شوہر کا بیوی پر بلاوجہ ظلم وزیاتی کرنا

مقبول احمد سلفی

ایک بہن کا درد بھرا سوال ہے کہ کیا شوہر  بیوی کوبغیر غلطی کے  گالی دے سکتا ہے ، بلاوجہ کوسنا، طعنے دینا،بددعا کرنا شوہر کو اسلام نے اجازت دی ہے ۔ وہ سزا دے ،مارے، ستائے اور عورت بت بنی سب کچھ دیکھتی  سہتی رہے ۔ اس سے متعلق اسلامی حکم کیا ہے ہمیں اس سے آگاہ کریں ۔ اللہ پاک آپ کو اس کا بہترین  بدلہ دے ۔ آمین

واقعی بہت سارے گھروں میں مردوں کی صورت حال ایسی ہی ہے ، اپنی مردانگی کا اظہار میدان میں نہیں صنف نازک پہ کرتے ہیں ۔ بلاوجہ عورتوں کو گالی دینا، اسے کوسنا، مارنا، ستانا، بددعا کرنا، دھمکی دینا ظم وزیادتی پیشہ بنالیاہے ۔ اللہ تعالی ایسے ظالموں کا سخت محاسبہ کرے گا۔ عورت کے صبر وضبط سے فائدہ اٹھاکر بہت سے ظالم لوگ طرح طرح کی سزائیں بھی دیتے ہیں ۔ عورت اپنے شوہر کا خیال کرکے میکے میں بھی کچھ نہیں بتاتی تاکہ اپنے گھر کی اور شوہر نامدار کی بے عزتی نہ ہو۔ایسا پاکیزہ خیال عورت کے اندر ہی ہوتا ہے مردوں کی اکثریت اس صفت سے عاری ہے ۔ ایسے لوگ وہ مرد ہیں جنہیں عورت کے مقام ومرتبے اور ان کی بلندی سے نابلد ہوتے ہیں ۔

عورت گھر کی ہی نہیں کائنات کی زینت ہے ، دنیا سے اگر عورت نابود ہوجائے تو اس کا رنگ وروپ  ماند پڑجائے، زندگی سے عورت چلی جائے تو سونی سونی اجیرن سی ہوجائے ۔ مرودں کو سکون وراحت عورت سے ہی ملتا ہے ، مردوں کے غم دوراں اور غم زندگی کا بوجھ ہلکا کرنے والی عورت کی ہی ذات ہوتی ہے ۔  بیماری سے لیکر کام کاج تک ہرموڑ پر سہارا دینے والی عورت ہے ۔ شادی کے بعد انسان عورت کا مقام بھول جاتا ہے جبکہ معلوم ہونا چاہیے یہی مرد جب بغیر بیوی کے زندگی بسر کرے تو لوگ اسے نامرد کہیں گے ۔ عورت ہی مردوں کی مردانگی کی علامت ہے ، ایمان کی تکمیل کا باعث ہے اور بلند سے بلند معیار پر فائز ہونے میں اس کا اعلی کردار رہاہے ۔ جو مرد کمزور وبے زبان عورت پر اپنا ظلم ڈھاتا ہے وہ مرد بھی کسی عورت کی کوکھ سے نکل کر آیاہے جو مقدس ومحترم لفظ ماں سے موسوم ہے ۔ اس لیے مردوں کو عورتوں کے حق میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں تساہلی سے گریز کرنا چاہیے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے مسلم شریف کی حدیث ہے :

فاتقوا اللهَ في النِّساءِ(مسلم :1218)

ترجمہ : اے لوگو! تم عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔

ایک دوسری حدیث میں نبی ﷺ فرماتے ہیں  :خيرُكُم خيرُكم لِأهْلِهِ ، وَأَنَا خيرُكم لِأَهْلِي(صحيح الجامع:3314)

ترجمہ : اے لوگو! تم میں سب سے بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے بہترین ہواورمیں تم میں اپنے عیال کے لیے سب سے بہترین ہوں ۔

اس لیے پیارے بھائیو! اپنی بیوی کو بلاوجہ گالی مت دو، اسے بات بات پر طعنے نہ دو، کبھی غلطی کرجائے تو پیار سے سمجھادومگر طنز سے اس کا نازک سینہ چھلنی نہ کرو۔ ظلم وزیادتی سے تو سچی توبہ کرلو،اللہ تعالی ہمارے ہرعمل سے باخبر ہے اور آخرت میں ذرے ذرے کا حساب وکتاب لے گا۔

دوسری طرف میں عورتوں کو بھی صبر واستقلال کی نصیحت کرتا ہوں ۔ آپ یقین کریں کہ اگر مردوں کے ظلم کے سامنے سینہ سپر ہوکر صبر کا پہاڑ بن جائیں تو مرد آپ کے صبر کے پہاڑ تلے بونا نظر آئے گا۔ عورت کے اندر اللہ نے بہت سے خوبیاں رکھی ہیں ، ان میں سے ایک، صبر کے علاوہ خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے میٹھے اور دل موہ لینے والے اندازو ادا سے شوہر کا دل جیت سکتی ہے ۔ آپ کا شوہر جس بات سے ناراض ہوتا ہے اس کو دل پر لینے کے بجائے بات صحیح ہو تو اپنی اصلاح کرلیں شوہر آپ سے راضی ہوجائےگا اور بات ختم ہوجائے گی ۔ بسااوقات معمولی سی بات میاں بیوی کے درمیان بڑے نزاع اور طلاق وجدائی کا سبب بن جاتا ہے ۔ تو آپ کے ہاتھ گھر کی کشتی کا پتوار ہے اسے سنبھال کر چلائیں ، لاکھ طوفان آئے ، آندھی آئے کشتی ہچکولے کھائے آپ پتوار کا استعمال صحیح سے کریں ۔ میں مانتا ہوں کہ بعض شوہر بلاوجہ بیوی کو  مارتے ہیں ، گالی دیتے ہیں ، بات بات پر گھرسے  نکالنے اور طلاق دینے کی دھمکی دیتے ہیں ، ان سب حالات میں آپ صبر کریں ، صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا أخبرُكم بنسائِكم في الجنَّةِ ؟ ! كلُّ ودودٍ ولودٍ ، إذا غضبَتْ أو أُسيءَ إليها [ أو غضب زوجُها ] ؛ قالت : هذه يدي في يدك ؛ لا أَكتحلُ بغَمْضٍ حتى تَرْضى( السلسلة الصحيحة:3380)

ترجمہ : ميں تمہيں جنتى عورتوں كے بارہ ميں نہ بتاؤں ؟ہر محبت كرنے اور زيادہ بچے جننے والى عورت جنت ميں ہے، جب وہ ناراض ہو جائے، يا پھر اس كے ساتھ برا سلوك كيا جائے، يا خاوند ناراض ہو جائے تو عورت بيوى سے كہے: ميرا ہاتھ تيرے ہاتھ ميں ہے، ميں اس وقت تك نيند نہيں كرونگى جب تك تو راضى نہيں ہوتا .

تبصرے بند ہیں۔