جہیز

رضیہ سلطان

(بارہمولہ)

                اسلام نے مسلمان کوشاد ی بیاہ کے تمام جاہلانہ قیود وبنداورنئے پرانے رسم ورواج سے آزادکردیاہے اورشادی کواتنا آسان بنادیا کہ خواہش اورتھوڑ ی سی بھی استطاعت رکھنے والا ہرشخص اپنی مرضی سے جب چاہے حدودنکاح میں عورتوں کواپنے حرم میںلے سکتاہے۔ اسلام نے ایک جانب شادی سے متعلق اوہام، غلط نظریات وافکار کو رد کیاتودوسری جانب اجازتوں کادائرہ وسیع کیا۔ آسان ترین نکاح کی اجازت دے کر ملت اسلامیہ کوایک ایسی نعمت سے نوازا ہے جو فحاشی، جنسی بے راہ روی، زنا، بدکاری جیسے گھناؤنے گناہ وجرائم سے مکمل پاک وصاف ہے۔ سنت کے مطابق نکاح کوآسان اورزنا وعیاشی کوحرام قراردیا۔

                دنیا کے کئی قطعوں میں ملت کابڑا حصہ ّ نکاح کو بہت آسان طریقے پرانجام دیتاہے ۔ جبکہ چند ایسے ممالک ہیں جہاں مسلما ن اجتماعی طورپرنکاح کے سلسلہ میںبہت بڑے منکرات ،خرافات ،رسم ورواج ،سماجی طورطریقے میںپھنسے ہوئے ہیں ،نت نئے خرابیوں، لعنتوں اورلغویات میں نکاح کوجکڑ دیاگیاہے ۔نکاح کے معاملے میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے کتاب وسنت سے انحراف کیااور ایسا نہج وطریقہ اختیا ر کیاجو اسلامی نہیں بلکہ زیادہ تر کافرانہ وملحدانہ ہے۔ اسلامی نکاح کے طریقے پرغیراسلامی روایات، تہذیب وتمدن کاگہرا رنگ چڑا ہواہے جیسے جوڑے کی رقم، جہیز کی تقریبات کے اخراجات ،لڑکیوں اورعورتوں سے حاصل کئے جارہے ہیں۔ یہ مظالم جوہمارے ہی مرد ملت پر ڈھارہے ہیں جس سے بڑے بڑے مجرم شرماجائیں۔ ملت میںجہاں بہت سے فتنے اس وقت سر اٹھارہے ہیں۔ اسی طرح نکاح میں جہیز اورطلب نقود (نقد رقم کامطالبہ) کافتنہ بھی زوروں پرہے۔ مسلمان جب کسی نیکی کاانفرادی واجتماعی طورپراستحصال کرتے ہیں تواس سے فتنے پیداہوتے ہیں۔ نکاح جیسے صالح ونیک کام میں بھی استحصال کیاجارہاہے اورشریعت اسلامی سے انحراف کرکے نکاح سے متعلقہ تمام تقاریب اسراف،لغواورمنکرات سے بھرے ہوئے ہیں۔

                جہیز کی اس رسم نے ہمارے معاشرتی نظام کو کھوکھلا کردیاہے۔ نکاح ایک عبادت ہے اورظاہرہے عبادت میں وہی اصو ل اپناے جائیں گے جو قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ دین اسلام میں جہیز کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ بدقسمتی سے ہماری اس وادی میںجوکہ مسلم اکثریتی خطہ ہے میں بھی یہ رسم پائی جاتی ہے۔ چند ماہ قبل اخبارات میں دل دہلانے والا واقعہ سبھی کی نظروں سے گذراہوگا۔ جس میں ایک مسلم لڑکی کاقتل جہیز نہ دینے کی وجہ سے ہوا۔ دین اسلام سے پہلے عورت معاشرہ میں کمزوررہی۔ استحصالی طبقہ نے ہمیشہ اس کی کمزوری کافائدہ اٹھایااورجہیز اسی کی ایک کڑی ہے۔

                یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ جہیز خالص ہندوستانی رسم ہے اورہندو معاشرے میں زمانہ قدیم سے رائج ہے، ہندوستان کے سوا دنیاکے کسی خطہ میں جہیز کی رسم نہیں پائی جاتی ہے۔ ہندودھرم کے مطابق سب سے معیاری شادی وہ ہے جس میں مختلف زیورات اور پوشاک سے سجی ہوئی لڑکی مختلف قسم کے تحفہ وتحائف کے ساتھ کسی ہم ذات اور اچھے اور بہترین شہرت والے مرد کومدعو کرکے دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں میںبھی یہ رسم بدراہ پاگئی، ازاں جملہ اور شادی کے موقع پر اداکئے جانے والے طورطریقے یقینی طورپر مقامی تمدن ہی کا نتیجہ ہے۔

                جہیز کالفظ عربی زبان سے اردو میں آیاہے عربی میں جَھَزَیُجَھِّذُ تَجْھِیْذًاکے معنی سامان مہیا کرناہے یہی عربی لفظ اردو میں آکر جہیز بن گیا اورایک مخصوص موقع پر مہیا کئے جانے والے سازوسامان کے لئے استعمال ہونے کی وجہ سے ایک اصطلاح کی شکل اختیار کرگیا۔ اب اردو میںجہیز اس سامان کے لئے استعمال ہونے لگاجو شادی بیاہ کے موقع پرلڑکی کواپنے میکے والوں کی طرف سے دیاجاتاہے۔

                دہلی سے نکلنے والے ایک مشہور جریدہ نے ضمیر کوجھنجھوڑ دینے والے ایک واقعہ کی اس طرح تفصیل دی کہ آگرہ کی رہنے والی چار سگی بہنوں نے پھندہ لگاکرایک ساتھ خودکشی کرلی۔ ان میں بڑی بہن پوسٹ گریجویٹ تھی۔ اس کے خط سے معلوم ہوا با پ کے انتقال کے بعدمعاشی بدحالی نے ان کی زندگی کودشوار بنادیاتھا۔ خاندان والے بھی کترانے لگے تھے۔اعلی تعلیم ہونے کے باوجود اسے کوئی اچھی ملازمت نہ مل سکی، مجبوراً اس نے ایک اسکول میںآٹھ سوروپے ماہوار کی ملازمت قبول کرلی۔ بھائی نے بہن کی شادی کے لئے بہت کوشش کی لیکن بے فیض رہی۔ چونکہ جہیز کے لئے رقم نہیں تھی اس لئے کہیں رشتہ طے نہیں ہورہاتھا۔ اس صورت حال سے دلبرداشتہ ہوکر سبھی بہنوںنے فیصلہ کرلیا کہ جب ہماری زندگی میں خوشیوںکی آمد کے کوئی آثار نہیں تو پھرکیوں نہ موت سے اپنا رشتہ استوارکرلیا جائے ،چنانچہ انہوںنے ایک ساتھ پھانسی کاپھندہ لگاکر اپنی زندگی کاخاتمہ کرلیا۔ آج کل اس طرح کے واقعات معمول بن گئی ہیں۔

                بعض حضرات جہیز کے جواز کے قائل ہیں۔ کوئی کہتاہے کہ جہیز دنیابالکل جائز ہے ،کیوںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کوجہیز دیاتھا۔ لیکن یہ  سراسر بہتان ہے۔ خود رسول اکرم ﷺ نے جتنی شادیاں کیں ان سے کہیں معلو م نہیں ہوتاکہ آ پﷺ کسی شادی میں کوئی جہیز ملاہو۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر  ؓ نے بھی حضرت عائشہ کی شادی کے موقع پرآپ کو جہیزمیں کوئی چیز نہیںدی ۔ خودرسول اکرم ﷺ نے اپنی چارصاحبزادیوں کی شادیاں کیں۔ مگر رسول اللہﷺ نے ان کو شادی کے وقت کوئی جہیز نہیں دیا۔ صرف حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح میںکچھ چیزیں دینے کا ذکرملتاہے تواس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سامان حضرت علی ؓ کے مال سے خریداگیاتھا۔ اس لئے جہیز توہے نہیں بلکہ شوہر کے ذریعے خرید اگیا سامان ہے۔ حضرت علی ؓ کے نکاح کی تفصیلات متعددکتابوں میں ملتی ہیں۔ حضرت علی ؓ چارپانچ سال کی عمر سے ہی رسول اکرمﷺ کے گھر میں پرورش پارہے تھے۔ اس لئے نہ ان کے پاس اپناکوئی علیحدہ مکان تھا اورنہ کچھ سامان تھا۔ اس لئے جب حضرت علی ؓ نے نکاح کاپیغام دیاتو اللہ کے رسولﷺ نے ان سے دریافت   کیاکہ گھرکے اخراجات اورمکان وغیرہ کیلئے کچھ ہے۔ حضرت علی ؓ کے پاس ایک زرہ تھی اورکچھ نہ تھا اس لئے وہی پیش کردی۔ چنانچہ وہ زرہ فروخت کی گئی۔ اس سے ۴۸۰ روپے حاصل ہوئے، ان پیسوں سے انہوںنے ایک چادر،ایک چار پائی، ایک کورہ، ایک کپڑا اورمشکیز ہ وغیرہ گھرکی بنیادی ضرورتیں خریدیں۔ کچھ رقم سے خوشبووغیرہ خریدی گئی اوربقیہ رقم مہرمیں دے دی گئی۔

                اس واقعے سے تمام لوگوں نے صراحت کی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کی زرہ کی قیمت سے خرید اگیا سامان تھا جو حضرت فاطمہؓ کی رخصتی کے وقت ان کودیاگیا۔ سوال پیداہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کوہی یہ جہیز کیوں دیاگیا دیگرشادیوں میں کیوں نہیں، تواس کی بھی بالکل معقول وجہ موجود ہے ۔دراصل ابوطالب کثیر العیال شخص تھے۔ انھوں نے بچپن میںاللہ کے رسول ﷺ کی کفالت کی تھی جب اللہ کے رسول ﷺ بڑے ہوگئے تو ابوطالب کابوجھ کم کرنے کے لئے حضرت علی ؓ کواپنی کفالت میں لے لیا۔ اس طرح اللہ کے رسول کا گھر حضرت علی ؓ کے لئے اپنا گھرتھا۔ شادی کے بعد نیا گھر بسانا تھا ا س طرح گویا اس موقعے پرحضرت علیؓ کے لئے گھربنایا گیا اور اس میں یہ احتیاط ملحوظ رکھی گئی کہ تمام سامان کاانتظام حضرت علی ؓ کے پیسوں سے ہی کیا جائے۔ گھر حضرت حارث بن نعمان نے ایک مکان حضرت علی ؓ کودے دیا۔

                 اس سامان کوموجودہ جہیز کی رسم کی بنیاد بنانا بڑی زیادتی کی بات ہے۔ اس سے صرف اتنا معلوم ہوتاہے کہ نکاح کے لئے لڑکے میںدولت وثروت دیکھنے کے بجائے تقویٰ و خداترسی کواہمیت دینی چاہیے۔ جہیز دینے والوں کویہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ معاشرے کاہر فرد جہیز دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ معاشرہ مرکب ہوتاہے امیر اورغریب گھر انوں سے، اس لئے اہل ثروت لوگوں کوچاہیے کہ وہ جہیزدینا بندکردیں تاکہ وہ لوگ جن کے پاس دولت کی سرمایہ کی کمی ہے،ان کے رشتے بھی آسانی سے ہوسکیں اوریہ عذر کرناکہ اگرجہیز نہ دیں گے توبرادری میںعزت کم ہوجائے گی، مناسب نہیں ہے اور اگرکوئی شخص ایساکرے تو یقین ہے کہ معاشرے میںبھی قدرکی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔لوگ اسکی عزت کریںگے لیکن اگربرادری کاخوف ہوتب بھی آدمی کواپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ جہیز کالینا اوردینا جہاں خلاف اسلا م ہے وہی خلاف فطرت اورخلاف عقل بھی ہے کیونکہ باپ ایک تواپنے جگرکے ٹکڑے کوکسی فرد کے حوالے کرناہے۔ وہ جگر کاٹکڑا جس کواس نے خونِ جگر سے پرورش کی ہواور وہ جگر کا ٹکڑا بھی اپناسب کچھ چھوڑ دے۔ لیکن صد حیف ! کہ ُسسرال والے ھل مِن مّزیداٍ کا نعرہ لگاکر بڑی رقم یاسامان کا مطالبہ کرکے بے غیرتی کاثبوت دیں……. اَلْعَجَبْ ثُمّ العجب ثُمّ العَجب!

                لہٰذا ہم آج فیصلہ کرلیںس کہ اس رسم بدکو مسلم معاشرہ سے ختم کریں۔ تاکہ ہمارا معاشرہ پاکیزہ معاشرہ بن جائے اور ہم امن وسکون اور آشتی سے جی سکیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا