے سکتی لیکن سکون نہیں۔مسلمانوں کو اس پر ایمان کیوں نہیں ہے،کہ ہر شئے اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے؟کیوں ہم طاغوتی نظام کی Technology سے مرعوب اور خوف زدہ ہیں؟کیا اللہ نے ہماری ہمیشہ مدد نہیں کی ہے ؟کیا قرآن پاک میں اللہ کا وعدہ جھوٹاہے؟(معاذاللہ)اللہ پاک قرآن مجید ذریعے ہم انسانوں سے آج بھی یہی کہ رہا ہے!

کی محمدﷺسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا ؟لوح وقلم تیرے ہیں

تبصرے بند ہیں۔