ریاستی نظاموں میں تبدیلی

شیخ خالد زاہد

دنیا نے بہت ترقی کرلی انسان چاند سے ہوتا ہوا کائنات کے دوسرے سیاروں تک رسائی حاصل کرتا چلا جا رہا ہے۔ مریخ پر پانی کی تلاش جاری ہے اور ہماری ہی طرح کے انسان دنیا کے علاوہ کائنات میں کوئی ہماری دنیا جیسی سہولیات تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں۔ یہ لوگ بہت پر امید ہیں کے  کب کہاں کس سیارے پر زندگی کے آثار نظر آجائیں اور انسان ملکوں برِاعظموں سے بہت آگے سیاروں میں بٹ جائے۔ انسان اپنی سہولیات میں انقلابی تبدیلیاں لاتا جا رہا ہے اور یہ تبدیلیاں روزانہ کی بنیاد پر رونما ہورہی ہیں۔ ٹیلیویژن کے بہت بڑے سے ڈبے سے لے کر انتہائی باریک اور نازک سی ایل ای ڈی لو لیں یا پھر ائرکنڈیشنر کو لے لیجئے، اور دورِ حاضر کی سب سے نایاب اور منفرد چیز آپ کے ہاتھ میں کم و پیش ہر لمحہ موجود رہنے والا آپکا “اسمارٹ موبائل” جو دنیا جہان کی معلومات اور سہولیات سے آراستہ و پیراستہ ہے، اس موبائل نے اپنی ایسی اہمیت بنالی ہے کے اب لغت سے “تنہا” کا لفظ حذف کرنا پڑے گا۔ جدید طرز پر بنائی جانے والی گاڑیاں جن میں ایسی بھی گاڑی موجود ہے جو بغیر ڈرائیور کے چل سکتی ہے۔ ہمیں سورج اور چاند گرہن کا پہلے سے پتہ چلنے لگا ہے۔ ہمارے پاس ایسے جدید الات موجود ہیں جو قدرتی آفات کے حوالے سے پیشگی اطلاع دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ بتا سکتے ہیں کے کون سا علاقہ زلزلہ زدہ ہے یا سمندر میں کسی طوفان کے آنے کا اندیشہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر سہولیات کے لحاظ سے “اسمارٹ ورلڈ” میں زندہ ہیں۔ ان جیسی سہولیات کی ایک نا ختم ہونے والی طویل فہرست ہے جس میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جدت لانی پڑتی ہے۔

انسان نے ہر معاملے میں جدت لانے پر کمر کس رکھی ہے۔ اعتماد پہلے بھی ہوا کرتا تھا مگر اب ادب اور لحاظ کی جگہ بھی اعتماد نے لے لی ہے۔ آج اگر کوئی چھوٹا (عمر میں ) اپنے بڑے سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے اور آگے سے آگے جواب دیتا ہے تو اسے بد تمیزی یا بد لحاظ نہیں بلکہ “با اعتماد” کہاجاتاہے۔ مختصراً یہ کے “معاشرتی اقدار” بھی جدت کی راہ پر گامزن ہیں۔

جب پرانا طرزِ زندگی نئ نسل کی مرتب کردہ نئے طرز سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ جب بزرگوں کو نوجوان اپنے دور کے ڈھب پر چلنے پر قائل کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور بزرگ ناگزیر وجوہات کی بنا پر نئے ڈھب پر چلنے کو راضی ہوتے جارہے ہیں۔ معاشرتی اقدار میں ایک بہت اہم تبدیلی اجتماعیت کی جگہ انفرادیت لے رہی ہے۔ مثلاً پہلے دوست کزنز وغیرہ مل کر گپ شپ کرتے تھے کچھ حلا گلا کرتے تھے مگر اب کیا ہے سب انفرادی طور پر اپنے اپنے موبائل میں مگن ایک ساتھ بیٹھے دیکھے جاتے ہیں۔ اس طرح کی اور بہت ساری اقدار متبادل کے طور پر سامنے آتی جا رہی ہیں۔ مشرقیت پر مغربیت کا غلباء بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ جب کوئی راز راز نہیں رہا، جب کوئی موضوع بحث سے سوا نہیں رہا۔

دنیا میں حکمرانی کرنے کے جو طریقے رائج ہیں ان میں بادشاہت، جھموریت اور آمریت زیادہ قابلِ ذکر ہیں۔ بادشاہت اور آمریت میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں عوام کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر حکمرانی کرنے کیلئے اپنے مسائل اور ملکی باگ دوڑ چلانے کیلئے افراد کو چنتی ہے۔ جمھوری طرزِ حکومت تقریباً دنیا کے زیادہ تر ممالک میں نافذ والعمل ہے۔ یہ سارے نظام انسان نے مرتب دئے ہیں جبکہ ایک نظام حکومت آفاقی بھی ہے جسے “خلافت” کے نام سے جانا جاتاہے۔ جمہوری نظام حکومت میں “مقدار” (گنتی) کی اہمیت ہوتی ہے جبکہ خلافت میں “میعار” کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ خلافت کے علاوہ جتنے بھی طرزِ حکومت ہیں ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں کسی ملک کا کوئی بھی سرکاری مذہب ہو یا کسی ملک کا کوئی سرکاری مذہب نا بھی ہو تو وہ ان نظاموں کے تحت چلائے جا سکتے ہیں۔ خلافت وہ نظامِ حکومت ہے جو اسلام کے بتائے ہوئے ذریں اصولوں پر تشکیل پاتا ہے۔ جہموری نظام تحت دو طرح کا طرزِ حکومت ہوتا ہے اول صدارتی نظام اور دوئم پارلیمانی نظام۔ اگر ہم صدارتی نظام کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کے یہ نظام خلافت سے کافی حد تک مماثلت رکھتاہے۔ یہی وہ نظام ہے جو امریکہ میں نافذ ہے جبکہ دوسرا نظام جسے پارلیمانی نظام کہا جاتاہے وہ برطانیہ میں نافذ ہے کیونکہ ہم نے تاجِ برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی تو ہم نے اس کا نظام قائم کر لیا یعنی پارلیمانی۔ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت ہے۔

یہ مضمون قطعی طور پر کسی نظام پر تنقید یا تعریف نہیں کر رہا بلکہ یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس لمحہ لمحہ بدلتی دنیا نے جہاں ہر شے کو بدل کر رکھ دیا ہےکیا ان فرسودہ اور دھاندلی ذدہ نظاموں پر کوئی دھیان دینے کیلئے تیار نہیں ہے؟ کیا ان نظاموں کو جدت دینے کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا ان نظاموں سے ہٹ کر کوئی نظام لانے پر سوچا گیا ہے؟ کیا دنیا میں اب صرف مادی چیزوں پر توجہ دی جارہی ہے؟ کیا سوچ بچار کرنے والے صرف معیشت پر ذہن سازی کر رہے ہیں ؟ کیا تعلیمی ادارے صرف پڑھنا سکھا رہے ہیں ؟ کیا اب رہتی دنیا تک یہی نظام رائج رہیں گے؟ کیا یہ سارے نظام مل کر انسانیت کی تذلیل نہیں کررہے؟

آج ہم سب (ساری دنیا) ان تمام نظاموں سے اکتا چکے ہیں اور ان سے آزادی کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں، اس دنیا کے سوچ بچار کرنے والے کسی نئے نظام کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہے یا پھر آفاقی نظامِ خلافت سے مماثلت رکھنے والا نظام متعارف کرا دیں تاکہ انسانیت کو امن و امان میسر آسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔