پیس ٹی وی ہی کیوں؟ بند ہوں فلم، سیریل اور کارٹون

علی اشہد خان اعظمی

آج کل ایک اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کو انڈین میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیا خوب اچھال رہی ہے۔ چاروں طرف صرف ان کے ہی چرچے وہ صرف اس وجہ سے کہ بنگلہ دیش ڈھاکہ میں پچھلے دنوں ایک دھماکہ ہوا دھماکے میں کچھ دہشت گرد گرفتار ہوئے ۔ان کی جانچ پڑتال شروع ہوئی۔ جانچ ایجنسیوں کے ذریعے اس جانچ میں دو دہشت گردوں کے فیس بک اکاؤنٹ میں انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کو فالو کیا تھا۔ جانچ ایجنسیوں کی جانکاری سے بنگلہ دیشی میڈیا نے یہ بتایا کہ یہ دونوں دہشت گرد ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کے فالو ور ہیں۔ اس پر بے وقوف انڈین میڈیا نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ان کو تو بس اپنے نیوز چینل کی شہرت میں اضافہ کرنے کا بہانہ چاہیے۔ دراصل یہ سننے میں آرہا ہے کہ یہ صرف بہانہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ مرکزی حکومت نے کچھ ٹیلیکوم گھپلے پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ سازش رچی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جواہر لال نہرو یونیورسٹی JNU معاملہ جس میں ایک دلت طلبہ کنہیا کمار کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے بہت سے انگنت واقعات ہیں جس کو موجودہ حکومت اپنے کئے گئے برے کاموں پر پردہ پوشی ڈالنے کے لئے کتنے معصوموں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرچکی ہے. فی الحال بات ہو رہی ہے ڈاکٹر ذاکر نائک کی آیئے ان کی انسانیت اور اسلام کے تئیں کیے گئے کاموں پر ایک مختصر روشنی ڈالتے ہیں.

دراصل ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب پیشے سے ایک ڈاکٹر ہیں ان کے والد محترم عبدالکریم نائک بھی ایک ڈاکٹر ہیں ان کے والد محترم کا درس و تدریس کا ماحول ہونے کی وجہ سے ان کی ابتدائی تعلیم دینی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد ممبئی سینٹرل کے نایر ہاسپٹل میں سرجن کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد بھی اپنا زیادہ تر وقت قرآن و احادیث اور دینی کتابوں میں صرف کرتے تھے۔ انہوں نے مذہب اسلام کو اچھی طرح سے جاننے کے بعد دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنا شروع کیا جیسے کرسچین، ہندوازم، بدھ ازم وغیرہ وغیرہ۔ بڑی کڑی محنت و مشقت کے بعد انہیں نے تقریباً سارے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ مکمل طور پر کر لیا پھر دنیا انہیں اسلام و دوسرے تقابلی مذاہب کے ماہر (islam & comparative religion) کے طورپر پہچاننے لگی۔ اسی لئے انہوں اپنے دعوت کے کاموں کو فروغ دینے کے لیے1991 میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اور اپنی باتوں کو دنیا کے سامنے رکھنے و دعوت کے کاموں کو تیزی سے لوگوں تک پہنچانے کے لیے پیس ٹی وی کی شروعات کی. ارور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں اسلام کے تئیں غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کر نے لگے۔ ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ غیر مذاہب کے لوگوں میں کچھ غلط فہمیاں تھیں جیسے اسلام تلوار کے زور پر پھیلا اس کو دور کرنا، اسلام انسانیت کا پیغام دیتا ہے اور اسلام دہشت گردی کے خلاف ہے.
انہوں نے اپنی ساری تقاریر میں تقریباً یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ اگر آپ کسی ایک انسان کا قتل کرتے ہو تو گویا آپ نے ساری انسانیت کا قتل کیا اور اگر آپ نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا آپ نے پوری انسانیت کی جان بچائی. انہوں نے دوسرے مذاہب کے کتابوں میں محمد صل اللہ علیہ و سلم کی آمد کی پیشن گئیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور قرآن اور دوسرے مذاہب کی مشابہت کو بھی واضح کیا۔ ان کی پروگرام و تقاریر میں مسلمانوں کی بڑی بڑی شخصیتوں کے علاوہ دوسرے مذاہب جیسے ہندو، کرسچین بودھ لوگوں کی بڑی بڑی شخصیات موجود رہتی ہیں۔ بحث و مباحثہ سوالات جوابات کے ذریعے لوگوں کو مطمئن کرنا، ہر مسئلے کو قرآن و احادیث سے واضح کرنا اور غیر مذاہب کے لوگوں کو ان کے ہی مذہبی کتابوں کا حوالہ دیکر سمجھانا۔ ان اس سرگرمیوں اور بےباک طریقہ کو دیکھ کر لوگ ان سے کافی متاثر ہوئے۔
اور سب سے خاص اور بڑی بات یہ کہ لوگ ان سے سوالات  کر کے اور ان کے جوابات اپنے ہی مذہبی کتابوں میں پا کر متاثر ہوئے۔  جو لوگ کبھی اپنے مذہب کی کتاب کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ نہیں کر سکے تھے، صرف ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کی وجہ سے انھوں نے اپنی کتابوں کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ کیا اور اپنی غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے اور قرآن اور اپنی کتابوں کے درمیان مشابہت پا کر، قرآن مجید ہی کو پوری انسانیت کا حل مان کر، اپنی مرضی سے بنا کسی دباؤ کے اسلام قبول کرنے پر آمادہ بھی ہوجاتے ہیں.
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے صرف میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کہیں بھی دل سے اسلام قبول کیجئے کلمہ پڑھئیے اور کسی راست عالم دین کی رہنمائی لے اسلام کو اور جانیئے.
ان کی اس پاک سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پوری دنیا میں لوگ اسلام کے قریب آیے اور آرہے ہیں صرف اور صرف ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کی وجہ سے اور اللہ سبحان و تعالٰی کے رحم و کرم سے اب تک پچاس ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ اسلام کے تئیں لوگوں کی غلط فہمیاں اور ذہنیت بدلنے کی وجہ سے آج پوری دنیا میں لوگ اسلام کے قریب آرہے ہیں اور ایک سروے کے مطابق سب سے زیادہ اسلام قبولیت کی تعداد یوروپ میں ہے.
شاید یہی بات دشمنان اِسلام کو کھٹک رہی ہے اور وہ اس عظیم الشان ہستی اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کو سازش کے تحت نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں. بنگلہ دیش ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد جس طرح سے ان کو نشانہ بنایا گیا یہ اسی بات کی تصدیق کر رہا ہے جبکہ اللہ سبحان و تعالٰی کے رحم و کرم سے بنگلہ دیش و ہندوستان کی تفتیشی ایجنسیوں نے ان کو کلین چٹ دے دی ہے اور دے بھی کیوں نا ایک ایسا شخص جو ہمیشہ اپنی تقاریر میں انسانیت کی بات کرتا ہے دہشت گردی کے خلاف بات کرتا ہے، جہاد (جدوجہد)(struggle) کے حقیقی معنی لوگوں کو بتاتا ہے تو اس کی تقاریر سے متاثر(inspire) ہو کر لوگ کیسے دہشت گرد ہو سکتے ہیں.
ہاں آج کے ٹکنالوجی کے دور میں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ لوگ ان کے بیانات و تقاریر کو ایڈیٹنگ اور تبدیل کرکے عوام کے سامنے پیش کرے تو لوگوں میں غلط فہمیاں ضرور پھیلیں گی اور دشمنان اسلام کو موقع بھی مل جائے گا جو ان کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے اور لوگوں کے اسلام کے قریب تیز رفتاری سے آنے سے بوکھلائے ہوئے ہیں.
غیروں کی تو باتیں چھوڑیئے جب اپنے ہی بھائی ان کی خامیاں نکالنا شروع کردیں تو دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے۔ غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب ایک سوال و جواب کے سیشن میں قرآن پاک کے حوالہ سے کسی شخص کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں محمد صل اللہ علیہ و سلم سے بھی نہیں مانگنا چاہیے اور آخر میں “انہوں نے کہا کہ بابا سادھو سنت کی بات تو چھوڑیئے ہمیں پیارے رسول صل اللہ علیہ و سلم سے بھی نہیں ماننا(مانگنا) چاہیے “اسی بات کو لے کر کچھ مسلمان بھی ان سے اختلاف رکھتے ہیں جبکہ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب اپنی ہر اردو زبان کی تقاریر میں صاف صاف کہہ دیا کرتے تھے کہ میری اردو تھوڑی کمزور ہے غلطی کے لئے معذرت چاہوں گا اور یہ تقریر کے بعد جب ان کو پتا چلا کہ ان کی اردو زبان کمزور ہو نے کی وجہ سے سے مانگنے کی جگہ ماننا نکل گیا تو وہ معافی بھی مانگے تھے.
تمام مسلمانوں کو مسلکی اختلافات کو طاق پر رکھ کر اسلام کے تئیں ایک ہونے کی ضرورت ہے ورنہ یہ دشمنانِ اسلام ہمارے ہی قوم کے لوگوں کو ڈھال بنا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کریگا…
دوسروں طرف سماج کے لئے اچھا رول ادا کرنے والی اور عوام کی آواز سمجھی جانے والی میڈیا جو آج اسرائیل ارو آر آر ایس کی ریموٹ کنٹرول بن کر رہ گئی ہے ان سے میرا ایک سوال ہے…. آج کل بہت سارے ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ بہت سارے جرم.. فلم سیریل اور کارٹون کو دیکھ کر متاثر (inspire) ہوکر ہو رہے ہیں آج کل کی فلم اور ٹی وی سریلس میں روز نئی نئی کہانیاں نئے نئے طریقے سے فلمائے اور دکھائے جارہے ہیں معصوموں کو اس فلم و سریلس کو دیکھ کر جرائم کے طریقوں کا پتا چلتا ہے..
بہت سارے لوگوں نے اور انٹرنیٹ پر بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ فلم ٹی وی سریلس سے بہت سارے جرائم پنپ رہے ہیں اور انجام دیے جارے ہیں اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ کی ان فلم اور سریل کا ایڈورٹایزمنٹ خود یہ میڈیا کرتی ہے اور موٹی رقم لیتی ہے۔
اب بات یہاں آکر رکتی ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کی تقریر سے متاثر ہوکر دو دہشت گرد بنگلہ دیش میں حملہ کرتے ہیں جس کا نہ تو بنگلہ دیش اور انڈین تفتیشی ایجنسیوں کو اور نہ میڈیا کو کوئی ثبوت ملا اور انکو کلین چٹ بھی مل گئی لیکن اس بات کا تو بہت بڑا ثبوت ہے کہ فلم سیریل اور کارٹون کی وجہ سے متاثر ہو کر بہت سارے جرائم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں کیا میڈیا ان کے خلاف آواز اٹھائے گی؟ کیا میڈیا ان کو (Banned) کرے گی. فلم سیریل اور کارٹون پر (Banned ) آج کے وقت کی اشد ضرورت ہے۔ سماج کی معروف تنظیمیں، معروف سماجی شخصیات، قومی و سیکولر سیاسی لیڈران کو اس مسئلے پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔