تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ – قسط ۴

امت مسلمہ کا دعوتی تناظر:  ایک ایسی امت کے لیےکردار کی یہی وہ مطلوبہ تبدیلی ہے جس کا نصب العین، تمام چیزوں سے یکسو کرکے، اللہ نے صرف یہ متعین کیا ہےکہ وہ لوگوں پر اللہ کی شہادت قائم کریں، صراطِ مستقیم کی دعوت دیں، یعنی اپنے خودساختہ خداؤں اور دیوتاؤں کے استبداد اور انھیں جیسے انسانوں کے جبر سے نجات دلائیں جو دولت و قوت کے زور پر انسانوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ایک نظام عدل و قسط قائم کریں۔ اس منصب کی خاطر ہمیں پھر سے قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ابدی ہدایت کے سرچشمہ سے روشنی کا یہ اکتساب دور آئند اور دعوت کے حرکی تناظر میں ہونا چاہیے۔ اور اس امر کے احساس کے ساتھ کہ ہم نوع انسانی کا حصہ ہیں اور اسکی اخروی فلاح کے لیے درد مندانہ احساس رکھتے ہیں۔
تاہم یہ ملحوظ رہے کہ قرآن و سنت کی طرفاس رجوع کا مقصد قدیم فقہ و علما کا انکار یا تردید ہرگز نہیں ہے۔ اس نظری سفرمیں،ابدی و زمانی عناصر کے امتیاز کے ساتھ، ہم ان کی بیش قیمت آرا سے بھی اپنی صواب دید سے استفادہ کریں گے۔
اسلامی رویے کی حامل اقدار:  توحید الوہیت کے بعد اسلام کی اہم ترین قدروحدت بنی آدم ہے۔ قرآن سختی سے متعدد خداؤں اور دیوتاؤں کی تردید کرتا ہے۔ استصور کی تردید کہ کارِ خدائی میں چھوٹے بڑے، ادنیٰ، اعلیٰ خداؤں کی شرکت ہے۔قرآن اس تصور کو بھی رد کرتا ہے کہ قوت اور اقتدار عالمِ ظہور میں مختلف خداؤں کے درمیان منقسم ہے۔ مثلاً زندگی اور موت کے خدا، دولت اور تحفظ کے خدا، حسن اوربدصورتی کے خدا وغیرہ۔ تعدد الوہیت کی اس اسلامی تردید کی اساس وحدت الوہیت پر ہی نہیں بلکہ وحدت بنی آدم پر بھی قائم ہے۔ قرآن اس حقیقت کو بڑے پرزور انداز میں بیان کرتا ہے کہ تمام انسان، مرد و زن ایک ہی خدا کی تخلیق ہیں اس لیے اپنی اصل میں یکساں ہیں:
  لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دےکر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سےپرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔(النساء : ۱)
تمام انسان ایک خدا کے بندے ہیں اس تصور کومزید تقویت دینے کے لیے خدا کے لیے پالنہار، یا قرآنی اصطلاح میں ’رب‘ کا لفظاستعمال کیا گیا ہے۔ یعنی تمام انسانوں کا ایک ہی رب، پالنہار اور محافظ ہے۔ خواہوہ مسلمان ہوں، عیسائی، یہودی یا اور ہوں۔ وہ رحم مادر میں ہوں، ماں کی گود میں یازندگی کے کسی بھی مرحلے میں انھیں پیدا کرنے والا اور ان کی سانسیں تھامنے والاایک ہی خالق اور کریم رب ہے۔ تاہم انسان اس حقیقت کے اعتراف اور فرماں برداری میں بٹے ہوئے ہیں۔ 
اللہ میرا رب بھی ہے او ر تمہارا رب بھی،لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔( آل عمران: ۵۱)
اسلام کا بنیادی نظریہ ہی اس خیال کی تردیدکرتا ہے کہ انسان بوجوہ پیدائش یا سنل ادنیٰ اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ یہ تصور کہ بنینوع انسانی ایک آفاقی برادری ہے کوئی خارجی نظریہ نہیں بلکہ اسلام کا اصول اصلی ہے۔یہ اسلامی نظریہ کا ایک جزو ہے جسے اس سے الگ کیا ہی نہیں جاسکتا ۔۔۔ قرآن کی متعدد آیات انسانی برادری کی آفاقیت پر زور دیتی ہیں مثال کے طور پر یہ آیت ملاحظہ کیجیے:
  ابتداءًسارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اوراگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہباہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا۔( یونس: ۱۹)
ذات پات، رنگ، نسل، علاقہ معاش یا معاشرتیرتبہ کی تمام تفریقات اسلامی نظریہ انسانی کے لیے بے معنی ہیں۔ صنفی عدم مساوات کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرمؐ کا خطبہ اس کی روشن دلیلہے:
اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ تمہارا رب ایک ہےاور بے شک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عربی کو غیر عرب پر اور  کسی غیر عرب کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اورکسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے۔ سوائےتقویٰ کے۔( بیہقی)
اسلام انسانوں کے بیچ جس واحد امتیاز کومانتا ہے اس کی بنیاد ہے انسانوں کا اپنے خالق کو شعوری طور پر پہچاننا اور اس کےتعلق سے ان میں گہرے احساس شکر اور اس کی فرماں داری کا پایا جانا۔
دوہرے مناسب کا تکملہ
نوع انسان کی مساوات کی مذکورہ بالااساسیات سے انسانی رویوں کے چند اصول اخذ کیے ہیں۔ ایک مسلمان جسے اللہ پر ایماناور روز حشر کی جواب دہی کا گہرا احساس ہے اسے حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھاللہ کی مخلوق کے تعلق سے بھی اپنے فریضہ یعنی حقوق العباد کو نبھانا ہے۔ اسلاممیں یہ دونوں فریضے ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔ آخر الذکر میں سستی کا نتیجہ حساب کےدن اول الذکر کی قدر و قیمت میں تخفیف کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ایک  ارشادنبویؐ میں ان دونوں فرائض کی باہمی تکملیت کو یوں پیش فرمایا گیا ہے:
 میری امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز اور روزے اور زکوۃ لے کر آئےگا(یعنی اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں گی اور روزے بھی رکھے ہوں گے اور زکوۃ بھی ادا کی ہوگیاور ان سب کے باوجود اس حال میں (میدانِ حشر) آئےگا کہ کسی کوگالی دی ہوگی اور کسیکو تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا ناحق مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اورکسی کو بےجا اور ناحق مارا ہوگا۔ چونکہ  قیامت کا دن انصاف اور صحیح فیصلوں کا دن ہوگا،اس لیے اس شخص کا فیصلہ اس طرح کیا جائے گا کہ جس جس کی حق تلفی کی تھی سب کو اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔ کچھ نیکیاں اس حق دار کو دیدی جائیں گی اور کچھ نیکیاں اس حق دار کو دیدی جائیں گی۔ پھر اگر حقوق پورے نہ ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو حق داروں کے گناہ اس کے سر پر ڈال دیے جائیں گے،پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائےگا۔(مسلم)
فطری وسائل بھی تخلیق کا حصہ ہونے کے سبب ایک مسلمان کے دستور العمل میں بے جا ضیاع اور مسرفانہ استعمال سے حفاظت کے متقاضی و مستحق ہیں۔ فساد اور اسراف کو اللہ نے ناپسند کیا ہے۔ ان اصطلاحات کا استعمالقرآن اور حدیث میں مختلف سیاق میں ہوا ہے۔ یہ اہم انسانی و سماجی مضرات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کے بگاڑ اور فطری وسائل کے مسرفانہ استعمال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ان حدیثوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں جو پانی کے بے جااستعمال اور مادی وسائل (المال) کی بربادی اور ضیاع سے منع کرتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلیاللہ علیہ وسلم بے فائدہ بہت سوال کرنے سے منع کرتے تھے اور مال ضائع کرنےسے۔(مسلم)
تمام انسان اللہ کی نظر میں برابر ہیں اسلیے عدل اور مساوات جو اسلامی رویے کا سب سے اہم حصہ ہیں کے لیے یکساں طور پر حقدیتا ہے۔ دنیا کو ایک مبنی عدل اور مساوی فطری نظام کے طور پر تخلیق کیا گیا ہے۔اس امر کی شاہد یہ حقیقت ہے کہ فطرت کے وسائل تمام انسانوں کو بلاتفریق ِ مذہب ورنگ و نسل یکساں طور پر حاصل ہیں۔ سورج کی روشنی، بارش، پھولوں کا کھلنا، پھلوں کی مٹھاس، ستاروں کا چمکنا، سورج اور چاند کی تمازت وحدت، اور فطرت کی حسن سب کے لیےفائدہ کے یکساں طور پر موجود ہیں۔ جو بھی فطرت کے اس خزانے سے فائدہ اٹھانا چاہتااپنی سعی و کاوش کے بقدر پاتا ہے۔ فطرت اپنے انعامات کی بارش، رنگ، نسل، زبان دیکھ کر نہیں کرتی۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:
اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوںکو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے ربکی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔( الاسری:۲۰)
اور ایک دوسرے سیاق میں فرمایا گیا ہے:
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوںکے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں ۔( الجاثیہ: ۱۳)
اب فیصلہ انسان کا ہے خواہ وہ دنیوی مفادات کے حصول کے پیچھے بھاگے یا آخرت کے لیے تگ و دو کرے۔ معاشی و معاشرتی نظام میںعدم مساوات انسان کی اپنی پیدا کردہ صورت  ہے۔فطری نظام کے ساتھ ہم آہنگ، اسلام معاشی نظام کی اساس مساوات اور عدل پر رکھتاہے۔ قرآن کے مطابق تمام آسمانی الہامات نازل کرنے کا مقصد قیام عدل ہے:
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اورہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پرقائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیےکیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کےرسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ (الحدید: ۲۵)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام عدل کی بنیاد پر تمام انسانی تعلقات کی تنظیم نو کی وکالت کرتاہے۔  اور عدل کو انسانیت نوازی اور رحم دلی کےامتزاج کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ عدل کا ظالمانہ اور مجرد تصور اس کے معاشرتی نظام سےہم آہنگ نہیں ہے جیساکہ قرآن و سنت کا پیش کردہ جزا و سزا کا نظام اس کا شاہدہے۔ الٰہی احکامات کے مقاصد سے ایک واضح بیان میں قرآن عدل کے انسانیت نواز تصورپر زور ڈالتا ہے:
اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکمدیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتاہے تاکہ تم سبق لو۔( النحل: ۹۰)
 عدل و احسان کےتصور کا سب سے اہم پہلو اس آفاقی حقیقت پر مبنی ہے کہ مسلمان روز مرہ کے تمامانسان عدل و احسان کے مساوی حق دار ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطرراستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تمکو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہمناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوریطرح باخبر ہے۔( المائدہ: ۸)
یعنی عدل محض مسلم معاشرے کے افراد کا ہیحصہ نہیں۔ بین مذہبی اور بین معاشرتی تعلقات کی عدل گسترانہ تقسیم میں کھلی دشمنیبھی عدل و احسان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
غیر مسلموں کے تئیں رویوں کے اصول
عالمی برادری کے ارکان کی حیثیت سے تمام مرد و خواتین یکساں احترام و اکرام کے حق دار ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق مثلاً حقزندگی، حق انفرادی شرف، حق جائداد اور حق آزادی ِ مذہب سب کے لیے یکساں ہیں۔قرآن و سنت کے اخلاق تو اور ان حقوق میں امتیاز برتنے سے پامال ہوتے ہیں۔
خصوصاً مذہبی آزادی کے حق کو تحفظ کاانتہائی خیال رکھا گیا ہے۔ اسلام کا تصو ّر عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایساہی ہونا بھی چاہیے تھا۔ اسلام کے اس تصور انسانیت کے ایک مسلمان کے اپنے دیگر انسانیاس کے اپنے ہم سائے سے، معاشرہ جس میں وہ رہتا ہو اور اپنے ہم وطن بھائیوں سے۔بھائیوں سے سلوک / رویّے کے مثبت اثرات کیا ہیں؟
احترام و اکرام، رحم دلی، فیاضی، ایمانداریاور تمام معاملات میں خوش خلقی، حاجت مندوں اور غربا کی اعانت وہ چند بنیادی اقدارہیں جو ایک مسلمان کی روز مرہ زندگی کے معمول کو شامل ہیں۔ قرآن اور سنت ان اقدارکی تنفیذ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی امتیاز نہیں کرتے۔
جان کی حرمت: اسلام تمام ایمانوالوں کو سارے انسانوں کی جان کےاحترام و تحفظ کی تعلیم دیتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ قرآن حرمت جان کو مقدم ترین ٹھہرانے میں بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ اس کی بے حرمتی نہیں ہوسکتی الاّ یہ کہ اس سے حق اور عدل کے تقاضوں پر زدپڑتی ہو۔ اس صورت میں بھی بالکلیہ کم از کم حرج کے ساتھ۔
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیںپکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کےمرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا۔( الفرقان: ۶۸)
بہتر سلوک، سب کے ساتھ: قرآن خبردار کرتا ہے کہ اللہ دین کے معاملوں میں تم سے برسر پیکار لوگوں سے بھی اچھےسلوک سے منع نہیں کرتا کیونکہ بھلے طریقہ اور رواداری وسعتِ ظرفی اسلام کی بنیادیں۔ جنگی حالات میں بھی اسلام سخت ترین شرائط عائد کرتا ہے تاکہ ان بنیادی اقدارکیپامالی نہ ہونے پائے۔
خوش گوار انسانی تعلقات کی استواری اوربہتری کے سلسلے میں قرآن بہت مثبت ہے اس کی مثال یہ آیت ہے: 
اللہ تمیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے اللہ انصاف کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔( الممتحنہ: ۸)
اپنی آفاقیت اور جوش میں رسول ِ خداؐ کییہ حدیث بھی بے نظیر ہے:
مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کےنزدیک وہ شخص بہت محبوب ہے جو حق تعالیٰ کے کنبہ کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ (مشکوٰۃ)
قرآن حکیم عبادت کے ساتھ ساتھ ایمان کےاہم لوازمات میں تمام انسانوں کے ساتھ اچھے تعلقات (اس میں ہمسائیگی کے تعلقات بھیشامل ہیں(
ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابتداروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دارسے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جوتمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسندنہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے۔ ( النساء: ۳۶)
ہمسائے کے ساتھ اچھے سلوک کے سلسلے میںمتعدد  ارشادات رسولؐ وارد ہیں ۔ مثال کےطور پر چند یہ ہیں:
ایک موقع پر آپ  نے ارشاد فرمایا : اس ذاتکی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوسکتا ، جب تکاپنے بھائی اورپڑوسی کے لیے وہی چیزیں پسند نہ کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتاہے۔ ( مسند احمد)
جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو وہجنت میں داخل نہ ہو گا۔( مسلم)
حضور ﷺ نے فرمایا: وہ بندہ جنت میں داخلنہیں ہو گا۔ جس کا پڑوسی اس کی ایذاؤں سے امن میں نہ ہو۔( مسند احمد)
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ کامل مومننہیں جو خود آسو دہ حال ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔( طبرانی)
اسی طرح تجارت میں معاملات کو جائز اورایماندارانہ طریقے سے نبھانا بھی مسلمان کے بنیادی فریضوں میں شامل ہے۔ یہ بھیآفاقیت سے مملو ہیں یعنی مسلم اور غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں۔ دھوکہ اور بےایمانی کے کام ہر حال میں قابل ِ ملامت ہیں خواہ اس کے متأثرین کوئی بھی ہوں اوراسے کرنے والے کیسے ہی مذہبی خیالات کے حامل ہوں۔
اس طرح معاشی معاملات میں، بلاتفریق مذہباور سماجی و معاشی رتبے کے، کسی کی کمزوریسے فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔ تجارت اورمعاشی معاملات کے سلسلے میں عام ہدایات قرآن کی متعدد آیات میں ملتی ہیں۔ ایکاہم آیت بنیادی قاعدہ کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مالناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیںدوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔(  البقرہ: ۱۸۸)
اس سلسلہ کی چند متعلقہ احادیث یہ ہیں:
اپنی امانتوں کو بحسن و خوبی ادا کرو اور جنہوںنے تمہیں دھوکہ دیا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ  تم بھی انہیں بدلے میں دھوکہدو۔(ترمذی)
)قول وفعل میں) نہایت سچائی اور نہایت دیانت داری کے ساتھ کاروبار کرنے والا شخص نبیوں،صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔( ترمذی، دارمی، دارقطنی، بحوالہ مشکوٰة)
اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت ،خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اختیارکرے۔ تنگ دست کو ادائے قرض معاف کرے اورمالدار سے تقاضا کرنے میں نرمی اختیار کرے ۔(بخاری)
مسلمان کے اہم فرائض میں سے ایک یہ بھی ہےکہ وہ غریبوں حاجت مندوں ،کمزوروں اورمحروموں کی دست گیری اور اعانت کریں۔ غریبوںاور حق دی کو کھلائے اور نبھانے کی اس ذمہ داری کے حوالے سے اللہ کے رسولؐ نےفرمایا ’’کہ اللہ کسی قوم کو اس کے غربا اور مساکین کی بنا پر اپنی نعمتوں سےنوازتا ہے۔اس سلسلے  کی ذیلی روایات  اسلام کی اسی فکرمندی  وہمدردی کی غمازہیں:
جو بیوا ؤں اور ناداروں کی مدد کرے لیےکوشاں رہتا ہے اس کی  مثال ایسی ہی  ہے جیسے اللہ  کی راہ میں جہاد کرنے والا۔یا شاید اللہ کے رسولؐ نے یوں فرمایا:  جوساری رات نماز میں اللہ کے حضور قیام کرے یا جیسے کوئی مسلسل روزے رکھے۔ (بخاری)
اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے: مجھے غرباء ومساکین  کے ذریعے تلاش کرو کہ تمہیں  ان ہی کی بدولت رزق دیا جاتا ہے ۔ (ترمذی)
نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ: عدل وانصاف کے قیام اور تمام انسانوں سے کھلے تعلقات کے لازمہ کے طور پر جبر و ظلم اورانسانوں کے استحصال کے سد باب کو تمام مذاہب نے اور خصوصاً اسلام نے بنیادی مقصدقرار دیا ہے۔ اسلام کا مقصد مسلمانوں کی سماجی زندگی میں جبر و ظلم پر پابندی عائدکرتا ہے۔ مسلمان کی زندگی کا محور جبر و ظلم کو تمام شکلوں میں خواہ وہ سیاسی ہومعاشی یا سماجی خاتمہ چاہتا ہے۔ اسلام کے نزدیک ناانصافی اور ظلم کا خاتمہ تبھی ممکنہے جب انسان اپنے خالق کو پہچانے اور اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو اس کے امکاناتکا پابند بنائے۔ اسلام کے نزدیک سب سے بڑا ظلم تو خود یہی ہے کہ انسان اپنے خالقاور مالک کے احسانات کے بدلے میں اپنی زندگی کو اس کا تابع کرنے سے انکار کردے۔انسانی رویوں میں انصاف کی بہترین تنفیذ اسی وقت ممکن ہے جب اسے انسانوں کے پیداکرنے والے کی مرضی کی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔
ظلم اور نا انصافی اسلامی سماجی تصور میںسب سے گھناؤنا فعل ہے۔ مسلمان کا منصب ہر ظلم اور ناانصافی کی ہر شکل کے خاتمے کےلیے انتھک جدو جہد قرار دیا گیا ہے یہ منصب اس کی روح کو جلا بخشتا ہے اور اس کی تمام تگ و دو کو اللہ کی نظر میں قبولیت کا شرف دلاتا ہے۔ اس کے برعکس ظلم یعنی ناانصافی انکار ایمان کے مماثل ہے جو اللہ کے غصہ اور ناراضی کا سبب اور انسان کےتمام اچھے اعمال کے ضیاع کا باعث ہے۔ انصاف کا قیام اور ظلم کا سد باب مسلمان کیزندگی میں رنگ بھرتے ہیں۔ یہ دونوں عناصر مل کر ایک اہم مرکب کی تعمیر کرتے ہیں۔
ظلم کی اصطلاح قرآن میں دو وسیع معنوں میں استعمال کی گئی ہے۔ پہلا اور بنیادی معنی تو اللہ کی ناشکری اور اس کے ساتھ خدائیمیں دوسروں کو شریک ٹھہرانا ہے۔ دوسرا معنی جو اپنی شناخت میں کم نہیں ہے اور اللہکے غضب کو دعوت دینے والا ہے وہ ہے انسانوں کے ساتھ ظلم اور استبداد۔ موجودہ سیاقمیں ہم سماجی تعلقات میں ظلم کے بزم کی سنگینی کی بات کر رہے ہیں۔ قرآن کی ذیلی آیات اسی کا امثال و اظہار ہیں:
 خوب جان لو کہ ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا۔( آل عمران: ۵۷)
قرآن تاکید کرتا ہے کہ کسی قوم پر اللہ کاعذاب تبھی آتا ہے جب وہ ظلم کے راستے کو اپناتے ہیں:
اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جبتک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔( القصص: ۵۹)
جو لوگ جبر اور ظلم کی روش اپناتے ہیں وہسخت ترین عذاب کے سزاوار ہیں۔
 اور جولوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی ۔ملامت کے مستحق تو وہہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کےلیے دردناک عذاب ہے۔( الشوری: ۴۱-۴۲)
فرعون کا قصہ انسانوں پر ظلم کے رویّے کیہی مثال تھا۔ جس کے لیے اسے سزا ملی۔
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کیاور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتاتھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقعوہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔(القصص: ۵)—آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندرمیں پھینک دیا اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔(القصص: ۴۰)
بعض روایات جبر اور ظلم کو بروز ِ حساباللہ کے نزدیک سب سے گھناؤنے جرائم قرار دیتی ہیں۔ 
ظلم قیامت کے دن  ظالم کے لیےتاریکیوں کا سبب بنے گا۔( متفق علیہ)
حضرت ابوذرؓ سے مروی ایک حدیث قدسی ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بیان کیا (کہ)اللہ فرماتا ہے: اےمیرے بندو ! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تم پر بھی حرام کیا ، تو تمآپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔(مسلم)
جو شخص ظالم کی مدد کرے یہ جانتے ہوئے کہوہ ظالم ہے وہ اسلام کے دائرے سے خارج  ہوگیا۔( مشکوٰة)
مظلوم کی آہ سے بچو کہ اس کے اور اللہ کےبیچ کوئی آڑ نہیں ہوتی۔( متفق علیہ)
مزید اللہ کے رسولؐ نے خادم ہر تشدد اورظلم کو ایسا گنہ قرار دیا ہے جس کی سزا بروز حشر ضرور دی جائے گی۔  (طبرانی، ترغیب و ترہیب)
قرآن ظلم کو انسانی رویّے کا سب سے قابلنفریں پہلو قرار دینے کے بعد اسے یوں ہی چھوڑ نہیں دیتا بلکہ یہ مسلمانوں کو ایکایسے سماجی نظام کو برپا کرنے کے لیے مہمیز کرتا ہے جو ظلم و جبر کی تمام شکلوں سےپاک ہو۔ اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھنے والوں کے لیے اپنے نجی اور انفرادیمعاملات میں ظلم سے باز رہنے کی تلقین ہے۔ لیکن وہ اس پر ہی بس نہیں کرتے اور نہانھیں کرنا چاہیے۔ ان کے اوپر انصاف اور عدل کے قیام کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات سے باخبر رہیں اور ظلم و جبر کا شائبہ دور کرنے کی تگ و دو میںجٹے رہیں۔
یہی وہ عظیم جدو جہد ہے جو اللہ کی نظر میںقبول ہے۔ مجبوروں اور مظلوموں کو بے دست و پا نہ چھوڑدینے کی ایک دلدوز تلقین میںقرآن مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ وہ ان کی خاطر لڑیں اور ضرورت پڑے تو اپنی جان تکنچھاور کردیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُنبے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اورفریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنیطرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔(النساء : ۷۵)
امتیازی اوصاف: مذکورہ بالا مباحث سے اسلامی اقدار کے امتیازی اوصاف واضح ہوجاتے ہیں جو اپنے اورمقتضیٰ میں ارفع و اعلیٰ ہیں۔
اولاً، انسانی کی اپنے خالق اور اس کےبندوں کے تئیں ذمہ داری کو دینی اور اخلاقی رویوں کے ایک متوازن  مرکب میں ڈھال دیا گیا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی رویّے کے دو لاینفک پہلو ہیں: اس کی انسانی جیت اس کے روحانی پہلو کا حصہ ہے۔انصاف اور انسانوں کے محبت اللہ اور اس کی صفت ِ رحیمی پر ایمان کا حصہ ہے۔ اللہکے راستے میں جدو جہد مظلوموں اور مجبوروں کی حمایت اور ان کی نصرت سے عبارت ہے۔دین کی اس دوہرے پہلوؤں میں سے کسی ایک میں بھی ناکامی اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔بالفاظ ِ دیگر اسلامی دستور العمل کی انسانی جہت محض دوست بنانے اور لوگوں کومتاثر کرنے کا لائحہ عمل نہیں ہے۔
ثانیاً، اسلامی اقدار تمام انسانی برادریکے لیے ہیں۔ یہ آفاقی ہیں۔ اسلام اس عملی رویے کو ناپسند کرتاہے جس کی رو سےبھلائی کسی خاص طبقۂ انسانی تک محدود ہو۔
عدل ہر انسانی رویے کی اہم شرط ہے جو تمامانسانوں کے لیے بلاتفریق سماجی، معاشی یا تمدنی امتیازات کے یکساں طور پر عایدہوتا ہے۔
ہندو، ہوں یا مسلم ، عیسائی اور یہودی بنیادی انسانی اقدار کے لیے تمام یکساں طور پر حق دار ہیں۔ مظلوم سےصرف اس وجہ سےچشم پوشی کرنا کہ وہ غیر قوم سے تعلق رکھتا ہے، اسلامی رویے کے یکسر مغائر ہے۔

تبصرے بند ہیں۔