معذوروں کو اسکیموں کا فائدہ کیو ں نہیں ملتا؟

سفیر اردم

(مینڈھر،پونچھ)

دنیا کے آغاز ہی سے قوت و کمزوری،تعلیم و جہالت، مالداری و غریبی،  بیماری اور صحت کی آپس میں کشمکش رہی ہے۔ گویا داستان ِ بیماری نے کبھی خوشیوں کی انگڑائی لی مگر کمر سیدھی ہی ہونے والی تھی کہ مزید جھک گئی۔ اس بیماری کو صحت سے،کمزوری کو طاقت سے،جہالت کو علم سے بدلنے کا جن ممالک کا شیوہ  رہا ہے وہ کامیاب و چمکتے ہوئے ظاہر ہوئے۔ مگر جب گردشِ زمانہ نے اپنی ترقی کی رفتار کو تیز کیا تو جو پیچھے رہا وہ یہی بیمار کمزور اور انپڑھ طبقہ تھا۔ درحقیقت جب ہمارے وطن عزیز کی بات زبان پر آتی ہے تو ہمارا ملک بھی تعمیر اور ترقی کی راہ کو ہموار کرنے کا بڑا کوشاں رہا ہے لیکن” منزل بسیار دور است” کے جملے کا مصداق ہے۔وجہ اس کی جو ایک کمزور اور لاچار کی زبانی سنی تو آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں جاری ہو گئے اور ان آنسوں کی صدا کو ہرمتفکر ومتحیر، عقل و دانش مند انسان نے سنا اور وجہ دریافت کی تو دراصل اس کی آواز بھی قاسم کی آواز کے مثل تھی۔

زمانہ کورونا وائرس کا نقشہ آج دیکھ رہا ہے اور اپنے اسباب،جان و مال کا متلاشی نظر آتا ہے۔ لیکن اس ملک میں ایک بڑی تعداد ان افراداکی ہے جو سادگی اور مفلوج کے کرونا کا شکار تخلیقی طور پر ہیں۔قدرت کی کرشمہ سازی سے بحث نہیں ہے۔ محمد قاسم،رہائش چکھڑی بن تحصیل منڈی ضلع پونچھ جو ایک محض چودہ سال کا ہے، کہنا تھا کہ میں معذور ہوں لیکن والدین کی محبت کے صدقے جینے کی تمنا پر خوشیوں کے جشن منا رہا تھا۔ جب ان دونوں شاخوں میں سے ایک شاخ یعنی میرے والدمحترم موت کا شکار بنے تو میری خوشیوں کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے اور فیملی کے چار افراد کی تمام تر ذمہ داریاں میرے سرآلگیں۔ حالانکہ میں بسبب معذوریت خود محتاج غیر تھا، کرتا تو کیا کرتا؟

پھر ان حالات میں دست سوال دراز کیا جن سے خوردونوش مہیا کرکے اپنی کنبہ کی پرورش کرتا لیکن اس معزور کو اس وقت زندگی میں کافی مشکلات آئیں جب عالمی بیماری کروناوائرس نے جنم لیا۔جس کی وجہ سے میرا ذریعہ معاش رک گیا۔میری امی جان بھی اکثر بیماری وکمزوری کی حالت میں بستر پر سوار رہتی ہیں۔ہمارا تعلیمی مشغلہ سے بہت دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ غربت اور ذمہ داری کے سبب تعلیم کا نام ہی سنا ہے۔ سڑک بھی گاؤں سے دو گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہے لیکن سنا کرتا تھا کہ اس طرح کے بیماروں کا علاج حکومت کروایا کرتی ہے اور اپنی کچھ اسکیموں جیسے پرسن وِد ڈس ایبلیٹی اسکیم، نیشنل ٹرسٹ فر ویلفیئر آف پرسن وِد ڈس ایبیلٹی پلان، چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم وغیرہ اسکیموں سے مجھ جیسے معذوروں کی بھی مدد کرتی ہے۔ لیکن در حقیقت میں ان تمام اسکیموں اور حکومتی پلان سے محروم ہوں اور اگر درد و حمیت میرے جیسے برادران کا حکومت کو ہوتا تو ہماری معذوری کا بھی علاج ہوتا۔

ہسپتالوں میں آج ٹیکنالوجی تعمیر و ترقی کے دور میں ممکن ہے تو ہم بھی اس بیماری اور معذوری سے آزاد ہو کر اپنی تعلیمی سفر کا آغاز کرتے اور مستقبل قریب میں اپنی زندگی کے صحیح گزارنے کا آفتاب طلوع ہوتا دیکھتے۔حکومت کی اسکیموں میں سے پنشن اسکیم سے واقف ہوں اور جس سے ہر مہینے ایک ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف مہنگائی نے آسمان پر کمند ڈالی ہے۔ کچھ اسی طرح کی تیس سال کے عبد الکریم کی فریاد ہے،جو خود ایک معذور ہیں، مگر زندگی کی قباحتوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری بے وقت ولادت کے سبب بچپن سے ہی مفلوج ہوں۔ والدین کی انگنت کاوشوں کے سبب اپنا بچپن خوشی خوشی گزارا۔ مگر بعد میں خیال آیا کہ کسی کا محتاج ہونا بھی گناہ ہے،اس لیے میں نے کپڑے سلائی کا کام شروع کیا اور آج اپنی معذوریت کو بھول کر خوشی خوشی  زندگی گزار رہا ہوں۔

بے شک عبدالکریم ایک مثال ہیں ان سب لوگوں کے لیے جو کہ معذوریت کی وجہ سے اپنی زندگی سے یقین کھو بیٹھتے ہیں اور جینے کی آس امید کو چھوڑ دیتے ہیں۔ سرکار کو ایسے لوگوں کے لیے کچھ پختہ اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جسکے سبب ایسے معذوروں کو بھی اپنی زندگی اطمینان سے گزارنے کا موقع ملے۔ دریں اثناء بات صرف قاسم کی نہیں بلکہ ان تمام بیمار و لاچارلوگوں کی ہے جو اپنی معذوریت کے سبب دوسروں کے محتاج ہیں۔ ملک بھر میں ایسی زندگی سے لاچار لوگوں کی مکمل فہرست شائدابھی سرکار کے علم میں نہیں ہے۔ جنکو شناخت کرکے مالی و معاشی تعاون پیش کیا جائے۔ ایک مقامی باشندے حاجی محمد بشیر عمر تقریباًپچاس، کے مطابق یہ علاقہ برسوں سے بیماریوں،پریشانیوں اور دکھوں کی بھینٹ چڑھا ہے۔ اس علاقہ میں معذوروں کی تعداد انگنت ہے۔جن میں عصمت بی عمربارہ، نسیم اختر عمرتیس، شریفہ بی بیالیس اورمحمد کریم تیس قابل ذکر ہیں۔ مگر اس علاقہ میں آج دن تک کوئی بھی سرکاری مالی و معاشی تعاون پیش نہ کیا گیا۔ایک طرف تو ہندوستان ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰ کر تاہے جبکہ دوسری طرف عوام الناس بھوک مری اور پریشانیوں سے دوچار ہے تو کوئی ملک کیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ جناب محمد بشیرحکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس علاقہ میں جتنے بھی لوگ معذور ہیں ان کا سرکاری علاج کرایا جائے اور ان لوگوں کو مالی اور معاشی تعاون پیش کیا جائے۔ جس میں ہندوستان کی کامیابی کا راز چھپا ہے۔

یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق برسوں سے ہم لوگ متعدد پریشانیوں اور تکلیفوں میں جھلس رہے ہیں۔ بات صرف بیماریوں کی نہیں ہے بلکہ ہر سال ہم پر آفت و مصیبت کا بحران ٹوٹتا ہے جب جنگلی جانور ہمارے اناج اور کھیتوں کو تباہ وبرباد کر دیتے ہیں، قیمتی جانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور قدرتی آفتوں سے ہمارے مکان اور زمین کا بھی نقصان ہوتا ہے مگر آج تک کسی قسم کا معاوضہ ہمیں نہیں ملا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سرکارہم جیسے نادار و مفلس طبقہ کی پکار کو سن کرہوش کے ناخن لے گی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان نے بہت سارے ترقی کے خواب دیکھے ہیں اور ترقیاتی کاموں کو پورا کرنے میں ہندوستانی قانون بھی اہم قدم اٹھا رہاہے۔ ملک بھر میں جتنی بھی نئی نئی اسکیمیں لانچ ہو رہی ہیں انکو عمل میں لانا بہت ضروری ہے۔ مگر افسوس کہ یہ ضلع پونچھ کا علاقہ ان سب ا سکیموں سے محروم ہے۔ لوگوں میں تعلیم کی زبوحالی ہے، بجلی پانی اور ان جیسے دیگر وسائلوں کی اشد کمی ہے ان سے بھی بڑھ کے اس کرونا وائرس کے ماحول میں لوگ ایک وقت کے کھانے کے بھی محتاج ہیں۔ایسے وقت میں معذورطبقہ کی حالت کیاہورہی ہوگی،اس کاانداذہ لگانامشکل نہیں ہے۔(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔