علماء و فارغینِ مدارس نے کیا ملک میں امن و امان کی بحالی اور منافرت کے خلاف جدّو جہد کا عہد

شعبۂ اسلامی معاشرہ، جماعت اسلامی ہندکی جانب سے جماعت کے مرکز نئی دہلی میں علماء و فارغین ِ مدارس کا پانچ روزہ اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے دینی مدارس کے فارغین اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے علماء کرام نے شرکت کی اور موجودہ حالات میں مسلم امت کی رہ نمائی کے لیے قیمتی مشورے اور تجاویز پیش کیں۔

 اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ”یہ وقت امت ِ مسلمہ کے سامنے بڑے چیلنج ہیں۔ہم اسلام کے مضبوط اصولوں کو بنیاد بنا کران چیلنجوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اللہ کی سنت رہی ہے کہ وہ چیلنجوں اور مشکلات کے بطن سے ہی کام یابی کے راستے نکالتا ہے۔اس وقت ملکی اور عالمی سطح پر جو حالات ہیں وہ بھی بہتری اور کام یابی پر منتج ہوں گے۔ اللہ کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ انسان کی کوششوں کے بغیر حالات کو نہیں بدلتا، وہ ہماری کوششوں کے مطابق قسمتوں کے فیصلے کرتا ہے۔ دنیا کی باطل طاقتیں اسلام کے مضبوط اصولوں سے خوف زدہ ہیں،اسی لیے وہ اسلاموفوبیا اور اسلام مخالف پروپیگنڈہ کرکے امت ِ مسلمہ کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے مضبوط اصولوں کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے۔ یہ باطل طاقتیں نہیں چاہتی ہیں کہ یہ امت ایک متحد امت بنے۔ علمائے کرام اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان چیلنجوں کو سمجھیں اور سوچ سمجھ کر صحیح طریقے پر ان کا رد عمل کریں۔“

جماعت کے نائب امیر جناب ایس امین الحسن نے سامعین سے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ”اس وقت دنیا میں جو حالات چل رہے ہیں ان کا نہایت گہرائی سے محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بغیر محاسبہ اور تجزیہ کے ہم ان حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں“۔نائب امیر جماعت محمد جعفر صاحب نے شرکاء کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ”اس وقت ملک کو مخصوص فکر میں رنگنے کی کوشش کئی سطح پر جاری ہے، اس کو روکنے کے لیے تمام تنظیموں اور مکاتب ِ فکر کو مل کر کام کرنا ہوگا۔“

قیم جماعت جناب ٹی عارف نے جماعت اسلامی کی تحریک پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”جماعت اسلامی مسلمانوں کی اپنی تہذیب و ثقافت کی بقا اور عبادتوں میں آزادی کا ماحول سازگار کرنے کی کوششیں آزادی کے پہلے سے ہی کرتی چلی آرہی ہے اور آج بھی اسی راہ پر گام زن ہے۔“

سکریٹری شعبۂ میڈیا جناب سید تنویر احمد نے میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”میڈیا ذہن و فکر کو بنانے میں اہم رول ادا کرتاہے۔نئے چیلنجز کا مقابلہ میڈیا کے ذریعہ مضبوطی سے کیا جاسکتا ہے“ شعبہئ اسلامی معاشرہ کے سکریٹری ڈاکٹر محمدرضی الاسلام ندوی نے پروگرام کے افتتاحی اجلاس میں اجتماع کے اہداف و مقاصد اور حالات ِ حاضرہ کے تناظر میں اجتماع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 آخری اجلاس میں علماء کرام نے متفقہ طور پر اس بات کا عہد کیا کہ:

ہم اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم مسلمانوں کو تلقین کریں گے کہ وہ برادران ِوطن کے ساتھ خوش گوار تعلقات رکھیں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کریں، ان کے دکھ درد میں کام آئیں اور انسانی مسائل کو حل کرنے میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم ملک میں امن و امان کی فضا قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنے کی کوشش کریں گے، بالخصوص مسلم نوجوانوں کو مایوسی اور جذباتیت سے بچانے کی کوشش کریں گے اور انہیں ملک و ملت کے تعمیری کام انجام دینے کی طرف مائل کریں گے۔ ہم سب اتحاد امت کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے اور امت کے مشترکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ جدو جہد کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔