ماہ رمضان میں حکومت قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں ناکام!

الطاف حسین جنجوعہ

ہربرس ماہ رمضان المبارک کے مقدس ایام شروع ہونے سے قبل حکومت کے کئی وزراء ماہ صیام کے دوران کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں ۔اس میں عوام کو اشیاء خردونوش کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے ساتھ ساتھ گراں بازاری، منافع خوری اور لوٹ کھسوٹ سے قدغن لگانے، بجلی ، پانی ودیگر غذائی اجناس کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے متعلقین کو ہدایات دی جاتی ہیں لیکن ’حکم نواب تادر نواب ‘کے مصداق زمینی سطح پر عمل ندارد رہتاہے۔

رمضان کا پہلا عشرہ گذر چکا ہے، نہ تو بجلی وپانی کی تسلی بخش فراہمی ہوسکی اور نہ ہی قیمتیں اعتدال پر ہیں ۔محض رسمی میٹنگوں کا انعقاد اور زمینی سطح پر ہدایات کی عمل آوری نہ ہونے سے حکومت کی افادیت، اہمیت اور اعتمادیت پرسوال اٹھتا ہے اور اب یہ میٹنگیں مذاق بن کر رہ گئی ہیں ۔ اگر چہ ماہ رمضان ہمیں قربانی ، ایثار ،انسانیت کا عزیم در س دیتاہے اور عدل و انصاف کا بھی تقاضہ ہے لیکن دوسری طرف اس کے بر عکس ہمارے تاجر حضرات معصوم اور مُفلس صارفین کوچیزوں کے عوض مہنگے دام وصول کرکے کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔بازاروں میں روز مرہ کی چیزوں کے دام اتنے اونچے ہوگئے ہیں کہ اس گرمی کے موسم میں بھی قیمتیں سن کر سرد پسینہ آجاتا ہے اور ، طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے صارفین کو لوٹا جاتا ہے جبکہ چھوٹ کے نام پر لوٹ اور اَصلی کے نام پر نقلی سامان صارفین کو تھمادیاجاتا ہے ۔

ملبوسات سے لیکر کھانے پینے کی چیزوں کے دام آسمان سے چھو رہے ہیں ۔ اس مہنگائی اور گراں فروشی کے طوفان نے پوری ریاست کواپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ سرمائی راجدھانی جموں میں چکن، مٹن، دودھ، دہی، کھجوریں ، مشروبات، پھل، سبزیوں وغیرہ کی آسمان چھوتی قیمتیں اور ہردکاندار کا اپنا ریٹ سے ، یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ خطہ یاریاست کے دوردراز علاقہ جات میں کیا حالت ہوگی۔ سبزی،ملبوسات،گوشت،مرغ اور بھی دیگر روز مرہ کی استعمال کی چیزوں کے عوض صارفین سے اضافی دام وصول کیا جا رہا ہے  ۔

اگرچہ عوام پریشانی اور قسم پُرسی کی حالات میں حکام کے انتظارمیں راہیں تک رہیں کہ کب انتظامیہ حرکت میں آئے تاکہ اس بڈھتی ہوئی مہنگائی کا تدارک ہوجائے لیکن انتظامیہ زخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کاروائی کر نے کے بجائے اُنہیں اس میں اضافہ کر نے کا موقعہ فراہم کر تی ہے ۔ماہ رمضان کے مبارک ماہ میں ایشاء خوردنی کی خرود و فروخت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے اس کا ناجائیز فائیدہ اُٹھاتے ہوئے تاجر حضرات صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔اگر چہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے ادارے اکثر و بیشتر تہواروں اور اس ماہ رمضان میں نمودار ہوتے تھے لیکن اب کی بار شروع میں چند روز کئی علاقوں میں نمائشی طور چیکنگ کر کے اب خاموشی اختیار کر لی ۔متعلقہ افسر لوگ دفتروں میں بیٹھ کر ایر کنڈیشنوں کا مزہ لیتے ہیں اور عام لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات جھیلناپڑ رہی ہیں ۔

اس حکومت کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے جوکہ منافع خوری پر روک لگانا تو دور سرکار کی طرف سے متعین کردہ نرخوں کو دکانوں کے باہر چسپاں تک نہ کرواسکی۔اس مقدس ماہ میں باقی ممالک میں اشیاء خوردنی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں گر جاتی ہیں لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود اس مقدس ماہ میں ایثار اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے جس طرح سے ذخیرہ اندوزی ، کساد بازاری ، نرخوں میں ہیر پھیر اور اشیاء  خوردونوش کی گراں بازاری دیکھنے میں آرہی ہے ایسی حرکتیں ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی ۔ سبزی فروشوں ، قصائیوں اور دیگر اشیائے خوردنی فروخت کرنے والوں نے من مانے بھاو مقرر کر کے کمر توڑ مہنگائی کا بازار گرم کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ہمارے مسلمان دکاندا حضرات روزہ سے بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کمائی کی جائے۔ کاش کے جہاں ہم رمضان میں عبادت میں مصروف ہوتے ہیں اور دن بھر بھوکے پیاسے رہتے ہیں ، ٹھیک اسی طرح ہم اپنے پیشوں سے بھی انصاف کرنا سیکھ جاتے ۔

تبصرے بند ہیں۔