مادری زبان اور مسلمان

عمر فراہی

آپ کچھ نہیں کر سکتے تو اپنے بچوں کو دو چیزیں سکھا دیں۔ ایک دین اور ایک اس کی مادری زبان۔ زبان سے مطلب جس میں اس کے دین کا اپنا ادبی تاریخی اور دینی لیٹریچر محفوظ  ہو۔ مادری زبان تو بچہ اپنی ماں سے ہی سیکھ لیتا ہے۔ اسے جو سیکھانا ہوتا ہے وہ لکھنے اور پڑھنے کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ سکھانے میں مشکل سے دو پانچ سال ہی لگتے ہیں لیکن کسی بھی قوم کے ادبی اور دینی لیٹریچر کو اپنے وجود میں آنے کیلیے صدیوں کا وقفہ درکار ہوتا ہے جسے دوسری زبانوں میں منتقل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ کسی طرح قرآن و حدیث کے تراجم تو کئے جا چکے ہیں لیکن نسیم حجازی ابن صفی یا غالب و اقبال جیسے بے شمار ادیبوں کی تصنیفات کو کسی رائج زبان میں منتقل کرنا ناممکن ہے۔

یہ ادبی لیٹریچر ہی کسی قوم کا اپنا تہذیبی اثاثہ ہوتا ہے جو اس کی ذہن سازی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ اپنے بچوں کو دوسری زبان نہ سکھائیں۔ ادب کا ذخیرہ بھی اسی قوم کے پاس افراط میں ہوتا ہے جس کے اندر اہل دانش کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ خاص طور سے ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کی اپنی مجبوری ہے کہ وہ اپنی معاشی ضروریات کیلیے اپنی مادری زبان کے علاوہ انگلش زبان پر بھی عبور حاصل کریں لیکن محسوس یہ کیا جارہا ہے کہ ایک نسل جو تیزی کے ساتھ انگلش کی طرف بڑھی ہے وہ ٹھیک سے نہ صرف انگلش  زبان پر بھی عبور نہیں حاصل کر سکی اپنی مادری زبان سے بھی محروم ہو کر فتنہ ارتداد کا شکار ہے۔

خیر اپنی مادری زبان سے غفلت برتنے کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک نسل کا جو نقصان ہو چکا ہے اس کے نقصانات کی بھر پائی آنے والی نسلوں کو بھی کرنا ہو گا باقی آنے والے حالات جس تیزی کے ساتھ کروٹ لے رہے ہیں اسے سمجھنے کیلیے یا مختلف دجالی فتنون سے بچنے کیلیے  ہمارے اکابرین کے لیٹریچر اور قرآن و حدیث کی رہنمائی لازمی ہوگی۔ شاید ایک بہت بڑی تعداد اس رہنمائی سے محروم رہ جاۓ کیوں کہ اب وہ ان تصنیفات کی زبان کو سمجھنے سے نابلد ہو چکی ہے !

یاد رہے دنیا کی تمام قومیں یا ریاستیں جنھوں نے عروج اور ترقی کا زینہ طئے کیا ہے اپنی مادری زبان کی بدولت۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جو سپر پاور کے مقام تک پہنچے ہیں انہوں نے اپنی مادری زبان کو کبھی نہیں ترک کیا۔

تبصرے بند ہیں۔