زندگی خوبصورت ہے‎!

ندیم خان

(بارہمولہ)

ایک لمحے کے لیے سوچئے کہ آپ کو سزا ہو چکی ہے، کسی بھی جرم میں عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ آپ قصوروار ہیں اور آپ کو بیس برس کے لیے قید کر دیا جائے گا، لیکن‘ یہ قیدِ تنہائی ہو گی۔ جیل ضروری نہیں ہے، آپ کو چند آپشنز دئیے جائیں گے جن میں پہاڑ، جنگل، صحرا، شہر، گاؤں سبھی کچھ ہو گا۔ جہاں دل کرے قید ہو جائیں اور بیس سال اس قید میں گزاریں۔ ان بیس برسوں میں کوئی بھی آدمی آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا، کھانا اور ضرورت کی دیگر چیزیں کسی روبوٹ کے ذریعے پہنچا دی جائیں گی اور آپ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں ہو گی۔ کیا کریں گے؟ کیا ایسا سوچنے سے جھرجھری نہیں آتی؟ خوف آتا ہو گا؟ دل ہی دل میں توبہ استغفار کر رہے ہوں گے؟ تو قید تنہائی کیا اتنی ہی بری چیز ہے؟ اگر ہے تو کیوں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پریشانی کیوں ہوتی ہے؟

ہم لوگ انسانوں کے عادی ہیں۔ ہمیں بات چیت کی عادت ہے۔ ہم دکھ سکھ شئیر کرتے ہیں۔ ہم اونچے قہقہے لگاتے ہیں۔ ہم اکٹھے گانے گاتے ہیں۔ ہم دوسرے لوگوں کی مدد سے وہ سب کچھ کرتے ہیں جسے مختصراً ہم انٹریکشن کہتے ہیں۔ یہ ہماری روٹین میں شامل ہے۔ ہمیں محسوس نہیں ہوتا لیکن ہمارے اردگرد موجود بہت سے انسان اگر غائب ہو جائیں، کہیں چلے جائیں تو ہمیں ایک دم کچھ نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ خالی پن لگتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی کمی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس کمی کو نئے لوگ پورا کر دیتے ہیں۔ یہ زندگی کا نظام ہے۔ اگر کچھ پرانے لوگ سرکل میں سے نکلتے ہیں تو نئے لوگ ان کی جگہ آ بھی جاتے ہیں۔ کبھی معاملہ بن جاتا ہے، کبھی نہیں بنتا لیکن ایک چیز طے ہے کہ انسان کا ہونا ان سب چیزوں کے لیے ضروری ہے۔ آس پاس لوگوں کا موجود ہونا ہماری انٹریکشن کی اس مجبوری کو مکمل کرتا ہے۔

ہمارا ہر کام مکمل ہونے کے لیے دو بندے مانگتا ہے۔ کم از کم دو انسان۔ ہم صبح سو کر اٹھتے ہیں، کچھ بھی کام کرنے جاتے ہیں۔ اگر وہاں کوئی بھی آدمی نہ ہو، ہمارا دفتر، ہماری دکان، ہمارا سکول، ہمارا کالج، ہمارا کارخانہ بالکل خالی ہو، تو ہمیں کیسا لگے گا؟ ہم بال بنوانے جائیں اور دکان خالی ہو، مشینیں موجود ہیں، قینچی ہے، برش ہے، ڈرائیر ہے لیکن بال بنانے والا نہیں ہے تو ظاہری بات ہے کام نہیں ہو گا۔ دفتر کی ساری لائٹیں جلی ہوئی ہیں، کمپیوٹر چل رہے ہیں، اے سی آن ہیں لیکن نہ فون بجتا ہے اور نہ کوئی کولیگ وہاں بیٹھا ہے۔ ہم اکیلے ہیں، کتنا کام ہو پائے گا؟ اور کچھ نہیں تو آفس بوائے تو ہر دو گھڑی بعد یاد آئے گا جب چائے پینا ہو گی؟ کالج میں پہنچ گئے۔ پڑھنے سے تعلق ہے یا پڑھانے سے، دونوں صورتوں میں کریں گے کیا جب انٹریکشن کے لیے کوئی ہو گا ہی نہیں؟ اکیلے کھڑے ہو کے لیکچر کسے دیں گے؟ اکیلے کلاس روم میں بیٹھ کے پڑھیں گے کیا؟… تو انسان زندگی کے ہر موڑ پر، ہر قدم پہ، ہر سانس کے ساتھ، ہر لمحہ ہمارے لیے ضروری ہیں۔ ہم سوشل اینیمل اسی لیے کہلائے گئے کہ ہم دوسرے انسانوں کے بغیر نہ تو کوئی کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی رہ سکتے ہیں۔

لیکن ہم دوسرے انسانوں کے ساتھ بھی تو نہیں رہ سکتے۔ وہ ساتھ کے ڈیسک والا کلرک، کیسے ہر بات کی ٹوہ لیتا ہے، وہ دفتر کا ایکسچینج والا، ہر کال میں کان لگائے رکھتا ہے، وہ کالج کی کولیگ، پتا نہیں خود کو سمجھتی کیا ہے، ایسے منہ بنا کے انگریزی بولتی ہے، وہ ہمارے کارخانے کا مالک، کیسے روز صبح میٹنگ میں سب ہی کو جھاڑ دیتا ہے، وہ پروفیسر صاحب، کس طرح اپنی ہر بات کو درست ثابت کرنے پہ تلے ہوتے ہیں، وہ ہمارا کوچ، کیسے اپنی پوری زندگی ایک کامیاب سٹوری جیسی بنا کے بتاتا ہے۔ یہ سب چکر ہمارے دماغ میں چل رہے ہوتے ہیں۔ ہم بزم آرائی بھی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کو برداشت بھی نہیں کر سکتے۔ اور یہ سب تو معمولی مثالیں ہیں۔ گالم گلوچ، لڑائی، دنگا، فساد، قتل، فائرنگ، بلاسٹ، دہشت گردی، جنگ، یہ سب کچھ صرف اختلاف رائے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ اکیلا آدمی یہ سب کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ان سب کے لیے بھی کم از کم دو انسانوں کا ہونا ضروری ہے۔ تو انٹریکشن جو ہے وہ سارے فساد کو پیدا کرتی ہے، لیکن وہ ضروری بھی ہے۔

اب یہ ضروری انٹریکشن اگر آرام دہ بنانی ہے تو ہمیں ایک قربانی دینا ہو گی۔ ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ اس دنیا میں سب کچھ نہ ہماری مرضی سے ہو رہا ہے، اور نہ کبھی ہو گا۔ نہ صرف نہیں ہو گا بلکہ ہرگز نہیں ہو گا، بھلے ہم امریکا میں پیدا ہوں اور وہاں کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں، پھر بھی نہیں ہو گا۔ تو وہ قربانی اتنی سی ہے کہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا جائے۔ مطلب ہم جو کچھ اپنے فائدے کے لیے سوچتے ہیں، اس میں ہم سب کا فائدہ شامل کر لیں۔ سب کے لیے اچھا سوچنا شروع کیا جائے، اس لیے کہ بہرحال رہنا تو سب کے ساتھ ہے اور یہ خالصتاً ذاتی غرض ہے۔ اپنے مفاد میں ہی سہی، لیکن اگر ہم یہ سوچیں کہ وہ جو کولیگ ہے، وہ منہ بگاڑ کے انگریزی بولتی ہے تو یہ اس کی عادت ہے، اسے اچھا لگتا ہو گا، وہ ہمارے لیے اپنی عادت کیوں بدلے؟ اگر ایک بار یہ سوچ لیا جائے گا تو آہستہ آہستہ سکون ہوتا جائے گا۔ کارخانے کا مالک جھاڑنے پر مجبور ہے، ورنہ ورک ایفیکیسی کم ہو جائے گی، پروفیسر صاحب کا نفسیاتی مسئلہ ہے، وہ نارسسٹ ہیں، وہ نہیں بدل سکتے، وہ ایسے ہی خوش ہیں تو ہمیں کیوں تکلیف ہو؟ وہ جو کوچ ہے، اس کا تو دھندہ ہی یہی ہے، وہ کوچ ہی اسی لیے بنا ہے کہ وہ اپنی کہانی سکسیس سٹوری بنا کر بیچے۔ تو جب یہ چیزیں ہم اپنے دماغ میں طے کر لیں گے اور فیصلہ ہو جائے گا کہ استاد، آج سے یہ سب ٹینشن لینا بند، اس دن سے ہمارے پاس بہت کچھ الگ سوچنے کا وقت آ جائے گا۔

یہ دن ایک دم نہیں آئے گا، نہ ہی سب کو نصیب ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوتا تو بھئی ہر کوئی ولی اللہ ہوتا۔ یہ سادہ سی باتیں ہیں، بچپن سے ہمیں یہی سب مشکل الفاظ میں پڑھایا بھی جاتا ہے، گھما گھما کے سمجھاتے ہیں لیکن ایک بنیادی سبق کی ہمارے نصاب میں کمی موجود ہوتی ہے۔ جو سبق اس تمام بات کو سم اپ کرتا ہے۔ ”انسان بننے کے لیے انسانوں کو انسان سمجھنا پڑے گا‘‘۔ انہیں تمام خوبیوں اور خامیوں سمیت اپنانا پڑے گا، ان کی غلطیوں اور رویوں کو اگنور کرنا پڑے گا اور بغیر کسی تعصبی ججمینٹ کے، ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا پڑے گا۔

اچھا‘ وہ جو بہت کچھ الگ سوچنے کا وقت ہو گا، اس میں ہم کیا سوچ سکیں گے؟ غضب خدا کا، یعنی جب کسی کے بارے میں برا ہی نہیں سوچیں گے تو سوچیں گے کیا؟ وہ سارا وقت ہم خود کو ری ڈسکور کریں گے۔ ہمیں اچھے کھانے کے ذائقے یاد آئیں گے، ہمیں پھولوں کی خوشبو اچھی لگے گی، ہمیں ایک آدھ گھنٹہ واک کرنے کا دل چاہے گا، ہمیں کوئی بھی موسم پسند آنا شروع ہو جائے گا، ہم گاڑی کی بریک اچانک لگنے پر بھی گالی نہیں دیں گے، ہم بیل پر انگلی رکھ کے بھول جانے والے حرام خور پہ غصہ نہیں کریں گے، مطلب کل ملا کے ٹھنڈ ہو جائے گی۔

دماغ پازیٹو ہو تو بہت ہلکا محسوس ہوتا ہے، بندے کو فریش سی فیلنگ آتی ہے، ہر چیز اچھی لگتی ہے۔ منفی سوچ، پروفیشنل کمپیریزنز، ہر وقت دوسروں کی ٹوہ میں رہنا، یہ چیزیں اصل میں زندگی کی جڑ مارتی ہیں، جتنا ان کی اہمیت کم ہوتی جائے گی، زندگی میں سکون آتا جائے گا بلکہ خود محسوس ہو گا کہ ”زندگی خوب صورت ہے۔‘‘

ہم لوگ انسانوں کے عادی ہیں۔ ہمیں بات چیت کی عادت ہے۔ ہم دکھ سکھ شئیر کرتے ہیں۔ ہم اونچے قہقہے لگاتے ہیں۔ ہم اکٹھے گانے گاتے ہیں۔ ہم دوسرے لوگوں کی مدد سے وہ سب کچھ کرتے ہیں جسے مختصراً ہم انٹریکشن کہتے ہیں۔ یہ ہماری روٹین میں شامل ہے۔ ہمیں محسوس نہیں ہوتا لیکن ہمارے اردگرد موجود بہت سے انسان اگر غائب ہو جائیں، کہیں چلے جائیں تو ہمیں ایک دم کچھ نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے 

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے  

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا