غیر ازدواجی تعلقات اور ان کی خطرناکیاں

ذوالقرنین احمد

موجودہ حالات میں جو مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے اور اسکے تدراک کیلیے اب تک کوئی مستقل منظم لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے معاشرے میں ایک اور فتنہ سر اٹھا رہا ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں آیا ہے لیکن مستند ذرائع سے ایسی خبریں موصول ہوئی ہے جو آپ کے ہوش اڑا کر رکھ دے گی، جی ہاں ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طریقہ سے ایکسٹرا میریٹیل افئیرز جیسی خطرناک بیماری بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جس میں شادی شدہ خواتین شوہر ہونے کے باوجود دیگر غیر مردوں کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات قائم کر رہی ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کیلیے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسکی کئی ساری وجوہات ہوسکتی ہے لڑکے لڑکیوں کی عمروں میں حد سے زیادہ گیپ، یعنی لڑکے کی عمر زیادہ اور لڑکی کی عمر کم جس کی وجہ والدین اور معاشرے کے خودساختہ معیارات ہے۔ کیونکہ جب مرد کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور شادی کے ایک مختصر عرصے کے بعد ہی وہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور عورت کی عمر کم ہونی کی وجہ سے اسکی جنسی خواہشات کی تکمیل نہیں ہو پاتی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا اور ٹیلیویژن کے بے حیائی پھیلانے والے سیریل کے ذریعے اس بے حیائی کے کام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسی خطرناک بیماریاں وجود میں آنے کا سبب بن رہی ہے۔

 معاشرے میں جب زنا پھیلتا ہے تو ایسی بیماریاں وجود میں آتی ہے جس کا دنیا میں پہلے وجود نہیں تھا۔ اتنا ہی نہیں مردوں کی بھی حالات یہی ہے کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود غیر محرم عورتوں کے ساتھ حرام تعلقات قائم کرتے ہیں۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے جب تم کسی اور کے ساتھ حرام تعلقات اور رنگ رلیاں منانے میں مصروف ہوتے ہیں تو تمہارے گھر کی خواتین بھی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ دنیا میں تو اس کا وبال ہوگا ہی لیکن آخرت میں بھی سخت عزاب خداوندی کا شکار ہوگے۔ حدیث میں ہے کہ کسی غیر محرم کو چھونا ایسا ہے جیسے تمہارے سر میں کیل ٹھونک دی جائے۔ اتنی خطرناک وعید سنائی گئی ہے۔ ایسی عورتوں کو بھی زانیاں کہا گیا ہے جو مردوں کو متوجہ کرنے کیلیے خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے۔

 غیر ازدواجی تعلقات جیسی بے حیائی اور حرام کام سے معاشرے کو بچانے کیلیے ضروری اقدامات کرنے ضروری ہے۔ معاشرے کے خودساختہ معیارات اور خواہشات کے بوتو کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ گھروں میں قرآن و حدیث کے مطابق تربیتی نظام کو نافذ کرنے اور اس پر پابندی کے ساتھ خود اور اپنے بچوں کو عمل کروانے کی ضرورت ہے۔ مذہب اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کیلیے عملی اقدامات کرنے ضروری ہے۔ بچوں کے دینی تعلیم کا نظم ہونا ضروری ہے۔ حرام اور حلال کی تمیز سکھانا ضروری ہے۔ اللہ کا خوف اور نبی کریم ﷺ کی محبت انکے دلوں میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے تو انکے قدم نا ڈگمگائے۔ اور وہ ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔  سر اٹھاتی معاشرتی بیماریوں سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ بالغ ہونے پر اپنے بچوں کے نکاح جلد سے جلد کروا دیے جائے۔ اور رشتوں کے انتخاب میں دین داری کو ترجیح دی جائے۔ مال و دولت و دولت، گھر، نوکری کے چکر میں بچوں کے جذبات کا استحصال نا کیجیے۔ لڑکے لڑکیوں کی شادیاں جب بالغ ہونے پر صحیح عمر کے مطابق ہوگی تو وہ اپنی زندگی میں خوش رہے گے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بہتر ازدواجی تعلقات قائم کر سکے گے۔ اور ایک مطمعن پرسکون زندگی گزار سکے گے۔

 اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ بہتر رشتوں کی تلاش میں عمر کو بڑھنے نا دیا جائے یہ سوشل میڈیا اور بے حیائی کا دور ہے جوانی بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتی ہے قدم کو بھٹکنے کیلیے زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔ جگہ جگہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر فحش مواد بھرا پڑا ہے۔ عیاشیوں کیلیے آن لائن پلیٹ فارم مہیا کیے جارہے ہیں۔اس لیے اپنی گھر کی فکر خود کیجیے گھر کے افراد کو موبائل کے حوالے مت کیجیے بلکہ انھیں وقت دیجیے۔ انکا ہمدرد بنیے ان سے محبت کا اظہار کیجئے۔ اچھے کاموں میں انکی مدد کیجئے انکی تعریف کیجئے۔

    حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ: "تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی ولیہ) کی شادی کر دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا”۔ (ترمذی)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


1 تبصرہ
  1. FAIZAN MUNAF PANDE کہتے ہیں

    Mashallah Boht khob bahetreen baat khi aap ne ab is ka ilaj kiya hona chahiye ise kaise roka jaye ku ch hikamt e amli agar aap pta ho ho arsaal kre

تبصرے بند ہیں۔