خودکشی کی طرف بڑھتا رجحان اور اس کا حل

 ندیم خان

(بارہمولہ)

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں ؟ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا سامنا ہم سب کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے عزیزوں میں، جاننے والوں میں یا دوستوں میں کوئی نہ کوئی خودکشی کی’’ اٹیمپ‘‘ لازمی کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ بچ جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر انتقال کر جاتے ہیں۔ ہر خودکشی کرنے والا اپنے بعد ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس نے خود کشی کیوں کی؟کیا وہ زندگی سے اس قدر تنگ اور مایوس تھا یا اس کے حالات ایسے تھے کہ اس نے موت کو ہی گلے لگا لیا، درجنوں ایسے لوگ جنہیں زندگی کی تمام رعنایاں میسر ہوتی ہیں، وہ بھی خود کشی کر جاتے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ زندگی کی تکالیف اور مصائب کا خود کشی سے اتنا گہرا تعلق نہیں ہے جتنا عمومی طور پرجوڑا جاتا ہے۔ زیادہ تر خودکشی کرنے والوں کے بارے میں یہی قیاس آرئیاں کی جاتی ہیں کہ اسے فلاں مصیبت تھی،فلاں پریشانی تھی یا کوئی فلاں گھمبیر مسئلہ درپیش تھا جس کی وجہ سے اس نے ‘سوسائڈ اٹیمپ’ کی حالانکہ زیادہ تر محققین نے ایسی قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیا ہے

خودکشی کرنے والا آسانی سے اس کا ارتکاب نہیں کرتا بلکہ وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہے۔ عالمی سروے کے مطابق ہر چوتھا شخص اور ہر دسواں بچہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ خود کشی کرنے والوں کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے یعنی جو لوگ ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں وہی ایسے حرام کام کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ہر سال آٹھ سے10 لاکھ لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ دنیامیں ہر40 سیکنڈ میں ہر ایک فرد خود کشی کرتا ہے۔ لوگ سیاسی اور معاشی حالات سے پریشان ہوکر بھی خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

وادی کشمیر میں بھی خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان زندگی کی انمول نعمت کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ جہاں خودکشی کی خبر سنتے ہی ہر ایک انسان غم میں ڈوب جاتا ہے وہیں اس انتہائی اقدام کے وجوہات کا پتہ لگانے میں غیر معمولی دلچسپی بھی لیتا ہے۔

 آئے روز خودکشی کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں نوجوان لڑکی یا لڑکے نے گلے میں پھندا ڈال کر یا زہری شے کھا کر اپنی زندگی کا خاتمے کیا یا دریا میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو ہلاک کر دیا۔ ان واقعات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ نسل کتنی حساس ہے۔ بلکہ برداشت کی قوت میں بھی ان میں کتنی کمی ہے۔ بروقت نظر پڑنے سے اگرچہ اب تک کئی نوجوانوں کو خودکشی کرنے سے روکا بھی گیا ہے لیکن خودکشی کے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو کہ معاشرے کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ایک رپوٹ کے مطابق ملک میں سالانہ ایک لاکھ 35 ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں اور نوجوانوں میں خودکشی کے معاملات میں بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ اگرچہ جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں خودکشی کے واقعات نا کے برابر دیکھنے کو ملتے تھے لیکن گزشتہ برسوں میں یہاں بھی ان واقعات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اسلام میں خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا سنگین جرم، سخت گناہ اور باعث عذاب قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی صریحا ممانعت اور مزمت کی گئی ہے کیونکہ موت و حیات کا مالک صرف خدائے وحد و لاشریک ہے۔ لیکن جب انسان پر زہنی تناؤ مکمل طور پر حاوی ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ شاید موت کو گلے لگانے کے بغیر اس کے پاس اب کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہا ہے۔

تین بڑی وجوہات ایسی ہیں جن سے لوگ تنگ آکر کر خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،

1: نفسیاتی مسائل

نفسیاتی مسائل بھی خودکشی کی بڑی وجہ ہیں۔ جتنی تیزی سے دنیا ترقی کی جانب رواں ہے اتنی تیزی سے نفسیاتی مسائل سے لوگ دوچار ہورہے ہیں۔ ڈپریشن، (Depression) اینزائٹی، (Anxiety)اسٹریس، (Stress)کچھ ایسے نفسیاتی مسائل ہیں جنہیں ٹینشن کہاجاتا ہے۔ ذہنی و نفسیاتی تفریحات کے لیے نئی نئی ایجادات کے باوجود اس میں روز اضافہ ہی ہورہا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی تنزلی، انسانوں کے بدلتے رویے، دنیا کی ہوس، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی چاہت، باہمی تعاون کا فقداناور لاعلاج مرض وغیر ہ کچھ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے دن بدن نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان مسائل سے دوچارلوگوں کو دنیا اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آنے لگتی ہے۔ کسی کو اپنا مدد گارو معاون نہیں پاتا اور بالآخر گردش حالات سے تنگ آکر سب سے جدا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ کا بے جا استعمال اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ لوگوں کی ایک ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں انسانوں سے روابط آسان ہوگئے۔ دنیا کے کسی کونے میں بسنے والے سے اتصال ممکن ہوگیا ہے، انٹر نیٹ میں معلومات کا ذخیرہ ہے، مطلوبہ شئی سکینڈوں میں دستیاب ہوجاتی ہے وہیں اس کے بے جا اور غلط استعمال سے سماج و معاشرے اور خصوصا نوجوانوں اور بچوں پر مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے بے جا اور ضرورت سے زیادہ استعمال نے لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا، آپسی تعلقات ختم ہوگئے، جس کے سبب لوگ مختلف ذہنی و جسمانی عوارض و امراض کے شکار ہورہے ہیں، متعدد ذرائع کے مطابق لوگوں میں بڑھتے ڈپریشن کی ایک اہم وجہ اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ کا بے جا استعمال ہے۔ امریکہ کے ’’فلوریڈا اسٹیٹ انٹرنیشنل اسکول‘‘ کے محققوں کے مطابق اسمارٹ فون پر زیادہ وقت گذارنے سے خودکشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تھومس جوئنر کا کہنا ہے کہ اسکرین پر زیادہ وقت گذارنے اور خودکشی کے خیال آنے اور ا س کی کوشش کرنے کے درمیان گہرا ربط ہے۔ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ میں گذارنے سے 48فیصد لوگوں میں خودکشی سے متعلق کارکردگی دیکھی گئی ہے۔ سنٹر فورڈیز یزکنٹرول کے مطابق 2010کے بعد 12اور 18کی عمر کے بچوں میں خودکشی کے شرح میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

2:سماجی مسائل

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خودکشی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ سماجی مسائل وعوامل ہیں۔ معاشرے اور سماج میں روز افزوں خاندانی جھگڑے (اولاد والدین، میاں بیوی، ساس بہو، بھابھی نند، بھائی بھائی کے درمیان جھگڑے ) اہل حقوق کے حق کی پامالی، معاشرے میں پھیلی منافرت، بدامنی، ظلم و تشدد، قتل و غارت گری وفتنہ فساد کے بڑھتے واقعات، حکومتوں وسرکاری اداروں میں ناانصافی، عوام کے ساتھ ان کا رویہ، جہیز اور بے جا مطالبات، ناخوشگوار شادیاں، تعلیمی دباؤ، والدین کی بے جا محبت و سختی، نوجوان لڑ کو ں اور لڑکیوں کے درمیان بڑھتے ناجائز تعلقات وغیرہ سماج و معاشرے کے ایسے الجھے ہوئے مسائل ہیں جو انسانوں کے اندر ذہنی تناؤ کے اسباب بن رہے ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے بسااوقات رعنائیوں اور دلکش مناظر سے مزین دنیا بھی سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ لوگ دل برداشتہ ہونے لگتے ہیں اور اپنی جان اپنے ہی ہاتھوں ختم کرلینا ذریعہ نجات تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ماہرین سماجیات کے نزدیک گھریلو جھگڑے وغیرہ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

3:اقتصادی مسائل

اقتصادی مسائل خودکشی کی طرف بڑھتے رجحان کا تیسرا اہم سبب ہیں۔ اشیاء خورد و نوش کی فراوانی و بہتات کے باوجود غربت و افلاس کی وجہ سے جہاں فاقہ کش لوگ بھوکے مررہے ہیں وہیں جن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہوتا ہے وہ قبل از وقت اپنے ہاتھوں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ بے روزگاری، فصلوں کی تباہی، بزنس کا دیوالیہ ہوجانا اور ملازمت کے حصول میں ناکامی ایسے اقتصادی مسائل ہیں جو خود کشی کے اسباب بن رہے ہیں۔ ہندوستان میں جہاں غربت و افلاس اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری مسئلے کھڑے کررہے ہیں، وہیں فصلوں کی تباہی اور کسانوں کی خودکشیاں لمحہ فکریہ ہے، جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو سوچنے اور غور فکر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خودکشی اسلام کی نگاہ میں کتنا سنگین جرم ہے؟ یہ در اصل زندگی کے مسائل اور مشکلات سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے اورآزمائشوں اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کی ایک غیر قانونی اور ایک غیر انسانی تدبیر ہے، بدقسمتی سے ایمان سے محرومی یا کمزوری اور اپنی ذمہ داریوں سے بے اعتنائی کے باعث اس وقت پوری دنیا میں خودکشی کا رحجان بڑھتا جارہا ہے، مغربی ممالک میں سماجی نظام کے بکھراؤ کی وجہ سے عرصہ سے خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، مغربی ممالک میں سماجی نظام کے بکھراؤ کی وجہ سے عرصہ سے خودکشی کو انسان کا نجی حق تسلیم کیا جاتا ہے، جو لوگ طویل عرصہ سے بیمار ہوں، ان کو بعض مغربی ملکوں میں مہلک انجکشن لگوا کر مرجانے کی قانونی اجازت حاصل ہوگئی ہے ؛ بلکہ ان کے ورثاء اور رشتہ داروں کو بھی اس کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس کو ” قتل بہ جذبۂ رحم” کا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔

درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔

زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشا ربانی ہے:

وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَo

’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبانِ اِحسان بنو، بے شک اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہے ‘‘

مقامِ افسوس بھی ہے اور لائق حیرت بھی کہ بہت سے مسلمان بھی اب اس کاشکار ہورہے ہیں، لائق حیرت اس لیے کہ خود کشی بنیادی طور پر ایمان کی کمزوری یا اس سے محرومی کی وجہ سے کی جاتی ہے، جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہو، یقین کرتا ہو کہ خدا دشواریوں کی سیاہ رات سے آسانی اور اُمید کی صبحِ نو پیدا کرسکتا ہے، جو شخص تقدیر پر ایمان رکھتا ہو کہ خوش حالی اور تنگ دستی اور آرام و تکلیف اللہ ہی کی طرف سے ہے، صبر و قناعت انسان کا فرض ہے، اور جو آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ زندگی کے مصائب سے تھکے ہوئے مسافروں کے لیے وہاں راحت و آرام ہے اور زندگی کی آزمائشوں سے راہِ فرار اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ کی پکڑ اور عذاب، وہ کیسے مشکل وقتوں میں خدا کی چوکھٹ پر اپنی پیشانی رکھنے یا بارگاہِ ربانی میں دست سوال پھیلانے اور خدا کی رحمت سے اُمید رکھنے کے بجائے مایوس ہو کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا ؟؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ خودکشی کے اخلاقی اور سماجی نقصانات لوگوں کو بتائے جائیں، سماج میں لوگوں کی تربیت کی جائے کہ وہ تنگدستوں اور مقروضوں کے ساتھ نرمی اورتعاون کا سلوک کریں، گھر اور خاندان میں محبت اور پیار کی فضا قائم کریں اور باہر سے آنے والی بیٹیوں کو محبت کا تحفہ دیں، رسم و رواج کی جن زنجیروں نے سماج کو زخمی کیا ہوا ہے، ان کو کاٹنے کی کوشش کریں، شادی، بیاہ کے مرحلوں کو آسان بنائیں، اور جو لوگ ذہنی تناؤ سے دو چارہوں اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہوں، ان میں جینے اور مسائل و مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ پیدا کریں،

خودکشی کے لوگوں میں بڑھتے رجحان کو دیکھ کر گذشتہ کچھ سالوں میں کچھ تحریکیں متحرک ہوئی ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل اور تجاویز پیش کرنے کے ساتھ عملی میدان میں بھی اتری ہیں۔ جیساکہ عالمی ادارئہ صحت WHO خودکشی کے واقعات میں سنہ2021 ء تک دس فیصد کمی لانا چاہتا ہے لیکن اس کے دائرے عمل میں صرف 28ممالک ہیں۔ برطانیہ میں خودکشی کے خلاف مہم چلانے والے ‘جانی بینجامن’ کے مطابق خودکشی کے بارے میں لوگوں کی آگاہی ہونی چاہیے، انہیں علم ہونا چاہیے کہ خودکشی کا سوچنے والوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے۔ ساتھ ہی اسکولی سطح پر اس کے متعلق تعلیم ہونی چاہیے۔

جہاں تک خودکشی کے روک تھام کے لیے اسلامی تعلیمات کی بات ہے تو اسلام ایک طرف گذشتہ سطور میں بیان کیے گئے اسباب و عوامل سے پریشان افراد کے متعلقین، اعزاء و اقارب سے مطالبہ کرتا ہے کہ حتی المقدور ان کی الجھنیں ختم کی جانے کی کوشش کی جائیں، ان کے درد کا مداوا کیاجائے۔ والدین، اولاد، اہل خاندان، رشتہ دار، دوست اپنی اپنی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ان کے لیے سامان سکون فراہم کریں، حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حقوق کی ادائیگی کرے، ان کی مشکلات و پریشانیوں کو دور کر کے اسے جرم عظیم سے بچنے کا ذریعہ بنے۔

بقولِ شاعر

کر کے تم میری زندگی حرام

اب کہتے ہو خودکشی ہے حرام

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔