وفا کو ایک تخیل بنالیا ہم نے !!!

وفا کو ایک تخیل بنالیا ہم نے !!!

پورےدھوم دھام اور بھرپور تزک و احتشام کے ساتھ ۔۔۔کسی قدرنیک جذبات اور پاکیزہ احساسات کے ساتھ۔۔۔کسی حد تک صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ۔۔۔
عشاق رسولﷺ نےمیلاد النبی ﷺ منائی اور بہ زعم خویش حبِّ رسولﷺ کا حق ادا کردیا۔
شامیانے لگائے گئے ،اسٹیج سجائے گئے ،مقررین بلائے گئے،شادیانے بجائے گئے ،راستے روکے گئے،جلوس نکالے گئے،جھنڈے نصب کئے گئے،رقص و سرود کی محفلیں جمی،معیاری قسم کا ڈی جےلگا،رنگ بہ رنگی کھانے بنے،قمقمے روشن ہوئے،مستی وبے خودی میں موسیقی اور میوزک کے ساتھ قوالیاں گائی گئیں ،چندے مانگ مانگ کر محفلیں آراستہ کی گئیں،بچوں نے اپنے کرتب دکھلائے،نوجوانوں نے اپنے ہنر آزمائے،بوڑھوں اور عورتوں نےاپنی شرکت کے ذریعے محبت رسول کا جیتا جاگتاثبوت دیا۔۔۔۔۔۔اور کیا کچھ نہیں ہوا ؟؟؟ خدا جانےاس مقدس عنوان پر آگے کیا کیا ہوگا؛لیکن بہ قول شیخ سعدیؒ

ترسم نہ رسی بہ کعبہ اے اعرابی
کاین رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است

میری اور نہ صرف میری ؛بل کہ آپ کی دانست کے مطابق بھی اتناسب شاید اس لئے کیا کرایاگیا ؛تاکہ اللہ پاک راضی ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی حاصل کی جائے !!
؛مگرایک بار، صرف ایک بار ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہم نے کبھی سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کس چیزمیں مضمر ہے ؟ میلادکےحوالے سےکتاب و سنت کی کیا تعلیمات ہیں ؟ کیا حضور سےسچی وارفتگی کے یہی تقاضے ہیں ؟اور کونسا عشق رسول ﷺعنداللہ معتبر ہے ؟
وہ مذہب جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کا قرینہ سکھلایا،زندگی گزارنے کا طریقہ بتلایا،قضائے حاجت تک کے مسائل کھول کھول کر بیان کئے، وہ میلادالنبی ﷺجیسے اہم مسئلےپر (اگر یہ واقعی اہم ہوتا)خاموش کیسےرہ سکتا ہے ؟؟؟

اب آئیے قرآن و حدیث سے حب الہی کا صحیح مفہوم معلوم کریں ،عشق رسول کا درست مطلب اخذ کریں اور اس کی روشنی میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں !
محبت کے تقاضے قرآن مجید سے :
اللہ رب العزت اپنے مقدس کلام میں فرماتے ہیں :قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّهَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُم(آل عمران)
(اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ بخش دے گا۔
من یطع الرسول فقد اطاع اللہ.(النساء)جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے الله کی اطاعت کی۔
وما آتاکم الرسول فخذوە وما نہاکم عنہ فانتہوا. (الحشر )اور رسول ﷺتمہیں جو حکم دے اسے لے لو اور جس چیزسے وہ منع کرے اس سے رک جاؤ۔
لقد کان لکم فی رسول الله أسوة حسنة ( الاَحزاب )بے شک تمہارے لئے الله کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔

فائدہ : مذکوہ بالا آیات سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ محبت ،صرف نعروں کا نام نہیں ؛بل کہ اتباع کامل کا نام ہے ،عشق ،صرف لفظوں کا جادو نہیں ؛بل کہ اطاعت کیشی اور وفاداری سےعبارت ہے ۔

عشق کا معیار احادیث رسول سے :

کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَی (بخاری )۔
حدیث میں ہےکہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کا ہر شخص جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کرنے والا شخص کون ہے؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ انکار کرنے والا ہے۔
عَنْ أَبِيْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ بِنِ عمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: “لاَيُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَواهُ تَبَعَاً لِمَا جِئْتُ بِه۔(رواہ النووی فی الاربعین )
سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایاتم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا ؛جب تک کہ اس کے خواہشات میری شریعت کے تابع نہ ہوجائے۔
لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (بخاری)
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
عن أنسٍ رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ثلاثٌ من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان، من كان الله ورسوله أحبَّ إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر بعد أن أنقذه الله منه، كما يكره أن يقذف في النار۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی میں یہ تین چیزیں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی حقیقی لذت سے لطف اندوز ہوگا، اول یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ ہو، دوسرا یہ کہ کسی بندہ سے اس کی محبت محض اللہ ( کی خوشنودی) کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ جب اسے اللہ نے کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان و اسلام کی روشنی سے نواز دیا ہے تو اب وہ اسلام سے پھر جانے کو اتنا ہی برا جانے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو ۔( صحیح البخاری و صحیح مسلم)

فائدہ:ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ محبت رسول درحقیقت رسول اللہ ﷺ پر مرمٹنے کانام ہے، زندگی کے مختلف جھمیلوں میں آپ کی سنتوں کویادرکھنے کا نام ہے اور ہرموڑ پر آپﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان پر عمل کرنے کا نام ہے۔

جن سے ہوکے تیرے دیوانے گئے:
طبقات ابن سعد میں عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب کبھی رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہوئے دیکھا۔
یہی وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں جو آثار رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حد درجہ عشق کرتے تھے۔ کنز العمال کی روایت کے مطابق جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرماتے ابن عمرؓ بھی وہاں نماز ادا فرماتے، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی درخت کے نیچے فروکش ہوئے ہوتے تو ابن عمرؓ اس کی نگہداشت کرتے اور اس کی جڑوں میں پانی ڈالتے کہ وہ کہیں سوکھ نہ جائے۔
طبقات ابن سعد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے مامن لیلۃ الاو أنا أری فیہا حبیبی کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں اپنے محبوب کو نہ دیکھتا ہوں! یہ بیان کرکے روتے جاتے۔بعض صحابہ ؓ کو آنکھیں محض اس لیے عزیز تھیں کہ ان کے ذریعے رسول اللہﷺ کا دیدار ہوتا تھا۔
امام بخاری ؒ نےالادب المفرد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک صحابی کی آنکھیں جاتی رہیں، لوگ عیادت کو آئے؛ انہوں نے کہا ان آنکھوں سے مقصود تو صرف رسول اللہ کا دیدار تھا،جب سرکار دوعالمﷺ ہی نہیں رہے تو ان آنکھوں کا کیا کروں ؟ ۔
اسی طرح شواہد النبوۃ میں علامہ جامی علیہ الرحمہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ جب حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی وفات کی خبر مؤذن رسول حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے سنی تو وہ اس قدر غمزدہ ہوئے کہ نابینا ہونے کی دعا مانگنے لگے کہ میرے حبیب کے بعد یہ دنیا میرے لیے قابل دیدنہ رہی اور خدا کی قدرت کہ آپ اسی وقت نابینا ہوگئے، لوگوں نے کہا تم نے یہ دعاء کیوں مانگی؟ فرمایا: لذت نگاہ تو آنکھوں میں ہے، مگر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میری آنکھیں کسی کے دیدار کا ذوق نہیں رکھتیں۔
المختصر:عشق، زبانی دعویٰ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک جذبہ ہے جو عاشق کو اپنے محبوب کے لئے ہر شئے نثار کرنے پر ابھارتا ہے، عشق رسول ایک ایسی چاشنی ہے جو بھی اسے چکھ لیتا ہےتوپھرکفار کے روح فرسا مظالم،ہرقسم کی بے رحمی و سفاکی، دنیا بھر کی اذیتیں اس کے پائے استقامت کو متزلزل نہیں کرسکتیں۔ عشق رسول کا مزہ پوچھنا ہوتو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دل سے پوچھئے جنہوں نے عشق کی راہ میں کیسے کیسے صدمات سہے، ریگستان عرب کی سخت تپتی ریت پر انہیں بار بار لٹایا جاتا اور ان کے اس سینہ پر جس میں محبت رسول کے ہزاروں چراغ جل رہے تھے کفار مکہ کی جانب سے وزنی پتھر رکھا جاتا اور ان پر کوڑے برسائے جاتے پھر بھی وہ محبتِ رسولؐ کے دامن کو نہیں چھوڑتے اور زبان حال سے یہ اعلان کرتے جاتے کہ۔
میں مصطفی کے جامِ محبت کا مست ہوں
یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے
ایک طرف تو یہ عشاق رسول تھے جو حکم رسول ﷺ کے آگے تن من دھن کی بازی لگادینے کو تیار تھے اور ایک طرف ہم عاشق رسول ہیں جو صرف محبت رسول کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں ؛مگر دل عظمت رسول سے خالی ،کردار سیرت رسول سے عاری ۔۔۔
اسی کا شکوہ کرتے ہوئےاقبال مرحوم نے کیا ہی خوب کہاکہ

آئے عشاق، گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے حقیقی عشق ومحبت کا تقاضا یہی ہے کہ آپ کی کامل اتباع کی جائے۔ اگر انسان دو دن خوشی منا لے، محبت کے زبانی جمع خرچ کےدعوے کر لے اور پوری زندگی گناہوں میں گزار دے، اپنی حیات کے شب و روز نافرمانیوں کی نذر کر دے تو اس سے بڑا سیاہ کار اورکون ہوگا؟
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین

تبصرے بند ہیں۔